شور مہلک ہے

رضوان عطا

کانوں کو بہت سی آوازیں بھلی لگتی ہیں۔ دھیمی موسیقی ،سریلے نغمے اور چڑیوں کی چہچہاہٹ پسند کی جاتی ہے۔ مگر جب کوئی آواز ناگوار گزرے یا اتنی زیادہ ہو کہ انسانوں اور حیوانوں کی زندگی کو متاثر کرنے لگے تو ہم اسے شور کہیں گے۔ شور نے آج کل زور و شور سے ہماری زندگیوں میں گھر کر لیا ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں شور کی سب سے بڑی وجہ مشینیں ہیں چاہے یہ کسی کار، آٹو رکشہ یا بس کو چلا رہی ہوں یاکسی فیکٹری کو۔ جب سے آمدورفت کے لیے گاڑیوں کا استعمال شروع ہوا ہے،شور میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں نے شور کی حدوں کو انتہا پر پہنچا دیا ہے اور چونکہ ایسی گاڑیاں گنجان آباد شہروں میں زیادہ ہوتی ہیں اس لیے شہر اور شور لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے۔

تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ شور انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ شور انسان کو جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح سے متاثر کرتا ہے۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد شور کو اب آلودگی ایک قسم قرار دیا جا چکا ہے اور اس نوعیت کی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل اور بیماریوں کی فہرست طویل ہے۔ ان میںقوتِ سماعت میں کمی، جارح رویہ، شدید دباؤ کا احساس ، چڑچڑاپن، بلڈ پریشر اور ڈپریشن جیسے خطرناک امراض شامل ہیں۔

جو افراد زیادہ شور میں کام کرتے ہیں ان کی قوت سماعت میں کمی واقع ہو جاتی ہے، خصوصاً عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ سنگیں نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہر میں صنعتی مزدوروں کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور اپنے کام کے دوران شور میں رہتے ہیں۔ 2003ءمیں سرگنگارام ہسپتال کے شعبہ ناک ،کان، گلہ نے لاہور کے پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں پر شور کی وجہ سے قوت سماعت میں کمی کے حوالے سے ایک تحقیق کی۔اس تحقیق میں 8تا10 سال سے زائد عرصے تک ڈرائیونگ کرنے والے پچیس پچیس آٹو رکشہ، ٹیکسی کار، ویگن اور بس ڈرائیوروں کو چنا گیا اور ان کی قوت سماعت جانچی گئی، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ 65 فیصد ڈرائیوروں کی قوت سماعت میں کم درجے کا انحطاط ہوا ہے جبکہ 10 فیصد میں یہ انحطاط درمیانے درجے کا ہے۔ یوں 75 فیصد ڈرائیوروں کی قوت سماعت میں کمی پائی گئی۔

شور سے ایک اور انتہائی مضر بیماری، ہائی بلڈ پریشر پیدا ہوتی ہے۔ آٹھ گھنٹے تک مسلسل اونچے درجے کا شور سننے سے بلڈ پریشر میں پانچ سے دس پوائنٹس کا اضافہ ہوتا ہے۔ شور کے بلڈ پریشر پر اثرات کے حوالے سے 2004ءمیں خیبر میڈیکل کالج پشاور میں ایک تجربہ کیا گیا جس میں کالج کے 117طلباءکو، جن کی عمریں 18 سے 23 سال کے درمیان تھیں، 90 ڈیسیمل کے شور میں 10 منٹ کے لیے رکھا گیا۔ اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ شور سننے کے بعد بلڈ پریشر میں اوسطاً قریب قریب اڑھائی سے تین درجے کا اضافہ ہوا۔ چونکہ شور میں رہنے کا دورانیہ بہت کم تھا اس لیے تھوڑی دیر بعد زیادہ تر طلبا کا بلڈ پریشر نارمل ہو گیالیکن اگر شور مسلسل رہے تو ہائی بلڈ پریشر مستقل صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ہمارے ہاں شور کو بری چیز سمجھنا تو درکنار لوگ اس سے لطف اندوز ہونے کی شے سمجھتے ہیں مثلاً موسیقی کو اونچی آواز میں سننااور شادی بیاہ اور شبِ برات کے موقع پر زور دار پٹاخے ثقافت کا حصہ بن گئے ہیں۔ موٹر سائیکل، کار، بس اور ٹرک چلانے والے بہت سے ایسے ہیں جو اونچی آواز پیدا کرنے والے ہارن نصب کرتے ہیں۔بعض موٹر سائیکل مالکان ٹرک کے ہارن موٹر سائیکل پرنصب کر کے ٹریفک کے مسئلے کو” حل“ کرتے نظر آتے ہیں۔

بچارے ٹریفک پولیس والے چوراہوں کے درمیان کھڑے دھوئیں کے ساتھ ساتھ مسلسل شور کی اذیت برداشت کرتے رہتے ہیں۔ یہی حال سڑکوں کے کنارے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کا ہوتا ہے۔

لاہور میں14 اگست منانے کا ایک طریقہ زیادہ سے زیادہ شور پیدا کرنا بن چکا ہے۔ اس دن سڑکوں پر آئے موٹر سائیکلوں سے سائلنسراتار دیے گئے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ شور کے ذریعے اپنے ”آزاد“ ہونے کا احساس دلانے میں مشغول ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں گرج دار تقریریںپر اثر تصور کی جاتی ہیں اور مسجدوں میں اونچی آواز پیدا کرنے والے اور زیادہ تعداد میں نصب لاؤڈ سپیکروں کو ہرگزبرا خیال نہیں کیا جاتا۔ لاہور ایئرپورٹ کی مضافاتی آبادی ہر آنے اور جانے والے ہوائی جہاز کے ساتھ چند لمحوں کے لیے گویا بہری ہو جاتی ہے۔ بہت سے ملکوں میں ہوائی جہاز کے شور کی شہری آبادی تک پہنچ کو مختلف طریقوں سے روکا جاتا ہے مگر یہاں نئے ائیرپورٹ کی تعمیر میں ایسا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے شور کی سطح کے معیار مقرر کر رکھے ہیں۔ شور کاپیمانہ ڈیسی مل ہے اور عالمی ادارہ کے مطابق رہائشی علاقوں میں شور کی حد45، کمرشل علاقوں میں 55 اور صنعتی علاقوں میں 65 ڈیسی مل ہے۔ اس سال اپریل میں پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ ”ڈیلی ٹائمز“ کو عالمی ادارہ صحت کے شعبہ تحفظ ماحولیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، گلبرگ اور ماڈل ٹاؤن میں شور اوسطاً 75 ڈیسی مل ہے اور صنعتی علاقوں میں یہ اوسطاً 120ڈیسی مل ہے۔ مذکورہ رہائشی علاقے لاہور کی سب سے پوش اور ”پرسکون“ جگہیں مانی جاتی ہیں، تو پھر دیگر علاقوں میں شور کی حد کیا ہوگی، خود ہی اندازہ کر لیجئے۔

پاکستان میں جاری لوڈ شیڈنگ نے شہروں خصوصاً مارکیٹس میں شور کی سطح کو بہت بڑھا دیا ہے۔ بڑے شہروں کے بازاروں میں بجلی کے جاتے ہی جنریٹر چل پڑتے ہیں، جن کا بے ہنگم اور تکلیف دہ شور بمعہ دھواں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان میں شور کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کو حکومت کی سطح پر کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ دوسری طرف عوام شور سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہ نہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہاں شور سے پیدا ہونے والی آلودگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اگرچہ شور کا مسئلہ موجود ہے لیکن اس حوالے سے عوامی شعور کی بلند سطح اور ماحولیات پر کام کرنے والی تنظیموں اور تحریکوں کی بدولت حکومتیں اسے کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھاتی رہتی ہیں ،مثلاً اپریل کے آخر میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل اور سوئٹزرلینڈ کے صدر کے درمیان زیورخ ائرپورٹ میں جہازوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والے شور کے مسئلہ کو حل کرنے کی خاطر مذاکرات ہوئے ۔ سوئٹزرلینڈ میں واقع ائرپورٹ جرمنی کی سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر دوری پر ہے اور زیادہ تر ہوائی جہاز جرمنی کی فضائی حدود سے گزر کر یہاں آتے ہیںجن کے شور سے جرمن سرحد پر واقع آبادی متاثر ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ان دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا باعث ہے۔ 2003ء کے شروع میں جرمنی نے سوئٹزرلینڈ سرحد کے قریب جہازوں کی نیچی پروازوں پر مخصوص اوقات میں پابندی عائد کر دی تھی۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلہ کا کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ سربراہان اس معاملے کو زیر بحث لائے۔

شور کے مضر اثرات محض انسانوں پر نہیں ہوتے بلکہ حیوان بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ شور ان کی ذاتی یا ان کی نسل کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔ زمینی اور آبی جانور باہمی رابطے، خطرے سے آگاہ کرنے یا جنسی اظہار کے لیے مختلف آوازیں نکالتے ہیں اور شور اس میں خلل ڈالتا ہے۔جس سے ان کا نظام حیات متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہر اس مسئلے کا شکار ہیں۔ شور ہماری زندگیوں کو ”خاموشی“ سے بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ شور کے خاتمے کے لیے رہائشی، صنعتی اور کام کی جگہوں پرانفرادی و اجتماعی عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس کام میں حکومتوں کی سست روی اور لاپرواہی افسوس ناک ہے۔

۔۔۔۔۔

گدھوں کا خاتمہ

بھارتی سائنسدانوں کے مطابق ایشیائی گدھ آئندہ دس سالوں میں ناپید ہوجائیں گے۔ ایک بھارتی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق سفیدپشت والے گدھوں کی نسل خاتمے کے قریب ہے۔ گدھوں کی دو اور نسلیں بھی تیزی سے ہلاک ہو رہی ہیںاور اس کی وجہ ہے جانوروں میں استعمال ہونے والی ڈکلوفینیک نامی دوا۔ پاکستان اور بھارت میں اس دوا کا استعمال جانوروں میں کثرت سے ہوا۔ یہ دوا استعمال کرنے والے جانور مرنے کے بعد جب گدھوں کی خوراک بنتے تو اس سے یہ پرندے پہلے بیمار ہوتے ہیں اور پھر ہلاک، یہ ہلاکت گردوں کے ناکارہ ہونے سے ہوتی ہے۔

زوآلوجیکل سوسائٹی لندن کے انڈریوکننگم نے بھارت میں اس دوا پر لگائی گئی پابندی کے حوالے سے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ”انہوں نے صرف مویشیوں کے علاج کے لئے اس دوا کوبنانے پر پابندی لگائی ہے مگر انسانی استعمال کے لئے اس کی پیداوار پر پابندی نہیں“۔انہوں نے مزید کہا ”ڈکلوفینیک سے جانوروں کے علاج پر پابندی نہیں لگائی گئی پس لوگ جانوروں کے بجائے انسانی استعمال کے لئے بنائی گئی اس دوا کو خریدتے اور جانوروں کا علاج کرتے ہیں“۔

بھارت اور پاکستان میں گدھوں کی بعض نسلیں تیزی سے ختم ہورہی ہیں ۔ یہ گدھ مرد ہ جانوروں کو کھاتے ہیں اور ماحول کو صاف رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کا خاتمہ محض ایک ایسی دوا سے جس کا استعمال ضروری بھی نہیں، بہت افسوس ناک ہے۔ پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے بھی گدھوں کے خاتمے سے پریشان ہیں کیونکہ وہ مرنے کے بعد انسانی لاش کو گدھوں کے سامنے ہی ڈالتے ہیں، دفن کرتے یا جلاتے نہیں۔

9 مئی 2008ء کو ہفت روزہ ہمشہری میں شائع ہوا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s