وینز ویلا میں ریفرنڈم

وینز ویلا میں ریفرنڈم

رضوان عطا

وینزویلا کے باسیوں نے ریفرنڈم کے ذریعے ملکی آئین میں ایک اہم تبدیلی کر دی ہے۔ اب منتخب قیادت تاحیات دوبارہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں ہوگوشاویز اور ان کے حامیوں نے55 فیصدکے قریب ووٹ حاصل کئے ۔ اس جیت کے بعد ہوگو شاویز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حالیہ مدت صدارت کے بعد بھی اس عہدے پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ وینزویلا کے سوشلسٹ انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ریفرنڈم میں ایک کروڑ دس لاکھ رائے دہندگان نے حصہ لیا۔ وینزویلا میں کل ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ 

موجودہ آئین کے مطابق صدر چھ سالوں کے لئے دو مرتبہ منتخب ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں رہتا۔ یوں ہوگو شاویز کو اپنا عہدہ صدارت تقریباً تین سال بعد چھوڑنا پڑنا تھا۔

2007 ءمیں ہوئے ریفرنڈم میں 69 آئینی تبدیلیوں کی منظوری انتہائی کم فرق سے ہونے والی شاویز کے حامیوں کی شکست کے بعد نہ ہو سکی تھی۔ اس ریفرنڈم میں بھی عہدہ صدارت پر حد کو ختم کرنے کی تجویز شامل تھی۔ اس ریفرنڈ م میں شاویز کی شکست کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے حامی اکثریت میں ہونے کے باوجود ووٹ ڈالنے نہ آئے۔ اس مرتبہ ووٹوں کی شرح پہلے سے زیادہ رہی اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاویز اپنے حامیوں کو اس حوالے سے متحرک کرنے میں کامیاب رہے۔ امریکی حکومت نے اس ریفرنڈم پر قدرے محتاط انداز میں مبارک باد دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عوام کے جذبے کی تعریف کی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہم یہ ہے کہ منتخب حکام جمہوری طرز حکومت پر توجہ دیں۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے تازہ بیان کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ ریفرنڈم کے بعد صدر ہوگو شاویز اور دیگر تمام سیاست دانوں سے ” مثبت تعلقات“ قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ ترجمان کا کہناتھا ”مخالفین کو خوف زدہ کرنے کی چند تشویش ناک رپورٹس کے علاوہ یہ عمل زیادہ تر جمہوری روایت سے پوری طرح مطابقت رکھتا تھا“۔ اس بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ فی الحال شاویز سے تضاد کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی۔

سابقہ بش انتظامیہ کے ساتھ وینز ویلا کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ ہو گو شاویز جاج ڈبلیو بش کی پالیسیوں پر عموماً تنقید کرتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ بش انتظامیہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازشوں کا الزام لگا چکے ہیں۔ باراک اوباما کی آمد پر وینزویلا نے تعلقات کی بہتری کی امید کا اظہار کیا تھا تا ہم ابھی تک یہ بات مبہم ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کا رویہ وینزو یلا اور خطے میں موجود اس کے دوست ممالک سے کیسا ہو گا۔

اگرچہ وینز ویلا میں بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے ہو گو شاویز کی جیت سے امریکی اثرات پر زد پڑی ہے۔ لیکن بش انتظامیہ کے لئے وینز ویلا میں حکومت کی تبدیلی یا شاویز کے سحر کو کم کرنے کا کام خاصا کٹھن رہا ہے۔ وینز ویلا تیل کی دولت سے مالا مال ہے جو تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کی ضرورت کے پیش نظر انتہائی اہم معدنی دولت ہے۔ اوپیک کے ایک اہم رکن اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو تیل فراہم کرنے والے اس ملک سے قطع تعلق مشکلات میںکھری امریکی معیشت کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔ بش انتظامیہ کی سیاسی اور معاشی میدانوں میں جارحانہ پالیسیوں نے شاویز کے لئے اپنے اتحادی تلاش کرنے کے کام کو آسان کر دیا۔ لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلتوں سے پیدا ہونے والی عوامی نفرت کا اظہار شاویز سے ہمدردی کی صورت سامنے آیا۔ وینز ویلا میں ہونے والی اصلاحات، جن کا فائدہ عام اور غریب شہریوں کو ہو رہا ہے، پورے لاطینی امریکہ کے عوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ شاویز کے بارے میں عوامی ہمدردی نے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور یوں وہ لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک کو اکٹھا کرنے میں کامیاب دکھائی دئیے۔

کیوبا اور بولیویا سے وینزویلا کے تعلقات انتہائی قریبی ہیں جبکہ چند ایک کے علاوہ تمام ممالک سے تعلقات کی نوعیت اچھی ہے۔ ان ممالک نے باہمی تنازعات کے بعض اہم تصفیے امریکی مداخلت یا مدد کے بغیر کئے ہیں اور معاشی میدان میں باہمی معاہدوں کی طرف بڑھ رہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر امریکہ کا اثر و رسوخ خطے میں کم ہوا۔ وینزویلا میں شاویز کی شکل میں آنے والے انقلاب کی بنیاد ووٹ رہے ہیں۔ وہاں باقاعدگی سے انتخابات ہو رہے ہیں اور اہم فیصلوں پر عوام سے پوچھا جاتا رہا ہے۔ اس لئے بھی امریکی انتظامیہ کے لئے انگشت زنی کرنا مشکل رہا۔

اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم کو بھی غیر ملکی مبصرین نے عمومی طور پر شفاف اور منصفانہ قرار دیا، لاطن امریکن کونسل آف الیکٹوریل ایکسپرٹس کے صدر کے مطابق” ریفرنڈم عالمی معیارات اور ملکی قانون کے مطابق تھا۔“ حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے انتخابی جیت کے لئے ریاستی مشینری کا استعمال کیا، خصوصاً سرکاری ٹیلی ویژن کو شاویز کی حمایت میں پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا گیا۔ البتہ بہت سے مبصرین اس سے اتفاق کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ یونان سے آئے مبصر مانولیس گلیزوکس کے مطابق ” وہ جو حامی نہیں تھے اخبارات کے ساتھ ساتھ سمعی اور بصری ذرائع ابلاغ میں جمہوری انداز سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق رکھتے تھے۔ ایک غیر جانبدار تنظیم اوجو الیکٹوریل(الیکشن واچ) کے مطابق وینزویلا کے نیشنل گارڈز، جنہیں انتخابی عمل کے دوران پورے ملک میں تعینات کیا گیا تھا، نے ” درست رویے “ کا مظاہرہ کیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں عمومی طور پر ہوگو شاویز پسندیدہ یا مقبول شخصیت نہیں۔ ان پر آزادی اظہار کے اصولوں سے رو گردانی کا الزام عموماً لگایا جاتا ہے۔ جہاں تک حالیہ ریفرنڈم کا تعلق ہے تو اس موقع پر بھی اسی نوعیت کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ وینزویلا میں کل گیارہ ٹیلی ویژن اسٹیشنوں میں سے سات نجی اداروں کی ملکیت ہیں اور وہ شاویز کے حامیوںمیں شمار نہیں ہوتے۔ دارالحکومت کراکس سے شائع ہونے والے بیس اخبارات میں سے تقریباً نصف شاویز اور ان کی انتظامیہ کے بارے میں تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ ملک میں جاری ان اقدامات پر کم ہی توجہ دیتے ہیں جو کمزور اور پسماندہ طبقات کو فائدہ پہنچا رہے ہوں مثال کے طور پر اس حکومتی پروگرام کی کوریج انتہائی کم ہوئی جس کے ذریعے کیوبا کے 14000 ڈاکٹروں نے وینزویلا کے غریب ترین اضلاع میں 11000 کلینک قائم کئے اسی طرح تعلیم بالغاں کے انتہائی کامیاب پروگرام کو بہت کم کوریج ملی۔

وینزویلا میں انتخابی عمل کے شفاف ہونے سے زیادہ بحث طلب موضوع ان آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد وینزویلا کا مستقبل ہے۔ ہو گو شاویز کے اقتدار میں آنے کے بعد وینزویلا میں بہت سی عوام دوست اصلاحات کا آغاز ہوا۔ تقریباً دس سال پر محیط اس عرصے میں غریب کسانوں میں زرعی زمینوں کی تقسیم کے عمل کا آغاز ہوا، بہت سے اداروں کو قومیایا گیا، تعلیم اور صحت کو ارزاں اور عام کرنے کی کامیاب کوششیں ہوئیں۔ اس پورے عمل میں ہوگو شاویز کا کردار مرکزی رہا۔ شاویز جس جماعت کی بنیاد پر اقتدار میں آئے۔ اس کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور تھا۔ اس میں مختلف الخیال لوگ شامل تھے اور آج بھی ان کے حامی کسی منظم جماعت کی صورت متحد نہیں۔ شاویز کو شہر اور دیہات کے بیشتر غربا اور پسے ہوئے طبقے کی حمایت حاصل ہے۔ اس صورت حال نے شاویز کو ایسے کردار میں بدل دیا ہے جس سے بہت سی امیدیںوابستہ ہیں۔ جس کے منہ سے نکلی بات اہمیت رکھتی ہے اور جو اصلاحات کے جاری عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اگر شاویز اپنی مقبولیت کا ناجائز فائدہ نہ بھی اٹھائیں تو بھی انہیں مسیحا تصور کرنے کا عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ طاقت اور امیدوں کا ارتکاز چاہے جس شکل میں بھی ہو برا ثابت ہو سکتا ہے۔ شخصیت پرستی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ملک میں متبادل لیڈر شپ اور فیصلہ سازی میں عوامی شمولیت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھائے بغیر حقیقی جمہوریت اور ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔

وینزویلا وہ ملک ہے جسے اندرونی اور بیرونی سطح پر مزاحمت کا سامنا ہے۔ وینزویلا کے اندر موجود حزب اختلاف کمزور نہیں۔ اس میں زیادہ تر درمیانے اور بالائی طبقے کے لوگ شامل ہیں اور اگر ماضی کو سامنے رکھا جائے تو یہ کچھ زیادہ جمہوریت نواز بھی نہیں، حزب اختلاف شاویز حکومت کی اصلاحات کی بھر پور مزاحمت کر رہی ہے اور امریکی مخالفت بھی موجود ہے۔ اس صورت حال میں وینزویلا میں جاری اصلاحات میںفردِ واحد شاویز کا کردار اہم ہو جاتا ہے اور پھر ہمیں فیصلہ سازی میں شعوری عوامی شمولیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اشاعت: ہم شہری ۲۰ فروری ۲۰۰۹

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s