لاطینی امریکہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ

لاطینی امریکہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ

وینزویلا امریکہ کے لیے ایک چیلنج

رضوان عطا

15 جولائی سے، جب کولمبیا کے وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ وینزویلا دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے، لاطینی امریکا کی سیاسی فضا کشیدہ ہے۔ اسی کے ساتھ کولمبیا کے رخصت ہوتے ہوئے صدر الوارو اوریبے نے آرگنائزیشن آف امریکن سٹیٹس (اواے ایس) کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ 16 جولائی کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ” وینز ویلا کی سرزمین پر باغیوں کی ممکنہ موجودگی“ امریکا کو بھی تشویش کاشکار کررہی ہے۔ پس جب22 جولائی کو امریکا کا قدرے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والی تنظیم او اے ایس کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تو تنظیم میں کولمبیا کے سفیر نے ’گوگل میپ‘ کی مدد سے لی گئی تصاویر کی مدد سے شرکا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ مارکسی چھاپہ مار، جنہیں امریکا دہشت گرد گردانتا ہے، وینزویلا میں موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ’بین الاقوامی مداخلت‘ کی اپیل کی تاکہ کولمبیا کے دعوؤں کی تصدیق ہوسکے۔ البتہ اس دوران کولمبیا نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا کہ چھاپہ ماروں کی وینزویلا میں موجودگی کے”شواہد“ امریکا نے فراہم کیے ہیں۔ 

ان الزامات پر وینز ویلا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسے کولمبیائی جارحیت قرار دیا۔22 جولائی کو وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کولمبیا سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ بولیویا کے صدر ایو امورالس نے یونین آف ساؤتھ امریکن نیشنل(اوناسُر) کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ یہ کہتے ہوئے کیا” میں اوناسُر کے سربراہ ایکواڈور کے صدر کوریا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اوناسُر کے12 صدور کا ہنگامی اجلاس بلائیں تاکہ ہم کولمبیا اور وینز یلا کے درمیان پیدا ہونے والے مسئلے کو حل کرسکیں۔ ایک جنگ ہونے جارہی ہے اور بولیویا، بشمول اوناسُر کے صدور، برادر ممالک کے مابین ایسی جنگ نہیں ہونے دیں گے“۔ اس کے بعد ہوگوشاویز نے دھمکی دی کہ اگر اس پر کولمبیا یا کسی اور جگہ سے حملہ کیا گیا تو وہ امریکا کو تیل کی سپلائی بندکردے گا۔

29 جولائی کو اوناسُر کا ہونے والا اجلاس کولمبیا کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعے کو حل نہ کرسکا اور اس کا اختتام امن کے قیام کی مبہم خواہش کے اظہار تک محدودرہا۔ اس غیر معمولی اجلاس میں ایکواڈور، بولیویا، ارجنٹائن، یوراگوئے، چلی، پیرو، کولمبیا، وینزویلا، برازیل اور پیراگوئے کے وزرائے خارجہ اور ان کے نائب شریک ہوئے۔ایکواڈور میں ہونے والے5 گھنٹے کے اس اجلاس کی کارروائی تک ذرائع ابلاغ کو براہِ راست رسائی نہ دی گئی۔ عارضی طور پر اوناسُر کے صدر کے فرائض انجام دینے والے ایکواڈور کے وزیر خارجہ نے خطے میں ”امن ہم آہنگی اور تعاون“ پر اتفاق رائے کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں اختتامی اعلامیے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ او اے ایس کے مقابلے میں اوناسُر خاصی نئی تنظیم ہے جس کے بنیادی مقاصد میں رکن ممالک کی مشترکہ منڈی کا قیام، دفاع، معیشت اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون اور شہریوں کی آزادانہ آمدورفت کو ممکن بنانا شامل ہے۔ وینزویلا کی طرف سے کولمبیا کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعے کے حل کے لیے اوناسُر کے غیر معمولی اجلاس بلانے کی خواہش کی بنیادی وجہ شاید او اے ایس کے برخلاف اس میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کا شامل نہ ہونا تھا۔ تاہم یہ اجلاس بھی معاملے کو پوری طرح نہ سلجھاسکا البتہ برازیل کی طرف سے صورتِ حال کو بہتر بنانے کی خاطر ایک پانچ نکاتی تجویز میں دونوں ممالک کو ذرائع ابلاغ میں ایسے بیانات دینے سے گریز کا کہا گیا جس سے صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ ہو، ساتھ ہی کہا گیا کہ دونوں پُر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے معاملات حل کریں۔

بعدازاں معاملہ تجارتی بلاک، کا من مارکیٹ آف دی ساؤتھ(مرکوسر) کے ارجنٹائن میں ہونے والے اجلاس تک جاپہنچا۔ اس بلاک میں برازیل، ارجنٹائن، یوراگوئے اور پیراگوئے شامل ہیں جبکہ بولیویا، چلی، کولمبیا، ایکواڈور، پیرو اور وینزویلا بطور ایسوسی ایٹ ممبر شامل ہیں۔ اس اجلاس میں بیشتر گفتگو معاشی نوعیت کے معاملات پر رہی البتہ وینز ویلا اور کولمبیا کے مابین کشیدگی پر بات چیت کے بعد وینزویلا کے وزیرخارجہ نکولس مادورو کی طرف سے ایک مثبت بیان سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ” ہمیں امید ہے کہ چند دنوں میں ہمارے ملک کے امن کو خطرے کا شکار کرنے والی پیچیدہ صورت حال پر قابو پالیا جائے گا“۔ یوں احساس پیدا ہونے لگا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی تو موجود ہے لیکن فی الحال یہ بڑھ نہیں رہی۔

کولمبیا کے ساتھ وینز ویلا کے تعلقات میں تناؤ آئندہ کسی بھی وقت زیادہ ہوسکتا ہے۔24 جولائی کو ایک ٹریڈ یونین کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ہوگو شاویز نے الزام لگایا کہ” کولمبیا امریکی سامراج کا آلہ کاربن چکا ہے، وہاں کی حکومت پر تشدد اور عسکریت پسند بنتی جارہی ہے جو اپنے اور خطے کے لوگوں کے خلاف سرگرم ہے“۔ جہاں ہوگو شاویز کی طرف سے امریکی پالیسیوں کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں وہیں امریکی اہلکاروں کی طرف سے وینزویلا کی حکومت پر کڑی تنقید کے بارے میں بھی سب جانتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کی بعض بنیادی وجوہات ہیں۔

وینزویلا میں اصلاحات کا عمل اس وقت شروع ہوا جب یک قطبی دنیا میں نیولبرل ازم کا دور دورہ تھا۔ سبسڈی کا خاتمہ اور نج کاری کی پالیسی کو امریکا اور عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے تقویت فراہم کی جارہی تھی۔ وینز ویلا میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں حکومتی سرمایہ کاری اور اہم اداروں وصنعتوں کو قومیانے کا عمل عالمی سرمایہ داری کے رجحان کی نفی بھی کرتا تھا اور ایک حد تک متبادل ماڈل کو پیش بھی کرتا تھا۔ یہ عمل ہوگوشاویز کے خلاف2002ء میں ہونے والے فوجی کو دیتا کے بعد تیز ہوا۔ اس میں ایک مرتبہ پھر اس وقت تیزی آئی جب دسمبر2007ء میں آئینی اصلاحات کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں شاویز کو شکست ہوئی۔ اس شکست نے شاویز اور ان کے حامیوں کو خبردار کیا اور انہوں نے اصلاحات کے عمل کو مزید آگے لے جانے کی کوشش کی۔

لاطینی امریکا میں نیولبرل اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی 1990ء کے اواخر میں ارجنٹائن میں شروع ہونے والے معاشی بحران ہی سے خاصی واضح ہو گئی تھی۔ شاویز کے اقتدار میں آنے کے بعد جو پالیسیاں اپنائی گئیں اس نے خطے کے عوام کے سامنے ایک متبادل بھی پیش کیا اور یوں بائیں بازو کا رجحان رکھنے والے سیاسی رہنما مقبول ہونے لگے۔ کہیں وہ اقتدار میں آئے مثلاً بولیویا اور برازیل میں اور کہیں ان کی سیاسی حیثیت بطور حزب اختلاف مضبوط ہوئی۔ خطے کے ممالک میں باہمی تعاون کو بڑھانے اور اپنے معاملات خود حل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ اس عمل میں ہوگوشاویز پیش پیش رہا۔ اس طرح امریکا سے اس کا ٹکراؤ ناگزیز سا ہوگیا۔ جس کا اظہار امریکا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے بخوبی ہوتا ہے۔

ایک سال قبل کولمبیا میں امریکی فوجی اڈوں میں توسیع کے معاہدے پر وینز ویلا کے علاوہ برازیل، چلی اور سپین نے بھی احتجاج کیا۔ امریکا نے لاطینی امریکا کے مختلف ممالک میں بھی حال ہی میں اپنی افواج کی موجودگی کو بڑھایا ہے۔ امریکا کی طرف سے کولمبیا کو اربوں ڈالر فوجی امداد زیادہ تر منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے نام پر دی جاتی ہے لیکن اس کی مدد سے دراصل مارکسی چھاپہ ماروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ کولمبیا کی مارکسی چھاپہ مار تنظیموں کا ملک کے نصف سے کچھ کم حصے پر قبضہ ہے۔ ان میں فارک(FARC) انتہائی مضبوط تنظیم ہے۔ ستمبر2007ء میں کولمبیائی صدر الوارواریبے کی ذاتی درخواست پر ہوگوشاویز نے کولمبیا کی سرزمین کے اندر کئی مغویوں کی بازیابی کے لیے ثالث بننا قبول کیا اور اس سے ان کی بازیابی ممکن ہوئی۔ اس واقعے کے علاوہ وینزویلا کی حکومت نے چھاپہ ماروں سے کسی بھی قسم کے رابطے اور تعلق کی ہمیشہ تردید کی ہے تاہم وینزویلا کی خواہش ہے کہ کولمبیا میں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو اور کولمبیا کی حکومت اور چھاپہ مار باغیوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے پا جائے۔ اس حوالے سے وینزویلا اپنا کردار ادا کرنے کو بھی تیار نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خانہ جنگی کا خاتمہ اس ملک میں امریکا کی موجودگی کے جواز کو ختم کردے گا۔ کولمبیا میں خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً40 لاکھ افراد وینز ویلا میں مقیم ہیں۔

26 ستمبر کو وینزویلا کے عوام ایک مرتبہ پھر 165 ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی کے چناؤ کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔2004ء سے اب تک کوئی بھی سال ایسا نہیں گزرا جب وینزویلا کی حکومت انتخابات کے لیے عوام کے پاس نہ گئی ہو۔2004ء میں علاقائی انتخابات ہوئے، 2005ء میں قومی اسمبلی کے،2006ء میں صدارتی،2007ء میں آئینی ریفرنڈم ہوا۔2008ء میں ریاستوں کے اور میونسپل انتخابات ہوئے اور پھر2009ء میں آئینی ریفرنڈم ہوا۔ اس سب کے باوجود امریکی انتظامیہ شاویز کو آمر قرار دینے کی کوشش سے دست بردار ہونے کو تیار نظر نہیں آتے بلکہ انتظامیہ کے جارحانہ رویہ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جہاں وینز ویلا کے اردگرد عسکری قوت بڑھائی جارہی ہے وہیں اس ملک کے اندر شاویز مخالف قوتوں کی حمایت کی جارہی ہے اور وہ بھی جمہوریت کے نام پر۔ جمہوریت کے فروغ کے لیے امداد حاصل کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو2002ء میں شاویز کی منتخب حکومت کو کو دیتا کے ذریعے عارضی طور پر الٹانے میں شریک تھے۔

امریکی حکومت سے فنڈ حاصل کرنے والی تنظیم نیشنل انڈاونمنٹ فارڈیمو کریسی(این ای ڈی) کی طرف سے شاویز مخالف گروپوں کو دی جانے والی مدد میں گزشتہ8 برسوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ اضافے کا یہ عمل دراصل2002ء میں شاویز کے خلاف ہونے والے کودیتا کی ناکامی کے بعد ہوا۔ این ای ڈی کا قیام1982ء میں کمیونسٹ یا بائیں بازو کی حکومت کے مخالف عناصر کو مدد فراہم کرنے کے لیے عمل میں آیا۔ نکاراگوا میں ساندانیستا کی حکومت کو گرانے کے لیے این ای ڈی نے سات سال تک تقریباً ایک ارب ڈالر فراہم کرتے ہوئے مخالف گروپوں کو یکجا کیا جو بائیں بازو کی اس حکومت کو گرانے کا باعث بنا۔ این ای ڈی کے بانیوں میں سے ایک ایلن وین سٹائن نے1991ء میں کہا تھا ”ہم جو کچھ کرتے ہیں اس میں بہت ساوہ ہے جو25 سال قبل سی آئی اے کیا کرتی تھی“۔2009ء میں لاطینی امریکا میں این ای ڈی کو سب سے زیادہ فنڈنگ وینزویلا کے لیے ملی۔ یہ1818,473 ڈالرتھی، اس سے گزشتہ سال کی نسبت دگنی۔2008-2009ء میں26 لاکھ ڈالر کی امداد میں سے زیادہ ترفنڈ انہیں ملے جنہیں لوگ جانتے تک نہیں۔ ہزاروں ڈالر فنڈ لینے والی کئی ایسی تنظیمیں ہیں جن کا بظاہر کام دکھائی نہیں دیتا۔ خدشہ یہی ہے کہ ان کے فنڈ شاویز مخالف سیاسی قوتوں کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ ”سول سوسائٹی“ کے نام سے جانے والے اس نوعیت کے گروہ وینزویلا کی حکومت کی نظر میں مشکوک ہوچکے ہیں۔

تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے تعلقات روس اور چین سے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ دفاعی اور صنعتی شعبے میں ان ممالک کی سرمایہ کاری میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ امریکا اگر اس تعاون کی کھل کر مخالفت نہیں کرتا مگر اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے ضرور دیکھتا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت نے شاویز کو مشرق وسطیٰ میں ایک مقبول رہنما بنادیا ہے۔

وینز ویلا امریکی انتظامیہ کے لیے بالخصوص ہمسایہ خطے لاطینی امریکا میں ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دیکھنا یہ ہے کہ وہ عسکری راستہ اپناتا ہے یا”جمہوری قوتوں“ کی مدد سے شاویز کو ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ سوال باقی ہے کہ دونوں میں وہ جو بھی راستہ اپنائے کیا اسے کامیابی نصیب ہوگی؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s