پیروکار

پیروکار

کیفے پیالہ کے ایک پیغام کی تلخیص اردو میں

میں نے وادیٔ تیرہ میں بظاہر ستر سے زائد شہریوں کی فوجی بمباری سے ہلاکت کی خبر کو پرنٹ اور الیکٹرونک ذرائع ابلاغ کی طرف سے عجب انداز سے دبانے پر لکھنا شروع ہی کیا تھا۔ لیکن دیکھا کہ فائیو روپیز (بلاگ) نے اسی موضوع پر پہلے ہی ایک اچھی تحریر ارسال کردی ہے۔ پس آپ کو وہاں جانا چاہیے اور اسے پڑھنا چاہیے۔

البتہ فائیو روپیز کی تحریر میں چند باتوں کی تصیح کی ضرورت ہے۔ کوکی خیل غالب قبائلی علاقے میں دیہاتیوں کی ہلاکت کے بارے میں اصل خبر زیادہ تر پاکستانی اخبارات میں شائع ہوئی۔ فضائی بمباری دس اپریل بروز ہفتہ ہوئی۔ اخبارات میں خبر گیارہ اپریل بروز اتوار سامنے آئی۔ یہاں ڈان کی رپورٹ، اور یہاں دی نیوز کی رپورٹ ہے، ان رپورٹوں میں فوج کے ابتدائی دعوے پر، کہ مارے جانے والے سارے انتہا پسند تھے، سوال بھی اٹھایا گیا۔ تاہم اس کے بعد ہوا یہ کہ خبرغائب ہو گئی، بلاشبہ دونوں ڈان اور دی نیوز کے صفحہ اول و آخر سے اور بلاشبہ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ سے۔ یہ سب اس لیے بھی زیادہ حیران کن تھا کہ ایک روز قبل ہی حکومت نے فضائی حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تلافی کا اعلان کیا تھا، جو غیر جنگ جوؤں کی ہلاکت کو کم و بیش تسلیم کرنے والی بات تھی۔ (حکومت کا باضابطہ مؤقف ہے کہ اگر تحقیقات سے یہ پتہ چلا کہ معصوم شہری ہلاک ہوئے ہیں تو انکے لیے معاوضہ تلافی علیحدہ ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔)

اتفاقاً آج دی نیوز کی ویب سائٹ پر بھی تلافی کے اعلان کی رپورٹ آگئی، ایک ایسی خبر جو پرنٹ ایڈیشن میں شامل نہیں ہوئی، کم از کم کراچی میں نہیں (شاید پنڈی میں شائع ہوئی ہو)۔ دی نیشن نے بھی اے ایف پی کی رپورٹ نقل کی لیکن اسے انتہائی اندرونی صفحات میں دفن کر دیا۔ آج واحد اخبار جس نے اس ترقی پذیر خبر کو نمایاں مقام دیا ایکسپریس ٹریبون تھا، جس کے صفحہ آخر پر یہ موجود ہے۔ خبر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات درحقیقت صدمہ انگیز ہے اور صحافیانہ معیارات کے تناظر میں ناقابلِ وضاحت۔ اس سے یہی نتیجہ نکالنے کی ترغیب ملتی ہے کہ ذرائع ابلاغ نے مجبوراً بیرونی دباؤ کو مان لیا یا از خود تحدید و پابندی کی۔ بی بی سی اردو نے، جیسا کہ فائیو روپیز نے تذکرہ کیا، اپنے تئیں ضرورت کے مطابق خبر کو اہمیت دی اور دراصل منگل کی شام سیر بین بلیٹن اسی سے شروع کیا۔

بی بی سی اردو کے ریڈیو بلیٹن سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ذرائع ابلاغ کو خبر کی رپورٹنگ سے دور رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ مشترکہ کوشش کی گئی۔ بی بی سی کے دلاور خان وزیر کو پشاور کے حیات آباد ہسپتال میں لائے گئے زخمیوں سے بات تک کرنے سے روکا گیا۔

لیکن اس شام لگتا ہے سب بدل گیا۔ اچانک کامران خان نے جیو کے پیش پیش رہنے والے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں بظاہر اس خبر کو نظر انداز کرنے والی پالیسی کو پلٹ دیا اور یہ تذکرہ کیا کہ انتہائی معذرت خواہانہ گورنر اویس احمد غنی نے تسلیم کیا ہے کہ اندوہناک غلطی ہوئی ہے۔

[مصنف کی طرف سے بعد ازاں کی گئی ایک تصیح پیغام کے آخر میں دی گئی ہے]

مترجم: رضوان عطا

Advertisements

One thought on “پیروکار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s