بیجنگ اولمپک گیمز 2008 –

بیجنگ اولمپک گیمز 2008 –

تصویر کا دوسرا رُخ
رضوان عطا

اولمپکس کے اپنے ملک میں انعقاد کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنی پڑتی ہے اور چین نے بھی بالآخر اپنے ہاں 2008ء میں اِس کے انعقاد پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو راضی کر لیا۔ بیجنگ کا سخت مقابلہ ٹورنٹو، پیرس، استنبول اور اوکاسا سے تھا۔ بیجنگ میں اولمپکس کے انعقاد کے فیصلے کے بعد چین کے نائب پریمیئر لی لینگ چنگ نے کہا ”2008ء کے اولمپکس کی بولی جیتنا چین کے سماجی استحکام، معاشی ترقی اور چینی عوام کی صحت مند زندگی کی بین الاقوامی سطح پر قدر شناسی کی ایک مثال ہے۔“ کثیر سرمایے سے تعمیر کیے گئے سٹیڈیم میں بیجنگ اولمپک گیمز کا آغاز ایک رنگا رنگ تقریب سے ہو چکا اور اب دنیا کے ہزاروں کھلاڑی میڈلز کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر چین کی پہچان اور قدر شناسی میں کھیلوں کے اِس سب سے بڑے ایونٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے، باوجود اِس کے لیے تبت، سنکیانگ، ماحول، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے معاملات بدستور زیر بحث ہیں۔ البتہ اہم سوال یہ ہے کہ چین کے اندر اولمپک گیمز کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور جس طریقے سے اِس ایونٹ کے معاملات کو چین میں چلایا جا رہا ہے کیا وہ حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری نظریے سے میل کھاتے ہیں؟

جس انداز میں بیجنگ کے اولمپک گیمز کے لیے تعمیراتی کام ہوا اس سے سب سے زیادہ نچلے اور کمزور طبقے متاثر ہوئے۔ نصف بلین ڈالر کی خطیر رقم سے ”پرندے کا گھونسلہ“ نامی سٹیڈیم کی تعمیر ہوئی۔ نیشنل تھیٹر پر 350ملین ڈالر خرچہ ہوا اور نیشنل سوئم سنٹر 100ملین ڈالر میں پڑا۔ اولمپکس کے سلسلے میں بیجنگ ائیر پورٹ کے تیسرے ٹرمینل پر تقریباً 2بلین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ چند مثالیں ہیں جو چینی حکمرانوں کی اِس معاملے میں ”سخاوت“ کا پتہ دیتی ہیں اور تصویر کا محض ایک رُخ بیان کرتی ہیں۔

اِن مہنگے منصوبوں کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے گھر مسمار کر کے انھیں بے گھر کیا گیا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے جاری تعمیراتی کام نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کیا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 3لاکھ کے قریب ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اولمپکس کی تیاری کے دوران بیجنگ کے باسیوں کو زبردستی گھروں سے بے دخل کرنے کے عمل کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ جنیوا میں قائم سنٹر فار ہاؤسنگ رائٹس اینڈ ایوکویشن کے اندازے کے مطابق اولمپکس سے متعلقہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے 15لاکھ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔

تنظیم کی سینئر تحقیقاتی اہلکار ڈیانا فلاور کے مطابق ”اولمپک کھیلوں نے پہلے سے موجود حقوقِ رہائش کی خلاف ورزیوں کے عمل میں تیزی کی توجیہہ فراہم کر دی ہے اور لوگوں کی اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔“ فلاور کے مطابق ”وہ لوگ جنھوں نے احتجاج کیا اور زیادہ معاوضے کا مطالبہ کیا یا یہ کہا کہ انھیں بے دخل نہ کیا جائے انھیں ہراساں کیا گیا اور دھمکایا گیا… اولمپک کو مزید جبر کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیجنگ گیمز کے ایک اہم چینی اہلکار سن ویڈی کا کہنا تھا کہ ”اولمپک کے لیے منتقلی کے پروگرام میں صرف 6000خاندان شامل تھے“

یہ مانا جا سکتا ہے کہ منتقلی کے اِس عمل میں تمام افراد یا گھرانوں سے زبردستی نہیں کی گئی ہو گی لیکن بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جو بے دخل ہوئے افراد کے احتجاج یا ناراضگی کا پتہ دیتے ہیں۔ اِس سال یکم اپریل کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بے دخل ہوئے لوگوں اور ان کے حقوق کی وکالت کرنے والوں کو سزائیں دینے کی نشاندہی کی گئی۔ اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے رہائش کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک کارکن یی گوژو کو چار سال قید کی سزا دی گئی اور اِس کی وجہ محض یہ تھی کہ وہ بیجنگ میں زبردستی بے دخل کیے گئے لوگوں کے ایک احتجاجی مظاہرے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ رپورٹ میں اسی نوعیت کی جدوجہد کرنے والے چند دیگر کارکنوں کی گرفتاری یا انھیں کسی انداز میں ہراساں کرنے کا ذکر ہے۔

اکتوبر 2003ء میں یی گوگیانگ کی سینکڑوں افراد کے سامنے ایک پُل سے کود کر خودکشی کی کوشش کے واقعے نے خاصی شہرت پائی۔ اِس نے یہ خود کشی اپنے گھر اور ریسٹورنٹ کو زبردستی منہدم کرنے کے خلاف کی۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ مگر اِسے دو سال جیل کی ہوا کھانا پڑی۔

اولمپک کے ذریعے ”کیمونسٹ چین“ نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے ملک پر ایک بڑے دھاوے کی دعوت دی۔ مقابلوں کے آغاز سے قبل ہی انھیں ایڈیڈاس، کوکا کولا، Nike، میکڈونلڈ، ویزا جیسی دیگر بڑی کمپنیوں کی جیت قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔ اولمپک کے انتظام سے لے کر اشتہارات کی تقسیم تک بولی وہی جیتا جو زیادہ سرمایہ رکھتا تھا۔ تقریباً 63کمپنیاں بیجنگ اولمپک کی پارٹنرز یا سپانسرز ہیں۔ اولمپک پارٹنر پروگرام میں، جس کا انتظام 1985ء سے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ہاتھ میں ہے، بیجنگ اولمپک کے لیے 12کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے جنھوں نے کمیٹی کو 866بلین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اولمپک میں اِس طرح بعض کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی اور لوگ ان کی تیار کردہ اشیاء خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، چاہے وہ غیر معیاری ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح خریدار کے انتخاب کا اختیار بھی محدود ہو جاتا ہے۔ ان 12کمپنیوں میں سے کوکا کولا اور میکڈونلڈ ایسی ہیں جن کی مصنوعات پر صحت کے لیے مضر ہونے کے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔

اِسی طرح کھیلوں کے سامان کو فراہم کرنے والی کمپنیوں پر مزدور قوانین سے انحراف کرنے کے بہت واقعات منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اِن میں Nike، ایڈیڈاس اور سپیڈو شامل ہیں۔ اولمپک کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل ہی ایڈیڈاس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پیداواری یونٹس کو چین سے منتقل کر رہے ہیں کیونکہ چین نے جو اُجرت طے کی ہے وہ ”بہت زیادہ“ ہے۔

چین کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں محنت کشوں کی اُجرت انتہائی کم ہے۔ اولمپک کے لیے اگرچہ بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کیے گئے لیکن اِس سے مزدوروں کو خوشحالی ممکن نہ ہو سکی۔ تعمیراتی منصوبوں میں زیادہ تر وہ مزدور کام کرتے ہیں جو دوسرے علاقوں سے روزگار کی تلاش میں ہجرت کر کے آتے ہیں اور کم اجرت پر بھی کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ اِس کی روزانہ کی اوسط اجرت 4.7ڈالر ہوتی ہے اور اُجرت کا تاخیر سے ملنا ایک معمول بن چکا ہے کیونکہ مستقل نوکری کی بجائے ٹھیکیداری نظام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چین کی حکومت کے اپنے تخمینوں کے مطابق 2003ء میں مہاجر مزدوروں کو 12ملین ڈالر کی اُجرت نہیں دی گئی۔

بیجنگ اولمپک کی کمرشلائزیشن کی ایک مثال یہ ہے کہ اولمپک مشعل کے بین الاقوامی سفر کو لینوو (Lenovo)نے نہ صرف سپانسر کیا بلکہ اس مشعل کو ڈیزائن کرنے میں بھی معاونت کی۔

اولمپک کے موقع پر بہت سے حلقے یا گروہ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی آواز کو بلند کرنے کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک بین الاقوامی ایونٹ میں وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اولمپک کے آغاز سے قبل اور اس کے دوران تبت اور سنکیانگ میں ہونے والے احتجاج اس کی مثالیں ہیں۔ دوسری طرف حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ دنیا کے سامنے اپنے ملک کا ایک خوش نما چہرہ پیش کریں۔ اِسی لیے ماضی میں ہمیں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں اولمپک سے قبل احتجاجوں کو طاقت کے زور پر دبایا گیا۔ اِس کی بہترین مثال 1968ء میں میکسیکو کے اندر ہونے والے اولمپکس ہیں۔ جہاں مقابلوں کے آغاز سے دس دن قبل ملک میں خراب سیاسی صورت حال کے تناظر میں مظاہرہ کرنے والے 300طلبا کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے اسے خاطر میں نہ لیا۔

آج کی صورت حال مختلف ہے۔ ذرائع ابلا غ کے فروغ نے معلومات تک رسائی کو آسان کر دیا ہے اور چین کی حکومت ، جس کی غلطیوں کی نشان دہی کے لیے مغربی میڈیا انتہائی سرگرم رہتا ہے، پوری کوشش کرتی ہے کہ وہ جمہوری اور انسانی حقوق کی پاسدار نظر آئے۔

اِس مرتبہ بھی بیجنگ میں بہت سے گروپوں اور تنظیموں نے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ اِس معاملے میں نپٹنے کا بندوبست یہ کیا گیا کہ بیجنگ میں چند پارکوں میں احتجاج کی اجازت دے دی گئی مگر احتجاج کے لیے شرط یہ رکھی گئی کہ پہلے سرکار اجازت لی جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اولمپک سے چین میں انسانی حقوق کی صورت حال تنزل کا شکار ہوئی ہے۔

اولمپک کھیلوں کو اگرچہ بین الاقوامیت کی علامت قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کا انعقاد کرنے والے ممالک میں اِسے قوم پرستی کو فروغ دینے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ افتتاحی تقاریب میں اپنے ملک کی تاریخ اور ثقافت کو اِس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس سے عوام میں قومی تفاخر کا جذبہ پیدا ہو۔ بیجنگ میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آیا۔ چین کے سرکاری اہل کاروں اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں کمیونزم یا سوشلزم کے حوالے ناپید ہو چکے ہیں۔ حالیہ مقابلوں میں اہمیت ”قومی وقار“ کو دی جا رہی ہے اور کھیلوں کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ اِس ملک کی پہچان کمیونسٹ سے زیادہ سرمایہ دارانہ سے مماثل ہو۔ یہاں ہمیں ملک کی حکمران جماعت کے سرکاری نظریے اور اِس کے کردار میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ اولمپک کی تیاری کے کام کا بڑا حصہ نجی شعبے کے ذمہ ہے۔ تیار ہونے والے زیادہ تر سٹیڈیم اب کئی سالوں تک اُن کمپنیوں کی تحویل میں رہیں گے جنھوں نے اِن کی تعمیر میں معاونت کی۔

اشاعت: ۱۵ اگست ۲۰۰۸ ہمشہری

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s