عالمی حدت میں اضافہ اور انہونا “چکر”

عالمی حدت میں اضافہ اور انہونا چکر

رضوان عطا

گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی بہت سی تحقیقات اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عالمی حدت میں اضافہ آہستہ آہستہ اور ایک تسلسل کے ساتھ نہ ہوگا ، جیسا کہ ماضی میں سمجھا جاتا تھا، بلکہ معاملہ یوں ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہیں جہاں اس میں مزید اضافے کے لیے بہت سے خاموش عوامل متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حدت میں تھوڑا اضافہ مزید حدت کو پیدا کرتا ہے۔ اور ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

انسانی معاشروں میں صنعتی ترقی سے قبل کے درجہ حرارت میں 2 سینٹی گریڈ کے اضافے کو عموماً نقطہ بتایا جاتا ہے جب عالمی حدت کا مسئلہ انتہائی تشویش ناک صورتحال اختیار کر جائے گا لیکن دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ صنعتی ترقی سے پہلے کے مقابلے میں ا ب تک صرف 0.7 سینٹی گریڈ تک کے اضافے نے ماحولیاتی نظام میں ایسی تبدیلیاں برپا کر دی ہیں کہ یہی تبدیلیاں مزید حدت کو پیدا کرتی جارہی ہیں۔

جب عالمی حدت میں اضافے سے سمندر کا یخ حصہ بگھلتا ہے تو سمندر میں شامل ہونے والا اضافی پانی سورج سے پیدا ہونے والی حدت کو یخ حصے کی نسبت زیادہ جذب کرتا ہے۔ اس طرح سمندر کی حدت میں ہونے والے اضافے سے مزید برف پگھلنا شروع ہو جاتی ہے۔ چونکہ یخ حصہ سمندر کے پانی کی نسبت سورج کی شعاعوں کو زیادہ منعکس کرتا ہے اس لیے برف کے تودوں میں کمی مزید حدت پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ قطب شمالی میں یہ عمل بڑی تیزی سے جاری ہے اور اس عمل کے اثرات گرین لینڈ، سائبریا اور شمالی امریکہ تک دیکھے جاسکتے ہیں۔

گرین لینڈ اور اور مغربی انٹارکٹیکا جیسے وسیع یخ حصوں میں اب بڑے بڑے سوراخ ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگر گرین لینڈ کی ساری برف پگھل جائے تو دنیا کے سمندر کی سطح سات میٹر تک بلند ہو جائے گی اور اگر یہی عمل مغربی انٹارکٹیکا میں ہو تو اس سطح میں مزید پانچ میٹر کا اضافہ ہو جائے گا۔ اگرچہ اس سطح کا پگھلاؤ ایک ہزار سال سے کم عرصے میں ہونا مشکل ہے۔ایک اندازے کے مطابق بیسویں صدی کے دوران سمندر کی سطح میں اضافہ 17 سینٹی میٹر تھا جبکہ اکیسویں صڈی میں یہ اضافہ 18 سے 59 سینٹی میٹر تک ہو سکتا ہے۔ البتہ فطرت ہمیں کسی حیرت انگیز صورتحال کا سامنا کرنے پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔ اور یہ اضافہ توقع سے زیادہ ہوسکتا ہے۔

قطب شمالی میں واقع مغربی سائبیریا میں گزشتہ 40 سالوں کے دوران درجہ حرارت میں تقریباً 3 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہونے والا اضافہ ہے اور اضافہ اسی چکرکا نتیجہ ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک لاکھ سال سے سائبریا کی یخ زمین کے اندر میتھین گیس کے بلبلے قید ہوئے پڑے ہیںجو اب آزاد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں میتھین عالمی حدت میں گئی گنا زیادہ اضافہ کر سکتی ہے۔ مغربی سائبیریا کا رقبہ فرانس اور جرمنی کے کل رقبے جتنا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ منجمند زمین پگھلنا شروع ہو گئی ہے اور کیچڑ اور دلدل کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ کیچر اور دلدل کے بننے کے نتیجے میں میتھین کے بلبلے بڑی تعداد میں باہر آکر فضا کا حصہ بن رہے ہیں۔

ایک اور خطرناک مظہر جو ہمارے سامنے آرہا ہے وہ ہے فضا میں موجود کاربن کو جذب کرنے کے قدرتی عمل میں رکاوٹ۔ منقطہ حارہ کے جنگل جوں جوں گرم ہوتے جارہے ہیں ان میں آگ بھٹکنے کے واقعات اور امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ایسی آگ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار کو فضا میں خراج کرنے کا باعث بنتی ہے نتیجتاً درجہ حرارت بڑھتا ہے اور درجہ حرارت کی یہ تبدیلی پانی کی مقدار کو کم کرتی ہے اور جنگل کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکتی ہے۔ یوں جنگلات میں ہونے والی کمی فضا میں موجود کاربن کی مقدار کو مزید بڑھا دیتی ہے کیونکہ یہ جنگلات بھی کاربن کو جذب کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ کاربن کو جذب کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ سمندر ہیں لیکن ان کی یہ صلاحیت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گرم پانی میں قدرتی طور پر یہ گیس آہستگی سے جذب ہوتی ہے۔ لیکن سائنس دانوں نے اس آہستگی کی ایک اور وجہ بھی دریافت کی ہے۔

قطب جنوبی (انٹار کٹیکا) کے اردگرد موجود سمندر دنیا میں سب سے زیادہ کاربن جذب کرنے والا حصہ ہے جو کل خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً 15 فیصد اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ رسالےنیو سائنٹسٹ کے مئی کے شمارے کے مطابق سمندر میں جذب ہونے والی گیس پانی کی نچلی سرد سطح میں جمع ہوتی ہے لیکن گزشتہ 50 سالوں کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بحر جنوب زیادہ طوفانی ہواؤں کا شکار ہوچکا ہے۔ اب ہلچل کا شکار یہ سمندر اس سرد پانی کو، کہ جس میں کاربن مجتمع ہے، سطح آب پر لے آتا ہے۔ جہاں یہ گیس دوبارہ فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں گزشتہ 24 سالوں کے دوران بحر جنوب میں کاربن کی مقدار مستقل رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ اس عرصے میں اس گیس کے اخراج میں 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

عالمی حدت کے حوالے سے شائع ہونے والی کتابحدت : سیارے کو جلنے سے کیسے بچایا جائےکے مصنف اور گارڈینکے کالمسٹ جارج مونبیوٹ سے جب ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ تبدیلیٔ موسم کے حوالے سے واقعات سائنس سے آگے جا رہے ہیں، جوں ہی لوگ ان پر تحقیق کرتے ہیں یہ مزید آگے جا چکے ہوتے ہیں۔

25 اپریل 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s