تامل ٹائیگرز کی شکست

تامل ٹائیگرز کی شکست

رضوان عطا

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پکسے تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کرچکے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کی سڑکوں پر سنہالی اکثریت سے تعلق رکھنے والے جشن منارہے ہیں۔ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کے قائد ویلو پلئی پربھاکرن کی لاش کی ویڈیو سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے حامیوں کے اس دعوے کے بعد جاری کی جس میں پربھاکرن کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔17مئی کو تامل ٹائیگر کی حامی ویب سائٹ تامل ڈاٹ نیٹ پر ایل ٹی ٹی ای کے بین الاقوامی تعلقات خارجہ کے سربراہ ایس پتھاناتھن نے ایک بیان میں کہا” یہ جنگ اپنے تلخ انجام کو پہنچ چکی ہے“ اسی کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا” ہم نے اپنی بندوقیں خاموش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے“ ان کا یہ کہنا دنیاکی سب سے طاقتور اور منظم علیحدگی پسند تنظیموں میں سے ایک سمجھی جانے والی تنظیم کی عسکری شکست کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ تقریباًتین دہائیوں تک بھرپور انداز سے لڑنے والے تامل ٹائیگرز ہارگئے مگر کیوں؟

چھاپہ مار بغاوت کے ذریعے کمزور فریق طاقتور کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ چھاپہ مار بغاوت کی کامیابی کے لیے بعض حالات کا ہونا ضروری تصور کیا جاتا ہے مثلاً مقامی آبادی کی حمایت، محفوظ علاقے، جغرافیہ، تنظیم و تربیت، بیرونی امداد، دشمن سے بہتر حکمت عملی وغیرہ 1976ءمیں قائم ہونے والی ایل ٹی ٹی ای نے تین دہائیوں پر محیط اپنی لڑائی میں عسکری حوالے سے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کیں یہ نہ صرف اپنی بحری قوت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس نے اپنی ایک مختصر اور کسی حدتک موثر فضائیہ بھی قائم کرلی۔ اس تنظیم کو خودکش حملوں میں خاص مہارت حاصل تھی ان حملوں میں مرد و عورت دونوں کے علاوہ ہوائی جہازوں کوبھی استعمال کیا گیا اور سری لنکا کی حکومت اور فوج کے بہت سے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا گیا۔ جن میں بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر رانا سنکھے پریمادھاسا اور وزیردفاع رنجن ویجیر انتے شامل ہیں۔ ایل ٹی ٹی ای کے اندر خودکش حملوں کو سرانجام دینے والے گروہ’بلیک ٹائیگر‘ کو دنیا میں سب سے مہلک تصور کیا جاتا تھا۔ سری لنکا کے شمال میں تامل ٹائیگرز نے اپنی ایک علیحدہ متوازی حکومت قائم کررکھی تھی جس میں ایک ریاست کے ناتمام خدوخال پائے جاتے تھے۔

ناروے کی مدد سے2002ءمیں ایل ٹی ٹی ای اور سری لنکا کی حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کئی سال جاری رہے۔ مذاکرات ناکام ہوئے اور یہ عمل جنوری2008ءکو اس وقت اپنے اختتام کو پہنچا جب صدر مہندا راجا پکسے نے تامل ٹائیگرز کے خلاف سری لنکا کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔2007ءمیں تامل ٹائیگرز سری لنکا کی فوج کے ہاتھوں مشرقی حصے میں شکست کھاچکے تھے اور شمال کی طرف دھکیلے جاچکے تھے۔ ستمبر2008ءتک تامل ٹائیگرز کے اہم مرکز ملاوی پر قبضہ کرلیا گیاجس کے بعد ان کے’دارالحکومت پر قبضے کی راہ ہموار ہوگئی ۔ اس لڑائی میں سری لنکا کی فوج ماضی کی حکمت عملی میں تبدیلی لائی۔ اس نے ایک ہی وقت میں بہت سے مقامات پر محاذ کھولے۔ اسی کے ساتھ ذرائع ابلاغ پر قدغن لگائی۔ سری لنکا کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوتے ہیں۔ سرکاری فوجیوں کی اموات کی خبروں کو عوام تک آنے سے روکا گیا۔

گذشتہ چند برسوں سے بین الاقوامی سطح پر بہت سے ممالک تامل ٹائیگرز کے خلاف سرگرم ہیں۔ اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بیرون ملک مقیم تامل ہیں۔ ایل ٹی ٹی ای کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد2006ءمیں امریکہ نے خفیہ ادارے ایف بی آئی کے اندر ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا جس کا مقصد ملک کے اندر تامل ٹائیگرز کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور اسے روکنا تھا۔ اسی سال سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک ’کنٹیکٹ گروپ‘ تشکیل دیا جس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحہ کے حصول کے لیے ٹائیگرز کی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔ یورپی یونین میں ایلا ٹی ٹی ای پر پابندی لگانے کی خاطر دباو ڈالنے کے لیے امریکہ نے سری لنکا کی حکومت کی مدد بھی کی۔

برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے ایل ٹی ٹی ای کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردیا۔ اگرچہ گورڈن براون کے ایک حالیہ بیان، جس میں سری لنکا کی حکومت پرکچھ تنقید کی گئی تھی، کولمبو کی سڑکوں پران کی تصاویر کو جلایا گیا لیکن برطانیہ کا سری لنکا کی حکومت سے تعاون ڈھکا چھپا نہیں۔2006ءسے2008ءکے دوران برطانیہ نے12ملین پونڈ کے ہتھیار سری لنکا کو فروخت کیے۔ لیبرپارٹی کے رکن پارلیمنٹ جان رڈک نے مئی2007ءکو برطانوی پارلیمنٹ کو بتایا”گذشتہ تین ماہ کے دوران میری تفتیش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ7ملین پونڈ کے ہتھیار سری لنکا کو دینے کے لائسنس دیے گئے۔ رڈک کے مطابق اس میں مختلف انواع کے ہتھیار شامل تھے جن میں ہیوی مشین گنز، فضائیہ کے لیے زمین پر استعمال ہونے والا سازوسامان، کمیونی کیشن کا سامان اور دیگر شامل ہے۔

سری لنکا کو فوجی امداد فراہم کرنے میں امریکہ کا کردار بھی خاصا اہم ہے۔ جون2007ءمیں” ہیومن رائٹس فیچرز“ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق”امریکہ سری لنکا کی حکومت کو انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت سالانہ500000 ڈالر کی امداد فراہم کرتا ہے۔ علاوہ ازیںوہ فارملٹری فنانس کے تحت بھی مالی معاونت کرتا ہے (2006ءمیں یہ رقم ایک ملین ڈالر تھی)“۔ گذشتہ سال سری لنکا کو7.4ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی ۔ سری لنکا کو جنگ کے حوالے سے مبینہ اسرائیلی امداد کے اشارے بھی موجود ہیں۔ کولمبو میں امریکی سفارت خانے میں اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی، مفاداتی شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ سری لنکا کو امداد فراہم کرنے والے ممالک میں جاپان بھارت اور چین کا نام بھی شامل ہے۔1990ءکی دہائی میں چین سری لنکا کو سب سے زیادہ ہتھیار فروخت کرنے والا ملک رہا۔2007ءمیں اس عمل میں مزید اضافہ ہوگیا۔ گذشتہ سال چین نے سری لنکا کو 6 ایف7جیٹ مفت فراہم کیے۔

امداد میں پیش پیش مذکورہ بالا ممالک کے لیے سری لنکا کی اہمیت گذشتہ چند برسوں میں اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ چین ایک بلین ڈالر کی ایک بندرگاہ سری لنکا میں تعمیر کررہا ہے جس کامقصد سعودی عرب سے آنےو الے تیل کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنا ہے ۔اسی کے ساتھ بحر ہند میں اپنی بحریہ کی سرگرمیوں کو بڑھا یا جاسکتا ہے۔

بحرہند کی اہمیت میں خاصا اضافہ ہوچکا ہے جس کے کنارے موجود ممالک دنیا کا40 فیصد خام تیل پیدا کرتے ہیں اور 70فیصد تیل اسی سمندر سے سفر کر کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ یہ صورت حال سری لنکا کی جغرافیائی حیثیت کو بڑھادیتی ہے۔ حالات و واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ 2006ءسے2007ءکے دوران مختلف ممالک کی سری لنکا میں دلچسپی خاصی بڑھی اور تین دہائیوں سے جاری شورش کو کچلنے کے لیے یہ ممالک خاصے سرگرم ہوئے۔ اس عمل سے تامل ٹائیگرزکمزور ہوئے اور یہ عمل ان کی شکست پر منتج ہوا۔ یہ عمل سنہالی قوم پرستوں کے اتحادی مہندا راجا پکسے کو اس حیثیت میں لے آیا جہاں وہ طویل لڑائی کے باوجود ملک کی معیشت کو ڈوبنے سے بچانے میں بھی کامیاب ہوئے اور افواج کو بھی مضبوط تر کیا۔

شورش یا علیحدگی کے لیے عسکری کارروائیوں کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا خاصا مشکل کام ہوتا ہے۔ عسکری کارروائیاں مقامی آبادی کے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہیں۔ ایل ٹی ٹی ای نے اگرچہ سری لنکا کے شمال میں طویل عرصے تک اپنی ایک علیحدہ نام نہاد ریاست قائم کی البتہ اس کے انتظام کو چلانے کے لیے جومعاشی وسائل درکار ہوتے ہیں وہ کسی باقاعدہ ریاست کی نسبت انتہائی کم ہوتے ہیں۔

ایل ٹی ٹی ای کی شکست نے عسکری طریقہ کار کے ذریعے تاملوں کی امنگوں کے حصول کا باب بند کر دیا ہے۔ تاہم اس جنگ کے اختتامی مہینوں میں جس طرح تامل شہری متاثر ہوئے اس سے یہ مسئلہ بین الاقوامی توجہ حاصل کر گیا ہے علاوہ ازیں دنیا بھر میں آباد تامل بھی سرگرم ہوئے ہیں۔ سری لنکا سے باہر بھارت میں تاملوں کی ایک بہت بڑی آبادی موجود ہے۔ یورپ ، امریکہ ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی تامل بڑی تعداد میں بس چکے ہیںجن کی ہمدردیاں سری لنکا میں موجود تاملوں سے ہیں۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں تامل چھوٹے اور بڑے مظاہروں کے ذریعے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایل پی ٹی ای کا خون آشام اختتام تو ہو چکا ہے لیکن ایک نئے انداز سے جدوجہد کا آغاز ممکن ہے جو اپنی نوعیت میں زیادہ پرامن ہوگی۔

اس جنگ کے خاتمے کے بعد جہاں بیرونی دنیا پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہیں سب سے اہم ذمہ داری سری لنکا کی حکومت پر ہے کہ وہ فتح کے نشے میں تامل آبادی کو تیسرے درجے کا شہری نہ بنا دے۔ اگر اس جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کسی بھی فریق سے ہوا ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔

اشاعت: ہم شہری ۲۲ مئی ۲۰۰۹

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s