پاک بھارت مذاکرات اور کشمیر

پاک بھارت مذاکرات اور کشمیر

رضوان عطا

1991ء سے منائے جانے والے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ سے ایک روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی کہ بھارت نے پاکستان کو خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بریفنگ میں روابط کی بحالی کے لیے ’کچھ تجاویز‘ کے موصول ہونے کی تصدیق تو کی لیکن ان کی تفصیل بتانے سے اس بنیاد پر انکار کیا کہ فی الوقت یہ مناسب نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے اور یہ کہ کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی بحالی کی خبروں کے ساتھ ساتھ کشمیر کا معاملہ بھی اُبھر کر سامنے آ گیا ہے، جس کی وجہ دونوں ممالک میں پیدا ہونے والی صورت حال کے ساتھ ساتھ بھارتی کشمیر میں ہونے والے احتجاج بھی ہیں۔ علاوہ ازیں مفاہت کے لیے عالمی دباؤ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں سیاست دانوں کے بیانات اور فیصلہ ساز اداروں کی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے بیانات عندیہ دے رہے ہیں کہ جواب محتاط ہو گا۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر اور پانی کا مقدمہ صداقت پر مبنی ہے اور حکومت پوری قوت کے ساتھ اس کے لیے جدوجہد کرے گی۔ پانچ فروری کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر خصوصی زور دیا۔ پاکستان مسلم لیگ (قائد) کے سیکرٹری خارجہ مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ حکومت کشمیر کے تنازع کو اس کی اہمیت کے مطابق ترجیح دے۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو افغانستان کے راستے پاکستان میں پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے اِس مؤقف کی تائید کی کہ بین الاقوامی برادری کے دباؤ کی وجہ سے بھارت مذاکرات پر رضامند ہوا۔ انہوں نے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ مسلم لیگ (نواز) کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے معاملے پر واضح مؤقف کا انتظار ہے، باوجود اس کے کہ نواز شریف پاکستان میں امریکی سفیر سے ملاقات کر چکے ہیں۔ آٹھ فروری کو جماعت اسلامی کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں جہاں کرکٹ کی ریٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارتیوں سے بہتر قرار دیا وہیں کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا بھارت سے مذاکرات نہ کیے جائیں۔

افغان مسئلہ کے تناظر میں امریکا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا خواہش مند ہے لیکن کھل کر ثالث کا کردار ادا کرنے سے گریزاں۔ ڈان نیوز سے ایک حالیہ انٹرویو میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے جنرل کپور کے بیان کو ”احمقانہ“ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے معاملات باہمی طور پر دیکھنے چاہئیں تاکہ دونوں ملک ترقی کر سکیں۔ ان کے مطابق اگر دونوں ملک اکٹھے ہوں تو ان میں معاشی ترقی کی بہت صلاحیت ہے۔ انہوں نے فوری جامع مذاکرات اور اعتماد کی بحالی کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کے ساتھ مذاکرات اور سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کو بھارت بھیجنے کے حوالے سے بدھ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت اس اجلاس میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور دیگر وزرا کی شرکت متوقع ہے۔ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک پاکستان پہنچ چکے ہیں اور وہ اس اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔

مذاکرات کے لیے بھارتی دعوت کا جواب کس طرح دیا جائے اس بارے میں پاکستان میں اعلیٰ سطحی مشاورت کا عمل جاری ہے اور اب تک ملنے والے اشارے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بات محض دہشت گردی کے گرد نہ ہو بلکہ جامع مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے مطابق تمام اہم معاملات پر پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے جس میں دہشت گردی پر توجہ مرکوز ہو گی۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد معطل ہونے والے جامع مذاکرات کو شروع کرنے میں بھارت دلچسپی نہیں رکھتا۔ پاکستان میں بعض حلقے ایسے مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں جن کا نتیجہ جامع مذاکرات کے آغاز کی صورت نہ نکلے۔ بھارتی تجویز کو رد کرنا بھی پاکستان کے لیے فی الحال ممکن نہیں کیونکہ یہ عالمی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی مذاکرات پر ملک کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں خطاب کریں گے۔ روایتی طور پر بھارت مخالف سمجھی جانے والی قوتوں کے علاوہ مذاکرات کے حوالے سے اس وقت پاکستان میں اختلافات سامنے آئے جب خورشید محمود قصوری نے پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے بیان دیا۔ اتوار کے روز شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اگر اُس وقت کوئی تجویز تھی تو وہ چند افراد کے مابین راز ہو گی لیکن نہ تو وہ اور نہ ہی پاکستان کے عوام اس بارے میں کچھ جانتے ہیں کیونکہ دفتر خارجہ میں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ قصوری کے مطابق ریکارڈ حکومت کے پاس ہے۔ سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا ”میرے علم کے مطابق کم از کم صدر زرداری بیک چینل ڈپلومیسی کے بارے میں آگاہ ہیں اور ایوان صدر کے پاس اس کا تفصیلی ریکارڈ ہے“۔

بھارت نے ایک ایسے وقت میں مذاکرات کی دعوت دی ہے جب بھارت کے زیر انتظام یا مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیری شہری کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران کشمیری مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں چار سو کے قریب افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ باوجود اس کے کہ بھارتی حکومت نے چار یا چار سے زیادہ افراد کے اجتماع پر ریاست میں پابندی عاید کر رکھی ہے، مظاہروں کا سلسلہ تھما نہیں، اور یہ حکومت کی ہزیمت کا سبب بن رہے ہیں۔ بھارت میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے جانے والوں کو عام معافی دی جائے۔ عمر عبداللہ نے ایک ایسے منصوبے کا اشارہ دیا ہے جس میں لائن آف کنٹرول کے پار عسکریت پسندوں کو واپس لانے اور عام زندگی گزارنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم اس پالیسی کے خلاف کشمیر کے اندر غلام نبی آزاد کے علاوہ بھی آوازیں سنائی دی ہیں اور حسب توقع دائیں بازو کی جماعتوں خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ جماعت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بھی مخالفت کر رہی ہے۔ کشمیر میں کشیدگی اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارت کو خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ معتدل کشمیری قیادت، جو مبینہ طور پر دہلی سے خفیہ مذاکرات کر رہی ہے، کہیں زیادہ سخت مؤقف اختیار نہ کر لے۔ اِس حوالے سے میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور گفت و شنید ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ بظاہر عام معافی کے منصوبے کی باتیں کشمیر کی صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لیے ہیں۔ اگر یہ معاملہ بھارت کی داخلی سیاست کی نذر ہونے سے بچ بھی گیا تو بھی یہ کشمیریوں کے غصے کو ٹھنڈا نہیں کر پائے گا۔

جہاں ایک طرف شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا ہے کہ نہ تو ہم بھارت کے سامنے جھکیں گے اور نہ ہی اُس کے کسی جال میں پھنسیں گے وہیں دوسری طرف بھارت جامع مذاکرات کو شروع کرنے سے گریزاں ہے اور دہشت گردی کے معاملے کو اوّلین ترجیح قرار دے رہا ہے۔ پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نے سکیورٹی کی داخلی صورت حال کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں یہ بھی کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں اگرچہ 2008ء اور 2009ء میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے لیکن دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔ اِن حالات میں کسی بڑی کامیابی کے امکانات تو معدوم ہیں لیکن ایک ابتدا ضرور ہوئی ہے۔ شاید اپریل میں ہونے والے سارک سمٹ کے بعد صورت حال زیادہ واضح ہو پائے۔

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری ۱۲ فروری ۲۰۱۰ء

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s