چین میں زلزلہ

کم عمر سب سے زیادہ متاثر کیوں ہوئے؟

رضوان عطا

چین میں آنے والا زلزلہ بہت بڑی تباہی لایا۔ 18مئی کو چینی حکومت نے زلزلے کی شدت ریکٹرسکیل پر8 بتائی۔ اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ 7.8 کی شدت کا تھا۔12مئی کو چین میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے وزیراعظم ون جیا باؤ نے کہا عوامی جمہوریہ چین کی60 سالہ تاریخ میں یہ بدترین زلزلہ ہے۔ چین کو 1976ء میں بھی ایک تباہ کن زلزلے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں تقریباً 3 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، کچھ اندازوں کے مطابق اس زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، مگراس زلزلے کا زیادہ تر اثر ایک شہر تانگ شان پر ہوا تھا۔ سی چوآن میں آنے والے زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز سیچوان کی تبت اور چنگھائی صوبوں سے ملنے والی سرحد کے قریب تھا۔

زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے 1900 کلومیٹر جنوب میں واقع تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں بھی محسوس کئے گئے۔ چونکہ زلزلے کا مرکز سطح زمین سے صرف 10 کلومیٹر نیچے تھا، اس لیے اس کے جھٹکے زیادہ محسوس کئے گئے اور اس سے 150 کلومیٹر تک کے علاقے، خصوصاً شمال مغرب میںسطح زمین پر دراڑیں ڈالا دیں۔

12 مئی کو چین کے صوبے سی چوآن میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے ایک ہفتہ بعد چینی حکومت نے زلزلے میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کےلیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔1997ء میں چینی رہنما ڈنگ ڑیاؤ پنگ کی وفات کے بعد طویل ترین سوگ ہے۔

19 مئی تک کی اطلاعات کے مطابق سرکاری سطح پر 32000 سے زائد افراد کی ہلاکت تصدیق ہوئی تھی اور خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد 50,000 تک بڑھ سکتی ہے، لیکن اگلے ہی دن سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق 42,000 مرنے والوں کی تصدیق ہو گئی ہے اور 32,000 لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اندزوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

چین نے 1.6 ملین ڈالر کی امریکی امداد کو قبول کیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ چین نے امریکی اور برطانوی ٹیموں کو آفت زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ سرکاری سطح پر اس کی کوئی وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر مغربی ممالک کی تنقید سے بچنے کے علاوہ اس کی وجہ سے نیوکلیائی ہتھیاروں کی صنعت اور دیگر فوجی تنصیبات ہوسکتی ہیں۔ دیگر ہمسایہ ممالک مثلاً جاپان، روس، جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور کی امدادی ٹیموں کو سیچوان میں کام کی اجازت دی گئی ہے اور وہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ آسٹریلوی ٹیم کو یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی گئی ہے کہ انہیںآفت زدہ علاقوں میں سفری سہولیات فراہم کرنے میں اسے دشواری ہوگی۔ میانمار کے برخلاف چین نے بیرونی ممالک کو ملک کے اندر کام کی جلد اجازت دی مگر انہیں منتخب ضرور کیا۔

چینی فوج کے مطابق ان کی کسی نیوکلیائی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔ فرنچ انسٹی ٹیوٹ فارریڈ یالوجیکل پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئرسیفٹی کے مطابق نیوکلیائی ایندھن کی پیداوار کے لیے قائم دواور نیوکلیائی ہتھیاروں کی دو تنصیبات کے علاوہ ایک تحقیقاتی ری ایکٹر زلزلے کے مرکز کے 140 کلومیٹر دائرے میں موجود ہیں۔ جنوری 2007ء میں خلائی سیاروں کو تباہ کرنے والے میزائیل کا تجربہ بھی ژی چانگ خلائی مرکز سے ہوا تھا جو سیچوان میں واقع ہے۔ چونکہ نیوکلیائی تنصیبات کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے اس لیے حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کہ ان تنصیبات کو نقصان کس حد تک پہنچا ہے۔

امدای کاموں کو زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں (آفٹر شاکس)، تودوں کے گرنے اور سیلاب کے خطرے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک آفٹر شاک 18 مئی کو آیا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر6 تھی اور اس سے کم ازکم 3 افراد ہلاک اور1000 زخمی ہوئے۔ آفٹر شاکس نے مصیبت زدہ لوگوں کومیدانوں اور سڑکوں پر دن اور رات بِتانے پر مجبور کر دیا ہے۔

گرم اور مرطوب موسم کی نکاسی کی سہولیات اور صاف پانی کی نایابی اور محفوظ مقامات پر بچ جانے والوں کے ہجوم نے بڑے پیمانے پر بیماریوں کے پھیل نے کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکارکے مطابق"غیر محفوظ خوراک، صاف پانی تک رسائی، جسمانی صفائی کی سہولیات کا فقدان اور نکاسی کی ناکافی سہولیات چھوت کی بیماریوں کے کسی بھی وقت پھوٹ پڑنے کے خطرے کو بڑھارہی ہیں۔"

چین کی حکومت کے مطابق 40 لاکھ گھر اور پارٹمنس زلزلے سے تباہ ہوئے ہیں اور 20 شہروں اور کاونیٹوں میں پانی کی فراہمی ٹھیک طرح سے نہیں ہورہی۔ پانی اور مشروبات کی اس وقت شدید کمی ہے۔ چین میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ہانز ٹروئڈسن کے مطابقاس وقت پانی، نکاسی اور خوراک کی سب سے زیادہ ضرورت ہے"۔ نائب وزیر زراعت وی چاؤ نے کہا ہے کہ ایک کروڑ پچیس لاکھ جانور، بشمول پالتو جانور اور مرغیاں زلزلے سے ہلاک ہوئی ہیں۔ اگرمرے ہوئے جانوروں کو ٹھکانے نہ لگایا گیا تو بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

نائب وزیر صحت گاوچنگ نے 15 مئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا "چین میں صحت کا سرکاری نظام ناکافی ہے۔ اس مرتبہ ہم کس طرح صحت کے اخراجات کا مسئلہ حل کریں گے، یہ ایک مشکل معاملہ ہوگا۔(زلزلہ زدگان کو) صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہیے"۔

1979ئ میں ڈنگ ژیاو پنگ کی رہنمائی میں ہونے والی اصلاحات سے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ 1974 ئ میں 40 سے 45 فیصد آبادی اشتراکی(Cooperative) نظامِ صحت میں شامل تھی جبکہ 1979ءسے قبل یہ تناسب 80 فیصد تھا۔ اگرچہ گذشتہ چند سالوں میں مفت ہسپتالوں کے پھیلاؤسے صورتحال بہتر ہوئی مگر اب بھی دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ برطانوی میگزین "اکانومسٹجو چین کی آزادی منڈی میں شمولیت کا حامی ہے، نے دسمبر 2007ء میں لکھا "سب سے زیادہ فائدہ امیر کسانوں کو ہورہا ہے۔ غریب ترین لوگوں کا گھروں میں رہتے ہوئے مرنے کا انتظار کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ہسپتالوں میں جاکر اپنے خاندانوں کو مزید غربت میں دھکیل دیں۔"

تبت کے حالیہ احتجاجی مظاہروں اور اولمپک مشعل کی مخالفت کے معاملے پر حد درجہ محتاط ہوئی چینی لیڈر شپ زلزلے کے شکارلوگوں سے ہمدردی کے لیے بہت سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ صدر ہوجن تاو16مئی کو سیچوان پہنچے جبکہ وزیراعظم ون جیاباؤ سوموار کے دن ہی اس آفت زدہ صوبے میں پہنچ گئے تھے۔ انہیں ٹیلی ویڑن پر لوگوں سے ملتے دکھایا گیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ سے آنے والی تبدیلیوں سے اعلیٰ چینی قیادت آگاہ ہے اور اسی لیے ماضی کے برعکس نہ صرف وہ خود ذرائع ابلاغ میں کثرت سے نظر آرہی ہے بلکہ اس نے غیر ملکی صحافیوں کو بھی کافی آزادی دے رکھی ہے۔ زلزلے کے بعد چین کے اندر اور بین الااقوامی سطح پر ہمدردی اور دکھ کے جذبات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ چین کے مختلف شہروں میں رقم اورخون کا عطیہ دینے کے لیے لوگوں کی قطاریں بنی ہیں۔ اعلیٰ چینی قیادت ہمدردی کے جذبات کو سمیٹنے کی کوشش میں ہے جبکہ عمارتوں میں موجود نقائص پر زیادہ بات نہیںکررہی۔

زلزلے میں جس بڑی تعداد میں سرکاری سکولوں کی عمارتیں تباہ ہوئی ہے اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مرنے والوں میں 40 فیصد بچے ہیں۔ چین کی "ایک بچہپالیسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ صوبے میں آدھی آبادی سے کچھ کم آبادی اپنے بچوں سے محروم ہوگئی ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں چین میں زمین کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں مکان بنانا ایک مشکل کام ہے۔ اس لیے لوگ سستے اور کمزور مکان بناتے ہیں۔ اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ اب سب کے سامنے ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں اور بڑی کمپنیوں کو چھوڑ کر چین میں بلڈنگ کوڈز کی پرواہ کم ہی کی جاتی ہے۔ بنیادی سہولیات مثلاً سکولوں اور ہسپتالوں کے لیے فنڈز میں کمی کا سامنا ہے۔ زیادہ ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سکول اس وقت تباہ ہوئے جب اس میں طلباءموجودتھے۔ وزارت تعلیم کے شعبہ منصوبہ بندی و ترقی کے سربراہ ہان جن نے چینی خبررساں ایجنسی ژنہواکو بتایا کہ سیچوان میں216,000 عمارتیں تباہ ہوئیں جن میں6898 سکول کی عمارتیں تھی۔ سکولوں کے مقابلے میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں، مثلاً ٹویوٹا، انٹیل، مائیکرو سافٹ اور یاماہا، کی عمارتیں اوردفاتر محفوظ رہے۔ چین میں کرپشن عام ہے اور کئی مرتبہ سکولوں کی تعمیر کے معاملے میں حکومتی اہلکاراورتعمیر کرنے والے کے درمیان کچھ لو اور دو کی بنیاد پر معاملات "طےہوجاتے ہیں، بڑی کمپنیوں کو یہ”رعایت“ نہیں دی گئی۔

زلزلے سے متاثر ہونے والے ایک شہر ڈوجیان گیان میں قائم ایک سکول، جس میں 900 طلبہ عمارت کے ملبے تلے آگئے، میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر تیانگ نے ایک آسٹریلوی اخبار کو بتایا "یہ بدعنوانی کے سواکچھ نہیں، انہوں نے لازماً غیر معیاری سیمنٹ اور اسٹیل استعمال کیا ہے"۔ اس سکول کے ایک استاد، جو خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے، نے کہا "کم ازکم 2000ء سے سکول مقامی حکومت کو درخواستیں بھیج رہا تھا کہ تحفظ کے لیے مزید اقدامات کئے جائیں مگر انہوں نے کوئی قدم نہ اٹھایا"۔

ایک اندازے کے مطابق اپنے علاقوں کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جاکر کام کرنے والوں کی تعداد چین میں تقریباً 15کروڑ ہے۔معاشی وجوہ کی بنا پر ہجرت اس عمل سے تعمیراتی کام میں بے حد اضافہ ہوا اور جلدی میں کئے گئے اس کام میں کئی نقائص ہیں۔

اگر چہ زلزلہ ایک قدرتی عمل ہے اور بظاہر انسانی اعمال کا اس میں کوئی بڑا عمل داخل نہیں لیکن اس سے ہونے والے نقصان سے بہتر منصوبہ بندی کی مدد سے بہت حد تک بچا جاسکتا ہے۔آج کے انسان کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ زلزلے کے نقصان کو کئی گنا کم کر سکے لیکن ایسا اس صورت میں ہوسکتا ہے اگر قدرتی آفات سے بچنے کے معاملے کو ترجیح دی جائے۔

سیچوان میں پہلے بھی زلزلے آچکے ہیں اگرچہ وہ اس قدر شدید نہ تھے۔ شہر کی تاریخ جاننے کے باوجود چینی حکومت زلزلہ کو سہنے والی عمارتیں عوام کو فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ بعض ماہرین ارضیات نے یہ پیشن گوئی کررکھی تھی سیچوان میں بڑا زلزلہ آسکتا ہے۔ "ڈیلی چائناکے مطابق ماہر ارضیات چن ژوئی زانگ نے 2002 ء میں ایک تحقیقی مقالے میں کہا تھا کہ "آئندہ چند برسوں میںسیچوان میں بڑا زلزلہ آسکتا ہے۔ژانگ ایک سرکاری یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔

13 مئی کو ہفت روز نیوز ویک نے رسک مینجمنٹ سالوشن نامی فرم کے ویمیں ڈونگ سے جب یہ پوچھا کہ کیوں چین میں بلڈنگ کوڈز کا خیال پوری طرح نہیں رکھا جاتا تو انہوں نے کہا کہ اس سے تعمیری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس کام سے منسلک بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے تعمیراتی کام کی لاگت میں صرف 6سے7فیصد اضافہ ہی ہوتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس زلزلے سے چین کی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ 8 کروڑ آبادی کا یہ صوبہ جو چین کی کل آبادی کا 6 فیصد بنتا ہے،ملک کی جی ڈی پی میں 3.9 فیصد کا حصہ دار ہے اور مصنوعات کی پیداوار میں اس کا حصہ صرف 2.5 فیصد ہے۔ شنگھائی کی طرح سیچوان بیرونی دنیا سے ہونے والی تجارت کا مرکز نہیں البتہ اس صوبے میں خاصی زرعی پیداوار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں سور کے گوشت کی پیداوار میں یہ اہم ہے۔ اس وجہ سے خطرہ ہے کہ صوبے میں، شاید ملک میں، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو۔ چین میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان پہلے سے ہے۔مثلاً 2007 ءمیں سورکے قیمت میں55 فیصد ،پکانے کے تیل میں 37 فیصد اور سبزیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت نے البتہ کہا ہے کے قیمتوں میں اضافے کو سختی سے روکا جائے گا۔

سکولوں کی عمارتوں کے منہدم ہونے پر والدین اور عوام کے غم وغصے کی دیکھ کر وزارت شہری امور کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ”گذشتہ ہفتے آنےوالے زلزلے میں صرف سکولوں کی عمارتیں منہدم نہیں ہوئیں “۔عمارتیں تو بہت سی منہدم ہوئیں البتہ اس بات سے انکار ممکن نہیں زیادہ تر سکولوں کی عمارتیں متاثر ہوئیں اور کچھ علاقوں میں توصرف سکولوں کی عمارتیں ہی گریں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ امدادی کام بڑے پیمانے پر ہورہا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تباہی سے بچنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے جاسکتے تھے وہ پہلے کیوں نہیں اٹھائے گئے؟

24 مئی 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s