عراق جنگ کی مخالفت

رضوان عطا

(حصہ اول)

19 مارچ2003 کی رات امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ”آپریشن عراقی فریڈم“ کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن صبح5:30 بجے عراق پر بمباری کا آغاز کر دیا گیا۔ آج پانچ سال بعد جب بش کی مدتِ صدارت کے خاتمے میں صرف10 ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، ان کی مقبولیت کا گراف انتہائی نیچے ہے۔ کم و بیش 158,000فوجیوں کی موجودگی کے باوجود امریکی افواج پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں اور ویت نام کے بعد یہ جنگ امریکہ کی دوسری سب سے طویل جنگ بن چکی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معیشت جوزف سٹگٹس کے مطابق اس جنگ پر اب تک کم از کم تین ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ عراقی شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ امریکی افواج کے حملوں، دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہو رہی ہے اور اس ملک میں نسلی، فرقہ وارانہ اور مذہبی تفریق کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہی وہ خدشات تھے جن کی وجہ سے عراق پر حملے کے خلاف ایک بڑی جنگ مخالف تحریک کی ابتدا ہوئی۔

عراق پر قبضے سے قبل جنگ کی مخالفت میں جن ممالک سے لوگ بڑی تعداد میں آئے وہ شمالی امریکہ اوریورپ میں واقع ہیں۔ جنگ مخالف مظاہرے 2002 سے شروع ہو چکے تھے۔ 2002 کے آخری مہینوں میں مختلف امریکی تنظیمیں لوگوں کو عراق جنگ کی مخالفت کے لیے باہر لانے میں کامیاب ہو چکی تھیں۔ بش انتظامیہ کے بیانات اور افواج کی نقل و حرکت سے یہ کافی حد تک واضح ہو چلا تھا کہ عراق پر حملے کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور اسی کے مدِنظر جنگ کی مخالفت کرنے والی تنظیمیں اس حملے کورکوانے کی خاطر متحرک ہو چکی تھیں۔

26 اکتوبر2002 کو دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے لیکن سب سے زیادہ اہم واشنگٹن اور سان فرانسسکو میں ہونے والے مظاہرے رہے۔ دونوں شہروں میں بالترتیب 100,000اور50,000 افراد نے شرکت کی ۔ عراق پر حملے کے لیے بش انتظامیہ کی سب سے زیادہ معاونت ٹونی بلیئر کی حکومت نے کی لیکن برطانوی حکومت کی حمایت جس قدر شدید تھی اس کا رد عمل بھی کچھ کم نہ تھا۔

31 اکتوبر 2002 کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر مظاہرے ہوئے لیکن زیادہ سرگرمی برطانیہ میں ہوئی جہاں ملک کے تقریباً 150 شہروں میں احتجاج ہوا۔ اسی سال 9 نومبر کو اٹلی کے شہر فلورنس میں ورلڈ سوشل فورم کے اختتام پر ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا۔ منتظمین کے مطابق اس مظاہرے میں دس لاکھ افراد شریک ہوئے البتہ عمومی رائے یہی ہے کہ اس مظاہرے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس کا شمار عراق جنگ کی مخالفت میں اس وقت تک ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے میں ہوا ۔ مظاہروں کا یہ سلسلہ آئندہ سال مزید پھیلا۔ 16 اور 18 جنوری 2003 کو دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے لیکن 15 فروری کو ہونے والے مظاہروںکا شمار انسانی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں ہوتا ہے، جب دنیا کے تقریباً 800شہروں میں کروڑوں افراد سڑکوں پر آگئے۔ اس موقع پر سب سے بڑا مظاہرہ لندن میں ہوا جس میں 20 لاکھ افراد شریک تھے۔15 مارچ کو اسپین اور اٹلی کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔

جنگ مخالفت میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا احتجاج اچانک نہیں تھا، اس کی بنیادیں امریکی شہر سیاٹل میں کچھ سال قبل پڑ چکی تھیں۔ 1999 کے آخر میں ڈبلیو ٹی او کے وزارتی اجلاس کا انعقاد اسی شہر میں طے ہوناپایاتھا۔ عالمگیریت مخالف تنظیموں نے اس اجلاس کے خلاف ایک مہم پہلے سے چلا رکھی تھی اور اس مہم کی کامیابی کی دلیل یہ رہی کہ اجلاس کے موقع پر پچاس ہزارسے ایک لاکھ کے درمیان افراد احتجاج کی خاطر شہر میں جمع ہوگئے اور اس سے عالمگیریت مخالف تحریک کو حوصلہ اور بڑھاوا ملا۔ یہ تحریک اپنے پھیلاؤ کے ابتدائی مراحل میں تھی کہ عراق پر حملے کے خدشات سامنے آنے لگے۔ پس اس تحریک میں شامل تنظیموں نے اپنا رخ جنگ کی مخالفت کی طرف موڑا۔ عراق پر حملے سے قبل ہونے والے مظاہروں میں بہت سے ایسے تھے جن میں بش انتظامیہ کی عسکری پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اس کی تجارتی پالیسیوں کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا۔

انسانی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے بھی عراق پر حملے کو نہ روک سکے اور حملے کے بعد جہاں کچھ حد تک اس تحریک میں مایوسی پھیلی وہیں تحریک کا طریقۂ کار بھی زیر بحث آیا۔ تحریک میں شامل کچھ کارکنوں نے سول نافرمانی اور ”ڈائریکٹ ایکشن“ کی حمایت بھی کی۔ عراق پر حملے کو روکنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ممالک جو اس جنگ میں شریک ہوئے ان میں اس تحریک کی سیاسی نمائندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ امریکہ اور برطانیہ میں حزب اختلاف کی واضح مخالفت اس دوران ہمیں نظر نہیں آتی۔

عراق پر حملے کے بعد بہرحال تحریک میں جان رہی ۔ 20 مارچ کو جب حملہ آور طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں بغداد دھماکوں سے گونج رہا تھا، نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے متعدد شہروں میں احتجاج جاری تھا۔مارچ کے مہینے میں دنیا کے مختلف شہروں میں حملے رکوانے کے لیے مسلسل احتجاج ہوتے رہے لیکن اس دوران جہاں عراقی افواج کی مزاحمت کم ہوتی گئی وہیں مظاہروں کی شدت میں بھی کمی واقع ہونا شروع ہوئی اورجنگ مخالف تحریک کا ایک امتحان بھی شروع ہوا۔

اگرچہ بغداد پر قبضے کے بعد پوری دنیا میں امریکی جنگی پالیسیوں کے خلاف نفرت بڑھی لیکن اس کے منظم اظہار میں کمی نظر آئی، جس کی کچھ واضح وجوہات ہیں۔ جنگ مخالف تحریک صرف ان ممالک میں خود کو قائم رکھ سکی جو یا تو جنگ سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے یا جہاں جنگ مخالف گروپ تنظیمی حوالے سے مؤثر تھے۔جس جگہ یہ عوامل موجود نہ تھے وہاں یہ تحریک تحریک نہ رہی بلکہ عمومی طورپر کسی ششماہی یاسالانہ سرگرمی تک محدود ہوگئی۔

پاکستان کی مثال کو ہی لیجئے، سقوطِ بغداد کے بعد عراق جنگ کے خلاف مظاہرے رسمی کارروائی بن کر رہ گئے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی یہ کوئی بڑے مظاہرے نہ تھے اور محض چند شہروں تک محدود تھے۔ پاکستان میں ترقی پسند قوتوں کی سرگرمیوں میں اس انتہائی اہم معاملے سے لاپرواہی عموماً دیکھی گئی۔ غیر سرکاری تنظیمیں تو تقریباً خاموش ہو گئیں۔ عراق اور فلسطین کے حوالے سے ان کی سرگرمیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے اور یہ ان کی ترجیحات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

امریکہ اور یورپ میں جنگ مخالف تحریک میں جہاں ایک طرف بایاں بازو شامل تھا تو وہیں چرچ سے وابستہ تنظیموں کی شرکت بھی تھی۔مجموعی طور پر اس میں مختلف سوچ، حکمت عملی اور نظریات رکھنے والے گروپ شامل تھے لیکن زیادہ مؤثر ترقی پسند اور بائیں بازو کی قوتیں تھیں۔ لیکن عرب ممالک اور ”مسلم دنیا“ میں عراق پر قبضے کے بعد عمومی طور پر جس رجحان نے عوامی جذبات کو سمیٹا ان کا تعلق دائیں بازو سے تھا۔ چونکہ یکے بعد دیگرے مسلمان آبادی والے ممالک پر حملے ہوئے اس لیے مذہبی بنیاد پرست تنظیمیں کافی حد تک یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئیں کہ یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف ہے۔ فلسطین کی صورتحال نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ ان ممالک میں جہاں مذہبی بنیاد پرستوں کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوا وہیںپرتشدد مسلح کارروائیاں بھی بڑھیں اور یہ زیادہ تر امریکہ کے خلاف لڑائی کے نام پر کی گئیں۔

یورپ اور امریکہ میں آہستہ آہستہ جنگ مخالف تحریک سیاسی کامیابیوں کی طرف رواں ہوئی ۔ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی اموات، عراقیوں کی صورتحال اور قابض افواج کے بے رحم رویے کی تصویر جوں جوں دنیا کے سامنے آتی گئی ان ممالک میں رائے عامہ اپنی حکومت کی مخالف ہوتی گئی۔ برطانیہ میں ٹونی بلیئر کی اقتدار سے علیحدگی اس کا ایک بڑا اظہار ہے۔گزشتہ سال کے وسط میں جب ٹونی بلیئر نے وزارت اعظمیٰ سے استعفیٰ دیا تو یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا، لیبر پارٹی کی عراق پالیسی نے اسے اس قدر غیر مقبول کر دیا تھا کہ تنظیم نے اپنے رہنما سے جان چھڑانا ہی بہتر سمجھا ۔ اقتدار کے آخری سالوں میں یہ تاثر عام ہو چکا تھا کہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے برطانوی عوام اور پارلیمنٹ کو گمراہ کیا۔ 2004 میں جب ایک برطانوی اخبار پینٹاگان کی ایک رپورٹ کو منظر عام پر لایا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سال 2002 میں ہی پینٹاگان نے عراق پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی تھی تو بلیئر کو ایک بڑا دھچکا لگا۔

امریکہ میں بھی عراق جنگ کی وجہ سے صدر بش کی مقبولیت انتہائی کم ہوئی لیکن جنگ مخالف تحریک گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہی کیونکہ ان انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار بھی جنگ مخالف تحریک کے عمومی نقطۂ نظر کی حمایت نہیں کررہا تھا۔ اس کے باوجود رائے عامہ کی مخالفت نے حکمران امریکی طبقے میں دراڑیں ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سپین میں حالیہ انتخابات میں دوبارہ جیت کر آنے والی سوشلسٹ پارٹی نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت میں عراق سے اپنی افواج واپس بلا لیںکیونکہ انتخابی مہم میں وہ اس کا وعدہ کر کے ووٹ لے چکی تھی۔

جنگ مخالف تحریک کو عراق کے اندر مسلح مزاحمت کے سوال نے بھی تقسیم کیا ہے۔ ابتدا میں مسلح مزاحمت کی حمایت بین الاقوامی سطح کی اس تحریک میں زیادہ تھی لیکن عراق میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد اور خود کش حملوں میں شہریوں کی ہلاکت نے اس حمایت میں کمی کی ہے۔ اب تحریک کا زیادہ زور قابض افواج کی واپسی پر ہے۔ اس تحریک میں عراق جنگ سے واپس آنے والے فوجی اور عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندان اب ایک نئی روح ڈال رہے ہیں۔

اس سال مارچ میں پوری دنیا میں عراق پر جنگ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ امریکہ اور یورپ کے بہت سے شہروں میں یا تو مظاہرے ہو چکے ہیں یا ابھی ہونا باقی ہیں۔ ان مظاہروں کی تعداد حملے سے قبل والی تعداد سے کم ہے لیکن ان میں جفاکشی موجود ہے اور عراق جنگ کی طوالت کی صورت میں اس تحریک کے مزید متحرک ہونے کے امکانات ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں روایتی پارٹیوں سے یہ تحریک مایوس نظر آتی ہے لیکن یہی مایوسی انہیں روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابل متبادل کو تعمیر کرنے میں معاون بھی ہو سکتی ہے۔

(دوسرے حصے میں عراق کے اندر قبضے کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا جائزہ لیا جائے گا)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s