ہتھیاروں کی دوڑ

ہتھیاروں کی دوڑ

رضوان عطا

دنیا میں حالیہ معاشی بحران کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہتھیاروں کی دوڑ بھی بڑھ گئی ہے۔ ہتھیاروں کے معاملات پر تحقیقی کام کرنے والے معروف ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی گزشتہ ماہ سامنے آمنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2005 سے 2009 کے دوران روایتی ہتھیاروں کی فروخت بائیس فیصد بڑھی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں عالمی سطح پر ایک ایسے رجحان کا پتہ چلتا ہے جس کا نتیجہ عوامی فلاح کی بجائے جنگوں اور نتیجتاً تباہی کی صورت نکل سکتا ہے۔ اگر مزید جنگیں نہ بھی ہوں تب بھی تباہی کا سامان پیدا اور اکٹھا کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ کاروبار انسانیت کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے اس پر روز بروز بڑھتا ہوا بوجھ بن گیا ہے۔ ترقی یافتہ اور وسائل رکھنے والے ممالک اپنے سرمائے کی بڑی مقدار فروخت کی غرض سے بنائے جانے والے ہتھیاروں پر خرچ کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک ان کی سب سے بڑی منڈی ہیں۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کے مقتدر حلقے عوامی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر اس دوڑ میں شامل ہیں۔

ہتھیاروں کی فروخت میں امریکہ کی پہلی پوزیشن برقرار ہے اور اس کا حصہ تیس فیصد ہے۔ تیئس فیصد کے ساتھ روس کا دوسرا نمبر ہے۔ اس کے بعد بالترتیب جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز آتے ہیں۔ ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار چین اور بھارت ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان بھی زیادہ پیچھے نہیں۔ 2005 سے 2009 کے درمیان دنیا میں برآمد ہونے والے کل ہتھیاروں کا سات فیصد بھارت نے خریدا اور چین نو فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ بھارت کی طرف سے ہتھیاروں کی خریداری کے رجحان کے پیشِ نظر یہ کہا جارہا ہے کہ آئندہ پانچ سال بعد اس نوعیت کی کسی رپورٹ میں اس کا نمبر پہلا ہو گا۔ 2005 میں بھارت نے 1.04 بلین ڈالر کے ہتھیار درآمد کیے اور 2009 میں یہ رقم بڑھ کر 2.1 بلین ڈالر ہوگئی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس وقت بھارت کو ہتھیار فروخت کرنے والا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے، امکان یہی ہے کہ امریکہ کا نمبر مزید اوپر جائے گا۔

اسی طرح امریکہ پاکستان کو بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔ جہاں امریکہ بھارت اور پاکستان کو بڑی تعداد میں اسلحہ فروخت کر رہا ہے وہیں روس کے لیے چین اور بھارت بڑی منڈی ہیں۔ 2000 کی دہائی میں روس کے 70 فیصد ہتھیار انہی ملکوں کو برآمد کیے گئے۔ 1998 کے بعد سے روس کی ہتھیار بنانے کی صنعت خوب نشوونما پا رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کسی ٹھوس پیش رفت کو دونوں ممالک میں جنگ کا سامان اکٹھا کرنے کی رفتار میں خاطر خواہ کمی بلکہ موجود ہتھیاروں میں تخفیف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ امن مذاکرات کی کامیابی کا پیمانہ دفاعی بجٹ میں کمی ہونا چاہیئے۔ دونوں ممالک میں امن کی ضرورت پر جب بھی بات ہوتی ہے تو ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ ہتھیاروں پر خطیر رقم خرچ کرنے کی بجائے اسے عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے ہونے والی بڑی سے بڑی پیش رفت بھی ہتھیاروں کی دوڑ کو نہیں روک سکی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں کہا جاتا ہے کہ تصفیے کی بات خاصی آگے جا چکی تھی مگر نئے ہتھیاروں کے حصول اور میزائیلوں کے تجربات کا سلسلہ جاری رہا۔ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انتھونی کا کہنا ہے کہ بھارتی معیشت کی شرح نمو کے مطابق دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔

بھارت اور پاکستان کے ایٹمی تجربات کے بعد دلیل یہ دی جانے لگی کہ اب دونوں ممالک کے مابین جنگ نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار ہیں۔ گارگل کی لڑائی نے اس دلیل کو کمزور کر دیا ہے۔دونوں جانب ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے بارے سمجھتے ہیں کہ یہ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ استعمال کے لیے ہیں۔ دونوں طرف جنگی جنونیوں کی کمی نہیں، کوئی بھی سیاسی و سماجی اتھل پتھل حالات کو سنگین بنا سکتی ہے۔ تو کیا ہم اس خبر کے انتظار میں ہیں کہ ۔۔۔۔ عالمی طاقتوں کے دباؤ پر جنگ بند ہو چکی ہے، ممبئی اور لاہور ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، ایک کروڑ قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایٹمی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نپٹنے کے لیے دونوں ملکوں نے بیرونی امداد کی اپیل کی ہے۔

اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی جنگ کے امکان کو معدوم کر دیا ہے تو پھر روایتی ہتھیاروں کے حصول پر اتنا سرمایہ لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپریل اور مئی میں دونوں ملک تقریباً ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کی سرحدوں کے نزدیک بڑی جنگی مشقیں کرنے والے ہیں۔ بھارت نے حالیہ کچھ عرصے میں ایٹمی ہتھیار داغنے کی صلاحیت والے میزائیلوں کے تجربات کیے ہیں۔

ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہتھیاروں کی خریدوفروخت سب سے بڑے کاروباروں میں سے ایک ہے۔ ہتھیاروں کا کاروبار ہو یا استعمال، اس کے لازماً سیاسی، سماجی اور معاشی مضمرات ہوتے ہیں۔ اگر عوامی فلاح مقصود ہے تو وسائل وہیں خرچ ہونے چاہیئں جہاں سے یہ مقصد حاصل ہو۔ یوں ہتھیاروں پر سرمایے کا استعمال، اور وہ بھی اتنا زیادہ، ضیاع نہیں تو اور کیا ہے؟ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں کی طرف سے شروع ہونے والی اس میراتھن کا سب سے زیادہ نقصان یہاں کے عوام کو ہورہا ہے اور انہیں ہی اس پاگل پن کو روکنا ہوگا۔ جن لے لیے ہتھیاروں کی فروخت فائدہ مند ہے امن اور تخفیف اسلحہ کے لیے ان کی راہ تکنا کیا سمجھداری ہوگی؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s