زمبابوے:رابرٹ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ملاقاتیں کیا رنگ لائیں گی؟

زمبابوے:رابرٹ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ملاقاتیں کیا رنگ لائیں گی؟

سامراج مخالف بڑھک بازی کے باوجود موگابے بین الاقوامی اشرافیہ سے سمجھوتے کی راہ پر گامزن ہیں

رضوان عطا
رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف اور تحریک برائے جمہوری تبدیلی (ایم ڈی سی) کے دوڈھروں کے مابین ایک مفاہمی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے صدر تھابومبیکی، جو زانو پی ایف اور ایم ڈی سی کے درمیان صلح کرانے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کررہے ہیں،21 جولائی کو زمبابوے کے دارلحکومت ہرارے پہنچے ہوئے تھے تاکہ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ایک دہائی میں ہونے والی پہلی ملاقات میں موجودہوں اور مفاہمی یادداشت پر دستخط کرسکیں۔ اس یادداشت کے مطابق مذاکرات دوہفتوں کے اندر مکمل ہو جانے چاہئیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو جلد ہی زانو پی ایف اور ایم ڈی سی مل کر زمبابوے کی باگ ڈور سنبھالے ہوں گی۔

ان مذاکرات کے ساتھ ہی یورپی یونین نے زمبابوے کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ زمبابوے کی حکومت سے جڑی کمپنیوں اور اہلکاروں پر اپنا شکنجہ سخت کرتے ہوئے یورپی یونین نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی فہرست میں”مزید 37افراد اور چار کمپنیوں کو شامل کررہے ہیں“۔ امریکی صدر بش بھی زمبابوے پر سخت پابندیوں کے خواہاں ہیں اور اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کے ذریعے ایک اہم مگر ناکام کوشش کرچکے ہیں، جسے اس ماہ کے شروع میں چین اور روس نے ویٹو کردیا تھا۔ یورپی یونین جہاں زمبابوے کے مخالف دھڑوں سے مذاکرات کے عمل کی مخالف نہیں وہیں وہ رابرٹ موگابے پر دباوٴ قائم رکھنے کے بھی حق میں ہے۔

موگابے اور چنگرائی کے درمیان محاذآرائی اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد انتہاوٴں کو پہنچی۔ ایم ڈی سی کے چنگرائی ان انتخابات میں کامیابی کے دعوے دار تھے جسے کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والی زانوپی ایف نے طاقت کے بل پر حکمرانی سے دور رکھا۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد حکومتی جبر کی لہر کو دیکھتے ہوئے ایم ڈی سی نے دوسرے مرحلے میں حصہ نہیں لیا اور اس طرح صدارت کے ”واحد“ امیدوار موگابے کو”شاندار“ فتح نصیب ہوگئی۔

27جون کو دوسرے مرحلے کے انتخابات کے دودن بعد ہی اعلان ہوگیا کہ موگابے جیت گئے ہیں جبکہ پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ایک ماہ تک نہ کیا گیا۔ اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دال میں کتنا کالا تھا۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات سے تقریباً ایک ہفتہ قبل جب چنگرائی نے مقابلہ سے دست برداری کا اعلان کیا تو یہ عمل اپنی وقعت کھو بیٹھا اور یہاں تک کہ براعظم افریقہ سے بھی احتجاجی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ انتخابی عمل کا مشاہدہ کرنے والے مبصرین کا اس بات پر تقریباً اتفاق تھا کہ یہ انتخابات غیر جمہوری تھے۔

محسوس یہی ہوتا ہے کہ مارچ میں ہونے والے پہلے مرحلے کے بعد زانوپی ایف ایم ڈی سی سے اشتراک اقتدار کے بارے سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی یا کم ازکم اس کا امکان پیدا ہوگیا تھا۔

اس کی وجوہ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کا دباوٴ، حکومت کی عدم مقبولیت اور بڑھتا ہوا معاشی بحران تھا۔ یوں داخلی اور خارجی وجوہ بالآخر زانو پی ایف کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں جو ہر جائز اور ناجائز طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ابھی تک اقتدار میں ہے۔

تمام تر سامراج مخالف بڑھک بازی کے باوجود زانو پی ایف کا بین الاقوامی طاقتور حلقوں سے مزید سمجھوتے کرنے کے رجحان کا اندازہ دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم کے دوران اس کے پیش کردہ منشور سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے آزاد منڈی کی معیشت پر عمل درآمد کرنے کے وعدے کئے۔ دوسرے مرحلے سے چند دن قبل زانوپی ایف کی طرف سے”زانو پی ایف کو ووٹ دینے کی 100وجوہ“ کے عنوان سے شائع ہونے والے منشور سے صاف نظر آتا تھا کہ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ملکی کاروباری طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انتخابی بائیکاٹ کے بعد ایم ڈی سی کی لیڈر شپ کے پاس دوراستے تھے، یاتو وہ شراکت اقتدار کے لئے زانو پی ایف سے مذاکرات کرے اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر کوئی سمجھوتہ کرے یا پھر ایک موٴثر عوامی احتجاجی تحریک کے ذریعے موگابے کی حکومت کو اکھاڑدے۔ دونوں صورتوں کی کامیابی کے امکانات موجود تھے مگر ایم ڈی سی کی لیڈر شپ نے مقابلہ کرنے کے بجائے سمجھوتے کا راستہ اختیار کیا۔

22لاکھ فیصد افراط زر کی وجہ سے ریزروبینک آف زمبابوے100ملین ڈالر(زمبابوین) کانوٹ جاری کرنے جارہا ہے مگر اس نوٹ کو خرچ کر کے آپ ایک وقت کی روٹی زمبابوے میں رہتے ہوئے نہیں کھاسکتے۔ خراب معاشی حالات لاکھوں باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرچکے ہیں۔ جس ملک کی معیشت کبھی براعظم افریقہ میں سب سے مضبوط ہوا کرتی تھی وہاں آج بے روز گاری کی شرح85فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر زانوپی ایف اور ایم ڈی سی کی مشترکہ حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ اس معاشی بحران پر قابوپالے گی؟ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ رفتہ رفتہ دونوں کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں میں قربت بڑھتی جارہی ہے۔

اشاعت: ہم شہری ۱ اگست ۲۰۰۸

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s