کانگو میں خانہ جنگی

کانگو میں خانہ جنگی

قدرتی وسائل پر قبضے کی لڑائی نے 50لاکھ افراد کو موت کی وادی میں دھکیل دیا

رضوان عطا
رقبے کے اعتبار سے افریقہ کے تیسرے بڑے اور معدنی ذخائر سے مالا مال ملک جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں لڑائی حالیہ شدت کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کو تندہی کے ساتھ سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں وہیں مغربی و افریقی ممالک کے کئی اعلیٰ عہدیدار خطے کے دورے کر رہے ہیں جن میں برطانوی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون شامل ہیں۔ انسانی حقوق اور امدادی تنظیمیں لڑائی میں شریک تقریباً تمام دھڑوں پر تشدد، زنا بالجبر، قتل، لوٹ مار اور قتل جیسے سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔ 1996ء میں شروع ہونے والی اس لڑائی اور خانہ جنگی نے اپنی شدت کے حوالے سے کئی جوار بھاٹے دیکھے۔ 1998ء سے 2003ء کے دوران اس میں آنے والی شدت،جس نے کئی علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں شریک تھیں، 30 لاکھ انسانوں کی جان لی۔ البتہ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر آج کی صورتحال سے تقابل کیا جائے تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور برادری معاملے پر توجہ دینے سے بالکل ہی قاصر رہی۔

لڑائی میں حالیہ شدت شمالی کیوو صوبے میں جنرل لاوٴرنٹ ٹکنڈا کے 26اکتوبر سے شروع ہونے والی جارحیت سے آئی جس نے اس بدنصیب ملک میں انسانی المیے کو اور بڑھا دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لڑائی کے حالیہ دور سے 250,000افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی اور نائیجیریا کے سابق صدر اولوسی گن اوباسانجو کانگو کی حکومت اور باغیوں سے گفت و شنید میں مصروف ہیں اور انھوں نے ملک کے صدر جوزف کابیلا اور باغی ملیشیا نیشنل کانگرس فار پیپلز ڈیفنس (سی این ڈی پی) کے قائد نکنڈا سے ملاقاتیں کی ہیں اور انھیں حوصلہ افزا بھی قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے حال ہی میں شورش زدہ علاقے میں مزید 3000 افواج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ان کی پہلے سے موجود تعداد 17000ہے۔یہ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا اور مہنگا "امن مشنہےتاہم کانگو میں 2000ء ان کی موجودگی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں لا سکی ہے۔ ان پر حالیہ لڑائی کی زد میں آنے والے شہریوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار ان کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے ہوتا ہے جن میں عام شہری یہ الزام لگاتے نظر آتے ہیں کہ امن افواج ان کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیںغیر موٴثر ہونے کا ایک اور اظہارامن افواج کے ہسپانوی کمانڈنگ آفیسر کے دو ماہ سے بھی کم عرصہ فرائض کی ادائیگی کے بعد دئیے گئے استعفے سے ہوتا ہے۔ روانڈا کے ایک اخبار کے مطابق، جس نے سب سے پہلے اس استعفے کی خبر شائع کی، جنرل اقوام متحدہ کے مشن کو ناکام تصور کرتے ہیں۔ ان افواج کو اقوام متحدہ کے سب سے موٴثر مینڈیٹ ’باب سات‘ کے تحت تعینات کیا گیا ہے جو انھیں "تمام ضروری ذرائعاستعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ امن افواج وسطی افریقہ کے اس ملک میں زیادہ تر ان علاقوں میں تعینات ہیں جو معدنی وسائل سے مالا مال ہیں اور خانہ جنگی کا عمومی محور بھی یہی علاقے رہے ہیں۔

کانگو میں کوبالٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور کوئی دوسرا ملک اس اہم دھات کی پیداوار میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں تانبا، ہیرا، سونا، کولٹان اور tantalum ذخائر کی کمی نہیں۔ 2002 ء میں ملک کے جنوب میں ٹین کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے اور یہی وہ علاقہ ہے جو اب خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے اسی لیے لڑائی میں شدت کے ساتھ ہی ٹین کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔ اس سے کانگو کے ذخائر کی عالمی اہمیت کا کچھ اندازہ تو ضرور لگایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ تنازعے کی وجوہات کو عموماً نسلی اور قبائلی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے لیکن قدرتی وسائل پر کنٹرول کا معاملہ اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے اورمبینہ طور پر نکنڈا، کانگو حکومت اور دیگر عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کا محور یہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک میں 1998 ء سے 2003 ء کے درمیان متحارب گروپوں کے درمیان ہونے والی لڑائی ان علاقوں میں ہوئی جو معاشی اہمیت کے حامل تھے مثلاً کوبالٹ اور تانبے سے مالا کٹانگا کا علاقہ اور ہیروں کی پیداوار کے لئے معروف مبوجو مائی، وجہ بالکل واضح تھی کہ جو بھی ان علاقوں کو کنٹرول کرے گا کروڑوں ڈالر کمائے گا۔

معاشی اعتبار سے اس مرتبہ جو شہر اہم ہے وہ گوما ہے۔ گوما شمالی کیوو صوبے کا دارالحکومت اور ملک کا اہم شہر ہے۔ اکتوبر کے آخری اور نومبر کے ابتدائی دنوں میں نکنڈا کے حامیوں کی طرف سے ہونے والے حملوں اور اس شہر کے بعض مضافاتی علاقوں پر قبضے کے بعد یہ امکان پیدا ہو چکا تھا کہ گوما بھی باغیوں کے ہاتھ آ جائے گا تا ہم نکنڈا کی عسکری تنظیم بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ کر پائی۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ عسکریت پسند گوما سے تقریباً 15 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں ۔گوما میں اقوام متحدہ کی امن افواج کی موجودگی اور بعض بیرونی ممالک کے دباؤ سے اس شہر کی طرف پیش قدمی رک گئی ہے۔

نکنڈا کی جانب سے یک طرفہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود گوما اور اس کے مضافاتی قصبوں میں لوگ خوف کے عالم میں شب و روز بسر کر رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد قصبوں سے نقل کر بے آباد علاقوں میں رہ رہی ہے تا کہ نکنڈا کے حامیوں کی کسی متوقع یورش یا جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی ایک خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک تازہ رپورٹ(25نومبر) کے مطابق گذشتہ ہفتے سے گوما کے اردگرد ملک کے مشرقی حصے میں 2لاکھ سے زائد افراد گھنی جھاڑیوں سے لبریز بے آباد علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ امدادی کارروائیوں سے محروم ہے کیونکہ تحفظ کی یقین دہانی نہ ہونے کی بنا پر امدادی تنظیمیں وہاں جانے سے گریزاں ہیں۔ یہ رپورٹ کا نگومیں اقوام متحدہ کے ایک جائزہ مشن کے دورے کے بعد ان کے بیانات پر مبنی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گوما سے تقریباً100کلو میٹر دور قصبوں کا نیا بایولگا، کائنا اور کرومبا میں، جو حالیہ لڑائی کی زد میں رہے سرکاری افواج لوٹ مار اور تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہی۔ کانگومیں مختلف عسکریت پسند گروپوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث نہ پایا گیا؟حالیہ لڑئی میں زناباالجبر کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تشدد کو سادگی کے ساتھ نسلی یا قبائلی رنگ تو دے دیا جاتا ہے لیکن کانگو یہاں تک کہ ہمسایہ ممالک کی تاریخ کا جائزہ لیے بغیر اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ آگ کیسے بھڑکی جس نے اب بہت کچھ راکھ کردیا ہے۔

موجودہ تنازعے کی کئی جہتیں ہیں اور اس میں متحارب مسلح گروہوں کے بنتے بگڑتے اتحادوں کی ایک لمبی کہانی موجود ہے۔ اس عمل میں جہاں حکومتی اور مخالف قوتیں شامل ہیں اس ہمسایہ اور مغربی ممالک کا کردار بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

آج کے کانگو کی سرحدیں1885ء کی ”برلن کانگریس“ کے دوران اس وقت بنائی گئیں جب اس وقت کی قابض سامراجی طاقتوں نے افریقہ کے نقشے کو آپسی سمجھوتوں، ضروریات اور مفادات کے تحت مگر بے ڈھنگے انداز سے تقسیم کردیا۔ اس کانفرنس کے بعد کانگو بلجیم کے بادشاہ کی ملکیت قرار پایا جہاں کی آبادی کو ربڑ اور آئیوری کی پیداوار کے لیے کام پر کچھ اس برے طریقے سے جتایا گیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ماری گئی۔جبر، استحصال اور نتیجتاً بیماری سے اندازاً50 لاکھ سے ایک کروڑ50لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔1960ء میں پیرس لومومبا نے بطور رہنما ملک کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اس وعدے کے ساتھ کہ مغرب کے استحصال سے ملک کے عوام کو نجات دلائی جائے گی۔ لیکن بعدازاں اسے قتل کردیا گیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس عمل میں کہ جس کے نتیجے میں جابر آمر موبو تو سیسی سیکو کی حکومت قائم ہوئی بلجیم اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔

موبو تو کے دور میں قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے قرضے لیے گئے اور ان کے تجویز کردہ منصوبے شروع ہوئے مگر ان مالیاتی اداروں کے وعدوں کے باوجود یہ منصوبے ملک کے عوام کی حالت سدھارنے میں ناکام رہے۔ اس آمر کے دور میں بہت سے ہمسایہ ممالک میں خفیہ مداخلت ہوئی جس میں سے زیادہ تر امریکہ ملوث تھا۔زیادہ تر امریکی امداد موبوتو کے ذاتی اکاوٴنٹس میں گئی۔ موبوتو کے دورِ اقتدار میں البتہ ملک اس طرح جنگجو سرداروں کے ہاتھ میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہواتھا جس طرح اب ہے تاہم سیاسی ، سماجی اور معاشی سطحوں پر موبوتو نے جوورثے میں چھوڑا اس کے اثرات ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ کمیونسٹ مخالف شہرت رکھنے والے موبوتو کو سردجنگ کے دوران مغربی دنیا سے تنقید کا سامنا نہیں رہا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اس آمر کی سیاسی حیثیت پہلے جیسی نہ رہی۔ اس کمزور ہوئی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمسایہ ممالک روانڈا اور یوگینڈا نے گانگو میں باغیوں کی حمایت کی۔ بالآخر1997 ء میں لاورنٹ کا بیلا نے اقتدار سنبھالا۔ کابیلا نے فوراً متذکرہ بالادو ممالک کو ایک معاہدے کے ذریعے مشرقی کانگو میں معاشی غلبہ دینے کے زیادہ مواقع فراہم کیے۔ کانگو کا مشرقی حصہ روانڈا اور یوگینڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ ایک سال بعد صورتحال بدل گئی اور روانڈا اور یوگینڈا نے مشرقی کانگو میں فوجی مداخلت کردی۔ دراصل ان ممالک کی طرف سے یہ دوسری بڑی مداخلت تھی۔

ایسا اس وقت ہوا جب کابیلا مشرق میں اپنا فوجی اور معاشی اثرورسوخ بڑھانے کی دوبارہ کوشش کررہا تھا۔ اس مرتبہ کا بیلا بعض افریقی ممالک کی طرف رخ کرتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور اس کے نتیجے میں انگولا، زمبابوے اور نمیبیانے ہمسایہ ممالک کی مداخلت کے خلاف جنگ میں کابیلا کا ساتھ دیا۔ اقوامِ متحدہ کی مداخلت اور تنظیم کی طرف سے امن افواج کی آمد بھی اس لڑائی کو نہ روک سکے۔ اسے افریقی جنگ عظیم بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کل آٹھ افریقی ممالک اور25عسکری گروہوں نے حصہ لیا۔ 1998ء میں شروع ہونے والی اس جنگ کا رسمی اختتام 2003ء میں ہوا لیکن تناوٴ جاری رہا۔جنوری 2001ء میں لاوٴرنٹ کا بیلا قتل ہوئے اور ان کے بیٹے نے ان کی جگہ لی۔

روانڈار میں1994 ء میں ہونے والے قتل عام کے بعد جب تتسی اقتدار میں آئے ہوتوکانگو نقل مکانی کرگئے۔یہ درست ہے کہ روانڈا کے قتل عام میں ہوتو انتہا پسند ملوث تھے اور کانگو آنے کے بعد اس کے ملک کے مشرق میں انہوں نے تتسیوں کے خلاف بہت سی پُر تشدد کارروائیاں البتہ غیر جانبدار ادارے ان کارروائیوں کو کسی قتل عام کا نام نہیں دیتے۔

جولائی 2001ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش ہونے والی ایک رپورٹ یہ وضاحت کرتی ہے کہ روانڈا اور یوگینڈاکی مشرقی کانگو میں دلچسپی کی وجہ نسلی یاقبائلی سے زیادہ معاشی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس وقت روانڈا اور یوگینڈا کی افواج کانگو کے جن علاقوں پر قابض تھیں وہاں کافی، ٹمبر، ہیرا، سونا اور کولٹان کی تجارت یا لوٹ مار میں سب آگے تھیں۔

تتسیوں کا قتل عام روانڈا میں ہو تووٴں کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا جنہیں فرانس کی حمایت حاصل تھی۔ اس قتل عام کے بعد فرانس نے کانگو آنے والے ہو تو نسل کے ان لوگوں کو جواب اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے موبوتو کے ذریعے دوبارہ منظم ہونے میں مبینہ تعاون کیا۔ اسی دوران روانڈا میں قتل عام کے بعداقتدار میں آنے والی پال کگامے کی تتسی حکومت نے کانگو میں موجود تتسیوں کو اس عمل کے خلاف مسلح کرنا شروع کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد موبوتو کی روانڈا میں اقتدار پر گرفت کمزور ہونا شروع ہوئی۔1996ء میں روانڈا، یوگینڈا، برونڈی، زمبابوے، نمیبیا اور انگولا نے جب موبوتو کے خلاف کانگو میں فوجی مداخلت کی تو اس”بے سود“ حکمران کو امریکی تعاون نصیب نہ ہوا۔ اس کے برخلاف اس وقت راونڈا میں امریکہ وہاں کی افواج کو تربیت فراہم کررہا تھا۔ موبوتو کے بعد کانگومیں کی بیلا کے اقتدار میں آنے کے لیے فرانسیسی اخبار لی مونڈ ڈپلوماتیک کی جولائی 2006ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی کنسورشیئم ”منرل فیلڈر“ آسٹریلوی کمپنی”رسل ریسورسز، اور زمبابوے کی کمپنی”ریجوپونٹے“ نے براہِ راست مالی معاونت کی۔1998ء میں جب کا بیلا نے ان کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر ازسر نوغور کرنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ملک مشرق میں روانڈا اور یوگینڈا کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی تو تنازعے نے پھر شدت اختیار کی۔ زمبابوے انگولا، نمیبیا اور سوڈان کا بیلا کی مدد کو آئے اور جنگ پھر شروع ہوئی۔ یہ سارا عمل وضاحت کرتا ہے کہ اس کھیل میں شامل سب قوتوں نے کم وبیش عسکری طریقہ کو اختیار کیا اور خطے خصوصاً کانگو کو بدحال کردیا۔

اس لڑائی میں ایک ہاتھ عالمی سطح پر آٹی ٹی ٹیکنالوجی کے ابھار کا بھی کہا جاتا ہے۔ کانگو میں موجود کولٹان موبائل فون اور نجی کمپیوٹر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2000ء سے2007ء کے دوران کولٹان کی قیمت میں آٹھ گنا اضافہ ہوا۔ اس قیمتی دھات میں حصے کی لڑائی نے روانڈا اور یوگینڈا کو بھی ایک دوسرے کا مخالف کردیا اور کانگو میں موجود ان کے حامیوں کے اتحاد اور اختلاف پر اس کااثر ہوا اور خانہ جنگی بڑھی۔ کولٹان کے لیے بڑے پیمانے پر صنعت کی ضرورت نہیں بلکہ اسے چھوٹے پیمانے پر نکالنا مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بیرونی دنیا کانگومیں عدم استحکام کو بہت حدتک نظر انداز کرتی رہی۔اب جبکہ یورنیم اور کو بالٹ جیسی معدنیات کولٹان سے زیادہ منافع بخش ہیں اور ان کے حصول کے لیے زیادہ منظم، بڑے پیمانے پر اور زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، کانگو میں استحکام کا معاملہ بھی اہم ہوگیا ہے، اس وقت جب کانگو کے50لاکھ سے زیادہ شہری اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

اشاعت: ہم شہری ۲۸ نومبر ۲۰۰۸

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s