غزہ جل رہا ہے

غزہ جل رہا ہے

اسرائیلی حملہ اور اس کے اثرات

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ غزہ پر مسلسل بمباری کر رہی ہے اور حملے کے چوتھے روز اطلاعات کے مطابق بحریہ بھی شریک ہو چکی ہے۔ غزہ اسرائیل سرحد پر زمینی افواج آرٹیلری سمیت جمع ہیں اورحکام بالا سے احکامات کی منتظر ہیں۔ ہزاروں ریزروز کو بلا لیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس الزام کے ساتھ غزہ پر بمباری کا آغاز کیا کہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ اور مارٹر داغے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق ان کے حملے کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ کرنا اور حماس کی عسکری طاقت کو ختم کرنا ہے۔ البتہ 15 لاکھ آبادی پر مشتمل گنجان آباد غزہ پر بمباری سے عام شہری، جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں، کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو رہی ہے۔ بمباری کے چوتھے روزتک کم از کم 380 افراد ہلاک اور 1600 زخمی ہو چکے تھے۔ حملوں کے جواب میں حماس کی طرف سے غزہ کی سرحد پر واقع اسرائیلی قصبوں اور شہروں پر راکٹ داغنے کا سلسلہ بہت بڑھ چکا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور اس کے نتیجے میں 4 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

باوجود اس بات کے کہ دنیا کی حکومتوں میں حماس کی حمایت موجود نہیں اور وہ اسے دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں اسرائیلی بمباری کی شدت اس قدر ہے کہ اسے روکنے کے لیے آوازیں نحیف اور مبہم سہی لیکن بلند ہو رہی ہیں۔ علاوہ ازیں تشویش اس بات پر بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسرائیل اسے ابتدائی مرحلہ قرار دے رہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ منگل کے روز ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ غزہ میں حماس سے منسلک اہداف پر بمباری کا سلسلہ ”متعدد مراحل میں سے پہلا ہے“ جن کی حکومت منظوری دے چکی ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر دفاع ماٹن ولنائی کے مطابق” ہم طویل تنازعے اور ہفتوں لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ اسرائیلی افواج کے ترجمان کے مطابق” زمینی افواج تیار ہیں‘اس (زمینی حملے) کا امکان موجود ہے…. لیکن فی الحال ہم فضا اور سمندر سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں“۔

جنیوا میں عرب سفیروں نے فلسطینی عوام کے خلاف 27 دسمبر سے شروع ہونے والی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک مشترکہ پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قوانین(International Humanitarian Law) کی شدید خلاف ورزی ہیں خاص طور پر چوتھے جنیوا کنوینشن کی جو مقبوضہ علاقے پر لاگو ہوتا ہے، بالخصوص اجتماعی سزا اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے حوالے سے۔ اسی کے ساتھ یہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس پریس ریلیز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر علاقے کا غیر قانونی محاصرہ ختم کرے۔

اسرائیلی حملے کی مذمت کے باوجود عرب ممالک کے نقطہ نظر میں اختلاف واضح نظر آتا ہے۔ سعودی عرب اگرچہ حملہ کی مذمت کر رہا ہے لیکن عرب ممالک کی طرف سے وہ ایسی کسی متحدہ کاوش کی حمایت نہیں کرنا چاہتا جو حماس کی طاقت میں اضافہ کرے، جس پر ایران اور شام سے قریبی تعلق کا شبہ ہے۔ ایک عرف ڈپلومیٹ کے مطابق ”سعودی عرب اپنے سیاسی موقف کے ذریعے حماس کی حمایت میں اضافے کے خواہش مند نہیں“ قطر کا موقف اس سے قدرے مختلف اور زیادہ اسرائیل مخالف دکھائی دیتا ہے۔

عرب دنیا میں غزہ پر حملے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں عرب رہنماﺅں کو شدید تنقید کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خصوصاً مصر کی حکومت پر اسرائیل کا ساتھ دینے کا الزام زبان زد عام ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملے سے قبل غزہ اور مصر کے درمیان سرحد کو بند کرنے کی غرض سے مصری سکیورٹی فورسز کو بھیجا گیا تھا اور حملوں کے بعد بھی یہاں سے فلسطینی شہریوں کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ مصر کے اس عمل کی وجہ سے بعض عرب ممالک میں مظاہرین مصری سفارت خانے کے قریب مجتمع نظر آئے یہاں تک کہ یمن میں حملہ آور بھی ہوئے۔ اردن کی پارلیمنٹ کے اندر بعض ارکان نے اسرائیلی جھنڈے کو جلا ڈالا۔

عرب دنیا میں جہاں جمہوری روایات اور حکومتیں ڈھونڈنے سے نہیں ملتیں غزہ کی حالیہ صورت حال سے پیدا ہونے والی نفرت عرب حکومتوں کی مقبولیت میں کمی کا باعث بن سکتی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذہبی انتہا پسند قوتیں اس کا فائدہ اٹھائیں گی۔ ترقی پسند عرب قوم پرستوں کے زوال یا اقتدار میں آنے کے بعد بد عنوان ہونے کے عمل نے ایسی قوتوں کا راستہ کافی حد تک ہموار کر دیا ہے۔ عرب دنیا میں جہاں حکمرانوں اور شہریوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں وہیں اس بات کے امکان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے میں ایک بڑے المیے کو جنم دیں گی۔ ان کی وجہ سے اسرائیلی ریاست کے خلاف نفرت غیر منطقی حد تک انتہاﺅں کو چھو سکتی ہے جو بذات خود بڑی حد تک امریکہ اور یورپی ممالک پر منحصر اور عربوں میں گھرے اس ملک کے لیے خطرناک صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔

2006 ءکے انتخابات کے بعد اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والی تنظیم کی جیت قابل قبول نہ تھی۔ اگرچہ فلسطین میں ہونے والے انتخابات کے منصفانہ اور شفاف ہونے پر کسی کو شبہ نہیں لیکن اس کے نتیجے میں ایک مذہبی بنیاد پرست اور اسرائیل مخالف تنظیم روایتی سیاست دانوں کو واضح شکست دیتے ہوئے کامیاب ہوئی، ایسی تنظیم جو سرے سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔

پہلی انتفادہ کے وقت 1987 ءمیں قائم ہونے والی یہ تنظیم مصری اخوان المسلمین کی ایک شاخ تھی۔ انتخابی میدان میں حماس کی سب سے بڑی اور حیران کن کامیابی جنوری 2006 ءکے انتخابات تھے جس میں اس نے 132 میں 76 نشستیں جیتیں۔ اس جیت کی وجوہات میں جہاں اسرائیلی قبضے سے فلسطینیوں کے لیے پیدا ہونے والے مسائل کا ہاتھ ہے وہیں فتح حکومت کی بد عنوانی اور نا اہلی بھی شامل ہے۔ حماس فلسطینیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ قبضے کے خلاف وہی حقیقی مزاحمتی قوت ہے۔ حماس کی جیت کے بعد فتح کے ساتھ اس کی صلح عارضی ثابت ہوئی اور جلد ہی ان دونوں کے مابین تنازعے نے مسلح محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لی۔ جون 2007 ءمیں مغربی کنارے میں حکومت سے نکال باہر کیا مگر غزہ میں حماس اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

انتخابی جیت کے بعد حماس نے اسرائیل سے صلح کے لیے بعض عبوری حل بھی پیش کیے جن میں مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم سے مکمل اسرائیلی انخلا کی صورت میں 10 سالہ جنگ بندی کے لیے رضا مندی شامل ہے۔ اس کے باوجود وہ اسرائیل کے خاتمے اور ایک اسلامی فلسطین کے قیام کے لیے اپنے نصب العین سے دست بردار نہ ہوئی۔ مذہب اور قوم پرستی کے ملغوبے سے تیار ہوا منشور بہت سوں کے لئے قابل قبول نہ تھا۔ اسی لئے فلسطینیوں کے اس چناﺅ کو اسرائیل نے آڑھے ہاتھوں لیا۔

اسرائیل اور مصر کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی کا آغاز جون 2007ءمیں اسی وقت ہوگیا جب حماس نے اقتدار سنبھالا۔ ناکہ بندی کے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ سے ملحقہ اپنی سرحدیں بند کردیں اور بنیادی ضرورت کی اشیاءکی محدود آمد کے علاوہ زیادہ تر سے اس علاقے کے بسنے والوں کو محروم کردیا گیا۔ اس ناکہ بندی کے نتیجے میں فلسطینیوں نے بے حد مصائب کا سامنا کیا۔ اقوام متحدہ سمیت بہت سی انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے اس ناکہ بندی کی مذمت کی۔ حالیہ حملوں سے قبل اس ناکہ بندی کو مزید سخت کردیا گیا تھا۔

5نومبر کو اسرائیلی حکومت نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کردی ۔خوراک، ادویات،تیل، پانی اور نکاسی کے آلات، کھادیں،فون، کاغذ، جوتے یہاں تک کہ چائے کے کپ یا تو غزہ آنہیں سکتے تھے یا اتنی محدود تعداد میں کہ آبادی کے لیے ناکافی۔ معروف امدادی تنظیم آکسفیم کے مطابق نومبر میں خوراک کے صرف137ٹرک غزہ میں داخل ہوئے جس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً 4.6ٹرک، جبکہ اس سال اکتوبر میں یہ اوسط123تھی اور دسمبر2005ءمیں564۔غزہ میں تقریباً750,000افراد کو خوراک فراہم کرنے والی دو بڑی تنظیمیں 5سے 30نومبر کے درمیان محض23ٹرک لا پائیں، ضرورت کا محض 11فیصد۔اس دوران غزہ میں کل47میں30نجی بیکریا ں گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے بند ہوگئیں۔

4دسمبر کو اسرائیل نے بینک نوٹس کی ترسیل پر پابندیاں عائد کردیں جس کی وجہ سے بینک بند ہوئے۔ عالمی بینک خبردار کرچکا ہے کہ اگر یہ پابندیاں عائد رہیں تو غزہ میں بینکنگ کا نظام ڈھیر ہوسکتا ہے۔ یہاں تک کہ غزہ میں درسی کتب کی اشاعت رک چکی ہے کیونکہ کاغذ، سیاہی، اور گوند موجود نہیں۔ یہ درست ہے کہ فلسطینی وزیراعظم کی اپیل پر اسرائیلی وزیر دفاع ایہودباراک نے25ملین ڈالر دیئے لیکن اس سے تو غزہ کے77,000سرکاری ملازمین کی ایک ماہ کی تنخواہ بھی پوری نہیں ہوتی۔13نومبر کو ڈیزل کی کمی کی وجہ سے غزہ میں بجلی کی فراہمی کا واحد سٹیشن بند کرنا پڑا۔ تیل کی فراہمی دس دن بعد ہوئی۔ نومبر کے آخری ہفتے میں394,000لیٹر صنعتی ڈیزل کی اجازت دی گئی۔ اسرائیل اس ڈیزل کی ایک طے شدہ کم ازکم مقدار فراہم کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے مگر مذکورہ بالا مقدار اس کا محض18فیصد تھی۔

مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی اور غزہ میںحماس اتھارٹی کے مابین تنازعہ بھی عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے مثلاً نکاسی کے لیے ضرور پمپس کو تیل فراہم کرنے کی غرض سے عالمی بینک مغربی کنارے میں قائم حکومت کو فنڈ فراہم کرتا ہے لیکن جون سے انہوں نے غزہ میں قائم حماس حکومت کو ان کی فراہمی روک رکھی ہے۔

نومبراوردسمبرمیں غزہ کی ناکہ بندی نے خوراک، ایندھن اور ادویات کی فراہمی کو شدید متاثر کیا۔ غزہ کی آدھی آبادی بچوں پر مشتمل ہے جو بڑی تعداد میں خوراک کی کمی کا شکار ہورہے ہیں۔ غربت کی شرح76فیصد ہے اور بے روزگاری کی45فیصد۔

غزہ میں یہ وہ صورت حال تھی جس میں اسرائیل اور حماس کے مابین مصر کی معاونت کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھے۔ حماس کے نظریات سے زیادہ غزہ کی سیاسی وسماجی صورتحال نے اسے اسرائیل کے ساتھ6ماہ سے جاری جنگ بندی ختم کرنے کی طرف مائل کیا۔ اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے ہیں۔ حملے دونوں نے کیے ہیں فرق یہ ہے کہ اسرائیل بڑا، تباہ کن اور زیادہ جان لیوا حملہ کرسکتاہے ،حماس کے پاس یہ طاقت نہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کو حماس کا بڑا حامی تصور کیا جاتا ہے لیکن حزب اللہ ابھی تک اس جنگ میں براہ راست شریک نہیں۔ البتہ لبنان میں وہ احتجاجی مظاہرے منظم کررہی ہے اور تنظیم کے قائم کردہ ذرائع ابلاغ کی مدد سے حماس کی حمایت بڑھانے میں مصروف ہے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اتوار کے روزاپنی تقریر میں کہا کہ مصری عوام اور افواج رفاہ سرحد کو کھولنے کے لئے اپنے رہنماوں کو مجبور کریں۔ قاہرہ کی طرف سے اس کا سخت جواب بھی آیا ہے اور ابھی تک وہ اسرائیلی معاشی ناکہ بندی کو مانتے ہوئے اسے نہیں کھول رہا۔ حزب اللہ کے رہنما نے الزام لگایا ہے کہ بعض عرب ممالک غزہ پر حملے میں اسرائیل کے ”ساتھی“ ہیں۔ بہرحال حزب اللہ کے لیے بھی یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔2006ءمیں اسرائیلی جارحیت کو شکست دینے والی یہ قوت عسکری حوالے سے حماس کی مدد نہیں کر پارہی یا کر رہی، دوسری طرف اس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی توقعات اس تنظیم سے بہت بڑھ کر ہیں۔ حزب اللہ کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ اس لڑائی میں شامل ہو۔ غزہ پر زمینی حملہ صورت حال بدل بھی سکتا ہے۔

اسرائیل کے اندر عرب اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد غزہ پر حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہائفہ، تل ابیب اور یروشلم میں قائم اسرائیلی یونیورسٹیوں کے طلبہ تسلسل کے ساتھ حملے کے خلاف منظم احتجاج کررہے ہیں۔ اسرائیل میں تر قی پسند دانشوروںکا ایک وسیع حلقہ اسرائیلی حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔

اسرائیلی اخبار ہاریز (Haaretz ) میں 28دسمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ حملے کی تیاری کافی عرصے سے جاری تھی۔اخبار کے مطابق”طویل عرصے سے تیاری، احتیاط کے ساتھ معلومات کا حصول، خفیہ مباحث اور عوام کو غلط معلومات فراہم کر کے گمراہ کرنے کا عمل جاری تھا“۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر دفاع ایہودباراک نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو6ماہ قبل آپریشن کی تیاری کے احکام دے دیئے تھے، باوجود اس کے کہ اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کررہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایہود باراک نے حماس کے عسکری ڈھانچے اور دیگر عسکری تنظیموں کے بارے میں جامع خفیہ معلومات کے حصول کے احکامات بھی دئیے ہوئے تھے۔

اسرائیل کے اندر اپنی حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازیں کمزور ہونے کے باوجود اہم ہیں۔ یہ جتنی مضبوط ہوں اتنا خطے میں امن کا امکان پیدا ہوگا۔ دراصل اسرائیل کے اندر امن کے لیے اٹھنے والی تحریک فلسطینیوں کی آزادی اور خطے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری عناصر میں سے ایک ہے۔

باراک اوباما اس وقت ہوائی میں چھٹیاں منا رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تادم تحریر ان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ ان کے ساتھی بتارہے ہیں کہ انہیں صورتحال سے وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جارہاہے۔ دوسری طرف بش انتظامیہ کا موقف بہت واضح ہے۔انہوں نے حالیہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حماس پر ڈالی ہے۔

وائٹ ہاوس کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اسرائیلی حکومت کو کارروائیاں جاری رکھنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ بش انتظامیہ اسرائیل سے امریکی دوستی کی پرانی روایت پر قائم ہے۔ سال2008ءمیں اسرائیل سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والاملک تھا۔ تقریباً تمام امداد عسکری مقاصد کے لئے استعمال ہوئی یا ہوگی اور اس کا75فیصد امریکہ سے اسلحہ خریدنے پر صرف کیا جائے گا۔ انتخابی مہم کے دوران باراک اوبامہ نے بھی اسرائیل کی حمایت کے ساتھ توقعات سے بڑھ کر بیان دئیے۔ یروشلم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ علاوہ ازیں وہ غزہ کے قریب موجود ان علاقوں میں بھی گئے جو حماس کے راکٹوں کی زد میںرہتے ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔ اوبامہ کی بیان کردہ عمومی پالیسیوں سے فلسطین اسرائیل تنازعے پر پیش کیا جانے والا نقطہ نظر میل نہیں کھاتا۔ عراق میں جہاں وہ افواج کی واپسی کی بات کرتے ہیں وہیں60سال سے جاری تنازعے کے بارے میں ا ن کا موقف فلسطینی عوام کی امیدوں اور خواہشات سے کوسوں دور ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انتخابات میںیہودی ووٹ کی اہمیت کے مدنظر ان کا یہ جھکاو سابقہ صدر سے بھی بڑھ کر سامنے آیا ہو لیکن جلد یا بدیران پرواضح ہوجائے گا کہ یک طرفہ پالیسی سے یہ مسئلہ حل ہونے والانہیں اور اگروہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے تو بش کی طرح وہ بھی اس خطے کوسلگتا ہوا چھوڑ کر جائیں گے۔

اسرائیلی پابندیوں اور بمباری کی وجہ سے صحافیوں کو غزہ میں کام کرتے ہوئے دشواریوں کا سامنا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دشواری امدادی تنظیموں اور کارکنوں کو درپیش ہے۔ غزہ شاید دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہے ۔ آبادی کا تناسب 4500 افراد فی مربع میل ہے۔ بمباری سے بچنے کے لیے شہری آبادی کے پاس نہ کوئی راستہ ہے اور نہ کوئی جگہ۔ پناہ گاہیں بنیں تو کیسے اور کہاں۔سمندری اور فضائی راستے کی ناکہ بندی ہے اور مصر سے ملنے والی واحد سرحد بند ہے۔ ایسے میں جب کئی ٹن بارود آسمان سے گررہا ہے تو چاہے اسے کتنی ہی احتیاط سے برسایاجائے عام شہری ضرور متاثر ہوں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام شہریوں کو سزادی جارہی ہے۔

عرب لیگ ان حالات میں موثر کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آئی ہے اور اس کی ایک وجہ ان کے باہمی اختلافات ہیں۔ بدقسمتی سے خطے میں اپنی حامی قوتوں کے حلقہ اثر کو محدود ہونے سے روکنے یا انہیں بڑھانے کی خاطر عر ب ممالک کے ایک نقطہ نظر اور حکمت عملی پر متفق نہ ہونے کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا نہیں ہو پارہی جو جنگ بندی کے امکانات مخدوش کرتی جارہی ہے یا ان میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے حملے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کا مقصد”دہشت گردوں“ کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ وجہ جو بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اہم ترین سوال انسانی ہلاکتوں اور مصائب کو روکنا ہے اور جنگ بندی کے بغیر یہ ممکن نہیں۔

یقینا عرب سمیت پوری دنیا کے عوام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی رائے کا اظہار کریں اور اپنی حکومتوں کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے دباو ڈالاجائے کہ فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کو منصفانہ طور پر حل کیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان سمیت بیشتر مسلم اکثریتی ممالک میں دائیں بازو کی رجعتی قوتیں جو تصادم کو اپنی سیاست اور حکمت عملی کا لازمی جزو سمجھتی ہیں غلط انداز میں پیش کررہی ہیں مگر اس کے ساتھ ترقی پسند قوتوں کے انحطاط نے انہیں منظم اور متحرک انداز میں سامنے لانے کا موقع بھی فراہم کردیا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ایتھنز ، برلن، روم، لندن اور دیگر کئی یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں ۔امید ہے یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ فلسطین کو ایسی سچی اور حقیقی یکجہتی تحریک کی ضرور ت ہے جس کی بنیاد امن، سلامتی، روداری اور انصاف پر ہو۔

اشاعت: ہم شہری ۲ جنوری ۲۰۰۹

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s