کیا پیراگوئے وینز ویلا کے راستے پر چل پڑا ہے؟


رضوان عطا

لاطینی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک پیراگوئے میں سابق کیتھولک بشپ فرنانڈولوگونے حالیہ سیاسی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی جماعت کو انتخابی شکست سے دوچار کردیا۔ گذشتہ چالیس سال میں یہ سب سے زیادہ پر جوش، بھرپور اور کانٹے دار انتخابات تھے جس کے نتائج نے کولوراڈوپارٹی کے تقریباً61سالہ دورحکمرانی،جس میں جنرل الفرڈوسٹرو ایسٹر کی35سالہ آمریت بھی شامل ہے ، کا خاتمہ کردیا۔ ساٹھ لاکھ کے ایسے ملک میں کہ جہاں آبادی کا تیسرا حصہ غربت کی زندگی گزاررہا ہے، لوگو کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے بہتری کی امید دلانے کی بنا پرپر کشش تھے۔

کم وبیش بیس جماعتوں اور سماجی تحریکوں کے اتحاد پیٹریاٹک الائنس فارچینج نے خاصا عوام دوست اور ریڈیکل پروگرام پیش کیا جس میں پیراگوئے کو درپیش بڑے مسائل کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ایک لاکھ بے روزگار خاندانوں کو روز گار فراہم کرنے، دولاکھ بوڑھے افراد کو پینشن دینے اور رہائش کے مسئلہ کے حل کے لئے ہر سال چالیس ہزار گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں شاہراہوں اور نکاسی کے نظام کی تعمیر، نظام تعلیم کی بہتری کے لئے تیس ہزار اساتذہ کی تعیناتی، سالانہ بیس ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر اور بنیادی تعلیم وصحت تک مفت رسائی فراہم کرنے کا کہا گیا۔ زرعی اصلاحات کے حوالے سے محض زمینوں کی ضرورت مندوں میں تقسیم منشور کا حصہ نہیں تھا بلکہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تکنیکی مدد اور آسان قرضے دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ پیراگوئے میں زمینوں کی تقسیم کا سوال خاصا اہم ہے کیونکہ ستر فیصد پیداواری زمین آبادی کے صرف 2.5فیصد امیروں کے پاس ہے۔

ملک کے استحصال، جبر اور کرپشن سے لبریز ماضی کو56سالہ سابق بشپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ سٹروایسٹر کی آمریت کے دوران اُن کے والد بیس سے زیادہ مرتبہ جیل گئے اور ان کے تین بھائیوں کو جلاوطن کیا گیا۔ اپنی جوانی کے دنوں میں وہ ایک دوردراز دیہی سکول میں پڑھاتے رہے اور1994ءمیں انہیں سان پیڈرو کا بشپ بنایا گیا جو ملک کے شمال میں انتہائی غریب لوگوں کا مسکن ہے۔ ”غریبوں کا بشپ“ کہلانے والے ا س شخص کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے ،خصوصاً بے زمین کسانوں کے بڑی بڑی جاگیروں کو اپنے ہاتھ لینے کے عمل کی حمایت پر، 2005ءمیں بشپ کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر ویٹی کن نے مجبور کردیا۔ لبریشن تھیالوجی سے متاثر لوگو آہستہ آہستہ لوگوں کی توجہ کا محور بنے مگر انہیں ملکی سطح پر مقبولیت اس وقت ملی جب مارچ2006ءمیں دارالحکومت اسنسیون میں انہوں نے صدر نکولاس دوارٹے فروٹوس کے خلاف ایک مارچ کی رہنمائی کی۔ وہ پیراگوئے کی سیاست میں امید کی کرن بنے لیکن ان کا منظر پر آنا پیراگوئے کے مخصوص حالات میں ہوا۔

لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کی طرح1990ءکی دہائی میں پیراگوئے میں عوامی تحریکیں آگے بڑھیں۔ پیراگوئے میں اس دوران بے زمین کسانوں کی ایک مضبوط تحریک وجود میں آئی جس نے سابقہ آمریت کے دوران غیر قانونی طور پر ہتھیائی گئی زمینوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس تحریک کو جبر کے ذریعے مسلسل دبایا جارہا تھا۔ گذشتہ دہائی میں ایک سو سے زیادہ احتجاج کرنے والے دیہاتیوں کو سیکیورٹی فورسزیا کرائے کے قاتلوں کی مدد سے ہلاک کیا گیا۔ پیراگوئے خطے میں گوئٹے مالاکے بعد سب سے زیادہ غیر مساوی دولت کی تقسیم والا ملک ہے۔ روایتی سیاست سے تنگ عوام کے لئے ان حالات میں لوگو ملکی سیاسی منظر نامے میں داخل ہوئے اور آج وہ’ سٹیٹس کو‘کو چیلنج کررہے ہیں۔

لاطینی امریکہ کی سیاسی حوالے سے معروف ترین شخصیت ہوگو شاویز جو ایک جوشیلے اور متحرک امریکہ مخالف اور وینزویلا میںتیز رفتار معاشی اصلاحات کے روح رواں مانے جاتے ہیں، خطے میں آنے والی ہر نئی حکومت کو ماپنے کا ایک پیمانہ سابن گئے ہیں۔ کون شاویز کے ساتھ ہے اور کون نہیں اور پھر یہ کہ ساتھ کس قدر ہے ،ان سوالات کے جوابات خطے کی حکومتوں کے حوالہ سے ان کی داخلی وخارجی پالیسیوں کا عندیہ دے دیتے ہیں۔ اگر اس پیمانے کو لوگو پر نافذ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ صورتحال آسانی سے سمجھ آنے والی نہیں۔ ایک طرف لوگو کے بیانات ہیں اور دوسری طرف پیراگوئے کی معاشی صورتحال۔ امکانات یہی ہیں کہ لوگو شاویز کے قریب ہوجائیں گے ۔ آئیے اس معاملہ کو قدرے تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

واشنگٹن کے اپنے ایک حالیہ دورے کے دوران لوگو نے کہا کہ وہ ہوگو شاویز کی طرح نہیں کیونکہ وینزویلا کے رہنما کے برعکس وہ ایک مذہبی آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میراتعلق نہ تو بائیں بازو سے ہے اور نہ دائیں بازو سے “۔ انہوں نے شاویز پر ریڈیو کراکس ٹیلی ویژن کے لائسنس کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔ یہ اسٹیشن وینزویلا کی حزب اختلاف کا طرف دار ہے۔ اس حوالے سے لوگو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ”وینز ویلا میںایسے عناصر موجود ہیں جو عوام کی آزادی کو مضبوط ہوتا دیکھ کر سازشیں کررہے تھے“ انہوں نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ شاویز کے اقتدار میں وینزویلا ایسے سیاسی ماڈل کی طرف بڑھا جارہا ہے جو ”حقیقی جمہوریت کے لئے خطرناک ہے“ اور” محض ایک شخص کی خدمت کررہا ہے“۔

اس نوعیت کے بیانات کے باوجود انہیں شاویز کے حامی ہونے کا نہ صرف طعنہ ملا بلکہ مخالفین کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وینزویلا کی حکومت انتخابی مہم میں ان کی مالی مدد کررہی ہے۔ لوگو نے اس الزام کی بار بار تردید یہ کہتے ہوئے کی ”یہ میرے خلاف گندی مہم کا حصہ ہے۔ ان (الزامات ) میںکوئی بھی درست نہیں۔“ شاویز سے خود کو فاصلے پر رکھتے ہوئے بھی وہ انہیں زیادہ دور نہیں کرپاتے۔

اگرچہ لوگونے شاویز کے طرز حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مگر وینز ویلا کی سماجی حاصلات کی تعریف بھی کی ہے اور اس کے ساتھ غریب اکثریت کے فائدے کے لئے دولت کی بہتر تقسیم کے عمل کی بھی۔ شاویز کے زرعی اصلاحات کے پروگرام کو لوگو نے سراہا ہے۔ علاوہ ازیں وینز ویلا کے رہنما کے”اکیسویں صدی میں سوشلزم“ کے تصور کو وہ ”دلچسپ“ اور ”بہت تحریک دینے والا “ کہتے ہیں۔

لوگولاطینی امریکہ کے سیاسی نقشے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں امریکی مداخلت کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے خیال میں امریکہ کو ان سے پرے رہنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے”میرا نہیں خیال کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پاس ان تبدیلیوں کو مان لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہے۔“

لاطینی امریکہ اس وقت بائیں بازو کی لپیٹ میں آرہا ہے اور اسی کے ساتھ خطے کے ممالک میں باہمی اشتراک کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس عمل میں شاویز کا کردار بنیادی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ خطے کے ممالک بجائے دور جانے کے آپس میں معاشی وسیاسی مسائل کو حل کریں اور امریکہ اس کا مخالف ہے۔ لوگو امریکہ کے ساتھ کسی آزادانہ تجارت کے معاہدے کا خواہش مند نہیں۔ خطے میں امریکہ کے کمزور ہوتے اثر کی وجہ سے وینزویلا اور برازیل اہم ممالک کی حیثیت سے ابھرے ہیں اور پیراگوئے میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلی اس غیر اہم ملک کو خطے کی سیاست میں نسبتاً اہم ممالک کی فہرست میں لاکھڑا کرے گی۔

ماضی میں اس ملک پر برازیل کا خاصا اثر تھا مگر اب دونوں ممالک کے مابین تعلقات سردہو رہے ہیں۔ اس کی دو وجوہ ہیں، ایک برآمدات میں برازیل کا امتیازی سلوک اور دوسرا پیراگوئے سے لی جانے والی توانائی کی انتہائی کم قیمت۔ پیراگوئے جنوبی امریکہ کے تجارتی بلاک مرکوسر کا طویل عرصے سے رکن ہے لیکن خطے کی بڑی معیشت پر الزام ہے کہ وہ ایک چھوٹے ملک پر برآمدی پابندیاں لگانے میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے اور اس کی وجہ سے پیر اگوئے کا تجارتی خسار ہ کافی بڑھ چکا ہے۔ لوگو کو اس پر سخت اعتراض ہےں اور اس کا اظہار مرکوسر پر ہونے والی تنقید سے ہوتا ہے۔ وہ اس بلاک کو ”ناکافی“ تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق اس میں سماجی اور معاشی مساوات کے حوالہ سے عہدِمستحکم نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکوسر انصاف پر مبنی نہیں کیونکہ دوسرے چھوٹے ملکوں کی نسبت برازیل نے زیادہ ترقی کی ہے۔

یہ خیالات وینز ویلا کے رہنما سے بھی میل کھاتے ہیں جو مرکوسرکو پسماندہ اور سخت معاشی ماڈل قرار دیتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کو مرکوسر میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس بلاک کو اندر سے تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں، اس خیال کے ساتھ کہ یہ آزادانہ تجارت کے بجائے مساوات پر مبنی تجارت کو فروغ دینے کا باعث ہے۔ وینزویلا کی شمولیت کی درخواست کی تصدیق البتہ برازیل نے ابھی تک نہیں کی۔ کو لوراڈوپارٹی والے پیراگوئے نے بھی اس کی تصدیق نہیں کی تھی، شمولیت کا معاملہ لوگو کے آنے سے نیا رخ اختیار کرسکتا ہے اور پیراگوئے وینزویلا کے اس تجارتی بلاک میں داخلے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

پیراگوئے اور برازیل کے درمیان ایک پھڈا ہائیڈروپاور کی قیمت پر ہے۔ پیراگوئے میں دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈروپاور پلانٹ اٹائپو کے مقام پر تعمیرہوا ہے جس کا نظم ونسق دونوں ملک مل کر چلا رہے ہےں۔ یہ پلانٹ برازیل کی بجلی کی 20فیصد ضروریات پوری کررہا ہے لیکن لوگو کا خیا ل ہے کہ برازیل سے بجلی کی فروخت پر ہونے والا معاہدہ مبنی برانصاف نہیں ہے۔ یہ قیمت منڈی سے بہت کم ہے اور لوگو چاہتے ہیں کہ برازیل زیادہ قیمت ادا کرے معاہدے کے مطابق پیراگوئے اپنی زائد بجلی کسی دوسرے ملک کو فروخت بھی نہیںکرسکتا۔ لوگو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے ” پیراگوئے کسی بڑے ملک کے آگے سر نہیں جھکائے گا“۔ انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ وہ برازیل کو ہیگ کی عالمی عدالت میں لے جاسکتے ہیں۔

لوگو نے انتخابات جیتنے کے فوری بعد کہا کہ وہ بولیویا اور پیراگوئے کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔ ڈیموکریسی ناو#¿ کو 24اپریل کو انٹرویو دیتے ہوئے بولیویا کے رہنما ایوامورالس نے لوگوسے مخاطب ہو کر کہا” میرے ساتھی، میرے بھائی، منتخب صدر فرناندولوگو،برائی کی مثلث میں خوش آمدید۔ لیکن میرا کامل یقین ہے کہ یہ انسانیت کی مثلث ہے۔“ انہوں نے عوام دوست حکومتوں کے لاطینی امریکہ میں بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے کہا کہ اب پیرو اور کولمبیا کی باری ہے۔ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنانے جارہے ہیں ۔ خطے کے چھوٹے ممالک کے لئے اس سے بہتر کیا ہوگا کہ وہ ارجنٹائن اور برازیل جیسے زیادہ جانے مانے ممالک کو مسائل کے حل کے لئے تجاویز پیش کریں اور وہ بھی اکھٹا ہو کر۔لوگو کا پیراگوئے لاطینی امریکہ کے ایک اور بڑے ملک ارجنٹائن کو بھی توانائی فروخت کرتا ہے اور برازیل جیسی شکایات بھی رکھتا ہے۔

دوسری طرف پیراگوئے کے گوارانی انڈینز سے مضبوط تعلق کے باوجود لوگو خود کو ان کا خاص نمائندہ نہیں مانتے اور بولیویا کے صدر جن کا تعلق مقامی انڈینز سے ہے، کی پالیسیوں سے بھی خود کو فاصلے پر رکھتے ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں”انفرادی رہنما گروبندی پیدا کرتے ہیں، میرے خیال میں یہ بولیویا میں ہورہا ہے۔ میں معاشرے میں گروبندی کا حامی نہیں۔ میں پیراگوائی موارلس نہیں بنوں گا“البتہ معاشی ضروریات دونوں کو قریب لاسکتی ہےں۔ پیراگوئے اور بولیویا اکٹھے ایک مو#¿ثر قوت کے طور پر سامنے آسکتے ہیں اور بولیویا سے اتحاد کا مطلب ہوگاوینزویلا کی قربت۔ علاوہ ازیں برازیل اور ارجنٹائن سے انصاف لینے کی خاطر لوگو کو شاویز کی طرف مزید جانا ہوگا۔

2 مئی 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s