اسقاطِ حمل عالمی تناظر میں

رضوان عطا

اسقاطِ حمل رحم سے جنین (fetus) کے اخراج یا ہٹادینے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔ اسقاطِ حمل ادویات یا سرجری کے ذریعے ہوتا ہے اور ازخود بھی ہوسکتا ہے۔

پوری انسانی تاریخ میں اسقاطِ حمل کا عمل ہوتا رہا ہے اور آج بھی ہورہا ہے۔ البتہ انسانی تہذیب کے آغاز سے یہ اخلاقی اور قانونی حوالے سے مباحث کی زد میں رہا ہے۔ کبھی اس کی مکمل یا شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی اور کبھی ایسا کرنے والوں کو بدترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ عورتوں کی آزادی اور حقوق کی لڑائی لڑنے والے اسقاطِ حمل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار عورت کو دینا چاہتے ہیں جبکہ اس کے مخالف، جن کا عمومی طور پر تعلق مذہبی اداروںیا تنظیموں یا ان کے تصورات سے ہوتا ہے، جنین کو زندہ رکھنے اور اس کے پیدا ہونے کے حق میں ہیں۔

کسی بھی سماج میں تولیدی حقوق عورتوں کی آزادی یا ان کے استحصال کو ماپنے کا اہم پیمانہ ہیں۔اس سے یہ بات بہت حدتک طے ہوتی ہے کہ سماج یا ریاست میں عورت کو فیصلہ کرنے کی کتنی آزادی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو پالنے کا عمل عورت کی زندگی کے تقریباً ہراہم پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ سماج میں خاندان کا ادارہ عورت کے بلا معاوضہ بچے پالنے کے کردار کو استحکام دیتا ہے۔ نہ صرف بچوں کو بلکہ بوڑھوں اور نوجوانوں کا خیال رکھنا اسی ادارے کی بدولت عورت کی ذمہ داری قرار پاتا ہے، اور پھر ”اچھی عورت“ وہی ہوتی ہے جو بطور ماں بچوں کو ،بطور بیوی شوہر کو اور بطور بیٹی والدین کو اولیت دے۔

عورت کا طے کردہ یہ کردار بالخصوص بچے پالنے کا عمل عورت کی بدل دیتا ہے۔ یہ اس کی اپنی شناخت، اپنے بارے میں رائے، دوسروں کی اس کے بارے میں رائے،خاندان، دوستوں اور شوہر یا محبوب سے تعلق، یہاں تک کہ دوسروں کے بچوں سے تعلق کو متعین کرتا ہے۔یہ عورت کے کیریئر،ترقی کے مواقع، حقوق اور سیاست کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں میں اس کی شمولیت کو متاثر کرتا ہے۔غرض عورت کی زندگی کے بے شمار پہلو بچہ پالنے کے عمل سے جڑے ہیں۔ اس لئے بچہ پیدا کرنے یا نہ کرنے پر اس کے فیصلہ کرنے کی استطاعت بہت حد تک یہ طے کرتی ہے کہ اس کی آئندہ زندگی کیسی ہوگی۔

عورت انسانی تاریخ کی ابتدا سے آج تک ماں بننے یا نہ بننے کا فیصلہ کرتی آئی ہے۔ کبھی چھپ کر اور کبھی کھل کر، اور اس بات کا انحصار معاشرے یا ریاست میں اس عمل کی قبولیت کی شرح پر ہوتا تھا اور ہے۔ انسانی تاریخ میں اب تک کی دریافتوں کے مطابق سب سے قدیم 2,600 قبل از مسیح کی ایک چینی تحریر ملی ہے جس میں اسقاطِ حمل کے لئے پینے کی ایک دوا کا ذکر ہے۔ قدیم مصر میں بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے ادویات بنانے کی نشانیاں تقریباً 1,850 قبل از مسیح کی ہیں۔

قدیم روم اور یونان میں اسقاطِ حمل کو قبول کیا جاتا تھا۔ رومی اور یونانی پیدائش سے پہلے بچے کے زندہ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتے تھے اور اسقاطِ حمل پر اعتراض اس وقت ہوتا تھا جب والد نئے بچے کا شدید خواہش مند ہو۔ارسطو کے مطابق”…..جب جوڑوں کے ہاں بچے زیادہ ہوں تو حس اور زندگی کی شروعات سے قبل اسقاطِ حمل ہوجانے دیجئے۔ ان معاملوں میں کسے قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور کسے نہیں، اس کا انحصار حس اور زندگی پر ہے“۔ ابتدائی یونانی فلسفی عموماً ماں کے پیٹ میں موجود بچے میں حس اور زندگی کے آثار کو 40 سے 80 دنوں بعد دیکھتے تھے۔ ارسطو کے خیال میں مادہ جنین سست رفتاری سے نشوونماپاتا ہے اور وہ نر اور مادہ جنین کے لئے حس اور زندگی کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ عرصہ تفویض کرتا ہے۔

مغربی تہذیب کے ابتدائی دور میں اگرچہ اسقاطِ حمل کو بری چیز نہیں سمجھا جاتا تھا مگر عیسائیت کے فروغ اور سماج میں اس کے اثرورسوخ میں اضافے کے ساتھ مذہبی پیشواؤں کے نقطہ نظر میں سختی آتی گئی۔انگلستان میں قانون سازی کے حوالے سے اسقاطِ حمل کا ذکر سب سے پہلے 13ویں صدی میں ملتا ہے۔ یہ قانون چرچ کی اس اجازت کے تحت بنایا گیا تھا جس میں پیٹ میں بچے کی حرکت سے قبل اسقاطِ حمل کو قبول کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت چرچ کا خیال تھا کہ حرکت کے بعد جنین میں روح آ جاتی ہے۔

عہدِ وسطیٰ کے یورپ میں تولید پر کنٹرول کے لئے دائیاں اہم کردار ادا کرتی تھی اور اس مقصد کے لئے بنائی گئی ادویات یا طریقہ کار ایک علم کی صورت عورتوں میں نسل درنسل منتقل ہوتا تھا۔ اس دور میں جادوگرنیوں کے خلاف مہم (witch-hunt) جس میں ہزاروں (اور بعض اندازوں کے مطابق لاکھوں) عورتوں کو مارا گیا،کی وجوہ پر مختلف توجیہات بیان کی جاتی ہیں اور تاریخ دانوں میں اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ایک نظر یہ یہ ہے کہ ان عورتوں کے پاس، جنہیں جادوگرنیاں قرار دیا جاتا تھا، مانع حمل طریقوں کا خاصا علم ہوتا تھا۔ 14ویں صدی میں یورپ میں طاعون کی وبا، جس نے ایک اندازے کے مطابق اس براعظم کی30 سے60 فیصد آبادی کو مارڈالا تھا، کے بعد آبادی میں اضافے کی اشد ضرورت نے اس مخصوص علم رکھنے والی عورتوں کے خلاف مہم کو تحریک دی۔

اسقاطِ حمل کے معاملے پر انگلستان میں1803ء میں سخت قانون بنایا گیا، جس کے تحت پیٹ میں بچے کی حرکت کے بعد اسقاطِ حمل کی سزاموت تھی۔اسے ایلن برو ایکٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کی سزائیں نرم تھیں۔ 1837ء میں پیٹ میں حرکت سے قبل اوربعد میں جنین کے اخراج کے عمل کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے سزائے موت رکھ دی گئی۔ برطانوی سامراج کے پھیلاؤ کے ساتھ اسی نوعیت کے قوانین نو آبادیوں میں بھی نافذ ہوئے۔

سوویت یونین پہلا ملک تھا جہاں 1920ء میں اسقاطِ حمل کو قانونی طور پر جائز قراردیا گیا۔ البتہ 1936ء میں ،جب بیوروکریسی کا اثرورسوخ خاصا بڑھ چکا تھا، جوزف اسٹالن نے لینن کی رہنمائی میں ہونے والی قانون سازی میں بڑی تبدیلیاں کیں اور اسقاطِ حمل پر مختلف پابندیاں لگادی گئیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ”سوشلسٹ“ ریاستوں کے قیام اور تحریکِ حقوقِ نسواں (Feminism) کی دوسری لہر کے یورپ اور شمالی امریکہ میں پھیلنے کے بعد ان براعظموں میں اسقاطِ حمل کی اجازت ملنا شروع ہوئی۔حقوقِ نسواں کی اس دور کی تحریک میں اسقاطِ حمل کی اجازت کے سوال کو خاص اہمیت حاصل رہی اور اس نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔البتہ یورپ اور شمالی امریکہ میں آج بھی بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں فیصلے کا مکمل اختیار عورت کے پاس نہیں۔

اسقاطِ حمل جنس کی بنیاد پر بھی کیا جاتا ہے۔ایسے معاشروں میں جہاں ثقافتی اقدار لڑکے کو لڑکی پر بہت ترجیح دیتی ہیں عموماً الٹراساونڈ کے بعد جنین کے مادہ ہونے کی صورت میں اسقاطِ حمل کرالیا جاتا ہے۔چین،کوریا،تائیوان، سنگاپور، ملائیشیا، بھارت اور پاکستان کے علاوہ ایشیا اور شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک میں یہ عام ہے۔ 2000ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے سات کروڑ 90 لاکھ کم ہے جس کی وجہ اسقاطِ حمل اور طفل کشی (infanticide) ہے۔ کئی معاشروں میں لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم خوراک دی جاتی ہے اور ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی جس سے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پاتیں۔ اسقاطِ حمل کا یہ وہ مکروہ پہلو ہے جس کے خلاف بھارت میں حال ہی میں قانون سازی کی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ”ہر عورت کو“ جو اسقاط حمل چاہتی ہے، جس قدر ممکن ہو اعلیٰ ترین معیار کی دیکھ بھال لازماً مہیا کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ دیکھ بھال کی ہر سطح پر اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے مربوط طریق کار اپنایا جائے“۔

جن ممالک میں اسقاطِ حمل قانوناً جائز ہے وہاں عورتیں جدید طبی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر مہیا کی جانے والی سہولیات کو اب بھی ناکافی تصور کیا جاتا ہے، مگر عمومی طور پر محفوظ اسقاطِ حمل تک ان کی رسائی کی زیادہ صلاحیت انہیں بعدازاں پیش آنے والی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ غیر محفوظ اسقاطِ حمل زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور اس کی سب سے زیادہ شرح افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبیئن ممالک میں ہے۔ ان سے کچھ ہی نیچے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کا نمبر ہے، جبکہ یورپ اور شمالی امریکہ میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل کی شرح انتہائی کم ہے۔

2006ء میں” غیر محفوظ اسقاط حمل اور اس کے نتائج “ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر سال اندازاً 21 کروڑ عورتیں حاملہ ہوتی ہیں اور ان میں ہر پانچ میں سے ایک اسقاطِ حمل کے عمل سے گزرتی ہے۔ سالانہ چار کروڑ چھ لاکھ اسقاطِ حمل میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔اس تحقیق کے مطابق غیر محفوظ اسقاطِ حمل کی وجہ سے ہر سال تقریباً 6,800 عورتیں مرجاتی ہیں اور 53 لاکھ عارضی یا مستقل معذوری کاشکار ہوتی ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s