نیپال کا مستقبل: 240 سالہ بادشاہت کا خاتمہ یقینی ہے

رضوان عطا

نیپال میں9 سال کے بعد ہونے والے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی آف نیپال ، ماؤاسٹ کی جیت یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً دوسال قبل جو قوت نیپال کے جنگلوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھی آج چین اور بھارت کے درمیان موجود ایک چھوٹے سے غریب ملک پر راج کرنے والی ہے۔ انتخابی نتائج کے باقاعدہ اعلان میں تو شاید چند ہفتے لگ جائیں لیکن ہوا کے رخ کو سب نے پھانپ لیا ہے اور کھٹمنڈو سمیت نیپال میں جگہ جگہ ماواسٹ اپنے حامیوں سمیت جیت کا جشن منارہے ہیں۔ ماواسٹوں کے رہنما پر اچندا، جو گذشتہ دس سالوں میں کبھی کبھار ہی عوامی تقریبات میں نظر آئے ، اب ٹیلی ویژن پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی حیران کن ہے مگر اچانک نہیں۔ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک نیپال میںجب ماواسٹوں نے 1996ء میں پولیس پر چھوٹے موٹے حملے کرنا شروع کئے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایک دن ملک کی روایتی جماعتوں کو اتنی بڑی شکست سے دوچار کریں گے۔

وزیراعظم کوئرالہ کی قیادت میں کام کرنے والی نیپال کی سب سے پرانی اور روایتی جماعت نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یوایم ایل) کو نیپالی عوام نے آزمانے کے بعد ردکردیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل ابھی جاری ہے اورتازہ اطلاعات کے مطابق یو ایم ایل کے رہنما مادھیو کمار اپنی نشست ہارچکے ہیں۔ 14اپریل تک کی اطلاعات یہ تھیں کہ ماواسٹ 84 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ یوایم ایل اور کانگریس کے حصے میں بالترتیب 22 اور 24 نشستیں آئی ہیں۔ یہ نتائج ہیں ان 155 نشستوں کے جن کا اعلان کیا گیا اور یہ نیپال کے ساڑھے 17 لاکھ ووٹرز کے رجحان کی واضح غمازی کررہے ہیں۔ جیت ماواسٹوں کا مقدر بن چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیپال بدلنے والا ہے۔ مگر اس نئے نیپال کے خدوخال کیا ہوں گے، اس بارے میں بعض باتیں تقریباً حتمی ہیں مگر بعض کے بارے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

یہ یقینی ہے کہ ماواسٹ اقتدار میںآتے ہی نیپال سے تقریباً 240 برس پرانی بادشاہت کا خاتمہ کردیں گے۔حکومت کے ساتھ اپنی 10 سالہ لڑائی میں ان کے بڑے مطالبات میں سے بادشاہت کا مکمل خاتمہ ایک رہا ہے۔ 14 اپریل کو ماونواز ہجوم نے شاہی محل کو گھیرے میں لے لیا۔ وہ اس احتجاج کے ذریعے مطالبہ کررہے تھے کہ 61سالہ گیاندرا محل چھوڑیں اور یہ عمارت عوام کے حوالے کریں۔ ایک اہم ماواسٹ رہنمانے انتخابی نتائج کے آنے کے بعد کہا ہے کہ بادشاہت کا خاتمہ سمجھیں ہو چکا۔ اب محض رسمی کارروائی ہونا باقی ہے۔ بادشاہت کے خاتمے کے علاوہ ماواسٹ جس وعدے پر عمل درآمد کرانا چاہتے ہیں وہ ماواسٹوں کے رہنما پر اچندہ کے مطابق ”ملکیت کے جاگیردارانہ تعلقات“کا خاتمہ ہے۔نیپالی ماواسٹوں کے نظریات اور ان کی جدوجہد کے پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ملک میں زرعی اصلاحات نافذکریں گے اوربادشاہت کے علاوہ جاگیرداری سے منسلک دیگر اداروں کو ختم کریں گے۔ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد عورتوں ، اقلیتوں اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے سیاسی عمل میں آگے آنے کے مواقع زیادہ ہوںگے۔ مگر کیا ماواسٹوں کی حکمرانی میںنیپال سرمایہ دارانہ نظام کو خیر اباد کہہ دے گا؟

جو حکمت عملی نیپالی ماواسٹوں کی ہے اس کے مطابق جاگیرداری کے خاتمے کے بعد ملک میں ” سرمایہ دارانہ طریقہءپیداوار “ کو فروغ دیا جائے گا۔ پراچندہ اپنے ایک انٹرویو میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ فی الحال ہم سوشلسٹ انقلاب کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وہ اسے بورژواڈیموکریٹک انقلاب کا نام دیتے ہیں جس میں ”سرمایہ داروں کے لئے زیادہ منافع کما نے کے لئے بہترماحول فراہم کیا جائے گا“۔ نیپال ماواسٹوں کے نظریات اور ان کی حکمت عملی کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ایک سوشلسٹ ملک فوری ظہور ہونے والا نہیں۔ نئی نیپالی حکومت سے توقعات یہی ہیں کہ وہ جاگیردار ی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی اصلاحات کرے گی مگر غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرے گی۔ جیسا کہ ماواسٹ رہنما کہتے آئے ہیں وہ نیپال کو جنوبی ایشیا کا سوئٹرزلینڈ بنانے کی کوشش کریں گے۔لیکن کیا تیسری دنیا کا ایک انتہائی غریب اور پسماندہ ملک اس راستے کو اپناتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر پائے گا جو مغربی یورپ نے اپنا یا تھا؟ اور کیا مغربی سرمایہ داری جاپان طرز کی سرمایہ کاری کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر کرے گی تاکہ یہ صنعت یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے؟ ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ جس راستے پر ماواسٹ گامزن ہیں اس سے وہ معاشی استحصال کے خاتمے کے نعرے کو ماضی قریب میں عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ ہاں البتہ نیپال آنے والے عرصے میں بہت سی ایسی اصلاحات کو دیکھے گا جو عوام کو بہتر صحت ،روزگاراور تعلیم فراہم کر سکیں ۔

ایک اور اہم سوال نیپال میں کثیرالجماعتی جمہوریت کے برقرار رہنے کا ہے۔ ماواسٹ رہنما بشمول پراچندا، یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کثیرالجماعتی نظام کو برقرار رکھیں گے امید بھی یہی ہے کہ ایسا ہی ہو۔ یک جماعتی نظام کے قیام کا امکان فی الحال معدوم ہے اوراس کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر نیپالی انتخابات کو شفاف قرار دیا جارہا ہے اور اس طرح کے اشارے نہیں مل رہے کہ بڑی طاقتیں ماواسٹوں کی جیت کو رد کررہی ہیں۔

بھارتی حکومت ماواسٹوں کی جیت کو قبول کرنے اور نیپالی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ نیپال کے ہمسایہ بھارت، امریکہ اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں کے پاس اس وقت کوئی ایسی موثر قوت نیپال کے اندر نہیں جو ماواسٹوں پر دباوڈال سکے۔ طاقت کا توازن ماواسٹوں کے ہاتھ میں ہے اور تشکیل کے مراحل سے گزرتی ہوئی نئی حکومت کے ساتھ کوئی ملک ٹکراو کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہے گا۔کم ازکم مستقبل قریب میں۔

نئی نیپالی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسی چند سالوں میں طے کردے گی کہ اس ملک کے بڑے ہمسا یے بھارت اور بڑی عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی اپناتی ہیں۔ مفادات خارجہ پالیسی طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیپالی ماواسٹوں کے بھارتی ماواسٹوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اگر نئی نیپالی حکومت بھارتی ماواسٹوں کو مدد فراہم کرتی ہے تو تعلقات کی نوعیت مختلف ہوگی۔ جنوبی ایشیا میں دو ہی ملک ہیں جہاں ماواسٹ مضبوط ہیں، نیپال اور بھارت، نیپال کے تجربے نے بھارتی نیکسل وادیوں کو حوصلہ تو ضرور دیا ہے جو بھارتی حکومت کے لئے پریشانی کا باعث ہے لیکن جب تک نیپال سے مالی یا فوجی مدد بھارت نہیں پہنچتی بھارت نیپال سے اپنے تعلقات خراب کر کے اپنے مفادات پر زد پہنچانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ نیپال کا تجربہ بھارتی ماواسٹوں پر ایک اور اثر بھی ڈال سکتا ہے اور وہ یہ کہ وہ بھی بتدریج بندوق کے راستے کو چھوڑ کر انتخابی عمل میں شریک ہوں۔ ماواسٹ مخالف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پولٹ بیوروکے ممبر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اسی جانب اشارہ کیاہے ”نیپال میں ماواسٹوں نے ہتھیار ڈالے اور انتخابات میں شریک ہوئے جبکہ ان کے ساتھی یہاں معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں“۔یوں نیپالی ماواسٹ دوراستوں پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو پارلیمانی سیاست میں لتھڑے ہوئے بھارتی کمیونسٹوںیا لبرل معاشی پالیسیوں کے حامی چینی کمیونسٹوں کا ہے اور جو دراصل کمیونسٹ پارٹی آف نیپال(یوایم ایل) کی شکست کا باعث بنا ۔ یا داخلی تضادات اور بین الاقوامی دباو کے نتیجے میں زیادہ جارجانہ اصلاحات کا راستہ جو سامراج مخالف ہواور نیپال کو ہوگوشاویز کے قریب کرتے ہوئے سرمایہ داری سے آگے لے جائے۔ پہلے راستے کے امکانات قوی ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف نیپالی ماواسٹ کے ایک اہم رہنما ڈاکٹر بابورام بھٹارائے جنہوں نے نیپال کانگریس کے امیدوار کو شکست دے کر اپنی نشست جیتی ہے،نے 15مارچ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی ترجیحات کو واضح کیا۔ ان کے انٹرویو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ماواسٹ انتخابات کے بعد دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس انٹرویو میں بابورام نے اپنی معاشی پالیسی کے خدوخال بھی وضاحت سے بیان کئے ہیں۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا ”چین نے ماوحکومت میں جاگیرداری کا خاتمہ کیا۔ اس سے معاشی ترقی کے لئے مضبوط بنیادیں فراہم ہوئیں۔پرانے جاگیردارانہ نظام سے چھٹکارے کے بعد ہم بھی تیزرفتار ترقی کے بارے سوچ سکتے ہیں۔ جب ہم ریاست کی تنظیم نو کریں گے اور نجی شعبے کو شامل کریں گے تو تیز رفتار ترقی کا حصول ممکن ہوگا“۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ”ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ ”ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ی کے بغیر ہم ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتے“ انہوں نے مزیدکہا کہ ”ریاست معاون کا کردار ادا کرے گی۔ ریاست کاروباری معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی“۔

یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ نیپال کی پرانی اسٹیبلشمنٹ آسانی سے اپنی مراعات کو ختم کرنے دے گی۔ بیس ہزار کے قریب تربیت یافتہ ماواسٹ جنگجوؤں کی نیپالی فوج میں شمولیت کے سوال نے ابھی سے نزاع کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ نیپالی فوج کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں ماؤاسٹوں کی فوج میں شمولیت کے حوالے سے کہا ہے کہ ”ہم فی الحال انہیں فوج میں شامل نہیں کرسکتے“۔ امریکی حکومت نے نیپالی ماواسٹوں کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے اور اس لیبل کو ختم کرنے کا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں دیا، یوں نیپال خانہ جنگی سے تو نکل آیا ہے مگر کئی چیلنج سامنے ہیں۔

18 اپریل 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s