پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

غزہ انسانی آلام، جنگی رقہر اور سیاسی نارساہی کی داستان

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ ، بحریہ اور زمینی افواج کے حملے تادم تحریر جاری ہیں۔ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے نوسوسے زائد ہوچکی ہے اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً چالیس فیصد بچے اور عورتیں ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں ان کی تعداد نصف ہے۔ بنیادی انسانی ضروریات یعنی خوراک اور پانی کی کمی ہے۔ ادویات اور دیگر سامان کی کمی کی وجہ سے غزہ کے ہسپتال ہر لمحہ داخل ہونے والے زخمیوں کا پوری طرح علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کی تلاش ہے جو مل نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں نے جو قائم کیں ان میں جگہ نہیں۔ بے گھر ہونے والے بیشترافراد نسبتاً کم خطرناک علاقوں میں اپنے جاننے والوں یا رشتہ داروں کے ہاں جگہ ڈھونڈرہے ہیں۔ غزہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، سمندر میں جنگی بحری جہاز، فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹر، جاسوس طیارے اور ایف16، اردگرد ٹینک اور مسلح فوجی۔ تاحال جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات، اپیلیں اور قراردادیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔ کھلے آسمان تلے ایک وسیع جیل خانے کی صورت غزہ کے شہری اس جنگ کے زخم اٹھارہے ہیں۔ حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کی طرف سے اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو روکنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی غزہ کے قریب تقریباً40کلو میٹر تک واقع قصبوں اور شہروں پر مقامی سطح پر بنے، کم مہلک مگر خوف پیدا کرنے والے راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسرائیل کی طرف سے27دسمبرکو شروع ہونے والی باقاعدہ لڑائی کا آغاز فضائی حملوں سے ہوا۔ اس کے بعد بحریہ ساتھ دینے آئی اور سرحد پر جمع ہونے کے بعد اب زمینی افواج غزہ شہر کے مضافات میں ہیں۔ لڑائی کے18ویںروز اسرائیل کی زمینی افواج نے غزہ کے اندر داخلے کی سب سے بڑی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق انہوں نے اس رات حماس سے منسلک 60اہداف کو نشانہ بنایا اور اسی روز اسرائیل کی طرف 19راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل کی زمینی افواج دھیرے دھیرے غزہ شہر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ ابھی تک ان کا جو طریقہ کار سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں آگے بڑھا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سامان حرب کی وجہ سے رات کے وقت آگے بڑھنا ان کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ زمینی پیش رفت کے ساتھ انہیں فضا سے مدد ملتی رہتی ہے اور وہ ان مزاحمت کاروں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں جو ہتھیاروں کی تعداد اور جدت کے حوالے سے ان سے کئی درجہ کم ہیں۔ دن کے وقت پیش قدمی کا عمل انتہائی سست ہوتا ہے کیونکہ حماس او ردیگر عسکری تنظیمیں سخت مزاحمت کرتی ہیں۔

رات کے وقت کارروائی کرنے اور تیزی سے شہر میں داخل ہونے کی پالیسی بارے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل غزہ شہر اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں داخلے سے پہلے مزاحمت کوکم کرنا چاہتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ بلند و بالا عمارتوں میں گھرے فوجی کہیں زیادہ غیر محفوظ ہوں گے اور اس سے دونوں طرف ہلاکتیں زیادہ ہوں گی۔ اسرائیلی افواج کو ایک خوف اپنے کسی فوجی کے اغواکا ہے جو بعدازاں مسلح فلسطینی جنگجووں کے ساتھ ٹی وی پر دکھائی دے۔ اس سے اسرائیل کے اندر رائے عامہ کے جنگ مخالف جذبات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جن پر فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں فی الحال کوئی بڑا اثر ڈالنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس ناکامی کی ایک وجہ اسرائیلی حکومت کا ذرائع ابلاغ کے حوالے سے انتہائی تندہی اور منصوبہ بندی کے تحت کام ہے، جس کی منصوبہ بندی لبنانی حزب اللہ سے ہونے والی لڑائی سے سبق سیکھ کر کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور غزہ پر حملے کا ساتھ دینے والے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ پوری دنیا میں اپنا نقطہ نظر سامنے لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ ایک کثیر الاشاعتی انگریزی اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون میں سوموار کے روز ایک اشتہار شائع ہوا جس کامقصد قارئین کو یہ بتانا تھا کہ اسرائیلی حملہ جائز ہے۔ اشتہار میں لندن کا نقشہ تھا، اس کے ساتھ غزہ کا جہاں سے میزائل برطانوی دارالحکومت پر گررہے تھے۔ اشتہار پر تحریر تھا” تصور کریں کہ حماس آپ کواور آپ کے خاندان کو ہدف بنارہی ہے“۔ اس کے ساتھ لکھا ہوا تھا”کوئی ملک اپنی سرحد پر ایسے خطرے کی اجازت نہیںدے، نہ ہی اسرائیل“۔ اشتہار ایک اسرائیل نواز گروپ نے دیا جس کے لیے اس کو تقریباً60,000ڈالر خرچ کرنے پڑے ہوں گے۔ اسرائیلی حکومت اس مرتبہ پروپیگنڈہ کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر بھی کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔

آپ کو یوٹیوب اور فیس بک پر اس جنگ کے ”اسرائیلی رخ“ کی تازہ جان کاری لمحہ بہ لمحہ مل سکتی ہے اور بہت سے ای میل گروپس میں ای میلز بھی۔ وزارتِ خارجہ کے پریس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر یی گال پالمور کے مطابق” ہم ابلاغ کے وہ تمام ذرائع استعمال کررہے ہیں جو جدید دنیا اپنا پیغام دینے کے لیے ہمیں فراہم کر رہی ہے“۔ اس حوالے سے اسرائیلی یونیورسٹی بارالان میں شعبہ ابلاغ کے سربراہ کے مطابق”وہ اب بہتر کام کررہے ہیں“۔ وہ لوگ جو عمارتوں سے اٹھنے والے دھوئیں کو دور سے دیکھتے ہیں ان کے لیے یوٹیوب پر ویڈیوز اس طرح کے عنوانات کے ساتھ موجود ہیں” اسرائیلی فضائیہ کا قسام راکٹوں پر ٹھیک ٹھیک نشانہ ، اسرائیلی فضائیہ کا حماس حکومت کی عمارت پرحملہ“۔ اسرائیل غزہ میں بین الاقوامی رپورٹرز کو داخل نہیں ہونے دے رہا۔

لبنان جنگ کے بعد جب اسرائیلی حکومت نے اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیا تو ذرائع ابلاغ کے شعبے کو انتہائی کمزور یا ناکام پایا۔ حزب اللہ کے خلاف جنگ کے ابتدائی ایام میں اسرائیلی عوام کی حمایت بعدازاں ویسی نہ رہی۔ حزب اللہ نے جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب 4000 راکٹ اور میزائل داغے۔34دنوں کی جنگ میں اسرائیل کی زمینی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔ اسی کے ساتھ لبنان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبروں اور تصاویر نے صورت حال کو بدل دیا۔ کم وسائل رکھنے والی تنظیم حماس نے بھی جواباً پروپیگنڈہ مہم تیز کی ہے اور وہ انسانی جانوں کے ضیاع اور عام شہریوں کی مشکلات کو سامنے لانے کی کوشش کررہی ہے۔ عرب دنیا میں میڈیا کی ہمدردیاں غزہ کے شہریوں کے ساتھ ہیں اور عرب اخبارات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے شہریوں کی تصاویر صفحہ اول کی زینت بن رہی ہیں۔ اسرائیل کے اندر عرب چینلز دیکھے جاسکتے ہیں مگر عموماً دیکھے نہیں جاتے۔ اسرائیلی چینلز میں حکومتی موقف ہی ترجیح ہوتا ہے اور اخبارات میں بھی صورتحال کچھ اسی قسم کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کارکردگی ابھی تک ملک کے اندر تو کامیاب ہے لیکن بیرون ملک صورتحال بدلتی دکھائی دیتی ہے۔

اس کی وجہ قابل فہم ہے۔27دسمبر سے13جنوری تک غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے تین اسرائیلی شہری اور دس فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ محض اعداد ہی دنیا میں تصویر کے دوسرے رخ کوعیاں کردیتے ہیں اور بتادیتے ہیں کہ غزہ کے شہریوں پر ایک قیامت برپا ہے۔ ایک ایسا علاقے جہاں اس قدر ہلاکتیں ہورہی ہوں ہررنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کی توجہ حاصل لیتا ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی کی تصاویر اگر اخبارات کی زینت نہ بھی بنیں تو بھی وہ انٹرنیٹ کے ذریعے، جومعلومات تک رسائی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، دستیاب ہیں۔ بہت جلد لوگ اس سوال کو بھول جاتے ہیں کہ جنگ کی ابتداکس نے کی یا قصور کس کاتھا۔ عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کو ہلاکتیں کے لیے جذبات امنڈآتے ہیں۔

اسرائیل کے اندر موجود عرب آبادی، جو کل آبادی کا تقریباً19فیصد ہے، پہلے روز سے جنگ کی مخالفت کررہی ہے لیکن ایک اسرائیلی دفاعی ترجمان کے مطابق اگر لڑائی جاری رہتی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اسرائیلی شہریوں کی رائے میں بھی تبدیلی لاسکتی ہےں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے سوموار کو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک مشن غزہ روانہ کرنے کی قرار داد منظور کرلی۔ قرار داد کی حمایت زیادہ تر ترقی پذیر ممالک نے کی۔ تیرہ مغربی ممالک نے ووٹ نہیں ڈالا، محض کینیڈا کا ووٹ قرار داد کے خلاف رہا۔ قرار داد میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ فوجی کارروائی کو فوری طور پر بند کرے اور اپنی فوجیں واپس بلائے۔ اسرائیلی حکومت نے اس قرار داد پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے اس سے پہلے منظور ہونے والی قرار داد پر عمل درآمد کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس سے پہلے جو قرار داد منظور کی اس کے مطابق قرار داد”فوری اور دیرپا جنگ بندی، جس کا پورا احترام کیا جائے تاکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہوسکے، کا مطالبہ کرتی ہے“۔ اس قرار داد میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور تقسیم کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اس قرار داد میں امریکہ نے ووٹ نہیں ڈالا البتہ سلامتی کونسل کے 14ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیئے۔ یہ قرار داد عرب ممالک کی کوششوں سے منظور ہوپائی جن کے نمائندے اپنے ملک خالی ہاتھ نہیں لوٹنا چاہتے تھے۔ پہلے اسرائیل نے اسے ناقابل عمل قرار دیا اور پھر حماس نے اسے رد کردیا۔

قرار داد کے لیے سفارتی عمل میں حماس کوشریک نہیں کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ”جنگ بندی کو از سرنو لاگو کرنے کے عمل میں حماس کو اپنی قانونی حیثیت منوانے کا کوئی موقع نہ دیا جائے“۔ حماس کے رہنما خالد مشعل کے مطابق اس قرار داد پر عمل درآمد کرانے کے لیے کوئی میکانزم تشکیل نہیں دیا گیا۔ محمود عباس کو یہ قرار داد فلسطین میں اپنی سیاسی حیثیت منوانے کے لیے مفید ثابت ہوسکتی تھی مگر جب اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جوں کا توں جاری رہا تو وہ بھی دوبارہ ایسے صدر کے طور پر نظر آنے لگے جن کی بات پر بین الاقوامی برادری میں بہت زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا۔ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی سے انکار پر محمود عباس کا ردعمل بھی شدید تھا۔

اسرائیلی حملے سے قبل قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جاری مذاکرات کے خاتمے پر محمود عباس سارا الزام حماس پر لگاتے رہے۔ جب حملے شروع ہوئے تو بھی محمود عباس حماس کو ہی ذمہ دار قرار دیتے رہے، اسی کے ساتھ حماس کے بعض عہدیداروں نے الزام لگایا کہ ”فتح“ کے ارکان اسرائیل کو حماس کے اہداف بارے خفیہ معلومات فراہم کررہے ہیں۔ لیکن دو تین روز میں ہی اسرائیلی حملوں کی شدت نے فلسطینی صدر کا لہجہ بدل دیا۔ انہوں نے حماس پر تنقید بند کردی۔ حملوں کی شدت کے علاوہ اس کی وجہ سے فلسطین کے اندر پیدا ہونے والا عوامی دباو تھا۔ عوام سمجھنے لگے کہ ان حملوں کا مقابلہ یا انہیں بند کرانا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مختلف فلسطینی دھڑے خصوصاً فتح اور حماس اکٹھے نہیں ہوتے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ طویل عرصے بعد متحرب فلسطینی دھڑے ایک اجلاس میں اکٹھے ہوئے۔ سلامتی کونسل کی قرار داد پر عمل درآمدنہ ہونے کے بعد محمود عباس نے کہا کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات ہی جنگ بندی کراسکتے ہیں۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بعض ممالک کونسل کی قرار داد پر عمل درآمد کرانے کے لیے متحرک ہوئے ہیں۔

مصر کے تعاون سے جاری مذاکرات میں ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ حماس کے رہنماوں کی جانب سے جو مطالبات سامنے آئے ہیں ان میں مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور ناکہ بندی کا خاتمہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حماس کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں آمدورفت کو آزاد کیا جائے جبکہ دوسری جانب اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل میں راکٹ داغنے کا عمل بند کیا جائے اور زیر زمین راستوں سے اسلحے کی آمد کو روکا جائے۔ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ حماس کاکہنا ہے کہ راکٹ اسرائیلی حملوں کی وجہ نہیں کیونکہ مغربی کنارے سے کوئی راکٹ نہیں داغا گیا پھر بھی درجنوں فلسطینی وہاںاسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ حماس کو اپنی مرضی کے مطالبات ماننے پر مجبور کرے۔ اسرائیل ایک طرف حماس سے مذاکرات میں شریک ہے تو دوسری طرف غزہ پر حملہ آور۔ حماس کے رہنما یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتا ہے البتہ وہ اپنے مطالبات سے کم کسی بات پر تیار نہیں۔

عرب دنیا میں قطر ان ممالک میں شامل ہے جو جنگ بندی کے لیے کاوشیں کررہے ہیں۔ قطر نے حال ہی میں عرب ممالک کے فوری اعلیٰ سطحی اجلاس کی تجویز پیش کی ہے جس کی حمایت سوڈان، لیبیا، شام اور لبنان کررہے ہیں مگر مصر اور سعودی عرب راضی نہیں۔مصر قطر میں ایسے کسی اجلاس کے انعقاد کا حامی نہیں البتہ وہ کویت میں18جنوری کو عرب ممالک کے معاشی اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس نوعیت کے اکٹھ کو رد نہیں کرتا۔

ترکی کے اسرائیل کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ البتہ غزہ پر حملے کے بعد طیب اردگان کا لہجہ اسرائیل کے ساتھ کچھ زیادہ دوستانہ نظر نہیں آتا۔ ترکی کی موجودہ حکومت کی خواہش ہے کہ وہ اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان پُل کا کردار ادا کرے لیکن اسرائیل کی طر ف سے ایسی کسی کو شش کے لیے فی الوقت مثبت اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق طیب اردگان نے اپنی جماعت کے ایک بند کمرہ اجلاس میں کہا کہ جنگ بندی تک وہ اسرائیلی حکام سے رابطہ نہیں کریں گے۔ ایک اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کی ترکی کا دورہ کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا ہے۔ طیب اردگان کے چند سخت بیان سامنے آچکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں انہوں نے کہا”وہ کہتے ہیں میری تنقید سخت ہے….. میرے خیال میں یہ گندھک کے بموں اور ٹینکوں کے گولوں سے زیادہ سخت نہیں“۔ طیب اردگان کے اس رویے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تقریباً روزانہ ہزاروں ترک اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور رائے عامہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے حق میں ہے۔ علاوہ ازیں سیکولر ترکی میں ایک اعتدال پسند مذہبی جماعت اقتدار میں ہے۔ طیب اردگان کے مطابق اسرائیل کے حملوں کی مخالفت وہ”بحیثیت ایک انسان اور ایک مسلمان کررہے ہیں“۔ تاہم یہ عجب بات ہے کہ فلسطینی حق خودار ادیت کی حمایت کرنے والی حکومت کردوں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں۔

جنگ بندی کی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ خطے کا دورہ کریں گے تاکہ اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کو روکا جاسکے اور اس کے ساتھ جنوبی اسرائیل میں حماس کے راکٹ حملوں کو بھی۔ انہوں نے کہا کہ ”میں دونوں سے کہوں گا کہ اب بس کریں، بہت سے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، شہریوں کو انتہائی مصائب کا سامنا ہے۔ بہت سے اسرائیلی اور فلسطینی لوگ جان کھوجانے کے خوف کے ساتھ زندہ ہےں“۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا ہے کہ ریزرو فوجیوں کوغزہ کی جانب جانے کا کہہ دیا گیا ہے اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حماس کے راکٹ حملوں کو بند نہیں کردیا جاتا۔ ان کے مطابق” ہم اس وقت آپریشن ختم کرنا چاہتے ہیں جب دو شرائط پوری ہوجائیں، راکٹ داغنے کے عمل کا خاتمہ اور حماس کو مسلح ہونے سے روکنا۔ جب یہ دو شرطیں پوری ہوجائیں گی ہم غزہ میں آپریشن بند کردیں گے“۔ یہ بیان انہوں نے اسرائیل کے جنوبی قصبے اشکلون میں دیا۔ دوسری طرف فلسطین کے معزول وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ شہر سے فتح یاب ہوکر نہیں نکلے گا۔ تاہم انہوں نے اسرائیل سے مذاکرات کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

آج اسرائیل حماس کو اپنا دشمن نمبر1قرار دے رہا ہے لیکن اسرائیلی حکومتوں کی حماس بارے پالیسیاں ہمیشہ سے ایسی نہ تھیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کا حماس کے بارے جو رویہ اب ہے وہ پہلے نہ تھا۔ اگر ہم کچھ دیر کے لیے ماضی کی طرف پلٹ جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔2006ءمیں حماس کی جیت1950ءکی دہائی میں امریکہ کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس میں ترقی پسند قوم پر ستی اور کمیونزم کے خلاف مذہبی بنیاد پرستی کو ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اور سعودی حکومت اس کی سب سے بڑی مدگار رہی۔ 1970ءکی دہائی میں بائیں بازو کے انحطاط کے ساتھ ہی اس رجحان نے سیاسی خلا کو پُر کرنا شروع کردیا اور اسلامی بنیاد پرستی سماجی اور قومی نہ گفتہ بہ حالت کا عوامی اظہار بننے لگی۔ فلسطین بھی اس عمل سے متاثر ہوا۔ عرب قوم پرستی کے زوال اور عرب ممالک سے کثیر سرمایہ آنے کی وجہ سے فلسطین کی روایتی حریت پسند تحریک کرپشن کی دلدل میں دھنستی چلی گئیاور کمزور ہوئی۔1987ءمیں شروع ہونے والی انتفادہ میں صورتحال مختلف تھی اور فلسطین میں مذہبی بنیاد پرست نئی نسل کو راغب کرنے میں کامیاب ہورہے تھے۔ اس انتفادہ میں فلسطینی بایاں بازو جلدہی پی ایل او کی قیادت کے پیچھے چل پڑا۔1990ءکی دہائی میں اوسلو معاہدے کی ناکامی نے فلسطینیوں کو مایوس بھی کیا اور انہیں غصہ بھی دلایا۔ اسی کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ میں یہودیوں کی آبادکاری کا عمل تیز ہوا جس سے پی ایل او اور زیادہ عوام کی نظر میں گر گئی۔ اس اسرائیلی پالیسی سے حماس کو خاصا فائدہ ہوا۔ علاوہ ازیں رفاہی کاموں میں شرکت نے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

2000ءمیںاسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں دوسری انتفادہ کا باعث بنیں۔ اسرائیل میں مذہبی انتہا پسنداور مبینہ طو رپر جنگی جرائم میں ملوث ایریل شیرون کی جیت اورپھراس کی پالیسیاں حماس کی مزید تقویت کا باعث بنیں۔

9/11نے شیرون کو ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ یہودی آباد کاری کو بڑھانے کے لیے شیرون نے فلسطینی اتھارٹی کو بے بس کیا نتیجتاً مذہبی بنیاد پرست مضبوط ہوئے اور ان کے حملوں میںاضافہ ہوا، اس سے اسرائیل کو اپنی پالیسیاں لاگو کرنے میں سہولت میسر آئی ۔ جب بش عرب دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی بات کررہے تھے حماس کو انتخابی جیت نصیب ہوئیں۔ اس جیت کے ساتھ ہی اسرائیل کی پالیسیاں مزید سخت ہوئیں اور حماس کا موقف بھی۔

اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی نے فلسطین کے مستقبل بارے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ اگر اسرائیل غزہ میں پوری طرح داخل ہوجاتا ہے اور حماس کے بیشتر رہنماوں کو ہلاک یا گرفتارکرتا ہے تو حماس کے کارکنوں میں زیادہ کٹرپن کے آثار نمودار ہوسکتے ہیں۔ ان کا نتیجہ القاعدہ سے ملتے جلتے انداز میں خودکش حملوں کی صورت نکل سکتا ہے۔ اگر اسرائیل حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتا ہے تو اس کی جگہ محمود عباس یا فتح سنبھالیں گے مگر اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینی عوام کا ردعمل یہ بتائے گا کہ آیا فتح ایک مضبوط حکومت بنا پائے گی یا نہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد، اگر فلسطینی یہ سمجھیں کہ فتح نے آزادی کے سوال پر غداری کی ہے یا کمزور موقف اپنایا ہے اور حماس کی طرف سے مزاحمت انہیں جارحیت کے خلاف آخری راستہ معلوم ہوتوقوی امکان ہے کہ مستقل قریب کی فتح حکومت ایک کمزوراور محتاج حکومت ہوگی جو اسرائیل کے کسی ناجائز مطالبے پر مزاحمت کرنے سے قاصر ہوگی۔ اگر حماس اسرائیلی حملوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھتی ہے اور اسرائیل کو غزہ سے عالمی دباویا جانی نقصان کے خوف اور معاشی وجوہ کی بنا پر واپس جانا پڑتا ہے تو حماس ، حزب اللہ کی طرح ایک فاتح کی صورت سامنے آئے گی۔ اس سے عرب اور مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک میں اس کی حمایت میں بھی اضافہ ہوگا اور اس کے نظریات بھی پھیلیں گے۔ اسی کے ساتھ عرب دنیا میں شیعہ بنیاد پرست ملک ایران اورسیکولر شام کے اثر میں اضافہ ہوگا۔

اس ساری لڑائی میں بدقسمتی سے ایسے ممالک شامل نہیں جہاں حقیقی معنوں میں جمہوریت اور عوامی حکومتیں ہوں۔ سعودی عرب اورایران میں مذہبی بنیاد پرستوں کی حکومت ہے، فرق یہ ہے کہ ایک ملک امریکی پالیسیوں کا ساتھ دے رہا ہے اور دوسرا اس کا مخالف، شام اور مصر میں آمریت ہے اور اردن میں بادشاہت۔ لبنان کے سیاسی میدان میں دھڑے بازیاں اور تناو عیاں ہے اور اس سب کے ساتھ ستم ظریفی یہ کہ یہودی ریاست جو دنیا کی چوتھی یا پانچویں بڑی فوجی طاقت ہے غزہ پر چڑ ھ دوڑی ہے۔ ان ممالک کی آپس کی لڑائیاں غزہ کے شہریوں کی ہلاکت روکنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہیں، اور پھر بش انتظامیہ کی مداخلت بھی۔

فلسطینیوں کے قتل کو روکنے کے لیے فلسطین سے باہر یکجہتی کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ یہ امید کی ایک کرن ہے۔ اب تک جو ہوا اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوامی دباو کے بغیر ذکر بالا ممالک کے حکمرانوں سے زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی۔ ذرائع ابلاغ میں بھرپور مہم چلانے کے باوجود اسرائیلی حکومت کے لیے برطانیہ، امریکہ،جرمنی، فرانس، ترکی، یونان، چلی، وینزویلا، مصر، یمن اور دیگر کے دارالحکومتوں میںبڑے عوامی احتجاج یقینا حیران کن ثابت ہوئے ہوں گے۔ یہ احتجاج اگر بڑھتے ہیں تو اسرائیل کے اندر تنہائی کا احساس پیدا ہوگا اور اسے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرے گا۔

سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا متن

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی سے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1860کا متن حسب ذیل ہے:

1۔سلامتی کونسل صورتحال کی نزاکت پر زور دیتے ہوئے فوری اور پائیدار فائربندی کا مطالبہ کرتی ہے جس کا پورا احترام کیا جائے تاکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہوسکے۔

2۔سلامتی کونسل پورے غزہ میں انسانی امداد بشمول غذا، تیل اور طبی امداد کی بغیر کسی رکاوٹ کے ترسیل اور تقسیم کا مطالبہ کرتی ہے۔

3۔سلامتی کونسل انسانی امداد کی بلا رکاوٹ تقسیم کے لیے انسانی امدادی راہداری اور دیگر طریق کار کے قیام اور شروعات کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔

4۔سلامتی کونسل رکن ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کریں جو غزہ میں انسانی اور اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لیے کی جارہی ہیں، اور (فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے) یو این ڈبلیو آر اے اور ایڈ ہاک رابطہ کمیٹی کو بھی مزید امداد فراہم کریں۔

5۔سلامتی کونسل تمام دہشت گرد کارروائیوں اور شہریوں کے خلاف تمام تشدد اور لڑائیوں کی مذمت کرتی ہے۔

6۔سلامتی کونسل رکن ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ پائیدار فائربندی اور امن کی کامیابی کے لیے غزہ میں انتظامات اور گارنٹیوں کی فراہمی کے لیے کوششوں میں تیزی کریں،

ہتھیاروں اور بارود کی غیرقانونی منتقلی کو روکنے اور نقل و حرکت اور رسائی سے متعلق 2005ءکے معاہدے کے تحت فلسطینی انتظامیہ (کے علاقوں) کے درمیان کراسِنگ پوائنٹوں کے مستقل کھولے جانے کو یقینی بنائیں،

اور اس بارے میں (سکیورٹی کونسل) مصر کے اقدامات اور علاقائی اور عالمی سطح پر اس طرح کے دیگر اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے۔

7۔سلامتی کونسل باہمی مفاہمت کی جانب فلسطینیوں کے ٹھوس اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، (اور) مصر اور عرب لیگ کی مفاہمتی کوششوں کی بھی جن کا ذکر چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کی قرارداد میں ہے، اور جو کہ سن دو ہزار آٹھ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1850 اور اس سے متعلق دیگر قراردادوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔

8۔سلامتی کونسل بین الاقوامی برادری اور فریقین سے تازہ اور فوری کوششوں کی اپیل کرتی ہے تاکہ اس علاقے سے متعلق اس وِژن پر مبنی وسیع تر امن قائم ہوسکے جس کے تحت اسرائیل اور فسلطین دو جمہوری ریاستیں پرامن طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ساتھ ساتھ رہ سکیں،جن کے بارے میں سن دو ہزار آٹھ کی سکیورٹی کونسل قرارداد نمبر 1850 میں بات کی گئی ہے، (اور سکیورٹی کونسل) عرب امن مہم کو اہم سمجھتی ہے۔

9۔سلامتی کونسل ماسکو میں 2009ءمیں ایک عالمی امن کانفرنس کی فریقین سے مشاورت کے بعد (امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ) کی تجویز کا خیرمقدم کرتی ہے۔

اشاعت: ۱۶ جنوی ۲۰۰۹

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s