تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

رضوان عطا

علحیدگی پسند تامل ٹائیگر(لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام) کا دارالحکومت کہلانے والا شہر کلینوچی اس کے بعد سری لنکا کی افواج کے قبضے میں ہے اور اب وہ ملک کے شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ بلاشبہ کلینوچی پر قبضہ تامل ٹائیگر کے لیے بڑا دھچکہ اور حکومت کے لیے اہم کامیابی ہے۔ افواجِ سری لنکا اب ساحلی شہر مولائتیوو اور ارد گرد کے علاقوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بمباری کی جا رہی ہے۔ ابھی تک دونوں طرف ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی تامل ٹائیگرز نے کلینوچی پر سرکاری افواج کے قبضے کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ وہ اب یہاں نہیں رہے۔ صدر مہندا راجاپکسے کی طرف سے اس کامیابی کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے۔

علیحدگی پسندوں کی حامی ویب سائٹ تامل نیٹ ڈاٹ کام کے مطابق تامل ٹائیگرزپہلے ہی کلینوچی خالی کر چکے تھے۔

فوجی پیش قدمی کے ساتھ ہی ملک بھر میں جوابی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ چکا ہے۔ کولمبو میں ایک خود کش حملے کے بعد، جس میں فضائیہ سے منسلک کم ازکم تین افراد کی جان گئی، حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

کلینوچی کو اپنا سیاسی دارالحکومت بناتے ہوئے تامل ٹائیگرز نے ملک کے شمال میں ایک چھوٹی سی نیم ریاست قائم کر رکھی تھی۔ سرکاری قبضے کے بعد ان کے ہاتھ رہ جانے والا علاقہ کم ہو کر تقریباً1605مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سراتھ فونسیکا کے مطابق” ایل ٹی ٹی ای اب ایک مختصر علاقے تک محدود ہوگئی ہے جس کی لمبائی 40کلو میٹر اور چوڑائی تقریباً 40کلو میٹر ہے اور جو شمال مشرقی ساحلی ضلع مولائتیوو کے اردگرد ہے“۔

کلینوچی پر قبضہ سری لنکا کی حکومت کے لیے اس قدر اہم تھا کہ صدر نے اس کا اعلان ٹیلی ویژن پرایک خطاب میں کیا۔ البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کامیابی کتنی دیر پاہوگی۔تامل ٹائیگرز پسپائی کے بعد پیش قدمی کی کئی مثالیں ماضی میں قائم کرچکے ہیں۔1996ءمیں کلینوچی تامل ٹائیگرز کے ہاتھ سے نکل گیا تھا لیکن دو سال بعد انہوں نے اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا جو دس سال برقرار رہا۔

سری لنکا کی حکومت2009ءمیں تامل ٹائیگرز کو کچلنے کا اعلان کرچکی ہے لیکن دنیا میں سب سے زیادہ مہلک اور منظم چھاپہ مار قوت کے بارے یہ سوچنا کہ وہ اتنی جلدی ختم ہوجائے گی حقیقت کے قریب نہیں۔ اگر سرکاری افواج اسی طرح پیش قدمی جاری رکھتی ہیں تو قوی امکان یہی ہے کہ تامل ٹائیگرز علاقوں پر براہ راست قبضہ کر کے اپنی حکمرانی قائم کرنے کی بجائے گوریلا کارروائیوں کو ترجیح دیں۔

نومبر میں اپنے سالانہ خطاب میں ایل ٹی ٹی آئی کے رہنما پرابھا کرن نے اپنی آئندہ کی پالیسی کے بارے عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے علاقوں کا دفاع کریں گے اور باغیوں کو تجویز دی تھی کہ اگر ان کے زیر قبضہ علاقے سکٹر جائیں تو وہ حملہ کرنے اور چھپ جانے والے گوریلا انداز کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ امریکہ، یورپی یونین، بھارت اور بعض دیگر ممالک لبرشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے سری لنکا کی حکومتوں اور تامل ٹائیگرز دونوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب پایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق2003ءمیں جنگ بندی اور تاملوں سے ہونے والے مذاکرات کے بعد اس حوالے سے صورت حال میںخاصی بہتری آئی لیکن 2007ءمیں سیاسی بنیاد پر قتل، بچوں کا جنگی مقاصد کے لیے استعمال، اغوا اور مسلح تصادم بڑھا۔ اگرچہ 1976ءکے بعد سے سری لنکا میں موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پولیس کی حراست کے دوران اموات اور پراسرار گمشد گیوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ سری لنکا میں تقریباً2دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے جہاں کم وبیش 70ہزار افراد ہلاک ہوئے وہیں دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ تامل ٹائیگرز پر بھی الزام عائد کیاجاتا ہے کہ وہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، علاوہ ازیں وہ اغواءاور جسمانی تشدد،سیاسی قتل اور ذرائع ابلاغ پر پابندی لگانے جیسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ سری لنکا میں تامل اقلیت جبر اور استحصال کا شکار رہی ہے اور اسی وجہ سے ان کے اندر بے گانگی اور انتہائی پسندی نے جنم لیا ہے۔ بد قسمتی سے موجودہ حکومت کا موقف تاملوں کے حوالے سے روزبروز سخت ہوتا جارہا ہے اور وہ مسئلے کو عسکری ذرائع استعمال کرتے ہوئے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں ناروے کی مدد سے ہونے والے مذاکرات اگرچہ کچھ عرصہ نسبتاً امن کا باعث بنے لیکن کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ملکی افواج کی حالیہ کامیابیاں حکومت کے لیے بلاشبہ اہم ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔ جب تک تاملوں کے احساس محرومی کو دور کرنے اور انہیں ملک کے سیاسی نظام میں مساوی حق دینے کا بندوبست نہیں کیا جاتا اور ان کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا یہ مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوگا۔سری لنکا اس عسکری مہم کے لیے بہت بڑی رقم خرچ کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت متاثر ہورہی ہے۔92فیصد شرح خواندگی رکھنے والے اس ملک میں ترقی اور انسانی فلاح کا راستہ اپنانے کا امکان موجود تھا بھی اور ہے بھی جو تنگ نظر قوم پرستی کی نظر ہورہا ہے۔ ان حالات کی زیادہ ذمہ داری مقتدر قوتوں پر ہی ڈالی جانی چاہیے۔

اشاعت: ہمشہری ۹ جنوری ۲۰۰۹

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s