جنوبی افریقہ میں غیر ملکیوں پر حملے

رضوان عطا

مختلف نسلوں،رنگوں اور زبانوں کے دیس جنوبی افریقہ میں11مئی سے شروع ہونے والے تشدد کے مناظر دنیانے دیکھے۔ ان مناظر میں کہیں انسانوں کو زندہ جلایا جارہا تھا، کہیں لوٹ مار ہورہی تھی اور کہیں گھروںکو آگ لگی تھی۔ سیاہ فام سیاہ فاموں کو ماررہے تھے اور لگتا نہیں تھا کہ یہ وہی جنوبی افریقہ ہے جو ایک طویل جدوجہد کے بعد 1990ء کی دہائی میں سفید فام اقلیت کی نسلی عصبیت پر مبنی حکمرانی سے نکلا ہے۔

جنوبی افریقہ کے غریب اپنے ملک میں ہمسایہ ممالک سے آئے افریقیوں کو جس بربریت سے نشانہ بنارہے تھے اس نے نیلسن مینڈیلا کے نام سے منسوب ملک کی سماجی،سیاسی اور معاشی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔جنوبی افریقہ کے اخبار ”سٹار“ کے مطابق ایک پولیس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے ملک میں کل 68 واقعات میں107املاک پر حملہ کیا گیا، انہیں لوٹا یا جلایا گیا۔ تشدد کے ان واقعات میں کم ازکم 1300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں اکثریت غریب نوجوانوں کی تھی۔

ان حملوں کا نشانہ بننے والے زیادہ تر زمبابوے اور موزمبیق سے آئے ہوئے لوگ تھے۔ایک اندازے کے مطابق5کروڑ کی آبادی کے جنوبی افریقہ میں مہاجرین کی کل تعداد 50 لاکھ ہے جن میں 60 فیصد زمبابویائی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ان کے آنے کی وجہ زمبابوے کے حالات ہیں۔

زمبابوے کے معاشی اور سیاسی حالات اس ملک کے بہت سے باسیوں کومجبور کررہے ہیں کہ وہ افریقہ کی ”امیر معیشت“ میں داخل ہوں،دوسرے الفاظ میں جنوبی افریقہ ہجرت کرجائیں۔ حالیہ عرصے میں زمبابوے سے لوگوں کی بڑی تعداد جنوبی افریقہ گئی ہے ۔ زمبابوے میں رابرٹ مگابے کی حکومت کے جبر سے زیادہ اس ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اوربے روزگاری نے اس ملک کی عوام کو نڈھال کر چھوڑا ہے۔ زمبابوے میں ضروریات زندگی خصوصاً خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زمبابوے میں افراط زر کی شرح مئی کے پہلے تین ہفتوں میں17لاکھ فیصد سے زیادہ رہی۔افراط زر کی حالت یہ ہے کہ زمبابوے میں اب ایک بلین زمبابوئین ڈالر کا نوٹ چھاپا گیا ہے۔ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی 21 مئی کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ صنعت اپنی صلاحیت سے 30 فیصد کم پرکام کررہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں1980ء کی دہائی سے اقتدار میں چلے آرہے رابرٹ مگابے کو جس مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی بڑی وجہ ملک کی معاشی صورتحال ہے۔آج اگرچہ مگابے کی پا لیسیاں یہاں کی عوام کے لئے مشکل پیدا کررہی ہیں لیکن اس سابقہ سکول ٹیچر نے اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم کو ملک میں عام کرنے میں مؤثر اقدامات کئے۔ اب زمبابوے میں باہنر اور خواندہ افراد کی بڑی تعداد جنوبی افریقہ روزگار کی تلاش میں جانا پسند کرتی ہے۔

اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں پوری دنیا میں اضافہ ہورہا ہے،جنوبی افریقہ بھی اس عمل سے علیحدہ نہیں۔یوں جنوبی افریقہ میں مہنگائی اور بے روزگاری خصوصاً داخلی وجوہ پر جس تیزی سے بڑھی ہیں،اسی تیزی سے زمبابوے والے اس ملک میں آئے اور عمومی تاثر یہ پیدا ہوا کہ یہ لوگ مقامی افراد کے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔

زمبابوے کے علاوہ موزمبیق کے باشندے بڑی تعداد میں جنوبی افریقہ میں موجود ہیں جن میں زیادہ تر کانوں میں کام کرتے ہیں۔1964ء سے1975ء تک موزمبیق نے جنگ وجدل کو دیکھا۔پرتگالیوں کے خلاف آزادی کی یہ لڑائی لڑنے کے بعد دس سال مزید خانہ جنگی کا شکار ہونے والا یہ ملک ابھی تک سنبھل نہیں پایا۔ موزمبیق کے لوگ کافی عرصے سے جنوبی افریقہ میں کام کررہے ہیں مگر یہ طویل قیام بھی انہیں حالیہ حملوں سے نہ بچا پایا اور اب ان کی بڑی تعداد جنوبی افریقہ چھوڑ رہی ہے۔صومالیہ بطور ایک ریاست شاید وجود ہی نہیں رکھتا۔دہائیوں سے جاری خانہ جنگی نے بہت سے صومالیوں کو جنوبی افریقہ جانے پر مجبور کیا جہاں وہ عموماً چھوٹے کاروبار کر کے گزر بسر کررہے ہیں۔حالیہ تشدد کا تیسرا شکار یہ لوگ بنے۔

اس وقت جنوبی افریقہ کی حکومت کو ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً تھابومبیکی کو ،کہ وہ صورتحال کو بروقت کنٹرول نہ کرسکے۔ملک کے انٹیلی جنس وزیر رونی کا سرل کے ایک بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی بیگانہ عصبی (زینو فوبیا)کے بارے میں علم تھا،مگراس نے اسے روکنے کے لئے اقدامات نہ کئے۔یہاں تک کہ ان زینو فوبک حملوں کی پہلی مرتبہ کھلی مذمت مبیکی نے19 مئی کو کی،جب اس سلسلے کو شروع ہوئے ایک ہفتہ سے زائد ہوچکا تھا ۔ حالیہ حکومت میں شریک جنوبی افریقہ کی کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تھابو مبیکی کو اس ناکامی پر صدارت سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تاکہ ملک میں جلد نئے انتخابات کروائے جاسکیں۔

حالیہ حملوں سے جنوبی افریقہ کی معیشت پر مزید برااثر پڑنے کا امکان ہے۔سونا نکالنے کی ایک کمپنی ڈی آر ڈی گولڈ کے ترجمان کے مطابق جب سے حملے شروع ہوئے ہیں، ان کو ایک بڑی کان میں، جو جوہانسبرگ کے قریب ہے، کام بند پڑا ہے۔ترجمان کے مطابق 60 فیصد سے زائد مزدورکام پر آنا بند ہوگئے ہیں۔جنوبی افریقہ میں غیر ملکی مزدور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر اب وہ یا تو حکومت اور امدادی تنظیموں کی طرف سے قائم کیمپوں میں منتقل ہورہے ہیں یا اپنے وطن واپس جارہے ہیں۔

مہاجرین کے خلاف تشدد نے مہاجرین سے یکجہتی کرنے والوں کو بھی اکٹھا کیا ہے۔ ملک میں بہت سی غیر سرکاری اور مزدور تنظیمیں متحرک ہوئی ہیں اور تشدد کے خلاف اور مہاجرین کے حق میں مظاہرے منظم کررہی ہیں۔افریقین نیشنل کانگریس نے بھی اپنے ارکان سے کہا ہے کہ وہ تشدد کو روکنے اور بیگانہ عصبی کو کم کرنے کے لئے سرگرم ہوں۔

جنوبی افریقہ براعظم افریقہ کی امیدوںکا مرکز بنا ہوا تھا۔ نیلس مینڈیلا اور اے این سی کی جدوجہد نے بہت سوں کو نہ صرف حوصلہ دیا اور انہوں مساوات اور جمہوریت پر مبنی ایک ایسے معاشرے کی تعمیرکے خواب کی تعبیر کے عمل کو آگے بڑھتے دیکھا، مگر حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد جنوبی افریقہ کے عوام کی بہت سی امیدیں پوری نہ ہوسکیںاور یہ ملک افریقی عوام کے لئے ایک مثال نہ بن پایا۔ ملک میں محروم رہی سیاہ فام اکثریت ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات حاصل نہ کرسکی اور حال ہی میں اس صورتحال نے انتہائی بھیانک شکل اختیار کرلی ، غریبووں اور بے روزگاروں کا غصہ کمزور مہاجرین پر جانکلا۔

زینوفوبیا کا یہ عمل اگرچہ پولیس اور فوج کو بلانے سے وقتی طور پر رک گیا ہے لیکن قید اور گولی کے ڈر سے یہ مرض جانے والا نہیں۔جنوبی افریقہ میں غربت کی لکیر سے نیچے رہ جانے والوں کی تعداد1994ء میں25لاکھ تھی اور آج یہ ایک کروڑ 70 لاکھ ہے۔ برازیل کی طرح جنوبی افریقہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں امیری اور غریبی میں تفریق سب سے زیادہ ہے۔ جنوبی افریقہ میں ہر چوتھا شخص بے روزگار ہے۔غریب اور بے روزگار رہ جانے والوں میں اکثریت سیا فام لوگوں کی ہے۔

معاشی مسائل سے پیدا ہونے والے غصے کا شکار اس مرتبہ وہ مہاجرین ہوئے جو خود کمزور اور لاچار تھے۔ البتہ جنوبی افریقہ میں ان مہاجرین کی بھی کمی نہیں جو دولت مند ہیں۔علاوہ ازیں سفید فام آج بھی زیادہ تر وسائل پر قابض ہیں۔اس بات کا امکان موجود ہے کہ جنوبی افریقہ میں اگر پھر تشدد بھڑ کا تو وہ حکومت اور اس امیر طبقے کے خلاف ہوگا۔

مہاجرین پر حملوں کی چاہے جو بھی توجیح کی جائے یاان کی وجوہ جو بھی ہوں، یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ان حملوں کوJustify نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قابل مذمت ہیں مگر اسی کے ساتھ اس کی وجوہ کو بحث میں لانا اور اسے جڑ سے ختم کرنے کے لئے قدم اٹھانا جنوبی افریقہ کی حکومت کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s