ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد … نیٹو کا مستقبل

ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد

نیٹو کا مستقبل

رضوان عطا

بیس فروری کو نیدر لینڈز کی حکومت گر گئی۔ حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی دو جماعتیں افغانستان سے منصوبے کے مطابق فوجیں واپس بلانے کے سوال پر کابینہ میں طویل بحث و مباحثے کے باوجود متفق نہ ہو سکیں۔ نیٹو کی درخواست پر حکمران اتحاد میں سب سے بڑی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک اپیل اس برس اگست میں فوجوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع کی خواہش مند تھی جسے دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی نے ماننے سے انکار کر دیا۔ گذشہ تقریباً آٹھ برس میں کسی نیٹو رکن ملک نے اپنی فوجیں افغانستان سے واپس نہیں بلائیں مگر اب اس کا حقیقی امکان پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے ڈچ حکومت کے گرنے کے تین دن بعد کہا کہ یورپ میں فوج کے خلاف عوامی اور سیاسی مخالفت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ یہ براہِ راست افغانستان میں آپریشنوں کو متاثر کر رہی ہے اور اتحاد (نیٹو) کے وسیع تر تحفظ کے مقاصد میں رخنہ ڈال رہی ہے۔ گیٹس کے مطابق اس وقت اتحاد کو انتہائی سنجیدہ، طویل المدت اور سسٹمیٹک مسائل کا سامنا ہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ان کے اس خطاب میں لگی لپٹی کم اور تندی زیادہ تھی۔ یورپ میں آخر ایسا کیا ہو رہا ہے؟

موضوع رائے عامہ کی تشکیل کے عوامل کی تلاش سے زیادہ اس کے اثرات ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ رائے عامہ حکومتوں کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے لیکن کس قدر اور کس وقت۔ اس کا دارو مدار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ آمرانہ، فسطائی اور شخصی حکومتوں کو جبر کا ہتھیار رائے عامہ کو دبانے میں معاونت اور سہولت فراہم کرتا ہے۔ جہاں انتخابات ہی حکومت کے چناؤ کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مقتدر سیاسی جماعتوں کے لیے ناممکن نہیں تو خاصا مشکل ضرور ہوتا ہے کہ وہ رائے عامہ کو طویل عرصے تک نظر انداز کیے رکھیں۔ نیدر لینڈز میں حکومت پر رائے عامہ کا پتھر بھاری پڑا ہے، افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی میں تبدیلی دیگر یورپی ممالک کو نئی راہ دکھلا رہی ہے، جہاں پہلے ہی لوگ افغان شمولیت کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس برس فروری میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 66 فیصد ڈچ خیال کرتے ہیں کہ لیبر پارٹی کے رہنما اور سابق نائب وزیرِاعظم واوٹر جیکب بوس کی ثابت قدمی سے توسیع کی مخالفت اور افغانستان سے افواج واپس بلانے پر اصرار درست ہے۔ اسی ماہ ملک کی وزارتِ دفاع کے ماہانہ جائزے کے مطابق محض 33 فیصد افغانستان میں ڈچ فوج کی شمولیت کے حق میں ہیں جبکہ 36 فیصد مخالف۔

ریڈیو نیدر لینڈز ورلڈ وائیڈ نے جب بوس سے پوچھا کہ یہ (فیصلہ) نیٹو اور امریکا کے ساتھ ڈچ تعلقات کو کیسے متاثر کرے گا، تو جواب ملا ”میں نہیں جانتا“۔ تب بھی جواب یہی تھا جب سوال کیا گیا کہ کیا یہ نقصان دہ ہو گا۔ بوس کے مطابق ہم نے دو برس پہلے ڈچ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ یہ آخری توسیع ہو گی۔ ڈچ کابینہ کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی پہلا سروے لیبر پارٹی کو ایک ہفتہ قبل کے مقابلے کے نتائج میں چار مزید نشستیں جیتنے کی نوید سناتا ہے۔ تین مارچ کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کابینہ کے گرنے کے سیاسی اثرات کی مزید وضاحت کر دیں گے۔

افغانستان کے لیے افرادی قوت یا مادی امداد کی صورت ہاتھ بٹانے سے کنارہ کشی کرنے پر یورپ سے امریکا کی شکایت نئی نہیں۔ رابرٹس گیٹس کا بیان صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے مماثل ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد افغانستان نے نیٹو کو کڑے امتحان میں ڈالا ہے۔ اس نئی صورتحال کے پیش نظر اتحاد مختلف اصلاحات پر غور کر رہا ہے۔ حال ہی میں نیٹو کے رکن28 ممالک نے اس حوالے سے مذاکرات کیے ہیں۔ اس حوالے سے سابقہ سیکرٹری آف اسٹیٹ میڈلین البرایٹ نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں رابرٹ گیٹس اور ہیلری کلنٹن کے علاوہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔ سیمینار میں ”سٹریٹجک تصور“ کی تلاش کی کوشش کی گئی۔ اس نئے تصور میں اس موقع پر سرحدیں عبور کرتی دہشت گردی، نیوکلیائی ہتھیار، سائبر سکیورٹی اور موسمیاتی تبدیلیوں پر بات ہوئی۔ یہ باتیں 61 برس قبل، جب نیٹو کی بنیاد رکھی گئی، نہیں کی گئی تھیں۔ یہ وہ معاملات ہیں جو دراصل نیٹو کو پوری دنیا میں حرکت کا بھرپور جواز فراہم کرتی ہیں، مگر کوئی بھی نئی حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک رکن ممالک متحرک کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

دوسری طرف 28 رکن ممالک میں سے صرف پانچ نیٹو کے طے کردہ ہدف…. دفاع پر جی ڈی پی کے دو فیصد خرچ…. پر پورا اتر رہے ہیں۔ یورپ کے دو اہم ممالک فرانس اور جرمنی کے سربراہان نکولس سارکوزی اور اینجیلا مرکل بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل ان کے ملک سے بھی بندھا ہوا ہے اور نیٹو سے بھی، مگر نیدر لینڈز کی صورتحال جرمنی میں عوامی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کر رہی ہے۔ اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیٹو کے2500 فوجی بھیجنے کے مقابلے میں جرمنی 850 بھیج رہا ہے۔ جنوری میں سارکوزی نے، جس کے تین ہزار فوجی افغانستان میں ہیں، کہا کہ ”ہم مزید ایک بھی فوجی نہیں بھیجیں گے“۔ دراصل افغانستان میں امریکا کا انحصار ان ممالک پر بڑھ گیا ہے جو نیٹو میں شامل نہیں۔

اس بات کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ بیلجیئم، جرمنی، لگزمبرگ، نیدر لینڈز اور ناروے امریکا سے کہیں کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار یورپ سے باہر لے جائے۔ کم از کم یہ معاملہ نومبر میں پرتگال میں ہونے والے سمٹ میں ان ممالک کی طرف سے اٹھائے جانے کا قوی امکان ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s