قطبی ریچھ خطرے میں

رضوان عطا

14 مئی کو امریکہ کے محکمہ امور داخلہ نے قطبی ریچھ کو ان انواع میں شامل کرلیا جن کے وجود کو خطرہ ہے۔ امریکہ کے Endangered Species Act (ای ایس اے) کے تحت اب امریکی حکومت پر یہ لازم ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے اور نہ ہی کسی ایسے اقدام کو مالی معاونت فراہم کرے جو قطبی ریچھ کے وجود کو خطرے میں ڈالے یا اس کے رہنے کے مقام کو اس طرح تبدیل کرے کہ اس جانور کو نقصان ہو۔

گزشتہ چند سالوں سے امریکہ کا محکمہ امورِ داخلہ اس معاملے میں پس و پیش سے کام لے رہا تھاجس کی وجہ سے ماحولیات پر کام کرنے والی گرین پیس جیسی تنظیموں کو اس پر قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں بالآخر امریکہ میں اسے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار انواع میں شامل کرلیا گیا۔ بظاہر یہ ایک بڑی کا میابی نظر آتی ہے مگر ماحولیات پر کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے قطبی ریچھ کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہونے والا۔ گرین پیس کا کہنا ہے کہ قطبی ریچھ کو سب سے بڑا خطرہ عالمی حدت میں اضافے سے ہے اور اس سے نپٹنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی وفاقی ایجنسیوں کو، جو ای ایس اے پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہیں، خاص طور پر یہ کہا گیا ہے کہ وہ قطبی ریچھ کی بقا کیلئے عالمی حدت کے مسئلے کو خاطر میں نہ لائیں۔ دوسرے الفاظ میں اگر قطبی ریچھ کو عالمی حدت سے خطرہ درپیش ہے تو اس پر کارروائی نہ کی جائے۔ اس قدم کا مقصد دراصل تیل اور گیس کی صنعت کے مفادات کا تحفظ ہے جو عالمی حدت کی بڑی وجہ ہے۔ بین الااقومی تنظیم ورلڈ کنزرویشن یونین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ قطبی ریچھ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ اس سے جمے ہوئے سمندر پگھل رہے ہیں اور نیتجتاً اس جانور کو خوراک کی تلاش میں دشواری کا سامنا ہے۔

قطبی ریچھ کی زندگی کا دارومدار قطب شمالی کے جمے ہوئے سمندر پر ہے جو تیزی سے پگھل رہا ہے۔ چند سال قبل سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ 2100ء تک موسمِ گرما میں قطب شمالی کا سارا سمندر پگھل جائے گا۔ بعد ازاں کہا گیا کہ ایسا 2050ء تک ہو سکتا ہے۔ قطب شمالی میں برف کے پگھلنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے گزشتہ سال تک سائنسدانوں کے ہاں یہ خیال عام ہوا کہ ایسا 2012ء تک بھی ہو سکتا ہے۔

قطبی ریچھ قطب شمالی اور اس کے اردگرد موجود سمندر میں رہتا ہے۔ نرریچھ کا وزن300 سے600 کلو گرام کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ مادہ کا وزن نر سے آدھا ہوتا ہے۔ قطبی ریچھ کی نسل یورپ اور ایشیا کے شمالی حصوں اور شمالی امریکہ میں پائے جانے والے بھورے ریچھ کی رشتہ دار ہے مگر اس میں کچھ خصوصیات ایسی ہیں جو اسے انتہائی سرد موسم میں رہنے اورسِیل (seal) کا شکار کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ قطبی ریچھ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ جمے ہوئے سمندر پر گزارتا ہے۔ خشکی پر رہنے والا یہ سب سے بڑا شکاری جانور ہے اور شیر اور چیتے سے دوگنا بڑا ہے۔ قطبی ریچھ کے کئی دہائیوں سے تیزی سے ہوتے شکار کی وجہ سے اس کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی اور اس مسئلے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرلی۔ اس کے بعد اس کے شکار پر مکمل پابندی لگائی اور کہیں اس کو محدود کیا گیا جس سے ایک حد تک اس پر قابو پایا جا سکا۔

زمانہ قدیم سے قطب کے باسیوں کی مادی، ثقافتی اور روحانی زندگی میں قطبی ریچھ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ قطب شمالی کے مقامی لوگوں کے لیے قطبی ریچھ انتہائی مفید شے ہے۔ یہ لوگ اس ریچھ کو پکڑنے کے بعد اس کے تقریباً تمام حصوں کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کھال کے بالوں کو پتلون کی سلائی اور جوتوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی چربی کو بطور خوراک استعمال کیا جاتا تھا اور جلاکر روشنی بھی حاصل کی جاتی ہے۔پتے اور بعض اوقات دل کو سکھا کر ادویات بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوائے جگر کے، جوکہ وٹامن اے کی حد درجہ زیادہ مقدار کے باعث زہریلا ہوتا ہے، تقریباً سارا ریچھ ان لوگوں کے کام کا ہے۔ ان مقامی افراد کی کم آبادی اور کم تعداد میں شکار سے دراصل قطبی ریچھ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ 5,000 سال قبل جب سے انسان اس خطے میں آ کر بسا، یہ جانور مفید ہونے کے باوجود مقامی افراد کے شکار کی وجہ سے بڑی تعداد میں کم نہیں ہوا۔

روس میں چودہویں صدی سے قطبی ریچھ کی کھال کی خرید فروخت کا کاروبار رہا ہے لیکن اس وقت یہ بڑے پیمانے پر نہ تھا۔ قطب شمالی کے یوریشیائی حصے میں سولہویں اورسترہویں صدی میں انسانی آبادی کے بڑھنے اور اس کے ساتھ بارود کے استعمال کے بعد قطبی ریچھ کے شکار میں خاصا اضافہ ہوا۔ پھر بھی اضافہ اتنا نہیں تھا کہ اس نوع کو کوئی بڑا خطرہ ہوتا۔ قطبی ریچھ کا سب سے زیادہ شکار 1960ء کی دہائی میں ہوا جو اس کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کا باعث بنا، مگر آج یہ وجیہہ جانور عالمی حدت کی وجہ سے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s