بولیویا امریکہ مخاصمت

بولیویا امریکہ مخاصمت

لاطینی امریکہ کے ممالک ایوامورالس کی حمایت کررہے ہیں

رضوان عطا

بولیویا میں امریکہ کے سفیر فلپ گولڈ برگ ستمبر کے دوسرے ہفتے اس الزام کے ساتھ ملک سے نکالے گئے کہ امریکی حکومت بولیویا کے مشرقی علاقوں میں مضبوط حزب اختلاف کی حمایت کررہی ہے۔ ایوامورالس کی حکومت کے اس فیصلے کے فوراً بعد وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے بھی اپنے ہمسایہ ملک سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر امریکی سفیر کو72گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ لاطینی امریکہ کے دو ممالک سے امریکی سفیروں کا نکالا جانا جہاں ایک طرف خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی گرفت کی نشاندہی کرتا ہے وہیں اس بات کا پتہ بھی دیتا ہے کہ وینز ویلا کے بعد بولیویا اب کھل کر امریکی پالیسیوں کی مخالفت پر اتر آیا ہے۔ بولیویا سے امریکی حکومت کی ناراضگی تو2005ء سے جاری ہے جب بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایوامورالس صدر منتخب ہوئے۔ بولیویا جیسے غریب ملک، جس کی سالانہ فی کس آمدنی مشکل سے1000ڈالر ہے ، کو امریکہ سے مخاصمت اور وینز ویلا سے دوستی کی بڑی قیمت بھی چکانا پڑسکتی ہے، سیاسی اور معاشی دونوں سطحوں پر۔

اگست میں ہونے والے ریفرنڈم میں67فیصد ووٹوں سے کامیاب ہونے والے ایوامورالس کو اگرچہ ملک کے اندر خاصی مقبولیت حاصل ہے لیکن یہ مقبولیت پورے ملک میں یکساں نہیں۔ ایوا مورالس بولیویا کے پہلے صدر ہیں جن کا تعلق قدیم مقامی باشندوں سے ہے۔ بولیویا میں غربت اور پسماندگی میں گھر ے ان لوگوں کو ایوامورالس کے اصلاحات پر مبنی پروگرام، جن میں زرعی اصلاحات اور وسائل کی نسبتاً مساوی تقسیم سرفہرست ہیں، کافی متاثر کیا ہے اور اسی لئے وہ علاقے جہاں قدیم مقامیوں کی اکثریت ہے وہاں ایوامورالس کی حمایت بھی زیادہ ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ علاقے جہاں سفید فام یا ملی جلی نسل کے لوگ آباد ہیں اور جو بالیویا کے روایتی حکمران رہے ہیں ان کیلئے ایوامورالس کی اصلاحات کا مطلب ہے کہ ماضی میں ملنے والی مراعات میں کمی۔

بولیویا کے چار مشرقی صوبوں میں جہاں مراعات یافتہ سفید فاموں اور ملی جلی نسل کے لوگوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں حالیہ عرصے میں مرکزی حکومت کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ انہی میں سے ایک ریاست پانڈو میں ایک درجن سے زائد حکومت کے حامیوں کو حال ہی میں ہلاک کردیا گیا اور100کے قریب افراد کو اغواء کیا گیا۔

بولیویا میں قدرتی گیس کے زیادہ ترذخائر انہی مشرقی علاقوں میں ہیں اور اسی کے ایوامورالس کی اصلاحات کے جواب میں مشرقی صوبوں کی حکومتوں نے زیادہ خود مختاری مانگنے کا پر زور مطالبہ کررکھا ہے۔ بولیویا میں ہونے والے تشدد کے حالیہ واقعات وسائل سے مالا مال اور نسبتاً امیر مشرقی صوبوں اور باقی کے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس عمل نے قدرتی طور پر ملک کی حزب اختلاف کوا مریکی حکومت کے قریب کردیا ہے جو بولیویا میں مداخلت کی ایک قدیم تاریخ رکھتی ہے۔

1964ء میں فوجی کودیتا کے ذریعے برسر اقتدار آنے والے اینے بیرنتوس کو سب سے زیادہ بیرونی حمایت امریکہ سے ہی ملی اور اس کے بعد کسانوں کی بغادت کو کچلنے میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کا کردار اب کچھ زیادہ پوشیدہ نہیں رہا۔ بعدازاں جنرل ہوگو بانزر کے آمرانہ دور حکومت میں جب بائیں بازو سے تعلق رکھنے کے شبے میں ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، بانزر اور اس کے بعد آنے والے آمروں کو امریکی حمایت جاری رہی۔ 1982ء کے بعد ملک نے سول حکومتوں نے اعتدال پسند بائیں بازو اور دائیں بازو کی مختلف حکومتوں کو دیکھا مگر یہ حکومتیں بولیویا میں پھیلی غربت کو کم کرنے میں ناکام رہیں اور قدیم مقامی باشندوں کی اکثریت کے باوجود سفید فام یا ملی جلی نسل کے افراد ہی مسند اقتدار پر بیٹھے۔2003ء میں بولیویا عوامی احتجاجوں کی لپیٹ میں رہا۔

2005ء کے انتخابات میں ایوامورالس کی جیت بولیویا کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔ ابتدا میں مورالس کی حکومت نے امریکہ سے تعاون جاری رکھا اور ایک ایسا معاہدہ بھی کیا جس سے ملک میں امریکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ بولیویا کو امریکی امداد بھی جاری رہی لیکن کچھ امداد ایسی تھی جس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کہا استعمال ہورہی ہے۔

20ستمبر کو 90دانشوروں نے، جو بولیویا اور لاطینی امریکہ کے موضوع پر ماہر تصور کئے جاتے ہیں، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ایک کھلا خط لکھا جس میں بولیویا کے اندر حزب اختلاف کے حامیوں کے ہاتھوں حال ہی میں ہونے والی ہلاکتوں اور سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسی کے ساتھ اس خط میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ امریکہ بولیویا کے اندر مختلف تنظیموں کو جوامداد دے رہا ہے اس کا ایک بڑا حصہ خفیہ رکھا جارہا ہے اور اسی لیے اس بات کا تعین کرنا دشوار ہے کہ حالیہ تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں ان رقوم کا کتنا ہاتھ ہے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ2004ء میں یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ(یوایس ایڈ) نے آفس آف ٹرانز یشن انیشی ایٹو( او ٹی آئی) پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت تقریباً11ملین ڈالر کے فنڈز صوبائی حکومتوں کو فراہم کئے گئے تاکہ وہ اپنی ”استطاعت بڑھا سکیں“۔ ان میں سے کچھ صوبائی حکومتیں ایوامورالس کی حکومت کے خلاف پرتشدد اور غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث ہوئیں۔ اس خط کے مطابق او ٹی آئی نے کم وبیش ایک سال قبل اپنی سرگرمیاں ختم کردی تھیں لیکن ان میں سے بعض کو یوایس ایڈ نے برقرار رکھا اور یہ بعض فنڈز وصول کرنے والوں کو منظر عام پر نہیں لائی۔

حزب اختلاف سے امریکی تعلقات کا ایک اشارہ 13 ستمبر کو ”نیوزویک“ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ملتا ہے۔ ماہر معاشیات اور بولیویا کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے مارک وسبروٹ نے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی سفیر کو بولیویا سے نکالے جانے کی ایک وجہ حزب اختلاف اور سفیر کی ملاقاتیں تھیں۔ ان کے مطابق سفیر کو ہر کسی سے ملنے کا حق ہے لیکن ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی ملاقاتوں کو غیر دوستانہ سمجھا گیا۔

ان حالات میں کیا بولیویا کے اندر فوجی بغاوت ہوسکتی ہے؟”اینڈیئن انفارمیشن نیٹ ورک“ نامی تنظیم کی ڈائریکٹر اور انسانی حقوق کی کارکن کیتھرائن لیڈی بُر کے مطابق ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اینڈ یئن انفارمیشن نیٹ ورک نے جون میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں مورالس دورِ حکومت میں مسلح افواج کے کردار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق افواج کے ذمے منافع بخش کام لگانے کی وجہ سے ادارے کے ایک حصے میں مورالس کی حمایت موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کیا گیا ہے کہ صوبوں کی طرف سے زیادہ خود مختاری کی کوششوں کو مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں خدشہ ہے کہ مشرقی صوبوں کے ارادے حکومت سے ملنے والے فوجی بجٹ کو متاثر کرسکتے ہیں۔

بعض دانشور لاطینی امریکہ میں فوجی آمروں کی پشت پناہی کی امریکی روایت اور چند سال قبل شاویز کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے تناظر میں بولیویا کے اندر فوجی بغاوت کو خارج ازامکان قرار نہیں دیتے۔

مشرقی صوبوں میں ہونے والی مزاحمت اور ناتواں معیشت کے باوجود مورالس کو لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک کی حمایت کا عندیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مل گیا تھا۔ تیل کی دولت سے مالا مال وینز ویلا کی بھرپور حمایت اگرچہ بولیویا کے لئے کافی اہم ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ نیویارک میں جب لاطینی امریکہ کے سربراہان جمع تھے تو خطے کے ممالک کی تنظیم یونین آف ساوٴتھ امریکن نیشنز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں بولیویا کی جمہوری حکومت کی حمایت کی گئی۔ اس موقع پر ایک تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا گیا جو بولیویا میں ہونے والے تشدد کے واقعات کی چھان بین کرے گا۔

لاطینی امریکہ کے دو ممالک برازیل اور ارجنٹائن کی بولیویا سے دلچسپی کا بڑا سبب وہ قدرتی گیس ہے جن پر یہ انحصار کرتے ہیں۔ برازیل ملک میں استعمال ہونے والی نصف قدرتی گیس بولیویا سے برآمد کرتا ہے۔ بولیویا میں عدم استحکام ان ممالک کی معیشت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

اگر ایوامورالس ملکی آئین میں مجوزہ تبدیلیاں کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جن کا مقصد وسائل کی نسبتاً مساوی تقسیم اور زرعی اصلاحات ہیں تو یہ عمل ایک طرف ان کی مقبولیت میں اضافہ کرے گا اور دوسری طرف امریکی حکومت سے مخاصمت کے عمل کو آگے بڑھائے۔ موجودہ حالات میں امریکہ کے پاس بولیویا کی معاشی امداد بند کرنے سے زیادہ کوئی موٴثر ہتھیار نہیں۔

اشاعت: ہم شہری ۳ اکتوبر ۲۰۰۸

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s