نیٹو اعلیٰ سطحی اجلاس: روس امریکہ اختلافات ختم نہ ہو سکے

رضوان عطا

نیٹو (معاہدہ شمالی اوقیانوس تنظیم) کا بیسواں اعلیٰ سطحی اجلاس رومانیہ کے صنعتی مرکز بکارسٹ میں 2 تا4 اپریل ہوا۔ اب تک نیٹو کے سب سے بڑے ہونے والے اس اجلاس میں تنظیم میں شمولیت کی خاطر کروشیااورالبانیہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن یونان سے ملک کے نام پر چلنے والے تنازعے کی وجہ سے میسی ڈونیا کو نہیں بلایا گیا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں جوموضوعات سب سے اہم رہے وہ نیٹو میں توسیع ، روس نیٹو تعلقات اور افغانستان میں نیٹو مشن کے بارے میں تھے ۔ توانائی کی ترسیل کو بھی اس اجلاس میں خاصی اہمیت حاصل رہی۔

26 رکنی نیٹو کے اس اجلاس میں بڑی تعداد میں سربراہان مملکت کے ساتھ ان کے 3000 کے قریب مشیر، سیکریٹریز اور دیگر اہلکاروں کا لشکر شامل تھا۔ اجلاس کے بعدا گرچہ زیادہ ممالک کے سربراہان مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ بیانات دیتے نظر آئے لیکن نیٹو میں موجود اختلافات کے خاتمے کیلئے یہاں کوئی بڑا قدم دیکھنے کو نہیں ملا۔ جرمنی واپس جاتے ہوئے چانسلراینجیلا مرکل نے کہا”ملک واپس جاتے ہوئے میں بہت مطمئن ہوں“ اور کم و بیش اسی نوعیت کے خیالات نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہوں اور اس میں شمولیت کے خواہشمندوں کے ہاں دیکھنے کو ملے۔ باوجودان بیانات کے بہت سے معاملات ابھی تک لٹکے ہوئے ہیں۔

اختلاف کی ایک وجہ جارجیا اور یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کا معاملہ تھا اور ہے۔ ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت کی سب سے زیادہ خواہشمند بش انتظامیہ ہے مگر اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھر پور کوشش کے باوجود امریکی امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ فرانس اور جرمنی نے ان دونوں ممالک کی شمولیت کی مخالفت کی اور اس کی وجہ تھا روس، نیٹو کے حوالے سے ولادی میرپوٹن کے خیالات پوشیدہ نہیں۔ وہ اس بڑے فوجی اتحاد کواپنے ملک کی سرحدوں کے قریب آتا نہیں دیکھنا چاہتے اور بالخصوص جرمنی روس سے تعلقات خراب کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا کیونکہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرمنی کا روس پر کافی انحصار ہے۔

جرمن چانسلراینجیلا مرکل اپنے ملک میں ایک بڑے سیاسی اتحاد کو ساتھ لے کر چل رہی ہیںجن میں سوشل ڈیموکریٹس بھی شامل ہیں جو روس نواز موقف رکھتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں قدرے احتیاط برتنے کی طرف مائل ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر ماہ مارچ کے شروع سے ہی مرکل نے جارجیا اور یوکرائن کی”ممبر شپ ایکشن پلان“( میپ)میں شمولیت کی کھلے عام مخالفت شروع کر دی تھی، البتہ اس مخالفت کی وجوہ انہوں نے قدرے مختلف بیان کیں۔

جارجیا سے علیحدگی کی لڑائی لڑنے والے علاقوں ابخازیا اور جنوبی اوسیتیا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رکنیت کے راستے پر صرف انہی ممالک کو ڈالا جائے، جہاں داخلی تنازعات نہ ہوں۔ واضح رہے کہ نیٹو میں شمولیت سے قبل میپ میں امیدواروں کا داخلہ ضروری ہوتا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ، جن کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، نے تو اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کھل کر کہا کہ ”میپ “میں شمولیت کی مخالفت کی وجہ روس ہے۔ اس انٹرویو میں جرمن وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کوسوو کے معاملے پر ہمارے روس کے ساتھ تعلقات آخری حدوں تک آگئے ہیں۔ جارجیاکی امریکہ نواز حکومت کواجلاس میں آتے ہوئے یہ معلوم تھا کہ انہیں جرمن مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جارجیا میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کو روس کی حمایت حاصل ہے اور ملک کی حالیہ حکومت سے پوٹن کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ایک طاقتور ہمسائے کا مقابلہ کرنے کی خاطر جارجیا کی حکومت پوری کوشش میں ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قریب ہو۔

جارجیا کے داخلی مسائل بلاشبہ بے شمار ہیں۔ حال ہی میں ایمرجنسی کے نفاذ، ذرائع ابلاغ پر قدغن اور احتجاجی مظاہروں پرریاستی تشدد نے میخائل سا آکاشیویلی پر بہت سی انگلیاں اٹھائیں ہیں لیکن بظاہر حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں پوٹن مخالفت نے ہی انہیں ”میپ“ کی رکنیت سے روکنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اس سب کے باوجود یوکرائن کے وکٹریوشینکو اور جارجیا کے میخائل سا آکا شیویلی نیٹو اجلاس سے خالی ہاتھ نہیں لوٹے۔ اطلاعات کے مطابق یوشینکو”میپ“ میں شمولیت کی امید نہ پا کر 2 اپریل کو کافی غصے میں تھے لیکن3اپریل کی سہ پہر ، جب مخالف موقف رکھنے والے ممالک کے مابین ایک سمجھوتہ ہو گیا تو وہ بہت خوش نظر آئے اور انہوں نے رپورٹرزسے کہہ ہی ڈالا ”میرا خیال ہے کہ ہمیں بہت خوش ہونا چاہئے، ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ آج صبح تک میرا خیال تھا کہ کچھ نہیں ملنے والا“۔ جارجیا اور یوکرائن کو اگرچہ میپ میں شامل نہیں کیا گیا لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان ممالک کو بالآخر نیٹو میں شامل کر لیا جائے گا۔ نیٹو کے جنرل سیکریٹری نے بعد ازاں اپنے ایک بیان میں اس بات کی توثیق کر دی۔

اس حوالے سے فرانس اور جرمنی کی مخالفت کو کم کرنے اور کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے جمہوریہ چیک کے وزیر خارجہ کارل شوارزنبرگ نے 3 اپریل کو اپنے ایک انٹرویو میں بتایاکہ کچھ ریاستیں جن کی رہنمائی امریکہ، پولینڈ اور ہم کر رہے تھے جارجیا اور یوکرائن کی میپ میں شمولیت کے حق میں تھیں جبکہ دوسری طرف جرمنی اور فرانس کی رہنمائی میں چند ریاستیں محتاط انداز میںمخالفت کر رہی تھیں۔ دونوں دھڑوں کے مابین سمجھوتہ کرانے میں پولینڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ اجلاس کے بعد طے یہ پایا ہے کہ دسمبر میں ان دو ممالک کی شمولیت کے حوالے سے نیٹو وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس ہوگا اور پھر آئندہ سال اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ موضوع زیر بحث لایا جائے گا۔

نیٹو میں وسعت پر روس کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ولادی میر پوٹن نے 3 اپریل کو کہا ”ہماری سرحد پر ایک طاقتور بلاک کو روس اپنی سیکیورٹی کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھے گا“۔ انہوں نے مزید کہا ”میں نے انہیں آج یہ کہتے سنا ہے کہ (نیٹو کی)وسعت روس کے خلاف نہیں ، لیکن اگر ارادہ یہ نہیں تو بھی آگے ایسا ہو سکتا ہے ، اور یہ بات اہم ہے“۔ نیٹو اعلیٰ سطحی اجلاس میں پوٹن اپنی مخالفت کی وجہ سے دو ممالک کی رکنیت کو ایک حد تک روکنے میں کامیاب ہوئے لیکن ابھی تک اس معاملے پر اختلاف قائم ہے۔

دوسرا معاملہ جو خصوصاً روس اور امریکہ کے مابین اختلاف کا باعث رہا وہ یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب ہے۔ اجلاس میں امریکہ نے اس معاملے پر سفارتی فتح حاصل کی اور اس منصوبے کو نیٹو ممالک نے شرف قبولیت بخشا مگر روس اس سے ہرگز خوش نہیں۔

معاملات پر مزید بحث کے لیے امریکی صدر بش روس کے ساحلی شہر سوچی گئے۔ یہاں ہونے والے مذاکرات سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔مذاکرات کے آخر میں بش اور پوٹن کی مشترکہ پریس کانفرنس اس کا واضح اظہار تھی ۔ اس پریس کانفرنس میں پوٹن نے کہا ”سب سے مشکل سوال یورپ میں اینٹی میزائل ڈیفنس تھا اور رہے گا۔۔۔۔ امریکی منصوبوں کے بارے میں اصولی طور پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی“۔ اس موقع پر صدر بش کا کہنا تھا کہ ماسکو کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کہ میزائل ڈیفنس سسٹم کا نشانہ روس نہیں ابھی کام کرنا باقی ہے۔ دونوں ممالک سرد جنگ کے زمانے کو بھول جانے کی بات کر رہے ہیںلیکن ان کے درمیان ”سرد تناو “ یقیناً موجود ہے۔

صدر بش کے روس جانے پر ولادی میرپوٹن نے ایک نئی پیش کش کر ڈالی ۔ روس افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو زمینی راستے سے غیر فوجی سامان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ اس وقت نیٹو افواج کو ضروری سامان کی ترسیل کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے۔ اگر نیٹو ممالک اس منصوبے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو اس سے پاکستان کی اہمیت میں کچھ کمی ضرور ہوگی۔

افغانستان میں نیٹو افواج میں اضافے کا معاملہ تنظیم میں شدید اختلافات کو جنم دے چکا ہے۔ یہاں تک کہ کینیڈا نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی دھمکی دے دی تھی۔ کیوںکہ بہت سے نیٹو ممالک ان علاقوں میں فوجیں بھیجنے سے گریزاں ہیں جہاں طالبان سرگرم ہیں۔ اس معاملے پر امریکہ کو جزوی کامیابی ملی ہے۔ فرانس نے امریکہ اور کینیڈا کی برسرپیکار فوجوں کی مدد کے لیے ایک بٹالین فوج بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکہ نے مزید 3500 فوج بھیجنے کا وعدہ کیا ہے اور آسٹریلیا نے 1000 سے زائد اپنی افواج کو افغانستان میں رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم نے افغانستان کو 62 ملین ڈالر امداد دینے کا بھی وعدہ کیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم افغانستان میں پوست کی کاشت کو اگرچہ خطرہ قرار دیتے رہے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا آسٹریلوی امداد افغان کسانوں کو دی جائے گی تاکہ وہ پوست کاشت نہ کریں تو ان کا جواب تھا کہ نہیں۔ بدحال افغان کسانوں کو متبادل فراہم کئے بغیر پوست کی کاشت سے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

اجلاس میں ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان بھی موجود تھے اور ان سے صدر بش کی زیادہ تر گفتگو توانائی کے ذرائع محفوظ بنانے کے حوالے سے ہوئی۔

نیٹو کا اعلیٰ سطحی اجلاس نہ تو امریکی اور نہ ہی روسی توقعات پوری کر سکا اور اس کا زیادہ تر زور فوجی نوعیت کے معاملات پر رہا۔ افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافوں کے وعدے بش انتظامیہ کی امیدوں کے مطابق نہیں ۔ افغانستان میں نیٹو افواج میں اضافے کا معاملہ امریکہ کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔ ایک طرف جہاں طالبان کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں وہیں دوسری طرف تعمیر نو کے کاموں سے عدم دلچسپی افغان عوام کو قابض افواج سے متنفر کرتی جا رہی ہے۔

سرد جنگ کے بعد” دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے نام پر افغانستان پر حملے نے نیٹو کے وجود میں رہنے کے سوال کو دبادیا ورنہ اصولاً سوویت یونین کے انحطاط کے بعد اس اتحاد کو ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ نیٹو کے وجود کو بالقان، افغانستان اور عراق میں ہونے والے جنگوں نے سہارا دیا ہے لیکن جس غیر ضروری جارحیت کی پالیسی کو بش انتظامیہ نے اپنایا وہ اُن کے لیے اب مسائل بھی کھڑے کر رہی ہے۔ امریکہ کی عسکری صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی اس پالیسی کی ایک وجہ ہے۔

11 اپریل 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s