ثانیہ اور شعیب کی شادی میں آپ کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟

ثانیہ اور شعیب کی شادی میں آپ کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟


رضوان عطا

یہاں اگر کوئی دو اپنی مرضی سے شادی کرلیں تو مصیبت میں پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً اگر برادری یا قبیلہ دوسرا ہو۔ مارے بھی جا سکتے ہیں۔ بعض معاملات میں سزاکم ہوجاتی ہے بس زبردستی علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ لڑکی کی شادی کہیں اور کر دی جاتی ہے اور لڑکے کو کسی اور کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی نظروں میں آگئے تو نتیجتاً ملنے والی شہرتلڑکی کے قبیلے یا برادری کو مصیبت میں ڈال دیتی ہے۔ انکی شےکی واپسی کے امکانات معدوم ہوتے جاتے ہیں اور انگلیاں اٹھانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مگر اس شہرت سے جوڑے کے بچاؤ کے امکانات کچھ بڑھ جاتے ہیں بشرطیکہ دونوں کو بات کرنا آتی ہو۔ آخر رسمی تعلیم کی بھی تو ایک اہمیت ہے، جس بیچارے کو پڑھنے کا موقع نہیں ملا سمجھیں مارا گیا۔ یہ امکانات تب بھی بڑھ جاتے ہیں جب دونوں میں سے کسی ایک کا طبقہ مختلف ہو۔ مثلاً اگر لڑکا امیر ہے تو راضی نامے میں آسانی ہوتی ہے۔ لڑکی والوں کو ڈر ہوتا ہے کہ تعلقات والے ہوں گے کہیں نقصان زیادہ ہی نہ ہو جائے، پھر کوئی یہ بھی تو سمجھاتا ہو گا کہ لڑکی سکھی رہے گی، کچھ عرصے بعد بات آئی گئی ہو جائے گی۔

اگر قسمت میں یہ چیزیں نہ ہوں تو جوڑا سر ڈھانپنے کی ایسی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں جسم اور روح محفوظ ہوں۔ کسی طرح بیرونِ ملک چلے جائیں تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ جذباتی نقصان چاہے جتنا ہو، بچپن سے جوانی تک کے رشتے چاہے سارے ٹوٹ جائیں، جسم اور روح کا رشتہ بحر حال برقرار رہتا ہے۔

اس بار معاملہ روایت سے ذرہ ہٹ کر ہے۔ دو ایسے ہیں جو پہلے ہی سے شہرت رکھتے ہیں، خود کماتے ہیں اور اچھا خاصا۔ سٹارز ہیں دونوں۔ تاہم دو مختلف قبیلوں معاف کیجیے گا ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا تذکرہ ذرائع ابلاغ کے ہاں زوروشور سے جاری ہے، جہاں حال کی ہر بات پر نظر رکھی جا رہی ہے، ساتھ ماضی بھی ٹٹولا جا رہا ہے۔ عام لوگوں سے رائے لی جا رہی ہے۔ مستقبل کی پیشن گوئیاں ہورہی ہیں۔ فوٹوگرافرز اور رپورٹرز کو بھاری ذمہ داریاں تفویض ہوچکی ہیں اور ان کا میلہ دونوں سٹارز کے ساتھ ساتھ حرکت کررہا ہے۔ ذرائع ابلاغ اس مشقت میں انفارمیشن اور انٹرٹینمنٹ جیسے مقاصد بخوبی نبھا رہا ہے۔ کسی نے دروازہ کھلتے وقت دونوں کو ڈانس کرتے پکڑ لیا ہے، یہ ایکسکلوسو فٹیج ہے۔ کسی کے ہاتھ پرانا نکاح نامہ آگیا ہے، یہ ایکسکلوسو نیوز ہے۔ امید ہے ہنی مون تک ایکسکلوسوز آتے رہیں گے۔ لوگ دیکھنا بھی تو چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیجیے، اسی ملن پر تو ساری دھینگا مشتی ہوتی ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ دونوں ممالک سٹارز کی کمی کا شکار ہیں، ان میں تنوع بھی کم ہے۔ اکثریت کھلاڑی یا اداکار ہے۔ دوسرے درجے کے سٹارز عسکری ٹیکنیشنز، جنہیں عرفِ عام میں سائنس دان کہا جاتا ہے، ہیں (اب جدید ہتھیار بھی اس صف میں شامل ہو چکے ہیں)۔ ان کے ملی نغموں میں ان سب کی حرکات و سکنات بکثرت فلمائی جاتی ہیں۔ پولیو کی مہم کا اشتہار بھی سٹارز کے بنا ادھورا ہوتا ہے کیونکہ ان کے منہ سے نکلی بات بہت سنی جاتی ہے۔ یہ تو ملک کی شان ہوتے ہیں، ایسی ویسی حرکت انہیں زیب نہیں دیتی، اگر سرزد ہو جائے تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑنے والوں کی کمی نہیں۔ شاہ رخ خان اور سلمان خان کی مثال لے لیجیے۔ ڈاکٹر سلام ہیرو نہ بن سکے، شروع دن سے ان کے پیچھے پڑنے والے موجود تھے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر قدیر کا چرچا ہوا، اور ابھی تک ہو رہا ہے۔ یہ وہ سٹار ہیں جو بیرونِ ملک نہیں جا سکتے یا ان کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ نہ جائیں۔

ثانیہ شعیب کا اکٹھے دونوں ملکوں میں سے کسی ایک میں رہنا مشکل ہے۔ انہوں نے عافیت کسی تیسرے ملک میں رہنے کو سمجھا۔ جہاں دنیا کی آبادی کا کم و بیش چھٹا حصہ رہتا ہے یہ نہیں رہ سکتے، باقی سارا جہاں ان کا ہے۔ شعیب کے ہمسایہ ملک رہنے سے وہاں کی آن اور شان کو بچانے والے شاید کچھ کر گزریں۔ ثانیہ کے یہاں آنے سےان کی حب الوطنی مزید مشکوک ہوگی۔ ٹی وی والے یہی کہہ رہے ہیں دلہنیا پاکستان لے آئیں گےمگر وہ دونوں تو دبئی جا رہے ہیں۔ لڑکے والوں کے لیے یہ کوئی زیادہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں سے تو مشہور اور عوامیلوگ دبئی، سعودی عرب وغیرہ بھیجے جاتے رہے ہیں۔

[“ناقابلِ اشاعت”]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s