اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

رضوان عطا

گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو ہونے والی دہشت گردی کے بعد پہلا حملہ افغانستان پر ہوا لیکن جلد ہی عراق جنگ نے توجہ حاصل کر لی۔ باراک اوباما کی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ خارجی معاملات میں ان کی رغبت عراق سے کہیں زیادہ افغانستان کی جانب ہے۔ اس سال جولائی میں جب باراک اوباما عراق، اسرائیلاور مغربی یورپ کے دورے پر نکلے تو کویت میں مختصر قیام کے بعد ان کا دوسرا اور نسبتاً طویل پڑاؤ افغانستان تھا۔ اکیس جولائی کو سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پروگرام ”فیس دی نیشن“ میں بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی توجہ افغانستان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس پروگرام میں انہوں نے کہا ”افغان حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں صورتحال خطرناک اور جلد اقدامات اٹھانے کی متقاضی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی ہماری توجہ کا مرکز ہونا چاہیے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”تقریباً ایک سال سے میں مزید دو یا شاید تین بریگیڈ بھیجنے کا کہہ رہا ہوں“۔ 

عالمی سیاسی منظر نامے میں افغانستان نے آج جو نمایاں حیثیت اختیار کر لی ہے وہ امریکی انتخابات، طالبان کے ابھار اور پاکستان کی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ نئی امریکی انتظامیہ کی تشکیل، اوباما اور اعلیٰ امریکی حکام کے بیانات اور سرگرمیوں کے بعد اب بات میں شبے کی گنجائش نہیں۔

اکیس نومبر کو امریکی سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے، جنہیں ”تبدیلی“ کے نعرے کے ساتھ منتخب ہونے والے سیاہ فام صدر نے اسی عہدے پر برقرار رکھا ہے، کہا کہ وہ افغانستان میں تازہ دم افواج کی تعیناتی کی حمایت کرتے ہیں۔ گیٹس کے مطابق وہ افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر کی اس درخواست پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں انہوں نے چار مزید جنگی (کمبیٹ) بریگیڈ اور ایک ایوی ایشن بریگیڈ کے علاوہ ان کی مدد کے لیے ہزاروں مزید افواج کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ نئے امریکی صدر کو اپنی تفصیلی اور جامع افغان پالیسی مرتب کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا لیکن اپنے منصب پر فائز ہونے سے قبل ہی پینٹاگان نے اضافے کے عمل کی ابتدا کر دی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ اٹھارہ ماہ کے دوران بیس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی افغانستان میں ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی منزل مشرقی، جنوبی اور جنوب مغربی افغانستان ہو گا، زیادہ تر وہ علاقے جہاں طالبان کی کارروائیاں عروج پر ہیں۔ گیٹس کے مطابق ”انتخابات سے قبل افواج میں اضافہ اہم ہے، اور میرا خیال یہ ہے کہ لوگ یہ اضافہ آر سی (ریجنل کمانڈ) جنوب میں چاہیں گے تاکہ عوام ووٹ رجسٹر کرا سکیں اور دے سکیں“۔ افغانستان بارے متذکرہ بالا خیالات کا اظہار گیٹس نے کینیڈا کے شہر کورن والیس میں کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیدرلینڈ اور دیگر ان ممالک کے وزرائے دفاع کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس کے بعد کیا جن کی افواج جنوبی افغانستان میں موجود ہیں۔ گیٹس کے مطابق ”افغان انتخابات شاید سن دو ہزار نو میں ہمارا سب سے اہم مقصد ہوں گے“۔ رابرٹ جس بات پر اب بار بار زور دیتے نظر آتے ہیں وہ ہے افغان قومی فوج کی تعداد میں اضافہ، تربیت اور اس پر زیادہ سے زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ۔ اسی کے ساتھ وہ آئندہ سال ہونے والے افغان انتخابات کو کافی اہمیت دیتے نظر آتے ہیں اور ان کے خیال میں ”سن دو ہزار نو میں ہمارا سب سے اہم مقصد افغانستان میں کامیاب انتخابات کا انعقاد ہے“۔ مگر کیا افواج میں اضافے کے ذریعے طالبان سے نپٹا جاسکے گا؟ کیا یہ اضافہ وہی نتائج برآمد کرے گا جو عراق میں ہوئے؟ اور اپنی افغان پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کو کن مشکلات کا سامنا ہے یا ہو سکتا ہے؟

افغانستان میں سن دو ہزار سات کے ابتدائی مہینوں میں بھی افوج اور ان کی کارروائیوں میں ایک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا مگر اس کے نتائج بیان کردہ اہداف کے الٹ رہے۔ ملک کے جنوب میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر اور بالخصوص حملوں نے نیٹو اور امریکی افواج کو پریشان کر رکھا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اٹھارہ ماہ کے دوران افواج کی تعداد میں تقریباً پینتالیس فیصد اضافہ کیا گیا۔ اس دوران تشدد کے واقعات میں پچاس فیصد بڑھوتری ہوئی۔ طالبان پر حملوں کے ساتھ ہی ان کے ردِعمل میں بھی اضافہ ہوا۔ نیٹو کی طرف سے فضائی حملوں کی تعداد بڑھی۔ لڑائی میں اضافے سے پہلے سے انحطاط پذیر معاشی سرگرمیوں کو دھچکا لگا، بے روزگاری بڑھی۔ اضافے کے پہلے پندرہ ماہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں گذشتہ چار سالوں کے کل سے زیادہ ہوئیں۔

جب لوگوں کی جان اور معاش غیر محفوظ ہوا تو طالبان کے ہاتھ وہ گاڑی آئی جس نے انہیں جنوب کے علاقوں سے کابل کے در پر لا کھڑا کیا۔ نیٹو طیاروں سے طالبان انتہا پسندوں کی پرواز بلند رہی۔ ان کی طرف سے دی جانے والی بدنامِ زمانہ سفاک سزائیں، جن سے اس وقت تک جنوب واقف تھا، کابل کے مضافات آشنا ہوئے۔ کینیڈا کے اخبار ”گلوب اینڈ میل“ کے اس سال کے شروع میں بیالیس طالبان جنگجوو¿ں سے کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بارہ نے فضائی حملے سے اپنے خاندان کے کسی فرد کو ہلاک ہوتے دیکھا اور چھ ان حملوں کی وجہ سے لڑائی میں شامل ہوئے۔ سروے طالبان کی انتہائی محدود تعداد پر ہوا ہے اس لیے شامل جنگجوو¿ں کی شمولیت کی وجوہات پر فضائی حملوں کو مدِنظر رکھ کر تناسب کی صحت پر شک کیا جاسکتا ہے، مگر اس بات پر نہیں کہ اس نوعیت کے حملے طالبان کو تازہ افرادی قوت فراہم کرنے کی ایک اہم وجہ ہیں۔ تاہم اہم وجوہ اور بھی ہیں۔

غربت اور مذہبی انتہا پسندی کو جنم دے یہ ضروری نہیں، ان کا چولی دامن کا ساتھ نہیں۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بہت سے علاقے غربت میں لتھڑے ہوئے ہیں مگر ہر جگہ مذہبی جنونیت نہیں۔ البتہ مخصوص عناصر کی موجودگی میں غربت مذہبی انتہا پسندی کو بڑھانے کا سبب بن جاتی ہے۔ جب انتہا پسندوں کا مضبوط ماضی ہو، وہ منظم ہوں، وسائل رکھتے ہوں اور عوام حکمرانوں سے مایوس ہوں تو غربت جیسی لعنت ایک اور لعنت کو پیدا کرتی ہے۔

افغانستان اس وقت دنیا کے پسماندہ اور غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی درجہ بندی میں یہ ملک سن دوہزار چار کے مقابلے ایک قدم اور پیچھے آیا ہے۔ سن دو ہزار پانچ میں جمع کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح چالیس فیصد ہے۔ اس کے بعد حکومت کو مہلت نہ ملی البتہ بعض رپورٹس یہ عندیہ دیتی ہیں کہ اب روزگار سے محروم افراد کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے، کچھ علاقوں میں اسّی فیصد تک۔ بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مطابق پینتالیس فیصد آبادی صحت کی کم از کم سطح برقرار رکھنے کے لیے ضروری خوراک خریدنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ کرزائی حکومت کی بجائے طالبان ملازمت دینے کو تیار ہیں۔ لیکن طالبان کے پاس اتنا سرمایہ آتا کہاں سے ہے؟ تمام ذرائع وہی جانتے ہوں گے مگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ ہے منشیات، جس سے مستفید ہونے والوں میں کرزائی حکومت بھی شریک ہے۔

اقوام متحدہ کی منشیات اور جرائم کے حوالے سے دو ہزار سات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں 93 فیصد منشیات افغانستان میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی برآمد 4 بلین ڈالر ہے جس کا چوتھائی (بعض اندازوں کے مطابق بیس فیصد) کسانوں کو بھی مل جاتا ہے۔ باقی مقامی حکام، طالبان، جنگی سرداروں اور منشیات کے سمگلروں کے ہاتھ آتا ہے۔ طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد پوست کی کاشت میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ مگر بعدازاں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب طالبان اس کی نشوونما میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ میں قائم ادارے ’سٹریٹیجک سٹڈی انسٹی ٹیوٹ‘ کی دو ہزار سات میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پوست کی اتنے بڑے پیمانے پر کاشت روایتی نہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ افغانستان کی صرف بارہ فیصد زمین کابل کاشت ہے، ستر فیصد افغانوں کا دار و مدار زراعت پر ہے اور یہ آمدنی کی بنیاد ہے……. البتہ اس کی زرعی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے……. افغانستان کی سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھنے والی فصل افیون ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی معیشت کا بہت بڑا انحصار اس وقت افیون پر ہے۔

گذشتہ ماہ سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال طالبان نے افیون کی تجارت سے 470ملین ڈالر کمائے ہیں۔ اقوام متحدہ کے شعبہ منشیات و جرائم نے دو ہزار آٹھ کے سروے میں کہا ہے کہ ”افیون کی کاشت، پیداوار اور قیمتوں میں انحطاط کے باوجود طالبان اور دیگر حکومت مخالف گروہ منشیات کے کاروبار سے کثیر رقم حاصل کر رہے ہیں“۔ ادارے کے ڈائریکٹر انتونیو ماراکوسٹا کے مطابق ”منشیات سے متعلقہ ریونیو کی اتنی بڑی مقدار کے حصول کے بعد یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ باغیوں کی جنگی مشین اتنی لچک دار کیوں ثابت ہوئی ہے“۔ رپورٹ کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں کو بڑھانے کی خاطرطالبان افیون ذخیرہ کر رہے ہیں۔ قیمتوں کو بڑھانے کا مقصد بھلا اس کے سوا کیا ہو گا کہ لڑنے کی صلاحیت مزید بڑھائی جائے۔

اوباما کے لیے افغانستان وہ میدان ہے جہاں عراق پر اختلاف کے بعد یورپ کو پھر قریب لایا جا سکتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں امریکی انتظامیہ یہ گلہ کرتی نظر آئی کہ زیادہ تر اتحادی افغانستان میں اپنی افواج بڑھانے کے لیے تیار ہی نہیں، طالبان کے خلاف لڑنے کا بوجھ چند نے اٹھایا ہوا ہے۔ سوال محض افواج میں اضافے کا نہیں رہا بلکہ زیادہ تر اتحادی ان علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتے جو نسبتاً پرامن ہیں یا وہ لڑائی میں حصہ لینے کی بجائے دیگر کاموں، جن میں تصادم کا کم امکان ہوتا ہے، میں مصروف رہنا پسند کرتے ہیں۔ بش انتظامیہ کے لیے یہ مسئلہ خاصا گھمبیر ہو چلا تھا، مگر اوباما کے لیے؟

کم از کم ابتدائی طور پر اوباما کا جادو کام کرے گا۔ حال ہی میں آسڑیلیا کے جویل فزگبون کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں نیٹو، اتحادی اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کر آئے ہیں اور اس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ”میں نے حقیقتاً محسوس کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے مو¿قف پر ازسرِنو غور کر رہے ہیں اور شاید مزید کچھ نئے وعدے کیے جائیں“۔ یورپی رائے عامہ کے جائزے یہ بتاتے ہیں کہ وہاں بش کے برخلاف اوباما خاصے مقبول ہیں۔ یورپ کے حکمرانوں کو ماضی کی نسبت قدرے کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم جنگ کی مخالفت کرنے والوں کی کمی نہیں۔ برطانیہ نے حال ہی میں مزید افواج بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس نوعیت کے مزید وعدے ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کے مسئلے پر خطے کے ممالک خصوصاً بھارت اور پاکستان کی اہمیت سے انکا ر ممکن نہیں۔ ممبئی میں ہونے والے حملوںنے اس اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اوباما کی افغان پالیسی میں یہ حصہ دار ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا اتفاق نہیں تھا۔ افغان پالیسی کے بارے اوباما کافی حد تک اپنی انتخابی مہم کے دوران سوچ بچار کر چکے تھے اور ایک ڈیمو کریٹک کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کو اٹھانا معنی خیز ہے۔ انھوں نے پہلے سے جان لیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کا اتار چڑھاو¿ افغانستان کی صورت حال کو متاثر کرے گا۔ ممبئی حملوں کے افغانستان میں نیٹو کے منصوبوں پر بہت زیادہ منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، جہاں وہ طالبان سے برسرپیکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی طالبان کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو متاثر کرے گی، اس لیے بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان کو ایک دوسرے کے ساتھ انگیج کرنے کی نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسی متاثر ہو گی۔ ان میں سے ایک بھارت اور پاکستان کی طرف سے کشمیر پر اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔ ممبئی حملے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی ارادے کو متاثر کریں گے۔

حالیہ واقعات کے بعد بھارتی حکومت کے لیے کچھ عرصہ تک یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ کشمیر پر کوئی جرا¿ت مندانہ فیصلہ لے سکے۔ علاوہ ازیں جس طرح ان حملوں سے کانگریس حکومت کو دھچکا لگا ہے اس سے فوری طور پر وہ دونوں ملکوں کے مابین معاملات کو نارمل کرنے کے لیے کوئی بڑا فیصلہ لینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہو گی۔ پاکستان میں فوجی جنتا کی طاقت سے انکار ممکن ہے۔ افغانستان گذشتہ چند دہائیوں میں ان کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں افغان پالیسی کے حوالے سے جو تبدیلی آئی اسے فوجی قیادت کے اندر بہت زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ آج بھی بعض موثر حلقے افغانستان میں بھارت نواز شمالی اتحاد کے اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ کی طرف سے پاکستانی علاقوں پر ہونے والی بمباری موجودہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے یہ وہ سوال ہیں جن سے نئی امریکی انتظامیہ کو نپٹنا ہو گا۔

امریکہ میں انتخابی مہم اور مالیاتی بحران میں تیزی ایک ساتھ جاری ہے۔ اوباما کی جیت میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں میں سے ایک یا شاید سب سے اہم یہی بحران ہے۔ اسّی کی دہائی سے جاری نیو لبرل ماڈل کی ساکھ حالیہ مالیاتی بحران کی وجہ سے بے حد متاثر ہو چکی ہے اور اس نے امریکہ کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ ماضی کی طرح پوری دنیا میں اپنی معاشی برتری کو برقرار رکھ سکے۔ یہ ضرور ہے کہ اس کی عسکری طاقت میں مالیاتی بحران کی نسبت بہت کم تخفیف ہوئی ہے۔ اب مالیاتی نظام کے نئے مراکز کے نمودارہونے کا امکان زیادہ ہے۔ ایک ایسی صورت حال میں جب اوباما انتظامیہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی، وہ کوشش کرے گی کہ افواج میں اضافے اور خطے کے ممالک کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے اپنے اہداف کو حاصل کرے۔

عراق کی جنگ بڑا جوا تھا، ہارنے پرقیمت بھی بڑی چکانی پڑے گی۔ ملک کے اندر مالیاتی بحران کے چلتے امریکی حکومت اب سوچ رہی ہے کہ کہاں سے پیسے نکالے اور کہاں لگائے۔ سرحدوں سے باہر بھی یہی صورت حال ہے۔ دو ملکوں کو بیک وقت سنبھالنا ممکن نہیں۔ افغانستان میں افواج کی تعداد میں اضافہ عراق سے کم از کم جزوی امریکی انخلا سے مشروط ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے عراق سے انخلا کے معاملہ نے اوباما کی انتخابی مہم میں مرکزی حیثیت اختیار کیے رکھی اور ابھی تک منتخب اوباما کی طرف سے ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ وہ اپنے پیش کردہ پروگرام میں کوئی تبدیلی کر رہے ہیں۔ عراق سے جزوی انخلا کی جانب رجوع کسی اخلاقی جواز کی بجائے ان ٹھوس زمینی حقائق پر مبنی ہے جو بالخصوص عراق اور امریکہ کی سرزمین پر وقوع پذیر ہوئے۔ نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات جوزف سٹگلیز (Stiglitz) اس سال فروری میں کہہ چکے تھے کہ عراق جنگ پر بش انتظامیہ کے اندازوں سے پچاس سے ساٹھ گنا زیادہ اخراجات ہوئے۔ عالمی بینک کے اِس سابق نائب صدر کے مطابق اس وقت تک جنگ پر کم و بیش تین ٹریلین ڈالر کے اخراجات ہو چکے تھے۔ امریکہ عراق سے حاصل تجربے کو افغانستان پر آزمائے گا۔

عراق میں سن دو ہزار سات میں اتحادی افواج میں اضافہ کیا گیا اور اس اضافے کے ساتھ ہی وہاں اتحادی، بالخصوص امریکی افواج کی ہلاکتوں اور ان پر کئے جانے والے حملوں میں کمی آئی۔ عراق میں ایک نئی پالیسی متعارف کرائی گئی۔ مختلف قبائل، مزاحمتی گروہوں اور ان کے سرداروں کو معاوضے پر ’ملازم‘ رکھا گیا۔ بلاتخصیص عوامی مقامات پر خودکش حملے کرنے کی وجہ سے تیزی سے غیر مقبول ہوتی القاعدہ کے خلاف انھیں لڑنے کا حکم ملا۔ یہ پالیسی سرمایہ کاری کے حوالے سے ارزاں تھی۔ امریکی افواج کی نقل و حمل اور حملوں کے لیے جو رقم درکار ہوتی تھی اس سے کئی درجے کم رقم سے یہ ممکن ہو گیا کہ القاعدہ کے خلاف مثر طریقے سے لڑا جا سکے۔ افغانستان عراق نہیں۔ افغانستان میں جنگی سردار آزمائے جا چکے ہیں۔ عراق میں مزاحمت کرنے والے شہروں میں مجتمع ہیں اور عراق کی آبادی کا زیادہ تر حصہ شہروں میں رہتا ہے۔ عراق میں جب افواج کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تو ان کی توجہ بہت حد تک بغداد تک محدود رہی جو کہ مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کے مراکز میں سے ایک تھا۔ اِس کے برخلاف افغانستان میں طالبان کی بنیاد دیہی علاقے ہیں اور اِس ملک کی زیادہ تر آبادی بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ افغان حکومت کی ساکھ عراقی پارلیمنٹ سے بہت مختلف ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کو نسبتاً زیادہ عوامی اعتماد حاصل ہے اور اس نے چند ایسے فیصلے ضرور کیے ہیں جو بش انتظامیہ کو ناپسند ہیں۔ افغانستان میں نقل و حمل کا ڈھانچہ عراق کی نسبت بہت پسماندہ ہے اور آبادی بکھری ہوئی ہے۔

اِ ن حالات میں خالص عسکری حل ممکن نہیں۔ جب تک افغانستان میں تعمیر نو کے کام کو، جس کی بنیاد عوامی فلاح و ترقی ہو، نہیں کیا جاتا، مسئلے سے نہیں نپٹا جا سکتا۔ افغانستان پر جاپان یا کوریا کی طرح سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ وجہ واضح ہے۔ افغانستان پر قبضہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب نیو لبرل ماڈل کا دور دورہ تھا۔ ریاست عوامی فلاح کے اداروں کو نجی ہاتھوں میں لے رہی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی جا رہی تھی۔ اب ایک اور مسئلہ آن کھڑا ہوا ہے۔ نیو لبرل ماڈل انحطاط پذیر ہے مگر اِس کے ساتھ مالیاتی بحران ایک بڑے عالمی معاشی بحران کو جنم دینے جا رہا ہے۔

جیسا کہ رابرٹ گیٹس اظہار کر چکے ہیں، آئندہ سال افغان انتخابات امریکہ کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوں گے۔ شمالی اتحاد کے جنگجو اور جرائم پیشہ سرداروں کی معاونت سے بننے والی کرزائی حکومت سے افغان عوام مایوس ہیں۔ امن اور معاشی آسودگی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ افغانستان میں انتخابات کے بعد اگر ایسی حکومت قائم نہیں ہوتی جس میں اکثریت ان لوگوں کی ہو جن پر افغان عوام کو اعتماد ہو اور وہ سمجھتے ہوں کہ یہی ان کی خواہشوں کے ترجمان ہیں، مسئلہ حل نہیں ہو گا اور افغان عوام مزید تباہی کی طرف چلے جائیں گے۔

اشاعت: ہم شہری ۵ دسمبر ۲۰۰۸

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s