افغان انتخابات کے بعد: جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

افغان انتخابات کے بعد

جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

رضون عطا

20 اگست کو ہونے والے انتخابات میں ایک صدر اور420 کونسلر منتخب کرنے کے لیے لاکھوں افغانیوں نے ووٹ دیے۔ غیر حتمی ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور حتمی نتائج17ستمبر تک متوقع ہیں۔ تاہم انتخابات سے قبل حامد کرزئی کے خلاف دھاندلی اور ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے الزامات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ۔حامد کرزئی بھی الزامات لگانے والوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ بڑے صدارتی امیدواروں خصوصاً عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کی شدت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کو کہنا پڑا کہ ”صبر“ کا مظاہرہ کیا جائے۔ افغانستان کے صدارتی امیدواروں کے مابین کشیدگی میں اضافہ اوباما انتظامیہ کے لیے پریشانی کا سبب ہے جس کا اندازہ اسے کم کرنے کی کوششوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں ایک طرف اوباما انتظامیہ، جس نے عراق کی بجائے افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا ہے، ایک قابل قبول اور معاون افغانی حکومت کی تشکیل کی خواہاں ہے وہیں طالبان انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے کٹر مخالف ہیں۔ انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی انہوں نے اپنے حملوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ طالبان کی طرف سے ووٹرز کو دی جانے والی دھمکیوں کے سبب کم لوگ ووٹ ڈالنے آئے تاہم 40 سے50 فیصد تک کہے جانے والے کم ٹرن آوٹ کی یہ بڑی مگر واحد وجہ نہیں۔ سیاسی عمل میں مختلف رجحانات کے درمیان تناو غیر معمولی بات نہیں لیکن افغانستان کے حوالے سے جہاں طالبان اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک منظم اور متحرک قوت بن چکے ہیں اور جہاں نسلی تفریق میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس نوعیت کے تناو کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔

افغان انتخابات کے حوالے سے دو پہلوؤں پر خاصی توجہ دی جا رہی تھی۔ وہ غیر ملکی قوتیں جنہیں افغانستان کے امور سے خاصی دلچسپی ہے وہ ان پہلوﺅں کو خاصے عرصے سے زیر بحث لا رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بات انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کے معاملے پر ہوئی۔ اس کے بعد انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے کا موضوع زیر بحث رہا۔ انتخابات کے بعد دھاندلیوں کے الزامات نے سر اٹھایا۔ اس معاملے کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس پر قدرے تفصیل سے بات کرنا مناسب ہو گا۔

افغان انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو قریباً سب مان رہے ہیں البتہ ان کی سنگینی اور نتائج پر ان کے اثرات کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔ فلپ موریلون، جو یورپی یونین کے انتخابی مبصرین کی افغانستان میں سربراہی کر رہے ہیں، نے انتخابات کے دو دن بعد ایک بیان میں کہا کہ صدارتی انتخابات”آزادانہ“ تھے لیکن پوری طرح منصفانہ نہ تھے۔ ان کے مطابق”بعض علاقوں میں خوف کے باعث یہ آزادانہ بھی نہیں تھے“۔ انہوں نے اسے” افغان عوام کی جیت“ قرار دیا۔ البتہ ٹی وی چینل الجزیرہ کے نمائندے کے مطابق جب انہوں نے دیگر انتخابی مبصرین سے بات کی تو انہوں نے انتخابی عمل کی کامیابی کے اس دعوے کو حیرت انگیز قرار دیا۔ یورپی یونین کا مشن یہ اقرار کرچکا ہے کہ جنوبی افغانستان میں جہاں طالبان شورش کا زور زیادہ ہے، وہ صرف چھ مقامات تک پہنچ پائے۔

انتخابی عمل پر اُٹھنے والے سوالات کی ابتدا ووٹروں کی رجسٹریشن کے عمل سے ہو ئی تھی اور گزشتہ سال دسمبر سے اس نوعیت کے الزامات کی تائید میں رپورٹیں شائع ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ انتخابی عمل کا جائزہ لینے والی تنظیم”فری اینڈ فیئر الیکشن فاونڈیشن آف افغانستان“ نے مئی میں ووٹروں کی رجسٹریشن کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کو دستاویزی شکل دی۔ رجسٹریشن کے ایک مرحلے میں400 میں سے 194 مراکز کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے بتایا کہ رجسٹر کیے گئے 20 فیصد افراد کی عمر اندراج کی طے شدہ حد سے کم ہے۔ غیر محفوظ اور روایتی شمار ہونے والے صوبوں لوگر اور نورستان میں مردوں کی نسبت عورتوں کو دُگنے ووٹنگ کارڈز کا اِجرا ہوا جبکہ یکتیکا، پکتیا اور خوست میں عورتوں کی یہ شرح30 فیصد زائد رہی۔ ان علاقوں سے ایسی خبر کا آنا خاصا حیرت انگیز ہونے کے ساتھ وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کا واضح اشارہ بھی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بہت سی ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں انتخابات سے قبل ووٹوں کے حصول کے لیے رشوت اور دباو کے واقعات بیان کیے گئے۔

حامد کرزئی کے سب سے بڑے حریف عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے فوراً بعد کرزئی اور ان کے حامیوں پر دھاندلیوں کے شدید الزامات لگائے امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا۔ بعض علاقوں میں ٹرن آوٹ کم رہا جیسے جنوب۔ تمام اندازے یہ بتاتے ہیں کہ قندھار، ہلمند، ارزگان، پکتیا، پکتیکا، خوست اور غزنی میں5سے10فیصد ووٹ پڑے لیکن جب 30 فیصد کے اعدادوشمار دیے جاتے ہیں تو بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔

صدارتی امیدواروں کے مابین نتائج پر پیدا ہونے والے اختلاف نے افغانستان کے ’آزاد انتخابی کمیشن‘ کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے۔ دوسال قبل جب صوبہ ہرات سے تعلق رکھنے والے کرزئی کے مشیر عزیز اللہ لودن کو کمیشن کا سربراہ بنایا گیا تھا تو اس وقت سے ہی انگلیاں اُٹھنا شروع ہوگئی تھیں۔ جنوری2007ء میں جب انہیں اس عہدے پر فائز کیا گیاتو سیاسی مخالفین نے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ اس نامزدگی پر پارلیمنٹ سے اجازت لی جائے البتہ اسے نظر انداز کردیا گیا۔ انتخابات کے دن ہی وہ ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے اور قوم کو بھاری ٹرن آوٹ پر مبارک باد دے ڈالی۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ لودن کی نامزدگی نے کمیشن کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کیا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی یونین کے کمیشن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ بعض صوبوں میں کمیشن کی طرف سے سٹاف پر کرزئی کے حق میں ڈالا جانے والا دباو ان کی آزادانہ حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

انتخابات میں دھاندلی کے عمل کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی مدد سے انتخابی شکایات کمیشن قائم کیا گیا ہے ۔ انتخابات میں دھاندلی کو روکنے کے لیے یہ ایک موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ افغانستان کے انتخابی قانون کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور انہیں مسترد کرنے کا اختیار اس کمیشن کے پاس ہے اسی کے ساتھ یہ کسی جگہ دوبارہ پولنگ کرانے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وجوہ کی بنا پراس کی فعالیت کم ہے۔ ملک میں شکایات کمیشن کا پھیلاو محدود ہے جس کے سبب بے قاعدگیوں کے ثبوتوں کے لیے اس کا زیادہ تر انحصار’ آزاد انتخابی کمیشن‘ پر ہے۔ انتخابات سے قبل انتخابی شکایات کمیشن انتخابی مہم کے دوران سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر حامد کرزئی کے ساتھی کریم خلیلی پر 1400ڈالر جرمانہ کرچکا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ(25 اگست) کے مطابق شکایات کمیشن کو دھوکہ دہی اور بے قاعدگیوں کی800 شکایت موصول ہوئی ہیں جن میں 54 سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔

ان بے ضابطگیوں نے جہاں انتخابی عمل کو نقصان پہنچایا وہیں طالبان کا خوف لوگوں کے سروں پر منڈلاتا رہا۔ طالبان ان انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی تیاری میں کچھ عرصے سے مصروف تھے۔ انہوں نے کئی ایسے بیانات دیے جن کا مقصد عوام میں دہشت پیدا کرنا تھا۔ ان بیانات کا ساتھ ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں نے دیا۔اگرچہ طالبان کا بظاہر کہنا یہی ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی نگرانی میں الیکشن کو نہیں مانتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے عوامی انتخاب کو رد کرتے ہیں۔اس بات کا درست اندازہ کسی کو نہیں تھا کہ طالبان پولنگ کے دوران کس حد تک اپنی طاقت کا اظہار کر پائیں گے۔

سکیورٹی کے خدشات کے باعث سینکڑوں پولنگ اسٹیشنوں کو بند کیا گیا۔ ابتدا میں سرکاری سطح پر کہا گیا کہ 20 اگست کو تشدد کے کل73واقعات ہوئے جن میں کم ازکم26 افراد ہلاک ہوئے۔تاہم بعد ازاں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس (ISAF ) کی طرف سے سامنے آنے والے ایک بیان کے مطابق اس دن چار سو کے قریب حملے کیے گئے جو 2001 ء میں طالبان کی شکست کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔محض تعداد سے شدت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔طالبان کوئی بھی بڑا حملہ کرنے میں ناکام رہے۔ زیادہ تر معاملات افغان سکیورٹی فورسز نے سنبھالے اور اطلاعات کے مطابق کسی بھی واقعے میں مدد کے لیے نیٹو یا امریکی افواج کو طلب نہیں کیا گیا۔ طالبان کو زیادہ کامیابی وہیں ملی جہاں وہ پہلے سے مضبوط ہیں۔ پشتون علاقوں میں ووٹوں کی شرح کم رہی جبکہ شمالی علاقوں میں یہ شرح زیادہ تھی۔

حامد کرزئی کے لیے یہ صورت حال مشکل کا باعث تھی کیونکہ پشتون ہونے کے ناتے انہیں ان علاقوں سے زیادہ ووٹوں کی توقع تھی۔ ایک حد تک انتخابی عمل میں طالبان کی طرف سے ڈالی گئی رکاوٹیں حامد کرزئی کے لیے نقصان کا باعث رہیں جس کا اندازہ شاید انہیں پہلے سے تھا اور اسی لیے انہوں نے نہ صرف ازبک اور تاجک جنگی سرداروں رشید دوستم اورمحمد قاسم فہیم کی طرف دوستی کا ہاتھ بلکہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد محقّق اور کریم خلیلی کو بھی ساتھ لیا۔ حامد کرزئی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران زیادہ سفر کرنے سے گریز کیا اور پشتون علاقوں میں با اثر سرداروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

طالبان کی وجہ سے ووٹ حاصل کرنے میں دشواری یقینا قابل فہم ہے تاہم کرزئی حکومت کوگزشتہ کچھ عرصے سے وہ مقبولیت حاصل نہیں رہی تھی جو انہیں 2004 ءکے انتخابات کے بعد ملی۔ رائے عامہ کے ہونے والے سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کرزئی حکومت پر بدعنوانی اور اقرباپروری کے بہت سے الزامات لگے۔ غیر مقبول حکومتیں ، سیاسی جماعتیں اور گروہ عوامی قوت پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔دہائیوں سے جنگی صورت حال میں رہنے کے باعث اس ملک میں جنگی و قبائلی سرداروں اورمذہبی رہنماﺅں نے اگرچہ ناجائز مگر اہم حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مفادات کے تحت ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا ہے۔ عبداللہ عبداللہ بھی اس عمل سے مبرا نہیں۔ بدقسمتی سے تاریخ افغان عوام کو ایک ایسے مرحلے پر لے آئی ہے جہاں ان کے پاس متبادل راستہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

منگل تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 10 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی تھی اور ’آزاد انتخابی کمیشن‘ کے مطابق ان میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے بالترتیب 40.6 اور 38.7 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ غیر حتمی نتائج البتہ پورے ملک کی تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان پشتون علاقوں میں جہاں کرزئی کو زیادہ ووٹ ملنے کا امکان ہے، تادمِ تحریر گنتی ابتدائی مراحل میں ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان دوبارہ انتخابات کے امکانات کا واضح عندیہ 20 اگست سے قبل ہونے والے سروے بھی کرتے ہیں۔

حال ہی میں افغانستان کے دورے سے واپسی پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک نے کسی امیدوار کی جیت بارے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ان کا انتخاب کے بعد ہونے والا دورہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اوباما انتظامیہ ان انتخابات کو کس قدر اہمیت دے رہی ہے۔ افغانستان کے حالات نئی انتظامیہ کے حق میں نہیں۔ کوئی بھی بڑا سیاسی تنازع انہیں مزید مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ افغان عوام میں ان کے بارے میں پائے جانے والے منفی خیالات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بذات خود امریکا میں اس جنگ کی حمایت برقرار رکھنا نئی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ حال ہی میں اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 51 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ افعان جنگ کا جواز نہیں تھا۔ فوجی اعتبار سے بھی امریکا کو مشکل کا سامنا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے دورے کے دوران ا ن سے مطالبہ کیا کہ انہیں مزید فوج فراہم کی جائے۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ اگر چہ امریکی فوج میں حالیہ اضافے سے جنوبی افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال قدرے بہتر ہوئی ہے لیکن انہیں مزید کی ضرورت ہے۔امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن اتوار کو کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کی صورت حال تشویشناک ہے اور خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ”میرا نہیں خیال کہ خطرہ ٹل رہا ہے“۔ امریکی افواج میں اضافے کی پالیسی 2007 ءمیں سابقہ امریکی انتظامیہ نے بھی اپنائی تھی مگر وہ ناکام رہی۔ اب اس بات کو تقریباً سب لوگ قبول کرنے لگے ہیں کہ محض طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ سابقہ انتظامیہ نے کرزئی طاقت کا جس غیر محتاط انداز میں استعمال کیا اس سے بڑی تعداد میں افغان شہری ہلاک ہوئے۔ نتیجتاً غیر ملکی فوجوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔ باراک اوباما اگرچہ ہمسایہ ممالک کو ساتھ لے کر مسئلے کے حل کی جانب بڑھنے کا عندیہ دے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی افواج میں اضافہ بھی چاہتے ہیں۔اگر اسلحے کے استعمال میں ان سے بھی بش انتظامیہ کی طرح غلطیاں ہوئیں تو صورت حال ان کے ہاتھ سے نکل بھی سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اوباما انتظامیہ کے دور میں شہری ہلاکتوں کی شرح سابقہ دور سے زیادہ ہے۔

باراک اوباما نے ان انتخابات کو کامیاب قرار دیا ہے۔امریکی حکومت کی یہ خواہش نمایاں ہے کہ افغان انتخابات متنازعہ نہ ہوں اور وہاں نسبتاً مستحکم حکومت قائم ہو۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ دوبڑ ے صدارتی امیدواروں کے مابین تنازعے کو تصادم کی شکل دینے سے روکا جا رہا ہے۔ 25 اگست کو برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ کے مطابق رچرڈ ہالبروک نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورت حال پر حامد کرزئی سے تقریباً آدھا گھنٹہ ملاقات کی جبکہ ان کے مخالف عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کا دورانیہ تقریباً تین گھنٹے رہا۔ بش انتظامیہ کی نسبت اومابا انتظامیہ کا کرزئی کے بارے میں مؤقف سخت رہا ہے اور ہالبروک کی اس ملاقات کے بعد ایک سینئر افغان اہلکار کے مطابق کرزئی ناخوش ہیں۔

موجودہ حالات میں پاکستان اور افغانستان کے حالات کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ دونو ں ممالک میں سب سے بڑی شورش مذہبی انتہا پسند طالبان کی ہے جن کا دونوں ملکوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ حامد کرزئی خاصا عرصہ پاکستان میں رہے اور ان کے صدر بننے کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ دونوں ملکوںکے تعلقات بہتر ہوں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ دوران صدارت حامد کرزئی نے کئی مرتبہ پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ طالبان انتہا پسندوں کے افغانستان میں داخلے کوروکنے میں ناکام رہا ہے یا وہ ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہا۔ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اس حوالے سے دو ہاتھ آگے رہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں میں نیم دلی سے حامد کرزئی کو تو شاید قبول کر لیا جائے لیکن عبداللہ عبداللہ کے لیے جگہ بہت کم ہے۔ اگر ہم اس بات کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کر دیں کہ جیت کس کی ہو گی تو بھی ان دونوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناﺅ کسی نہ کسی صورت پاکستان پر اثر انداز ہو گا۔

معروف صحافی احمد رشید کے مطابق ”کرزئی کو زیادہ ووٹ ملیں گے لیکن وہ جیت کے لیے ضروری 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس کا مطلب ہے کہ اکتوبر میں دوبارہ (رن آف) انتخابات ہوں گے۔ اس دوران افعانستان میں ایک آئینی بحران پیدا ہو گا۔ اس سیاسی کنفیوژن کا فائدہ افغان طالبان اٹھائیں گے اور وہ پاکستانی طالبان کو استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو بیت اللہ محسود کی موت کے بعد آپس کی لڑائی کے باعث کمزور ہو چکے ہیں۔ افغانستان آ کر لڑنے کے لیے وہ پاکستانی طالبان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں“۔ ابھی یہ طے کرنا مشکل ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے بعد پاکستانی طالبان بڑی تعداد میں مغربی سرحد عبور کریں گے یا نہیں تاہم افغان طالبان کو اس کا فائدہ ضرور ہو گا۔

اشاعت: ہم شہری۱۸ ستمبر ۲۰۰۹

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s