ہنڈوراس میں کودیتا

ہنڈوراس میں کودیتا

مینویل زیلایا ہنڈوراس کی نئی حکومت کو تنہا کرنے میں خاصی حد تک کام یاب ہوئے ہیں۔

رضوان عطا

6 جولائی کو ہنڈوراس کی نئی عبوری حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا۔ دارالحکومت میں اس روز طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کرفیو نافذ تھا اور شہر کی سڑکیں پولیس اور فوج کی گرفت میں تھیں۔ مظاہرین ایک کودیتا کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کیے گئے صدر مینویل زیلایا کو خوش آمدید کہنا چاہتے تھے اور نئی حکومت طیارے کے ذریعے ان کی ملک آمد کو روکنا چاہتی تھی۔ پائلٹ نے ائیرپورٹ پر طیارہ اتارنے کا خطرہ مول نہیں لیا اور ایلسلو اڈور کا رخ کیا۔ زیلایا ابھی تک ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی قیادت کوسٹاریکا کے صدر اور 1987ء میں نوبل امن انعام حاصل کرنے والے اوسکر اریاس کر رہے ہیں۔ تاہم زیلایا، جن کی قائم حکومت کو پوری دنیا کے ممالک تسلیم کرتے ہیں، مذاکرات کی سست رفتار سے نالاں ہے۔

ہنڈوراس میں 28 جون کو ملک کی فوج نے مینویل زیلایا کو نہ صرف اقتدار سے علیحدہ کیا بلکہ کوسٹاریکا کو جلاوطن کردیا۔ اس عمل کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ ،کانگریس اور فوج کی حمایت حاصل تھی۔ زیلایا کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ آئینی تبدیلی کے ذریعے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کو ممکن بنانا چاہتے تھے۔ وہ 2005ء کے انتخابات میں ملک کی روایتی جماعتوں میں سے ایک لبرل پارٹی کی مدد سے منتخب ہوئے۔ لبرل پارٹی کی ماضی کی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے انہوں نے اپنا جھکاوٴ کسی حد تک بائیں بازو کی طرف کیا اور ان کے تعلقات خطے میں اس رجحان کی حکومتوں سے بڑھنے لگے۔ جب انہیں وینزویلا اور کیوبا کے زیر اثر بولیویرین الائنس فار دی امریکاس (ALBA) کی جانب سے تجارت کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی پیش کش ہوئی تو انہوں نے اسے قبول کیا۔ سردجنگ کے زمانے سے ہنڈوراس کے ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ خاصے گہرے مراسم ہیں جن میں زیلایا نے دراڑ کی ابتدا کی۔ انہوں نے وینزویلا اور کیوبا سے تعلقات کو بڑھاوا دیا جس نے روایتی طور پر امریکہ سے جڑی ملکی قوتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ کودیتا سے چند ہفتے قبل ہنڈوراس کے صدر نے آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کے اجلاس میں 1962ء میں کیوبا کو اس تنظیم سے بے دخل کرنے کے خلاف ووٹ دیا۔ زیلایا نے یہ تک کہا کہ اگر تنظیم کیوبا کے لیے اپنے در وا نہیں کرتی تو اس کا وجود خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ جب انہوں نے 1982ء میں فوجی چھتری تلے بننے والے آئین میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تو ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔

اس صورتحال میں سب سے شدید ردِعمل ALBA کی طرف سے ہی آیا اورا نہوں نے فوراً ہنڈوراس سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ اس کے ساتھ ملک کے اندر احتجاج شروع ہو گئے اور مظاہرین کا پولیس اور فوج سے تصادم ہوا۔ 2002ء میں وینزویلا کے صدر اسی طرح کے ایک کودیتا کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کر دیے گئے لیکن عوامی احتجاج کی طاقت نے انہیں دوبارہ اقتدار نصیب کیا۔ ہنڈوراس میں ایسا نہیں ہوا تاہم اس کشمکش کی وجہ سے اطلاعات کے مطابق ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ہنڈوراس کو جن مسائل کا سامنا ہے انہوں نے ملک میں ایک ہیجان برپا کر رکھا ہے۔ ہنڈوراس کا شمار ان غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں امیر اور غریب کے درمیان بہت بڑی تفریق موجود ہے۔ وسطی امریکا میں 7.2 ملین آبادی کے دوسرے بڑے ملک میں آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اور 27.9 فیصد آبادی بے روزگار ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف اسے دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔

ملکی مسائل سے نپٹنے کے لیے زیلایا نے جنوری 2006ء کے بعد سے ہی کوششیں شروع کر دیں اور روایتی حریف سے تعاون کے طلب گار ہوئے۔ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے انہوں نے بش انتظامیہ سے درخواست کی لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ بالآخر 2007ء میں انہوں نے 40 سال بعد کیوبا سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم امریکی حکومت کی خواہشات کے برعکس تھا۔ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہیں وینزویلا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا پڑا۔ جولائی 2008ء میں انہوں نے زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے ساتھ ساتھ توانائی اور خوراک کی ضمانت پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ 2008ء کے اوآخرمیں انہوں نے ملک کے بڑے شعبوں میں کم از کم اجرت کو بڑھایا۔ شہری علاقوں میں اسے اوسطاً 180 ڈالر سے بڑھا کر 289 ڈالر اور دیہی علاقوں میں 213 ڈالر کیا گیا۔

ان اقدامات کے باوجود ہوگو شاویز جتنی عوامی حمایت حاصل کرنے میں بظاہر وہ ناکام نظر آتے ہیں۔ تاہم لاطینی امریکہ کے ممالک کی مدد سے وہ ہنڈوراس کی نئی حکومت کو تنہا کرنے میں خاصی حد تک کام یاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کوشش ہے کہ ملک کے اندر احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ 15 جولائی کو گوئٹے مالا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے حامیوں کو ”سرکشی کا حق“ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مظاہرے اور ہڑتال کرنے، یہاں تک کہ عبوری حکومت کا تختہ الٹنے کا بھی حق حاصل ہے۔ عبوری حکومت، جسے کوئی ملک جائز تسلیم نہیں کرتا، مشکل سے ہی قائم رہ پائے گی لیکن زیلایا کب صدارت کے منصب پر فائز ہوں گے اس بارے کچھ کہنا خاصا مشکل ہے۔

اشاعت: ہم شہری ۱۷ جولائی ۲۰۰۹

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s