کوسووا آزاد نہیں ہوا

کوسووا آزاد نہیں ہوا

رضوان عطا

17 فروری کو جمہوریہ سربیا سے آزادی کے اعلان کے بعد کوسووا نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں جگہ پائی۔ مسلم اکثریت والے اس ”صوبے“ نے اعلان تو سربیا سے علیحدگی کا کیا ہے لیکن 1999ء سے، جب نیٹو نے خطے پر حملہ کیا، اقوام متحدہ کے مشن کے تحت انتظامی امور کو چلایا جارہا تھا اور سربیا کا انتظامی کنٹرول سرے سے تھا ہی نہیں۔ آزادی کے یک طرفہ اعلان کے فوری بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسی عالمی طاقتوں نے اسے یوں تسلیم کیا جیسے وہ ا س اعلان کی پہلے سے منتظر تھیں۔ اعلان آزادی کے 5 دنوں بعد تقریباً دو درجن ممالک کوسووا کو ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کر چکے تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کسی عرب ملک نے باقاعدہ طور پر کوسووا کو تسلیم نہیں کیا۔ مسلم ممالک میں مقبوضہ افغانستان کی حکومت ،آزادی کے اس تازہ علمبردار کو تسلیم کرنے میں بازی لے گئی۔ افغان حکومت کا براہِ راست کوسووا سے کوئی سیاسی و معاشی رابطہ نہیں۔ ایک افغان اخبار کے ایڈیٹر حافظ منصورکے مطابق افغانستان کو اس فیصلے کی اتنی جلدی تھی کہ اسے کیبنٹ یا پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ بقول ان کے ”کچھ قانون سازوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ نقشے میں کوسووا ہے کہاں۔“غیر اہم وہ ممالک بھی نہیں جو خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن آنے والے عرصے میں اعلانِ آزادی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بگڑنے یا سنورنے میں سربیا نواز ممالک خصوصاً روس اہم کردار ادا کریں گے۔

سربیا سے علیحدگی کے اعلان کے چند دن بعد بلغراد میں ہزاروں افراد نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کو جلا دیا۔ بلغراد میں ہونے والے رد عمل میں میکڈونلڈ سمیت مغربی کاروباریوں کی دیگر ملکیتوں پر حملے کئے گئے۔ 1999ء میں نیٹو کی بمباری کے خلاف اور اکتوبر2000ء میںسلوبودان ملا سووچ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے والے عظیم الشان مظاہروں سے یہ اجتماع کچھ کم نہ تھا۔ بپھرے ہوئے یہ سب لوگ اتنے اکیلے نہیں ۔ روس اور چین اس علیحدگی کے شدید مخالف تو ہیں ہی لیکن اس اعلان نے خود یورپین یونین کے اندر اختلاف پیدا کر دیئے ہیں۔ مغربی یورپ کا سب سے بڑا ملک اسپین اپنے اہم یورپی ہمسائیوں کا ساتھ دینے کو بالکل تیار نہیں۔ اعلان آزادی کے فوری بعد برسلز میں یورپی یونین کے ہونے والے اجلاس میں مجتمع ہوئے وزرائے خارجہ متفقہ موقف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

اجلاس کے بعد اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسپین کے وزیر خارجہ نے کہا ” اسپین کی حکومت اس یک طرفہ عمل کو تسلیم نہیں کرے گی۔“ دیگر یورپی ممالک جنہوں نے کھلے عام کوسووا کی آزادی کی مخالفت کی ان میں یونان، قبرص، سلواکیہ، پرتگال، مالٹا، بلغاریہ اور رومانیہ شامل ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ یورپی ممالک کی ایک اچھی خاصی تعداد کوسووا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے منکر ہے۔

کوسووا کی آزادی کے بعد یورپی ممالک کے مابین اختلاف کی نوعیت اس قدر سنجیدہ نہیں ہوئی جتنی امریکہ اور روس کے درمیان ہو چکی ہے۔ 1991ء میں وار ساپیکٹ کے بعد امریکہ روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہے اور اس عمل میں حالیہ برسوں میں کافی تیزی آئی ہے۔ جہاں اس کا مقصد سوویت یونین سے آزاد ہونے والی یا اس کے اثر سے نکلنے والی ریاستوں میں اپنے معاشی، سیاسی اور سٹریٹجک مفادات پر مبنی پالیسیوں کا اطلاق ہے وہیں وہ وسطی ایشیا سے تیل اور گیس کے راستوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اس عمل میں خطہ بلقان نہایت اہم ہے اور امریکی کوشش خطے کے ممالک کو یہ جتلانے کی ہے کہ اسی کے کندھے ہی بیٹھنے کی مناسب جگہ ہیں۔ بالخصوص یوکراین میں آنے والے ”اورنج ریولوشن“ اور جارجیا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد وائٹ ہاوس کا روس کی طرف جارحانہ موقف دیدنی رہا ہے۔

امریکی جارحیت کے خلاف اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے روس بھی بلقان میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ یہ نیٹو اور امریکہ کو آسانی سے اپنی سرحدوں کے مزید قریب آنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتا۔ اپنے اثر کو قائم رکھنے کے لیے یہ دیو ہیکل ملک اپنے قدرتی وسائل کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ روس نے اعلان آزادی کے مخالف ممالک یونان اور بلغاریہ کے ساتھ تیل کی پائپ لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنارکھا ہے اور حال ہی میں اس نے سربیا کی سرکاری کنٹرول میں چلنے والی تیل کی صنعت کو خریدا ہے۔

کوسووا کی آزادی کے حامیوں کے دوہرے معیار پر روس کی تنقید تو جائز ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے ایک موقع پر کوسووا اور فلسطین کا قدرے تقابل کرتے ہوئے جی 8 کو مخاطب کیا اور کہا ”کوسووا کی آزادی کی حمایت میں انہیں اتنی جلدی کیوں تھی ، جبکہ 40 سال سے جاری آزادی فلسطین کی تحریک کی حمایت کرنے میں وہ ناکام رہے ہیں۔“ درحقیقت جو دلائل امریکہ اور بعض یورپی ممالک کوسووا کی آزادی کے حق میں دے رہے ہیں وہ سب کم و بیش فلسطین پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ فلسطینیوں کو بھی بڑی تعداد میں مارا گیا اور بے دخل کیا گیا۔ دوہرے معیار کی ایک مثال صدام حسین کے دور میں کرد اور شیعہ بغاوتیں ہیں جنہیں کچلنے کے لیے امریکہ نے خاموش تماشائی بن کر مدد فراہم کی ۔ مگر اس سب کے باوجود روس بھی دو کشتیوں پر سوار ہے۔ جارجیا نے کوسووا کی آزادی کی مخالفت کی ہے باوجود اس کے کہ وہاں کی حکومت روس نواز نہیں۔ روس کسی حد تک کوسووا کی آزادی کے سوال کو ابغازیہ اور جنوبی اوسیشیارپر لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں علیحدگی پسندوں کو روسی حمایت حاصل ہے اور ان علاقوں کی علیحدگی جارجیا کو ہرگز قبول نہیں۔ روسی ہمسائے اذربائیجان اور آرمینیا بھی اعلان آزادی کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ نیکوورنو کارا باغ کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔

سوویت یونین کے انحطاط کے بعد یورپ کے بدلتے منظر نامے میں امریکہ اور نیٹو کردار بلقان کی تقسیم میں انتہائی اہم رہا ہے۔ دو مقابل سپر پاور کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ کی طرح بلقان مداخلت کے لیے امریکی حکومتوں کے ہاں سر فہرست رہا۔ ان دونوں خطوں میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مداخلت کی گئی اور اس مداخلت کے بعد جس طرح مقبوضہ علاقوں میں امور کو سرانجام دیا گیا ان میں خاصی مماثلت نظر آتی ہے، دونوں جگہ انسانیت کو بچانے کی خاطر حملے ہوئے۔

بلقان کوکنٹرول کرنے کے لیے یوگوسلاویا کی تقسیم کو عملی جامہ پہنانا امریکہ اور بعض یورپی ممالک خصوصاً جرمنی کے لیے خاصا اہم تھا۔ کوسووا اور بلقان Black sea تک پہنچنے اور Caspian Basin میں موجود توانائی کے ذرائع تک رسائی کے لیے اہم راستہ ہے ۔اس خطے سے گیس اور تیل کی پائپ لائن گزارنے کے لیے بعض بڑی طاقتوں کے منصوبے باہمی مقابلے کا شکار ہیں۔ کوسووا میں معقول حدتک سونا، سیسہ اور جست کے ذخائر موجود ہیں۔ کوسووا میں دفن کوئلے کا شمار یورپ کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے جن کے حصول کے لیے بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں ہاتھ پیر ماررہی ہیں۔حال ہی میں برطانوی کمپنی لیڈیان انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ کوسووا میں سونے کے بڑے ذخائر ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ کوسووا میں تیل نہیں لیکن یہ تیل اور توانائی کے دیگر ذرائع کے حصول کے لیے اپنے محل وقوع کی وجہ سے اہم ضرور ہے۔ نومبر1998ءمیں امریکہ کے انرجی سیکریٹری بل رچرڈسن نے خطے کے بارے میںاپنی پالیسی کو کچھ اس انداز میں بیان کیا تھا ” یہ امریکہ کی توانائی کی ضروریات کے تحفظ کی بات ہے ۔۔۔ ہم نوآزاد ممالک کو مغرب کی طرف لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ان کا انحصار مغرب کے تجارتی اور سیاسی مفادات کے تحت ہو۔ ہم نے کیسپین میں کافی سیاسی سرمایہ کاری کی ہے اور ہمارے لیے یہ خاصا اہم ہے کہ پائپ لائن اور سیاسی منصوبہ پر ٹھیک طرح سے عمل درآمد ہو۔ سال2001ءمیں برطانوی اخبار گارڈین کے کالم نگار جارج مونبیوٹ نے اپنے لکھے گئے مضمون میںرچرڈ سن کے بیان کا حوالہ دیااور یہ بھی ذکرکیا کہ وسط ایشیا کی زمین میں دبے توانائی کے وسائل کے حصول کے لیے خطہ بلقان سے گزرنے والی ایک پائپ لائن مغربی یورپ کے ممالک کے لیے توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گی۔ مصنف کے مطابق پائپ لائن کے اس منصوبے کو ” ٹرانزبلقان پائپ لائن“ کا نام دیا گیا۔ مونبیوٹ کے مطابق بلقان کی عسکری سیاست میں اس کی حیثیت کافی اہم تھی۔ 9دسمبر 1998ء کو البانیہ کے صدر نے صوفیہ میں اس منصوبے کے حوالے سے ایک میٹنگ میں شرکت کی اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کوسووا کی آزادی کو ضروری قراردیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سووا کی علیحدگی میں مدد کیجئے اور ہماری مد دلیجئے۔

منصوبے کے مطابق ٹرانز بلقان پائپ لائن 2011ء تک کام کرنا شروع کردے گی، اس منصوبے پر اخراجات کا تخمینہ 1.1بلین ڈالر ہے اور یہ بلیک سی پر واقع بندرگاہ برگاس سے میسی ڈونیا اور پھر البانیا کی بندرگاہ ولورے تک جائے گی۔ 894کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کو امریکہ میں رجسٹرڈ کمپنی البانیئن میسی ڈونیئن بلغیریئن آئل کمپنی (AMBO) مکمل کررہی ہے۔

امیریکاایٹ وار ان میسی ڈونیا نامی کتاب کے مصنف پروفیسر میخائل چوسوڈووسکی کے مطابق” امریکی اے ایم بی او پائپ لائن کنسورشیئم کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سیاسی وعسکری سیاست اور نائب صدر ڈک چینی کی فرم ہیلی برٹن انرجی سے براہ راست تعلق ہے۔ ہیلی برٹن کی فیزی بیلیٹی رپورٹ کی تکمیل کے بعد ہیلی برٹن کے ایک سینئر ایگزیکٹو کو اے ایم بی او کا سی ای او نامزدکیا گیا۔ ہیلی برٹن کو بلقان میں امریکی فوجوں کی فراہمی اور کوسووا میں ”بونڈسٹیل“ جو ویت نام کے بعد تعمیر ہونے والا سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے، کاکنٹریکٹ دیا گیا۔

1988ءکے بعد یوگو سلاویہ میں سربیا کے ابھرتے ہوئے سرمایہ دار طبقے نے ملاسووچ کی سربراہی میں حکمرانی کا آغاز کیا تو انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کوغصب کرنا شروع کردیا۔ سربیائی رہنما ملاسووچ نے سابق یوگو سلاویہ میں کوسووا کو حاصل صوبائی خود مختاری کا خاتمہ کردیا اور حق حکمرانی کو سووا کی10فیصد سرب اقلیت کو دے دیا گیا۔ اس دوران کو سووا کی البانوی اکثریت کے بڑے حصے کو سرکاری نوکریوں سے برخاست کیا گیا اور حکومتی امور اور سکولوں میں البانوی زبان پر پابندی لگادی گئی۔ایک انداز کے مطابق 115,000البانویوں کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا اور ان کی جگہ سربوں کو بھرتی کیا گیا۔ کوسووا میں البانوی زبان کے واحد روزنامے Rilindja پر پابندی لگادی گئی، علاوہ ازیں ان تمام ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا جو البانوی زبان میں تھے ۔اس کے جواب میں1990ءمیں کوسووا کی البانوی اکثریت (85فیصد) نے ایک تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں سرکاری سکولوں کے مساوی سکولوں کا ایک اپنا نظام قائم کیا گیا، ایک اپنی منتخب حکومت قائم کی گئی اور سربیائی غلبے کے خلاف بعض دیگر ریاستی ادارے، اگرچہ ادھورے ، قائم کئے گئے۔ یہ تحریک بہت کامیاب تھی اور تقریباً پورے کو سووا میں پھیلی ۔اس تحریک کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ پرامن تھی اور اس نے ہڑتالوں ، بائیکاٹ ، پرامن احتجاج اور اپنے ادارے قائم کر کے ملاسووچ کی پالیسیوں کو ردکیا۔ امریکہ اور مغربی ممالک کے تیل اور سٹریٹیجک اہمیت کے منصوبوں کو ابھی آخری شکل نہیں دی گئی تھی اس لیے کو سووا کے عوام کی جدوجہد کو نظر انداز کردیا گیا۔ آج کوسووا کے اعلان آزادی پر لبیک کہنے والے شاید بھول گئے ہیں کہ یہ اعلان وہ پہلے 1990ءمیں بھی کر چکے ہیں۔

1990ءکی دہائی کے شروع میں کی گئی جدوجہد، جسے اوپر سطروں میں بیان کیا گیا ہے، اسی کی کڑی تھی۔ اس جدوجہد کی حمایت نہ تو امریکہ نے کی اور نہ ہی آج وہاں موجود نیٹو نے، عدم تشدد پر مبنی یہ جدوجہد جب کمزور ہونا شروع ہوئی تو سخت گیر اور تشدد پر آمادہ کوسووا لبریشن آرمی (کے ایل اے) کا ظہور ہوا جس نے پر امن جدوجہد کی مخالفت کی۔ کے ایل اے نے نہ صرف سرب اہلکاروں پر حملے کئے بلکہ میانہ رو کو سوائیوں کے خلاف بھی پر تشدد کاروائیاں کیں۔

مغربی ممالک آٹھ سال تک کوسووا کے عوام کی پرامن جدوجہد کو نظر انداز کرتے رہے باوجود اس کے کوسووا کے عوام آزادی کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے۔ ملاسووچ کے ٹینکوں کی مدد سے برخاست کی گئی کوسووا کی صوبائی حکومت نے ستمبر 1991ء میں ایک ریفرنڈم کروایا جسے سربیائی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کوشش کے باوجود نہ روک سکیں۔ اس ریفرنڈم میںٹرن آوٹ 90فیصد رہا اور98فیصد نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔

وسائل کی چمک اور نئے سٹریٹیجک مفادات نے سابق یوگو سلاویا میں نیٹو کی بمباری کی راہ ہموار کی۔ یہیں القاعدہ سے نیٹو کی ہوئی شادی بوسینا ہرزیگووینا میں 1995ءکی بمباری کے بعد اختتام پذیر ہونے کو آئی اور پھر سربیا کی باری آئی جہاں کے ایل اے کے ابھار کے ساتھ ملا سووچ کی کوسووا کے البانوں کے خلاف مہم تیز ہوچکی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1999ءمیں 24 مارچ سے 10 جون تک دنیا کے طاقتور ترین فوجی اتحاد نیٹو کی سربیا پر کی جانے والی بمباری سے قبل کوسووا میں 2000 افراد ملا سووچ کی فوج کے ہاتھوں ہلاک اور تقریباً 300,000 بے گھر ہو چکے تھے۔ یہ ایک بڑی تعداد ہے اور یہ امر افسوس ناک ہے کہ اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن اس صورتحال کو امریکہ ، بعض یورپی ممالک اور ان کے ہمنوا میڈیا نے جس طرح استعمال کیا اس کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔

اسے قتل عام (جینو سائٹ) قرار دیا جانے لگا۔ 1994ءمیں روانڈا میں جو ہوا اسے قتل عام کہا جا سکتا ہے۔ 100 دنوں کے اندر ایک اندازے کے مطابق 5 سے 8 لاکھ تتسی قبیلے کے افراد کو ہو تو قبیلے کے لوگوں نے قتل کیا لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے قتل ِ عام کا لفظ استعمال نہ کیا جائے ۔ نوم چومسکی کے مطابق ترکی نے سربیا پر امریکی بمباری سے پہلے اور اس کے بعد جتنے کو سووائی البانوی ہلاکیے ان سے کہیں زیادہ کرد مارے ہیں لیکن نیٹو کے اتحادی ہونے کی وجہ سے اسے قتل ِ عام سے تعبیر نہیں کیا جاتا ۔ 1975ءسے1980ءکے درمیان انڈونیشیا کی جنوبی تیمور میں مداخلت کے نتیجے میں آبادی کا تیسرا حصہ انڈونیشیائی فوج اور ان کے حامیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا لیکن نیٹو اور امریکہ اس کے لیے قتل ِعام کا لفظ استعما ل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے ہمنوا میڈیا کی مثال دیکھئے نیویارک ٹائمز نے 1999ءمیں 85 مختلف مضامین میں سربوں کے ہاتھوں کوسووا یوں کی ہلاکت کے لیے لفظ قتل ِ عام استعمال کیا جن میں 15 ایسے مضامین تھے جو صفحہ اول پر شائع ہوئے۔ اس کے برخلاف اسی سال مشرقی تیمور کے لیے یہ لفظ 9 مرتبہ استعمال ہوا اور اسی سال ترکی کے ہاتھوں کردوں کی ہلاکتوں کے لیے یہ لفظ کبھی استعمال نہیں کیا گیا، مطلب صاف ظاہر ہے کہ کوسووائی ہلاکتوں کو بڑھا کر پیش کرنا نیٹو اور امریکہ کے مفاد میں تھا اور اسی لیے اسے یوں ہی پیش کیا گیا۔

سربیا پر نیٹو کے حملے کے دوران سی بی ایس ٹی وی کے پروگرام” فیس دی نیشن“ میں امریکی ڈیفنس سیکریٹری ولیم کوہن نے دعویٰ کیا ”ہم نے دیکھا کہ فوج میں بھرتی کی عمر کے 100,000 جوان لاپتہ ہیں، شاید انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ اسی تعداد کو دہراتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اسے” ہالو کاسٹ“ سے تعبیر کیا، اگست2000ءمیں سابق یوگو سلاویا کے لیے بنائے گئے انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبونل نے اعلان کیا کہ اسے کوسووا میں 2788 لاشیں ملی ہیں، اسی سال جون میں ریڈ کراس کی رپورٹ کے مطابق کل 3368 شہری ہلاک ہوئے جن میں 2500 البانوی تھے۔ اگرچہ ہلاکتوں کی کل تعداد کا تعین نہیں ہوسکالیکن اب امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کہتا ہے کہ کل ہلاکتیں 10,000 تھیں۔

نیٹو کے حملے کا مقصد کوسووا کے البانویوں کی مدد نہیں تھا، حالات و واقعات تو یہی بتاتے ہیں ۔ دراصل ملا سووچ کی فوج نے نیٹو کے حملے کے بعد البانویوں کو تیزی سے قتل کرنا شروع کیا۔ یہ بات واضح تھی کہ ایسا ہو گاکیونکہ ملا سووچ کی سیاست کو سووا کو سر بیا میں شامل کرنے کے گرد گھومتی تھی اور اس کے لیے اس علاقے کو چھوڑنا اتنا آسان نہ تھا۔

اب جو ملک” آزاد “ ہوا ہے اور جس کا نام کوسووا ہے اس کا حال سن لیجئے ۔ کوسووا اب یورپ کا غریب ترین ملک ہے، اس کی فی کس جی ڈی پی افریقی ملک گھانا کے برابر ہے۔ نیٹو کی بمباری کے بعد کوسووا کواقوام متحدہ کے حوالے کر دیا گیا تھا لیکن اقوام متحدہ کے آٹھ سالہ اقتدار میںکوسووا کی معیشت میں ذرہ برابر بہتری نہیں ہوئی۔

معیشت، ملا سووچ کے مظالم اور نیٹو کی بمباری سے، صنعت اور سول ڈھانچے کی ہونے والی تباہی سے بدحال تھی۔ اسے بہتر کرنے کی کوئی کوشش ہمیں ان ممالک کی طرف سے نظر نہیں آتی جو اسے سربیا سے آزاد کرانے آئے تھے۔ سال 2007ء میں کوسووا کی درآمدات 1.5بلین یورو تھیں لیکن برآمدات صرف 150 ملین یورو۔ اقوام متحدہ نے کوسووا کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جس کی معیشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ کم از کم ایسا تو ضرور ہوا کہ اس کی معاشی حالت سدھارنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ سربیا سمیت یورپی کمپنیاں منافع کی دوڑ میں مقامیوں کو بھول چکے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوسووا کے البانوی استحصال کا شکار رہے۔ نیٹو کے یوگوسلاویہ میں انہیں جو مراعات حاصل تھیں وہ ملا سووچ نے واپس لیں اور رہی سی کسر نیٹو اور اقوام متحدہ کی انتظامیہ نے نکال دی۔ اعلانِ آزادی کے باوجود کوسووا آزاد نہیں۔ اقوام متحدہ کے بعد اسے یورپی یونین کی نیم غلامی میں دے دیا گیا۔ یورپی یونین کا نامزد کردہ انٹرنیشنل سویلین ریپریز ینٹیٹو حتمی فیصلے کرنے کا مجاز ہوگا اور اسے آمرانہ طاقت حاصل ہو گی، اس کی مرضی کے بغیر کو سووا کی پارلیمنٹ کوئی بڑا فیصلہ لینے کی مجاز نہیں۔ پس کوسووا ابھی آزاد نہیں ہوا۔

یہ مضمون5 ،6 مارچ 2008ء کو تحریراور ہمشہری میں شائع کیا گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s