عراق میں مزاحمت

(مضمون کے دوسرے اور آخری حصے میں مصنف نے عراق کے اندر قبضے کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا جائزہ لیا ہے)

رضوان عطا

عراق پر امریکی حملے سے لے کر آج تک امریکی سربراہی میں قبضہ کرنے والی افواج اور ان کے حامیوں کو جس مزاحمت کا سامنا رہا اس کی کئی جہتیں ہیں اور اس مزاحمت نے اپنی پانچ سالہ تاریخ میں کئی موڑ دیکھے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اتحادی افواج کے خلاف عراقی مزاحمت کے جس رخ کو عموماً پیش کیا جاتا ہے وہ مسلح ہے لیکن عراق کے اندر ہتھیاروں کے بغیر سیاسی و معاشی حقوق اور قبضے کے خلاف ایک ایسی لڑائی بھی لڑی جا رہی ہے جو آنکھوں سے عام طور پر اوجھل رہتی ہے ۔ 2003ء کے شروع میں جب عراق پر حملے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں پاکستان سمیت بہت سے دیگر ممالک میں عمومی رائے یہی تھی کہ صدام حسین کی قیادت میں عراقی افواج طویل عرصہ تک نہ سہی چند ماہ تک ضرور حملہ آوروں کو ملک میں گھسنے نہیں دیں گی، مگر ایسا نہ ہوا۔

20 مارچ2003ء کو ”آپریشن عراقی فریڈم“ کے شروع ہونے کے بعد امریکی و برطانوی افواج نے ایک حکمت عملی کے تحت جہاں شدید فضائی بمباری کی وہیں زمینی افواج کو بھی جلد از جلد عراق کے اندر تک داخل ہونے کا حکم ملا۔ عراقی افواج انتہائی جدید اور طاقتور مسلح افواج کے بیک وقت فضائی اور زمینی حملے کے سامنے صرف تین ہفتے ہی ٹھہر سکیں۔ اس دوران عراقی فضائیہ کوئی بھی کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ عراق کی دفاعی صلاحیت 1991ء کی خلیجی جنگ اور طویل عرصے سے لگی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ اقتصادی پابندیوں نے جہاں عراقی عوام خصوصاً عورتوں اور بچوں کو بری طرح متاثر کیا وہیں عراقی فوج سے بھی وہ جان نکال لی جو ہمیں مغربی ممالک کی مدد سے ایران کے خلاف طویل جنگ کے دوران نظر آئی تھی۔ 9 اپریل کو بغداد صدام حسین کے ہاتھوں سے نکل چکا تھااور بعث پارٹی کے اعلیٰ عہدیداران روپوش ہونے کے لیے جگہیں تلاش کر رہے تھے۔

بظاہر یہ جنگ کا خاتمہ اورا تحادیوں کی بڑی فتح تھی۔ اسی سال یکم مئی کو امریکی صدر بش نے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ بڑی جنگ ختم ہو چکی ہے۔ بش انتظامیہ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ بڑی جنگ کی ابتداء تو ہونے کو ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق عراق پر قبضے کی خاطر 139 امریکیوں نے جان دی، آج یہ تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

بغداد میں امریکی افواج کے داخلے کے بعد عراق کے مختلف شہروں میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جن میں موصل ، تکریت اور فلوجہ قابل ذکر رہے۔ ابھی یہ حملے وسیع پیمانے پر نہیں تھے کہ فلوجہ میں ہونے والے ایک واقعے نے اس عمل کو تیز کر دیا جو بالآخر ہونا ہی تھا۔

28 اپریل 2003ء کی شام فلوجہ کے 200 باسی امریکی افواج کی طرف سے لگائے گئے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سیکنڈری سکول کے قریب جمع ہوئے جسے امریکی افواج نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا تھا۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ سکول کو دوبارہ کھولا جائے۔ اس پر امن مظاہرے پر سکول کی چھت سے امریکی فوجیوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے نہ صرف فلوجہ کے اندر غم و غصے کی لہر کو پیدا کیا بلکہ پورے عراق میں اس کے اثرات محسوس کئے گئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ عراقیوں کو پرامن جدو جہد کے راستے سے دور لے جانے میں معاون ثابت ہوا۔

بہت جلد فلوجہ مسلح مزاحمت کاروں کا گڑھ بن گیا۔ گیارہ ماہ بعد یہاں بش انتظامیہ کی منظور نظر امریکی سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے 4 کنٹریکٹر مزاحمت کاروں کے ایک حملے میں مارے گئے۔ امریکی افواج نے فوراً شہر کا محاصرہ کر لیا اور اپریل 2004ء میں شہر پر حملہ کر دیا گیا۔ حملے کے وقت امریکی فوج کو اس وقت بڑی ہزیمت کا سامناکرنا پڑا جب امریکی فوج سے تربیت حاصل کرنے والے ”عراقی نیشنل گارڈ“ نے امریکیوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ تقریباً ایک ماہ کی لڑائی کے باوجود امریکی افواج شہر پرمکمل قبضہ نہ کر سکیں، اگرچہ اس لڑائی میں کلسٹر بموں تک کو استعمال کیا گیا۔ اس لڑائی میں جینیوا کنونشن کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس بھی سامنے آئیں مثلاً امریکی میرنیز نے شہر کے مرکزی ہسپتال کو بند کر دیا اور اس کی عمارت کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال میں لائے ۔ بالآخر امریکی افواج کو سیز فائر کرنا پڑا۔

فلوجہ میں لڑی جانے والی یہ پہلی لڑائی عراق میں مسلح مزاحمت کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لڑائی نے امریکی افواج کے خلاف پورے عراق میں حملوں کو تیز کر دیا۔ نہ صرف پورا وسطی عراق اس کی لپیٹ میں آیا بلکہ پہلی مرتبہ مہدی آرمی کی شکل میں قابضین کو مسلح شیعہ بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ فلوجہ کے بعد رمادی میں مسلح مزاحمت نے زور پکڑا، اس شہر میں امریکی فوجیوں کو بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

2004ء کا موسم بہار اتحادی افواج کے لیے بہت بھاری رہا۔ فلوجہ پر کیے جانے والے پہلے حملے کے دوران جوان شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے قبضہ مخالف بیانات اورتقاریر نے غریب شیعہ نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کی طرف تیزی سے مائل کیا جو قبضے کے بعد راحت نہ ملنے کے سبب بے چینی کا شکار تھے۔ مقتدیٰ الصدر کا ابھار حیران کن تھا۔ اس مذہبی رہنما کے اتحادی مخالف بیانات سے تنگ قابضین نے اسی سال مارچ کے آخر میں جلتی پر تیل ڈال دیا۔ الصدر کے حامی اخبار Al-Hawza کو اس وقت پال بریمیئر کی سربراہی میں عراق کے اندر قائم انتظامیہ نے بند کرنے کاحکم دے دیا۔

4 اپریل کو مہدی آرمی نے امریکی اور عراقی افواج پر حملے شروع کر دیئے اور جلد ہی نجف ، کوفہ اور الکت جیسے شہر اس کے ہاتھ آگئے۔ اسی موسم بہار میں فلوجہ ، سمارہ اور باقوبہ سنی مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں تھے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ عراق جلد مزاحمت کاروں کے مختلف گروپوں کے ہاتھ آجائے گا۔ امریکہ نے زیادہ جارحانہ پالیسی کو اپناتے ہوئے نجف میں مہدی آرمی پر بڑا حملہ کیا اور شدید لڑائی کے بعد جون میں فریقین عارضی جنگ بندی پر راضی ہوئے ۔ یہ امن دیر پا ثابت نہ ہوا اور اگست میں نجف میں دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔ اس موقع پر مذہبی شیعہ رہنما علی سیستانی کی مداخلت پر لڑائی بند ہوئی۔

مہدی آرمی کا ابھار صدام حسین کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد ہوا اور اس کے اچانک ابھار نے اس کے اندر بہت سی کمزوریوں کوبھی جنم دیا ہے۔ مہدی آرمی بہت زیادہ منظم قوت نہیں۔ یہاں تک کہ یہ پوری طرح مقتدیٰ الصدر کے کنٹرول میں بھی نہیں ۔ صدام حسین کے دور میں شہری شیعوں کا وہ حلقہ جو امریکی آمد کے بعد بھی اپنی زندگیوں میں بہتری نہ دیکھ پایا بہتری کے خواب کے ساتھ، الصدر جیسی ایک کرشماتی شخصیت کے گرد جمع ہوا۔ مقتدیٰ الصدر کو جہاں اپنے والد کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا وہیں عراق میں قبضے کے خلاف موجود جذبات نے اسے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں ”بدر“ جیسی مسلح شیعہ تنظیم کہیں زیادہ منظم اور تربیت یافتہ ہے اور ایران سے زیادہ رابطے میں ہے۔ بدر، سپریم اسلامک عراقی کونسل سے منسلک ہے جسے عراق کے شیعہ علاقوں خصوصاً بصرہ میں خاصی حمایت حاصل ہے لیکن عراقی حکومت میں شرکت اور اتحادی فوجوں کی واپسی کے حوالے سے نسبتاً نرم موقف رکھنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہتا ہے جبکہ مقتدیٰ الصدر اپنے امریکہ مخالف موقف کی وجہ سے زیادہ مقبول ہوتے نظر آتے ہیں۔

نجف میں مہدی آرمی کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد امریکی افواج نے ایک مرتبہ پھر فلوجہ کارخ کیا۔ فلوجہ پر پہلے حملے کی ناکامی کے بعد وقفے وقفے سے بمباری کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا۔ 24 ستمبر 2004ء کو اے بی سی نیوز کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ القاعدہ سے منسلک ابو مصعب الزرقاوی کو پکڑنا ہماری اولین ترجیح ہے اور وہ فلوجہ میں ہے۔

دہشت گردوں کی آماجگاہ قرار دیتے ہوئے نومبر میں فلوجہ پر ایک بڑا حملہ کر دیا گیا۔ امریکی بمباری اس قدر شدید تھی کہ شہرکی کل تقریباً 50 ہزار عمارتوں میں 8 سے 10 ہزار مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس حملے کے دوران میں سفید فاسفورس جیسا خطرناک کیمیکل بھی استعمال کیا گیا۔

یہ وہی زمانہ ہے جب عراق میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھا۔ اس تفریق میں جہاں امریکیوں کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کا ہاتھ ہے وہیں القاعدہ سے منسلک مذہبی جنونی گروپوں کی طرف سے مسلسل شیعہ آبادی اور ان کی عبادت گاہوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔

امریکہ کے لیے افغانستان میں انتخابات کا انعقاد کافی آسان تھا کیونکہ اس میں طالبان سمیت اتحادیوں کی مخالفت کرنے والی دیگر قوتیں باہر رہیں مگر عراق میں صورتحال کافی مختلف تھی۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکیوں نے بعث پارٹی کا پیچھا کیا اوران کے رہنماوں کو پکڑا یا مار دیا، اور عراقی فوج کو گھر بھیج دیا۔ اس عمل نے طاقت کے ایک بڑے خلاء کو پیدا کیا۔ اتحادیوں کو جلداحساس ہوگیا کہ وہ ایک ایسی سرزمین پر ہیں جہاں آبادی کی اکثریت ان کی موجودگی کو پسند نہیں کرتی ۔ سوائے کرد علاقوں کے امریکیوں کو عراق کے اندر افغانستان کی طرح جنگی سردار (وارلارڈز) ڈھونڈنے میں ناکامی کا سامنا تھا۔ اسی لیے عراق میں انتخابات کے عمل میں تاخیری حربے استعمال کئے جانے لگے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں منتخب حکومت انخلاء کا مطالبہ نہ کر دے۔ عراق میں بش انتظامیہ پال بریمیئر کی طرح من پسند نامزدگیوں کی مدد سے عراق میں حکومت کرنے کی خواہاں تھی لیکن اس موقع پر عراق میں شیعہ مذہبی رہنما علی الحسن السیستانی نے اس کی مخالفت میں پہل کی اور انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ جنوری 2004ء میں ہزاروں عراقیوں خصوصاً شیعہ آبادی والے علاقوں میں احتجاج شروع کر دیا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ عراق میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ یہ احتجاج عراق میں امریکی انتظامیہ کو شدید دباو میں لے آئے کیونکہ مداخلت کرنے والے جمہوریت کا نام لے آئے تھے اور اب وہ الیکشن کرانے کی کس طرح مخالفت کر سکتے تھے۔ بالآخر بریمیئر کو جنوری 2005ء میں انتخابات کرانے پر راضی ہونا پڑا۔

عراق میں ہتھیاروں کے بغیر قابضین کے خلاف یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ اس کامیابی نے امریکی انتظامیہ کو بوکھلاہٹ کا شکار کیا کیونکہ انہیں زمین پاوں سے کھسکتی محسوس ہوئی۔یہ وہی دور ہے جب فلوجہ اور مہدی ملیشیا پر بڑے حملے ہوئے تاکہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا جا سکے۔ بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق جنوری2005ء میں ہونے والے انتخابات کے بعد فلوجہ پر دوسرا بڑا حملہ نئی قائم ہونے والی عراقی حکومت کے اثر کو کم کرنے کے لیے تھا۔ یہ تقریباً واضح تھا کہ فلوجہ پر بڑاحملہ ملک میں تشدد کی لہر کو پیدا کرے گا۔

انتخابات کے بعد عراقی پارلیمنٹ کے اندر منتخب ارکان کا ایک گروپ تشکیل پا چکا تھا جو اتحادی فوجوں کے انخلاء کے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کر رہا تھا۔ جون2005ء میں عراق کی قومی اسمبلی کے 275 میں سے 83 ارکان نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا۔ اس پارلیمانی گروپ کا نام ”انڈیپنڈنٹ نیشنل بلاک“ تھا۔ عراقی پارلیمنٹ میں اگرچہ ان ارکان کی اکثریت نہیں جو اتحادی فوجوں کی واپسی کا پرزور مطالبہ کریں لیکن اس میں ایسے ارکان ضرور موجود ہیں جو انخلاء کے پر زور حامی ہیں۔

عراقی ٹریڈیونین میں مختلف رجحانات ہیں لیکن عمومی طور پر ان کا یہ موقف ہے کہ امریکی فوجیں عراق سے واپس جائیں، کیونکہ ان کی موجودگی سے عراقی عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ ملک کی تیل کی صنعت میں ٹریڈیونینز قبضے اور نجکاری کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔ تیل میں کام کرنے والی ٹریڈیونینز اہم ہیں کیونکہ یہ عراقی تیل کو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کرنے میں مزاحم ہیں ۔

ان میں سے ایک جنرل یونین آف آئل ایمپائز(جی یو او آئی)ہے جس کا قیام مئی 2003ء میں عمل میں لایا گیا۔ خصوصاً بصرہ میں اس تنظیم نے کامیاب ہڑتالوں کے ذریعے کئی مطالبات منوائے ہیں۔

عراق کی تقریباً تمام بڑی ٹریڈیونینز نے 2006ء کے شروع میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے اطلاق کے خلاف ایک متفقہ بیان میں تنقید کی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ ”جنگ اور قبضے نے عراقیوں خصوصاً محنت کشوں کے معیار زندگی میں ڈرامائی کمی کی ہے“۔ اگرچہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد حالیہ عرصے میں بڑھا ہے لیکن عراق میں موجود بڑی فیڈریشنز میں نسلی اور فرقہ وارانہ تفریق دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عراق میں بہت ساری ٹریڈیونینز کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔ گویا صدام دو رحکومت میں ٹریڈیونینز کو جن سختیوں کا سامنا تھا ان میں کمی نہیں ہوئی۔ عراق میں ٹریڈیونینز عراقی وسائل پر غیر ملکی قبضے کے خلاف کامیاب لڑائی لڑ رہی ہیں۔ البتہ عراق کی موجودہ صورتحال میں انہیں بہت سی دشواریوں کا سامنا ہے۔ محنت کشوں کی تنظیموں کے کئی رہنما قتل بھی کئے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں عراقی یونین آف جنرلسٹس کے صدر کو قتل کیا گیا۔ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں مذہبی بنیادپر عراق میں بنائے گئے قوانین کی مخالفت کر رہی ہیں۔

گزشتہ سال سے امریکی انتظامیہ نے عراق میں ایک نئی مگر خطرناک پالیسی اپنائی ہے جس کے نتیجے میں اگرچہ امریکی افواج کی اموات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے ذریعے عراق میں استحکام کے امکانات بہتر نہیں ہوئے۔ عراق میں قبائلیت کو بڑھاوا دیتے ہوئے سرداروں کو مراعات کی پیشکش کی گئی ۔ اسی طرح مسلح مزاحمت کرنے والوں کو اسی حکمت عملی کے تحت القاعدہ کے ساتھ لڑائی کے لیے سامنے لایا گیا۔ سنی علاقوں خصوصاً بغداد میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو بڑھایا گیا اور فضائی بمباری میں تقریباً 5 گنا اضافہ کیا گیا۔ اب بہت سے مسلح سنی گروپ القاعدہ کے خلاف امریکیوں کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن یہ ساتھ عارضی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ سیاسی میدان میں امریکیوں کو کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے جس کے ذریعے وہ پورے ملک پر یکساں کنٹرول حاصل کر لیں۔

عراق میں مسلح مزاحمت مختلف نظریات اور طریقہ کار اپنانے والوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کچھ تو انتہائی رجعتی ہیں مثلاً القاعدہ اور اس سے منسلک گروہ جو اپنے حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کی پرواہ نہیں کرتے اور شیعہ شہریوں کو ہلاک کرنا درست خیال کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے سنی گروہ بھی موجود ہیں جو القاعدہ کے طریقہ کار کے مخالف ہیں لیکن مذہبی رجحانات کے حامل ہیں، قوم پرست اور بائیں بازو کے بعض گروپس بھی مسلح جدوجہد میں شامل ہیں ۔ شیعوں کے ہاں مہدی آرمی مسلح جدوجہد میں سب سے آگے رہی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ عراق میں مسلح مزاحمت ایک پیچیدہ معاملہ ہے ۔اس سال مارچ کے آخر میں مہدی آرمی اور عراقی حکومت کے مابین ہونے والی لڑائی کو شیعہ بمقابلہ شیعہ کا نام دیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پر تشددکارروائیاں محض فرقوں کے مابین نہیں۔ حالیہ عرصے میں کی جانے والی رائے شماریوں کے مطابق عوام کی اکثریت امریکی و اتحادی افواج پر حملوں کو جائز قرار دیتی ہے مگر شہریوں پر حملے کی شدید مخالف ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s