سنکیانگ میں نسلی فسادات

سنکیانگ میں نسلی فسادات

رضوان عطا

چین کے شمال مغرب میں واقع ’سنکیانگ اوغر خود مختار علاقہ‘ نسلی فسادات کی زد میں ہے۔ ترک نسل سے تعلق رکھنے والے چین کے اوغر باشندوں اور ہن نسل کے چینیوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے نتیجے میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 156 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 800 سے زیادہ زخمی ہیں۔آخری اطلاعات تک علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سڑکوں اور گلیوں کا گشت کر رہی ہے۔ایک چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے کی خاطر بیس ہزار پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کے تصادم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 1,434 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس خود مختارعلاقے کا دارالحکومت ارومچی ان فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ تعداد یہاں جمع ہے۔”ریڈیو فری ایشیا“ کے مطابق شہر کے مضافات میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ فسادات صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شاؤگوان میں چھبیس جون کو دو اوغر محنت کشوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے، جہاں کھلونے بنانے والی ایک فیکٹری میں مبینہ طور پر یہ جھوٹی افواہ پھیلی کہ اوغر محنت کشوں کے ہاتھوں دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد مبینہ طور پر ہن چینی کارکنوں کی طرف سے اوغروں پر حملہ کیا گیا۔ نتیجتاً دو ہلاکتوں کے علاوہ متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد پورا علاقہ افواہوں کی زد میں رہا۔ ایک افواہ یہ تھی کہ چار ہزار فیکٹری ہن مزدوروں نے چھے سو اوغروں کو قتل کردیا ہے۔ ایک عورت نے برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کو بتایا کہ اس نے افواہ سنی ہے کی چار سو اوغر عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا۔ اس واقعے کے خلاف پانچ جولائی کو ارومچی میں ہونے والے ایک مظاہرے کے بعد حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو گئے۔ اوغرمظاہرین نے ہن نسل کے لوگوں پر حملہ کیا اور کئی کو ہلاک و زخمی کردیا۔ بعد ازاں ارومچی میں ہن نسل کے چینیوں کے گروہوں نے پولیس اور مختلف نسلی گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں لاٹھیوں اور خنجروں سے مسلح ہو کر اوغروں کے خلاف مارچ کیا ہے۔ ان مظاہرین کا پولیس سے تصادم بھی ہوا۔

سنکیانگ کے چیئرمیں نور بکری نے چھے جولائی کو ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”بیرون ملک مقیم حزب اختلاف کی بعض قوتوں“ نے شاؤگوان میں ہونے والی ہلاکتوں کا فائدہ اٹھایا۔ چینی حکومت نے جلاوطن اوغروں کی قائم کردہ تنظیم”عالمی اوغر کانگرس“ پر فسادات بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ عالمی اوغر کانگرس کا قیام اپریل2004ء میں عمل میں آیا۔ اس تنظیم کی سربراہ ربیعہ قدیر نامی ایک امیر خاتون ہیں جنہیں چینی حکومت نے ملکی راز افشاں کرنے کے الزام میں6 سال قید رکھا وہ اس وقت امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسرکررہی ہیں۔

سنکیانگ چین کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں تیل کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں اور ملک کی سب سے زیادہ قدرتی گیس یہیں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کی سرحدیں آٹھ ملکوں سے ملتی ہیں۔ چین نے یہاں ایٹمی تجربے بھی کیے ہیں۔ فرانس سے تین گنا بڑے رقبے والے سنکیانگ میں آبادی بکھری ہوئی اور کم ہے یوں چین اپنے گنجان آباد علاقوں سے لوگوں کی یہاں منتقلی کو تقویت دیتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس علاقے کی آبادی 21 ملین ہے۔ جہاں مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔اوغر آبادی اس وقت 8 ملین کے لگ بھگ ہے۔ تاہم ان میں اوغر کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو کل آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ ان کے بعد ہن چینیوں کی آبادی ہے جو کم و بیش 40 فیصد ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 1954 ء میں اوغر کل آبادی کا 74 فیصد تھے۔ آبادی کے تناسب میں یہ تبدیلی واضح اشارہ کرتی ہے کہ چین میں1949ء میں آنے والے انقلاب کے بعد ہن چینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد علاقے میں آکر آباد ہوئی۔ اوغر اس تبدیلی کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ اوغروں کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ ترک النسل ہیں۔ سنکیانگ کی سرحدیں وسطی ایشیا کی ریاستوں قازقستان ، کرغیزستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں اور وہ خود کو چین کی نسبت ثقافتی و نسلی اور لسانی طور پر وسط ایشیا سے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ سنکیانگ میں بظاہر اچانک اٹھنے والے فسادات کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ اوغر کو یہ گلہ ہے کہ ان کے علاقے میں ہن چینیوں کو معاشی اور سیاسی فیصلہ سازی اور بیوروکریسی میں غلبہ حاصل ہے۔ملک کی آبادی میں ہن چینیوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔چینی حکومت کے مطابق ملک میں 56 نسلی گروہ ہیں جن میں 91.6 فیصد نسلی اعتبار سے ہن ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اینگریو جیمز نتھن نے اوغر اور انجینیو کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہاہے کہ ”میں نہیں جانتا کہ یہ مخصوص واقعہ کس طرح رونما ہوا لیکن اس مرتبہ اور ماضی کے واقعات میں بھی اوغر باشندوں میں پائی جانے والی بے گانگی کا یہ اظہار ہے جو بیجنگ کے طرز حکمرانی سے پیدا ہوا ہے۔ اس طرز حکمرانی میں اوغر ثقافت، مذہب، پہچان اور مفادات کا خاص خیال نہیں رکھا گیا“۔

چینی حکومت مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ اوغر علیحدگی پسندوں کے القاعدہ سے تعلقات ہیں۔ اس بنیاد پر سنکیانگ میں سکیورٹی فورسز کئی مرتبہ بڑی کارروائیاں کرچکی ہیں۔ خصوصاً گزشتہ سال ہونے والے اولمپکس کے موقع پر یہ عمل دیکھنے کو ملا۔انسانی حقوق کی تنظیمیں چینی حکومت پر یہ الزام لگاتی رہی ہیں ہے کہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے نام پر سیاسی کارکنوں کو گرفتار اور ہراساں کرنے کی مرتکب ہورہی ہے۔ سنکیانگ میں گزشتہ چند برسوں میں تیز رفتار معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن جو بات اوغروں کو ہنوں سے دور کر رہی ہے وہ ہے فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب شرکت کا نہ ہونا، اوغر زبان پرچینی زبان کو فوقیت دینا شامل ہے۔ مسلمان ممالک کی اکثریت اس مسئلے پر خاموش ہے، یہ بات درست ہے کہ 90 ء کی دہائی کے بعد اوغر علیحدگی پسندوں میں مذہبی بنیاد پرستی کے رجحان نے فروغ پایا ہے لیکن اسے جواز بناکر اوغروں کے حقیقی مسائل سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی آج اِن فسادات پر شاید قابو پالیا جائے لیکن مسئلے کی جڑ کو ختم کیے بغیر اوغروں اور ہن چینیوں میں ہم آہنگی ایک مشکل عمل ہوگا۔

اشاعت: ہم شہری ۱۰ جولائی ۲۰۰۹

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s