ناراض بلوچستان

ناراض بلوچستان

رضوان عطا

تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر بلوچ کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی خبر نے پورے بلوچستان میں شدید ردعمل کو پیدا کیا۔ غلام محمد بلوچ نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کی کاوشوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صوبے میں بلوچ آبادی کا کوئی بھی شہر ایسا نہیں جہاں احتجاج اور توڑ پھوڑ نہ ہوئی ہو۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری املاک اور غیر بلوچ آبادی پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ کم از کم تین روز تک بلوچستان میں زندگی مفلوج رہی۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ ردعمل نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی نسبت بڑا تھا۔ بلوچستان میں ہونے والے ردعمل کی شدت اور وسعت اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ اِس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور فوری طور پر ایسے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں جو بلوچ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کریں۔

بلوچستان میں قوم پرست کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے آئی جی پولیس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں خفیہ اداروں کے ایک ایک نمائندوں کے ساتھ فرنٹیئر کور کا نمائندہ بھی شامل ہو گا۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ اور گورنر بھی اپنی صوابدید پر کسی افسر کو کمیٹی میں شامل کر سکتے ہیں۔ یہ اعلان وفاقی مشیر داخلہ رحمان اے ملک نے نواب اسلم رئیسانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔رحمان ملک نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ اس واقعے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

دوسری جانب بلوچ قوم پرست رہنما اس واقعہ کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ملکی خفیہ ادارے اس واقعے میں ملوث ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تحقیقاتی کمیٹی پر بلوچستان میں کس حد تک اعتماد کیا جائے گا۔ بلوچستان کی سیاسی قوتوں بالخصوص وہ جو انتخابی سیاست سے علیحدہ ہو چکی ہیں، کو اعتماد میں لیے بغیر تحقیقات پر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

موجودہ حالات میں بلوچستان کی صورت حال اپنی جانب بین الاقوامی توجہ مبذول کرا رہی ہے۔ جان سولیکی کا اغوا اور رہائی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں خاصی توجہ حاصل کی۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ تین بلوچ رہنماؤں کے قتل پر نہ صرف اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہارکیا بلکہ امریکہ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا بیان سامنے آیا۔

پاکستان اس وقت بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ اسے ایک طرف مذہبی انتہا پسندوں کی عسکری کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ملک کی سکیورٹی فورسز کا ایک بڑا حصہ مغربی سرحد پر ہے۔ ملکی معیشت مشکلات سے دو چار ہے۔ موجودہ حکومت کو اپنے قیام کے بعد ایک کے بعد دوسرے بحران کا سامنا ہے۔ ان حالات میں بلوچستان میں پیدا ہونے والے حالات نے مسائل کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔

گذشتہ ماہ صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے لیے 46.6بلین روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ صوبے کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس پسماندہ صوبے کے حقوق کو پسِ پشت نہ ڈالا جائے۔

اپنے دو روزہ دورے کے دوران انہوں نے بلوچستان کے عوام سے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی استدعا کی۔ آصف علی زرداری اس سے قبل بلوچستان کے عوام سے ہونے والی زیادتیوں پر معافی مانگ چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے اعلانات کے باوجود بلوچستان کے اندر فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما بار بار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہاں صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں بے بس ہیں اور طاقت کا مرکز کہیں اور ہے۔

یوں تو بلوچستان کی سیاسی قیادت اور عوام عمومی طور پر مرکز کی پالیسیوں سے نالاں رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں وہاں مسلح بغاوتیں بھی ہوئیں لیکن کم و بیش تین دہائیوں کے بعد صوبے میں موجود خاموشی جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ٹوٹی۔ سابقہ آمر کے دور میں بلوچوں کی بیگانگی میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینا خاصا اہم ہے۔ یہ وہ دور تھا جب قوم پرست جماعتیں مرکز سے دور ہونا شروع ہوئیں۔

پرویز مشرف کے اقتدار کے آغاز کے وقت بلوچستان کے بیشتر علاقوں کو قحط جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس قحط نے پہلے سے بدحال صوبے کی معاشی زندگی کو بُری طرح متاثر کیا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہو چکی تھی۔ اقتدار سنبھالنے والا نیا آمر اسے برقرار رکھنے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ اُس وقت بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

یہ وقت تھا جب بلوچستان میں عسکری طریقہ کار کو اپنانے والے ازسر نو منظم ہوئے۔ مرکز کی عدم توجہی اور صوبے میں پھیلی بے روزگاری نے قبائلی طرزِ زندگی سے منسلک بلوچوں کے علاوہ شہروں اور قصبوں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان کی صفوں میں شامل کرنے کا اچھا موقع فراہم کیا۔ اسی کے ساتھ سرکاری تنصیبات پر حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مسلح کارروائیوں کے آغاز کے چند سال بعد ہی بلوچستان کی سیاست میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ سال 2003ء میں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں میں قربت اور اتحاد کو دیکھا گیا۔ اس سال ستمبر میں چار قوم پرست جماعتوں نے بلوچ اتحاد کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا جس میں دو بنیادی نقاط پر اتفاق رائے تھا، فوجی چھاؤنیوں اور میگا پراجیکٹس کی مخالفت۔کچھ ہی عرصے میں یہ دو نقاط بلوچستان کی سیاست میں اہم ترین حیثیت اختیار کر گئے۔

بلوچستان میں چھاؤنیوں کی تعمیر کے خلاف ستمبر 2003ء میں بلوچستان اسمبلی ایک قرارداد منظور کر چکی تھی مگر اسے یکسر نظر انداز کیا گیا۔

بلوچستان کی سیاست میں 2003ء میں جو واضح تبدیلی دیکھی گئی وہ یہ تھی کہ قوم پرست سیاسی جماعتوں نے عسکری کارروائیوں کی مذمت کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ کسی نہ کسی انداز میں ان کی حمایت کی۔

سرکاری تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے بارے میں عوامی سطح پر جان کاری جولائی 2004ء کو ہوئی۔ اس تنظیم نے بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں کو کاہان میں قائم تربیت گاہوں پر مدعو کیا۔ اس وقت تک مشرف حکومت کی پالیسی یہی تھی کہ بلوچستان میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان اور پاکستان سے باہر کے لوگوں کو بے خبر رکھا جائے۔ البتہ وہ اسی سال مکران کے نزدیک اس نوعیت کی تربیت گاہوں کے خلاف آپریشن کر چکے تھے۔ بعض سرکاری ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے تھے کہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں 150کے قریب ایسے کیمپ قائم ہیں اور بلوچ لبریشن آرمی 4سے 9کروڑ ماہانہ اپنی کارروائیوں پر خرچ کر رہی ہے۔ بلوچستان میں یہ بات اتنی ڈھکی چھپی نہیں کہ مسلح کارروائیوں میں حصہ لینے والے افراد کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں قوم پرست جماعتیں ملکی سطح پر حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہیں اور حکمرانوں کی مقبولیت میں کمی کے باعث ان کی آواز سنی بھی جاتی رہی۔ بلوچ قوم پرستوں کو اس دور میں ملکی سطح پر عوامی ہمدردیاں حاصل رہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہاں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رویے میں تبدیلی آئی وہیں وفاق کی سیاست پر یقین کرنے والے سردار اکبر بگٹی کی طرف سے حکومت کی مخالفت تیز ہوئی۔ بالآخر ایک بڑے آپریشن کے ذریعے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی بلوچستان میں ایک بڑا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج صرف بلوچستان تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے ملک میں اس کے خلاف نفرت کو دیکھا جا سکتا تھا۔ کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی مذمت کی۔

نومبر 2007ء میں بالاچ مری کو بھی ایک مبینہ آپریشن میں ہلاک کر دیا ہے۔ بالاچ کی ہلاکت کے خلاف بھی بلوچستان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا لیکن سوائے سندھ کے ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی قابل ذکر احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔ بالاچ 2003ء میں صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ دے چکے تھے اور علیحدگی پسند سیاست میں سرگرم تھے۔ ملکی سیاست پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا اورجون 2008ء میں ثناء اللہ بلوچ نے بھی تمام سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باوجود سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔بلوچستان میں وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتیں اب بلوچستان تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں جاری تنازعہ موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا ہے۔پرویز مشرف بلوچستان کے بارے میں اپنی پالیسی کی کامیابی کے حوالے سے عموماً خاصے پُر اعتماد نظر آتے تھے مگر انہی پالیسیوں نے مسئلے کو مزید الجھادیا۔شروع میں انہوں نے مری اور بگٹی قبائل کی تقسیم کرانے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا۔ فوجی حکمت عملی کی حدتک تو یہ پالیسی کا میاب رہی۔نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد اسے جاری رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت تک صوبے کی صورتحال خاصی بدل چکی تھی۔ پرویز مشرف کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی نفرت کا نشانہ بلوچستان میں موجود ان کے حامی بھی بنے۔ نتیجتاً پارلیمانی سیاست پر سے اعتبار اٹھنا شروع ہوا۔پرویز مشرف نے صوبے میں جس نئے، خطرناک اور ظالمانہ طریقے کو متعارف کروایا وہ تھا سیاسی کارکنوں کا خفیہ اغوا۔ سینکڑوں اور بعض اندازوں کے مطابق ہزاروں قوم پرست سیاسی کارکنوں کو اغوا کیا گیا اور بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کا آج تک پتہ نہیں۔ اگرچہ سابق حکومت کا خیال تھا کہ فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ تشدد کے اس طریقے کے ذریعے وہ اپنے مقاصد حاصل کرلیں گے لیکن دراصل معاملہ اس کے اُلٹ ہوا۔ اس عمل نے صوبے کی سیاسی قیادت کو آہستہ آہستہ ان لوگوں کے قریب کیا جو علیحدہ گی پسندی کی بات کرتے ہیں۔ سابقہ حکومت نے جو زخم لگائے ان پر مرہم رکھنے کا کام موجودہ حکومت کے حصے میں آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ کام کر پائے گی۔

اب یہ ماننے میں عار محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند رجحانات تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ صوبے میں اب ایک کشمکش جاری ہے۔ ایک طرف بلوچستان میں موجود وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو حکومت کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو ماضی میں وفاق کی سیاست کرتی رہی ہیں لیکن اب ان میں پارلیمانی سیاست کے ذریعے مسائل کے حل کے حوالے سے مایوسی ہے۔ جبکہ تیسری قوت محض علیحدگی کی بات کرتی ہے۔ علیحدگی پسند قوتیں، پارلیمانی سیاسی جماعتوں پر مسلسل دباوٴ ڈال رہی ہیں کہ وہ جاری طرز سیاست کو خیر باد کہیں۔

کم وبیش ایک سال قبل قائم ہونے والابلوچ نیشنل فرنٹ انہی علیحدگی پسند رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے جس میں قتل ہونے والے غلام محمد بلوچ نے اہم کردار ادا کیا۔

عبدالحئی بلوچ کی نیشنل پارٹی اور اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی مختلف نقطہٴ نظر رکھتے ہیں۔ البتہ یہ انتخابی سیاست سے کافی حدتک گریز کرنے کی پالیسی پرگامزن ہیں۔یہ دونوں جماعتیں صوبے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان کی حمایت کے بغیر صوبے میں مفاہمت کا عمل آگے نہ بڑھ سکے گا۔

بلوچستان میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کو بعض بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔صوبائی خود مختاری کو عملی شکل دینے کے ساتھ ساتھ صوبے میں ایسی ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی جو عوام کی زندگی میں بہتری لائیں۔ ماضی میں جو قوتیں طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل کرنے کی راہ پرگامزن رہیں انہیں شاید یہ سب ناپسندیدہ ہو اور اس کی راہ میں رکاوٹیں بھی ڈالی جائیں لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں رہا کہ سابقہ پالیسیوں کو یکسر ردکیا جائے۔

بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے اہم ترین کردار وہاں کی سیاسی جماعتیں ہی ادا کرسکتی ہیں۔ البتہ بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت، وہاں پر پائے جانے والے معدنی وسائل اور خطے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ یہ صوبہ بعض دیگر ممالک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

گوادر کی بندرگاہ اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ ابتدا سے ہی یہ متنازع رہی ہے۔جنرل (ر)پرویز مشرف کا ہی خیال تھا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے گوادر اہم کردار ادا کرے گا البتہ انہوں نے اس بندرگاہ کے قیام کے حوالے سے بلوچستان کی اہم سیاسی جماعتوں کو کبھی اعتماد میں نہیں لیا۔ قوم پرست جماعتیں آغاز میں اس بندرگاہ کی واضح مخالفت نہیں کررہی تھیں بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ہم بعض شرائط کے ساتھ اس کی حمایت کے لیے تیار ہیں لیکن ان کے مطالبات پر سابقہ حکومت نے توجہ نہ دی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کے موٴقف میں لچک کم ہوتی گئی۔

گوادر کی بندرگاہ تعمیر کرنے میں چین کا اہم کردار ہے ۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چین کی یہاں تک رسائی کو چند ممالک اپنے لیے نیک شگون تصور نہیں کرتے اور یوں امریکہ کا نام لیا جانے لگا۔ بلوچ عسکریت پسندوں کی طرف سے اس بندرگاہ کے لیے کام کرنے والے کم ازکم چھے چینیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

ایک الزام بھار ت پر ہے اور حکام اب کھل کر یہ الزام لگارہے ہیں۔ ان کے خیال میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ ، سرمایہ اور تربیت کا سامان افغانستان کے راستے میسر کیا جارہا ہے۔ بعض نے ابتدامیں ایران پر بھی خفیف سے شک کا اظہار کیا۔ پاکستان سے متصل ایران میں بلوچ آباد ہیں۔ پاکستانی بلوچستان میں علیحدگی پسندتحریک کا فروغ ایران کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ البتہ ایک نقطہٴ نظر یہ بھی ہے کہ پاکستانی بلوچستان کی نسبت ایرانی بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان بہت کم ہے۔ ایران میں بلوچ علاقوں کے اندر جس تنظیم کا نام منظر عام پر آتا ہے وہ جنداللہ ہے۔ یہ تنظیم اپنے نظریات اور اعمال سے پاکستانی بلوچستان کی صورتحال سے میل نہیں کھاتی۔ پاکستان میں قوم پرست جماعتیں سیکولر ہیں جبکہ جند اللہ کے نظریات مذہبی بنیاد پرستوں کے قریب ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ تنظیم ایران میں موجود بلوچوں کے ہاں مقبول ہے۔دراصل ایران اور پاکستان میں موجود بلوچوں میں گذشتہ چند دہائیوں میں سیاسی ارتقاء مختلف انداز میں ہوا ہے اور شاید پاکستانی بلوچستان میں کم درجے کی مزاحمتی عسکری کارروائیاں ایران کے لیے بڑا خطرہ نہیں۔ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض کے خیال میں ایران گوادر کی بندرگاہ کو پسندید گی کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا تاہم ایسے اشارے ابھی تک ملے نہیں۔ ایران کے لیے زیادہ تشویش کا باعث طالبان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور امریکی ارادے ہیں۔

اس فہرست میں چند اور نام بھی شامل کیے جاتے ہیں البتہ کسی بھی ملک میں بیرونی مداخلت اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس ملک کے اندر کے حالات اس مداخلت کی اجازت دیں۔

موجود حکومت کے قیام کے بعد بلوچستان میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی۔ پیپلزپارٹی کی بلوچستان بارے پالیسی کافی حدتک اس وقت واضح ہوگئی تھی جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے خیر بخش مری سے ان کے بیٹے بالاچ کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزاحمت کاروں کے لیے عام معانی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد جس قدر تیزی سے بلوچستان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے وہ نظر نہیں آتی۔

اشاعت: ہم شہری ۱۰ اپریل ۲۰۰۹



Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s