اٹلی میں برلسکونی کی جیت

رضوان عطا

دوسال سے بھی کم عرصہ اقتدار سے باہر رہنے کے بعد سیلویو برلسکونی اپنے اتحادیوں سمیت ایک بار پھر برسراقتدار آچکے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں حکمران اعتدال پسند بائیں بازو کو شکست دینے کے بعد دائیں بازو کے برلسکونی تیسری مرتبہ اٹلی کے وزیراعظم بنیں گے۔ ان انتخابات میں سیاسی سطح پر ملک اعتدال پسندبائیں بازو اور دائیں بازو کے مابین واضح طور پر تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتوں کے دوبڑے اتحاد والٹرولٹرونی کی ڈیموکرٹیک پارٹی اور برلسکونی کی پیپل آف فریڈم تقریباً 80 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کمیونسٹ اور سوشلسٹ پہلی مرتبہ اٹلی کی پارلیمنٹ سے باہر ہوگئے ہیں ۔ برلسکونی کی جیت سے کہیں زیادہ بڑی یہ کمیونسٹوں، سوشلسٹوں اور گرینز کی ہار ہے جن کا زینبو لیفٹ نامی اتحاد محض 3 فیصد ووٹ سے کچھ زائد حاصل کرسکا۔

ان انتخابات میں71 سالہ برلسکونی کی جماعت پیپل آف فریڈم کو انتہائی دائیں بازو کی جماعت شمالی لیگ ، جسے بہت سے تنقید کرنے والے نیو فاشسٹ بھی کہتے ہیں، کی حمایت حاصل تھی۔ انتخابات میں عمومی طور پر اٹلی کے ووٹرز کی دائیں بازو کی طرف رغبت نمایاں طور پر دیکھی گئی۔ شمالی لیگ (ناردرن لیگ) نے انتخابات میں اپنے ووٹوں کی شرح کو دوگنا کرتے ہوئے 8 فیصد ووٹ لیے۔ تارکین وطن کے خلاف طویل عرصے سے مہم میں مصروف شمالی لیگ نے اختلاف کی بنا پر 1995ء میں برلسکونی کی حمایت ترک کردی تھی جس کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت ختم ہوگئی تھی۔

انتخابی نتائج سے پرانی یادیں پھر واپس آگئی ہیں، شمالی لیگ کے بغیر برلسکونی کے لئے اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہے اور وہ لیگ سے کوئی بڑی لڑائی مول نہیں لے سکتے۔ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ تاریخ نہیں دہرائی جائے گی۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں برلسکونی نے کہا ہے کہ اس بار وہ5سال کے لئے اقتدار میں رہنے کے لئے آئے ہیں، لیکن اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے برلسکونی کو شمالی لیگ کی بہت سی باتیں ماننا پڑیں گی۔ شمالی لیگ کے تارکین وطن کے حوالے سے موقف کا اظہار جیت کے فوری بعد برلسکونی کی زبان سے ہوا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے تارکین وطن کو ”شیطان کی فوج“ کہہ کر پکارا۔ اس بیان پر مختلف سطحوں پر احتجاج ہوا مگر یہ بات واضح بھی ہوئی کہ اٹلی میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تارکین وطن کے لئے حالات مشکل ہوجائیں گے، باوجود اس کے ملکی معیشت میں ان کی ار زاں محنت اہم کردار کررہی ہے۔

تارکین وطن کے زیر عتاب آنے کے پیچھے اٹلی کی انحطاط پذیر معیشت اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح ہے ۔ علاوہ ازیں انتہائی دایاں بازو عموماً قربانی کے کسی بکرے کی تلاش میں رہتا ہے۔ شمالی لیگ کے رہنما امبرٹو بوسی نے2003ء میں یہاں تک کہہ ڈالا تھا کہ اٹلی میں کشتیوں سے آنے والے تارکین وطن کو تو پوں کے ساتھ روکنا چاہئے جو ” ہر ایک کو پانی میں ہی تباہ کردیں“ ۔شمالی لیگ کے اسلاموفوبیا میں مبتلا ہونے کا ایک بڑا اظہار اس وقت ہوا جب جماعت کے ایک رہنما رابرٹو کا لڈیرولی ڈنمارک میں چھپنے والے خاکوں کی ٹی شرٹ پہن کرایک ٹی وی پروگرام میں دکھائی دیئے۔ بیرونی ملک اور اٹلی میں اس حرکت کا اتنا شدید ردعمل ہوا کہ ان صاحب کو کیبنٹ سے مستعفی ہونا پڑا۔

اس سال اپنی انتخابی مہم کے دوران لیگ نے ایک اور متنازعہ کا م کیا۔ امریکی مقامی (ریڈ انڈین) کی ایک تصویر والا پوسٹر چھاپا گیا جس پر تحریر تھا” یہ ہجرت سے متاثر ہوئے، اب یہ الگ تھلگ بستیوں میں رہتے ہیں“۔ مطلب یہ کہ اگر اٹلی میں مہاجر آتے رہے تو اٹلی کے باسیوں کا یہی حال ہوگا۔ پوسٹر میں امریکی مقامیوں سے دی گئی تشبیہ چاہے کتنی بھی نامعقول کیوںنہ ہو یہ عیاںہے کہ اٹلی کی انتخابی سیاست میں اور ملک کے عوام کے عمومی رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

اٹلی میں خصوصاً خطہءبالقان کے غریب ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک میں رومانیہ، البانیہ اور کوسووا قابل ذکر ہیں۔ تارکین وطن چونکہ کم اجرت پرکام کرنے کے لئے بوجوہ راضی ہوجاتے ہیں اس لئے مراعات یافتہ مقامی لوگ انہیں خطرہ سمجھنے لگتے ہیں،ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب معاشی انحطاط ہو۔ 1960-70ء کی دہائی میں مغربی یورپ کو کام کرنے والوں کی ضرورت تھی اس لئے اس وقت دوسرے ملکوں سے وہاں جانا انتہائی آسان تھا، آج صورتحال مختلف ہے ۔ حالیہ انتخابات میں بری طرح ناکام ہونے والی جماعت کمیونسٹ ری فاونڈیشن کے رہنما برٹی نوٹی نے انتخابات سے قبل 4اپریل کو اپنے ایک بیان میں اٹلی کے حوالے سے کہا ” 1970ء کی دہائی کے وسط میں محنت کشوں کی اجر تیں یورپ میں سب سے زیادہ تھیں، آج یہ سب سے کم ہیں۔“اس وقت اٹلی کی معیشت مغربی یورپ میں سب سے سست رو معیشت ہے۔

معاشی طور پر اٹلی میں شمال اور جنوب کی خاصی تفریق ہے۔ اٹلی کے جزیرے سسلی سمیت جنوب میں اٹلی کی کل 5کروڑ 90 لاکھ آبادی میں سے 2کروڑ 80لاکھ افراد رہتے ہیں۔ جنوب میں سالانہ فی کس آمدنی 14000 یورو ہے جبکہ شمال میں یہ25,000 یورو ہے۔ اس طرح جنوب میں بے روزگاری کی شرح 12فیصد ہے جبکہ شمال میں یہ صرف 4فیصد ہے۔ شمالی لیگ کا گڑھ امیر شمال ہے جہاں ماضی میںصنعتی مزدوروں کی طرف سے بائیں بازو کو ملنے والا ووٹ کچھ حد تک اس جماعت کو منتقل ہواہے۔ اس منتقلی کی وجہ جماعت کا محض تارکین وطن مخالف پروپیگنڈہ نہیں بلکہ سابقہ حکومت کی ناکام سیاسی اور معاشی پالیسیاں ایسے بنیادی عناصر ہیںجو لیگ سمیت برلسکونی کواقتدار میں واپس لائے ہیں۔

سابقہ حکومت کا قصہ کچھ یوں ہے۔جنوری2008ء میں اٹلی کے وزیراعظم رومانو پروڈی سینیٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہیں156ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں161 ووٹ آئے جس کی وجہ سے پروڈی نے استعفیٰ دیا۔ اس وقت اٹلی کے صدر گیورجیوناپولیٹانو کے پاس دوراستے تھے۔ یا تو وہ نگران حکومت قائم کریں یا نئے انتخابات کا اعلان کریں۔ حالات اٹلی کو نئے انتخابات کی طرف لے گئے جو حال ہی میں 13-14اپریل کو منعقد ہوئے۔ پروڈی اپریل 2006ء میں انتخابات جیت کر آئے تھے لیکن ان کی حکومت بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ لے کر چل رہی تھی۔ان جماعتوں میں کمیونسٹ ، لبرل اور کیتھولک سب شامل تھے، اسی لئے حکومت کے لئے مربوط اور یکساں خارجی و داخلی پالیسیاں بنانا مشکل ہوگیا۔ 2007ءکے شروع میں ہی پروڈی کی حکومت کو افغانستان میں اٹلی کی افواج کی موجودگی کے سوال پر بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ پروڈی کی کیبنٹ کے 3 وزیروں نے افغان سوال پرووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ اس ماہ اٹلی میں امریکی فوجی اڈے کا سرما اڈرلے میں وسعت کے سوال نے حکومت کے اندر اسی طرح کا اختلاف پیدا کیا۔ اس کے ساتھ ہی لاکھوں افراد امریکی فوجی اڈے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سٹرکوں پر آئے جن میں انقلابی بائیں بازو نے خاصا موثر کردار ادا کیا۔ لڑکھڑائی ہوئی یہ حکومت بالآخر سال2008ء تک آن پہنچی جس کے ابتدائی ماہ میں وزیرانصاف نے استعفیٰ دے دیا اور پروڈی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت آن پڑی۔ چیمبر آف ڈیپیو ٹینر سے اعتماد کا ووٹ لینے میں تو وہ کامیاب ہوگئے لیکن اگلے دن سینیٹ میں ہار گئے۔ اس طرح اٹلی کی سابقہ حکومت ایک غیر مستحکم حکومت رہی اور اس کی پالیسیاں عوام کو معاشی راحت نہ پہنچا سکیں۔

پروڈی کی سابقہ اتحادی جماعتوں میں بایاں بازو اور انقلابی سیاست دان آخری وقتوں میں علیحدہ ہوگئے یا انہیں علیحدہ کردیا گیا۔ بائیں بازو کے ان لوگوں نے ایک اتحاد رینبو لیفٹ کے نام سے بنایا۔ رینبولیفٹ میں اٹلی کی کمیونسٹ پارٹی کے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد انقلابی سیاست چھوڑنے کے نتیجے میں ریڈیکل بائیں بازو کی علیحدہ ہونے والی جماعت کمیونسٹ ری فاونڈیشن کے علاوہ گرینز اور بائیں بازو کے بعض دیگر ریڈیکل گروپس جیسے اٹالین کمیونسٹس اور ڈیموکرٹیک لیفٹ شامل تھے۔ رینبولیفٹ کو ان انتخابات میں سب سے بڑی شکست ہوئی۔ دراصل ڈیموکریٹک پارٹی سابقہ اتحاد میں شامل اعتدال پسندوں کی جماعت ہے۔

جس وقت یہ اتحاد بنایا گیا تھا اس وقت اس کے رہنماوں کا خیال تھا کہ وہ 15فیصد ووٹ حاصل کریں گے۔ انتخابات سے پہلے ہونے والے سرویز میں انہیں 7فیصد ووٹ ملنے کی خبر سنائی گئی تھی لیکن یہ اتحاد انتخابات میں محض3فیصد سے کچھ زائد ووٹ حاصل کرسکا اور پارلیمنٹ میں جانے سے محروم رہا۔ اور ری فاونڈیشن جس کے سابقہ حکومت میں40ڈیلی گیٹس تھے اس مرتبہ ایک بھی نشست جیتنے سے محرو م رہی۔

اعتدال پسند اور انقلابی بائیں بازو کی ناکامی نے برلسکونی اور اس کے اتحادیوں کو جیت کا موقع دے دیا ہے لیکن بذات خود برلسکونی کی شخصیت اور کردار بہت سوں کے نزدیک متنازعہ ہے اور اس سے اختلاف کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اٹلی کے اندر اور باہر موجود ہے۔ برلسکونی اٹلی کے امیر ترین شخص ہیں اور کمرشل ٹیلی ویژنز پران کی تقریباً مکمل اجارہ داری ہے۔ علاوہ ازیں پرنٹ میڈیا میں ان کا اچھا خاصا کاروبار ہے۔برلسکونی کی کمپنی میڈیاسیٹ کے پاس تین ٹی وی چینلز ہیں۔ اٹلی کے کل ناظرین میں سے آدھے یہی چینلزدیکھتے ہیں۔ وہ اٹلی کے سب سے بڑے پبلشنگ ہاوس ارنولڈو مونڈاڈوری کے مالک ہیں۔ سینما، انشورنس اور بینکنگ کے علاوہ ان کی سرمایہ کاری کئی دیگر شعبوں میں ہے۔ علاوہ ازیں دنیا کے کامیاب ترین فٹ بال کلبوں میں شمار ہونے والے کلب اے سی میلان کے وہ مالک ہیں۔

جب1994ء کے انتخابات سے دو ماہ قبل برلسکونی نے اپنی سیاسی جماعت بنائی تو اس کی ترویج کے لئے میڈیا میں موجود اپنے اثرورسوخ کو پوری طرح استعمال میں لائے۔ انتخابی مہم میں ان کے اپنے ٹی وی چینلز نے بنیادی کردار ادا کیا اور ان کی جماعت 21فیصد ووٹ لیتے ہوئے اتحادیوں کی مدد سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس مہم میں ان کا نعرہ تھا کہ وہ 10لاکھ ملازمین فراہم کریں گے۔ 1994ء میں وزیراعظم بننے کے انہوں نے یہ وعدہ نہ نبھایا۔ جلد ہی اتحادی جماعت ان سے علیحدہ ہوئی نتیجتاً برلسکونی کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اس کے بعد انتخابات میں وہ ہارگئے اور2001ء کے انتخابات میں پھر میدان میں آئے۔ پہلے کی طرح انہوں نے میڈیا کو بے تحاشہ استعمال کیا اور انتخابی جیت کے ساتھ وزیراعظم بنے مگر کئے ہوئے وعدے پھر بھی نہ نبھا پائے۔ اس سال اپریل کے انتخابات میںجتوا کر اٹلی کے عوام انہیں تیسری مرتبہ آزما رہے ہیں۔

ماضی کو دیکھتے ہوئے لگتا یہی ہے کہ برلسکونی اٹلی کے مسائل سے نہیں نمٹ پائیں گے۔ دو آزمائی ہوئی بڑی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی صورت موجودگی اور ملک میں کسی قدرے مضبوط عوام دوست پروگرام رکھنے والی جماعت کی عدم موجودگی عوام کو پارلیمانی سیاست سے دور لے جاسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا توملک میں عوامی جدوجہد پارلیمنٹ کے اندرکم اور سٹرکوں پر زیادہ ہوتی نظر آئے گی۔

برلسکونی کو اٹلی کا سار کوزی کہا جاسکتا ہے۔ فرانسیسی انتخابات میں جیت کے بعد کچھ ہی عرصے میں ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ یہی کچھ برلسکونی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ برلسکونی کی کوششں یہی رہے گی کہ وہ ملک کی معیشت کو آزاد کریں اور امریکہ کے ساتھ دوستی کو مضبوط بنائیں، سارکوزی کی طرح اپنی کاروباری زندگی کی ابتداءسے سکینڈلز اور مقدمات میں ملوث رہنے والے اور ان سے بچ نکلنے والے اٹلی کے نئے وزیراعظم کے مستقبل کا فیصلہ شاید جلد ہوجائے، کیونکہ اٹلی میں حکومتیں عموماً ایک سال سے زیادہ عرصہ بڑی مشکل سے نکال پاتی ہیں۔

25 اپریل 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s