یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

رضوان عطا

نومبر 2004ء کے اواخر سے لے کر جنوری 2005ء تک یوکرین میں ہونے والے مظاہروں، ہڑتالوں اور سیاسی احتجاج کے سلسلوں نے بالآخر حکومت کو دوسرے اور آخری مرحلے کے صدارتی انتخابات کو دوبارہ کرانے پر مجبور کیا۔ 26 دسمبر 2004ء کے ان انتخابات کے نتیجے میں جیت کے دعوے دار’ماسکونواز‘ سمجھے جانے والے امیدوار وکٹریانو کووچ ہارگئے اور ’مغرب نواز‘ سمجھے جانے والے وکٹریو شچنکو نے44 فیصد کے مقابلے تقریباً52 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرلی اور صدر بن گئے۔ ان انتخابات میں انہیں یولیاتیمو شینکو کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ آخری مرحلے کے انتخاب کے نتیجے کو جن میں’ماسکونواز‘ امیدوار کامیاب قرار دیا گیا تھا، مظاہروں، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کے اقدامات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر انعقاد پر مجبور کرانے کے بعد انتخابی نتائج کی تبدیلی کو ’نارنجی انقلاب‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پانچ سال بعد اس سال فروری میں ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں ’نارنجی انقلاب‘ کے اہم ترین رہنما وکٹریو شچنکو نے محض ساڑھے پانچ فیصد ووٹ لیے اور دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ دوسری اہم رہنما یولیاتیمو شینکو اس مرحلے تک پہنچیں اور ہارگئیں۔ 

تیموشینکو کی ہار میں ایک بڑا کردار یوکرین کی معاشی صورتحال نے ادا کیا۔ 2008ء سے شروع ہونے والے مالیاتی بحران نے اس ملک کو بری طرح متاثر کیا۔2009ء میں اس کی معیشت 15 فیصد سکڑی جبکہ 2008ء میں شرح نمو 2.1 فیصد رہی۔ زرخیززمین، ہنرمندلیبر، معیاری نظام تعلیم، نسبتاً ترقی یافتہ صنعت اور قدرتی وسائل کے باوجود یوکرین معاشی بحران سے جلد باہر آتا دکھائی نہیں دیتا۔ نئی حکومت کے لیے معاشی بحالی بڑا چیلنج ہے۔

جیتنے والے وکٹریا نوکووچ کو روسی صدر نے اپنے ملک آنے کی دعوت دی، قبول ہونے کی صورت میں یوکرین کے صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ روس ہوگا۔ روسی صدر میدویدیو کا کہنا تھا کہ ”انتخابات یوکرینیوں کی طرف سے دونوں ممالک کے مابین ناچاقی کے بیج بونے کی ناکام تاریخی کوشش کے خاتمے کا اظہار ہے“۔ ’نارنجی انقلاب‘ کے بعد مغربی یورپ اور امریکا کے یوکرین میں بڑھتے ہوئے اثرات اور وکٹر یوشچنکو کی طرف سے نیٹو کا حصہ بننے کی کوششوں کے تناظر میں روس کی طرف سے خیر سگالی کے غیر معمولی پیغامات غیر متوقع نہیں ۔

مخالفین سمجھے جانے والے ممالک کی طرف بھی یانوکووچ کو مبارک باد کے پیغامات موصول ہوئے۔ جنوری2005ء کو نیٹو کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل وکٹریوشچنکو کے بطور صدر یوم افتتاح پر بذات خود موجود تھے۔ حالیہ سیکرٹری جنرل نے بھی منتخب یوکرینی صدر کو مبارک باد دی اور کہا” نیٹو یوکرین کے ساتھ سٹریٹجک شرکت کے عہدوپیماں پر اب بھی قائم ہے“۔ روس نواز سمجھے جانے والے نئے صدر، جو کہہ چکے ہیں کہ وہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے خلاف ہیں البتہ تعاون کے درکھلے ہیں، کو نیٹو کا پیغام تنظیم کے ترجمان کے الفاظ میں یوں ہے۔“ نیٹو کا مؤقف واضح ہے، نیٹو کے قریب آنے کی رفتار کا فیصلہ یوکرین نے کرنا ہے۔ نیٹو کے حوالے سے نئے صدر کا جو بھی رجحان ہو یوکرین ہمارے لیے اہم پارٹنر ہے اور ہم اپنے سیاسی و فوجی رابطوں کو قائم رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ یہ گہرے ہوں گے“۔ دوسری طرف یا نوکووچ نے ایک روسی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ”یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کا معاملہ اس وقت خارج ازبحث ہے…. ہم آج یورپ کے مشترکہ سکیورٹی نظام کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم اس (منصوبے) میں سرگرم حصہ لیں گے جسے ضمناً فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کی حمایت بھی حاصل ہے۔“ واضح رہے کہ 5 فروری کو روس کی جس نئی فوجی ڈاکٹرائن پر دیمتری میدویدیو نے دستخط کیے ہیں اس کے مطابق مشرقی جانب نیٹو کا پھیلاؤ روس کے لیے سب سے بڑا عسکری خطرہ ہے۔ روس خطے کے ممالک کو نیٹو سے دور رکھنا چاہتا ہے اور یوکرین کے انتخابی نتائج اس کے لیے خوشی کا باعث ہیں۔

وکٹریانوکووچ نے روس، بیلا روس اور قازقستان کے مابین موجود تجارتی اتحاد(کسٹمز یونین) میں شمولیت کے لیے بات چیت شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ہارنے والی امیدوار یولیا تیموشینکو اس کی مخالف ہیں اور ان کے مطابق نئے صدر اتحاد میں شمولیت کی دستاویز پر دستخط کرچکے ہیں۔ اس اتحاد میں مکمل یا جزوی شمولیت روس کے قریب ہونے کا ایک اور اشارہ ہے تاہم ایک روسی خبررساں ادارے نے 17 فروری کو اعلیٰ یوکرینی اہلکار کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق” اگر چہ یوکرین ڈبلیوٹی او کا رکن ہے۔ بین الاقوامی کارپوریشنز اسے ایک علیحدہ منڈی کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ اسے روس، بیلاروس اور قازقستان میں سرمایہ کاری اور ان کے ساتھ تجارت کے لیے ہدف سمجھتی ہیں“۔ دراصل یوکرین کی جغرافیائی حیثیت اسے یورپی یونین اور روس کے درمیان پل کا سا کردار عطا کرتی ہے۔ روس کی طرف سے یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی گیس کا80 فیصد یوکرین کے راستے جاتا ہے۔ یادرہے کہ یورپی یونین میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس کا ایک چوتھائی روس فراہم کرتا ہے۔ یوکرین اور روس کی تیل و گیس کی کمپنیوں کے سپلائی، قیمت اور ادائیگی کے معاملے پر کئی جھگڑے ہوچکے ہیں جنہوں نے بعض اوقات یورپی ممالک کو گیس کی کمی کا شکار بھی کردیا۔ یوں خطے کے ممالک کے لیے یوکرین اور روس کے تعلقات میں یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بگاڑ مسائل پیدا کرتا ہے۔

یوکرین کے انتخابی نتائج نے روس کے ساتھ لڑائی مول لینے والے جارجیا کو، جسے بشمول یوکرین نیٹو میں” وقت کے ساتھ“ شمولیت کا یقین دلایا گیا تھا، تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ روس کے ساتھ لڑائی کے بعد روس نے جارجیا کی مصنوعات خصوصاً وائن کو اپنے ملک آنے سے روکا۔ تب یہ یوکرین جانے لگیں۔ ترکی اور آذربائیجان کے بعد یوکرین جارجیا کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یوکرین کی نئی حکومت کی روس سے زیادہ قربت جارجیا کو مزید معاشی دباؤ کا شکار کرسکتی ہے۔ دوسری طرف جہاں جارجیا کو تشویش ہے چین کو نئی حکومت سے زیادہ تعاون کی توقعات ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یوکرین کی اعلیٰ عدلیہ نے مرکزی انتخابی کمیشن کے اس رسمی اعلان کو معطل کردیا ہے جس میں وکٹر یانوکووچ کو 7 فروری کے صدارتی انتخابات میں فاتح قرار دیا گیا تھا۔ دعویٰ محض3.48 فیصد ووٹوں کی کمی سے ہارنے والی امیدوار یولیا تیموشینکو نے کیا تھا۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب بین الاقوامی مبصرین عمومی طور پر انتخابات کو شفاف اور منصفانہ قرار دے چکے ہیں اور یانوکووچ بہت سے اہم ممالک سے مبارک باد کے پیغامات سمیٹ چکے ہیں امکان کم ہے کہ وہ صدارت کا منصب نہ سنبھال پائیں۔ اب کی بار’نارنجی انقلاب‘ کی توقع نہیں۔ البتہ ہارنے والا امیدوار بہت کم تناسب سے ہارا ہے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ اس کے ووٹ بینک میں زیادہ کمی نہیں ہوئی اور مستقبل میں وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے اس حمایت کو استعمال کرسکتا ہے۔ ’نارنجی انقلاب‘ کے بعد یوکرین کے آئین میں آنے والی تبدیلیوں نے بھی صدر کے اختیارات کو محدود کیا ہے۔ ان حالات میں روسی کیمپ کی طرف جھکاؤ کے باوجود یانوکووچ سب کچھ اپنی مرضی سے نہیں کر پائیں گے۔

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری ۱۹ فروری ۲۰۱۰ء

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s