ایکواڈور میں کولمبیا کی مداخلت

رضوان عطا

یکم مارچ کو کولمبیا میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چھاپہ مار تنظیم یرولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا (فارک) کے ایک مرکزی رہنما راول رئیز کولمبیائی افواج کے ایک حملے میں اپنے تقریباً 20 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ حملہ کولمبیا کی سرزمین پر نہیں ہوا بلکہ راول اوراس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے کولمبیا کی افواج نے ایکواڈور کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں کولمیبا لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک خصوصاً ایکواڈور اور وینز ویلا کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا۔

حملے سے ایک ہفتہ قبل ہی ایکواڈور اور وینز ویلا کی حکومتوں نے کولمبیا سے کہا تھا کہ وہ اس چھاپہ مار گروپ کے ساتھ امن اور مذاکرات کو اہمیت دیں۔ علاوہ ازیں فارک کے جس رہنما کو مارا گیا ہے وہ فارک کے ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ فارک کے ساتھ بیرونی دنیا کے مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ حال ہی میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ہو رہے تھے تاکہ فرانس میں صدارت کے سابق امیدوار انگرڈ بیٹنکورٹ کی رہائی کو ممکن بنایا جاسکے ۔ جو اس وقت فارک کے قبضے میں ہیں۔ لاطینی امریکہ کے ممالک ، خصوصاً کولمبیا کے ہمسائے ایکواڈور اور وینزویلا کو فارک کے رہنما کے قتل سے زیادہ غیرقانونی فوجی مداخلت پر طیش آیا کیونکہ یہ حملہ فارک کے ساتھ مذاکرات کے راستے کو روکنے کے علاوہ ایک خطرناک رحجان کی طرف واضح اشارہ تھا: دوسرے ملکوں میں فوجی مداخلت جائز ہے۔

کولمیبا اور امریکی انتظامیہ کے عتاب میں پہلے سے آئے ہو گو شاویز کا رد عمل شدید تھا۔ انہوں نے حملے کے بعد اپنے ایک بیان میںکولمبیا کو ایک ”دہشت گرد“ ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہ”لاطینی امریکہ کا اسرائیل“ بن چکا ہے۔ شاویز نے مزید کہا کہ اگر کولمبیا نے وینز ویلا کی سرحدی حدود کے اندر کوئی کارروائی کی تو اسے جنگ تصور کیا جائے گا۔

حملے کے بعد ایکواڈور اور وینزویلا نے احتجاجاً اپنے سفارت کاروں کو لمبیا سے واپس بلالیا۔ اس موقع پر رافیل کوریا نے کولمبیا کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ”ایکواڈور اپر ایک جارح اور جنگجو حکومت نے بمباری کی ہے“ ۔ وینزویلا اور ایکواڈور کی حکومتوں کی جانب سے آنے والے ردعمل نے نہ صرف کولمبیا کی حکومت پسپا ہونے پر مجبور کیا بلکہ ان دونوں کے درمیان سیاسی اور تجارتی تعلق کو مزید گہرا کر دیا۔ حملے کے بعد رافیل کوریا نے وینزویلا کا دورہ کیا ور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد مشترکہ لائحہ عمل پر غور خوض کے علاوہ باہمی تجارت بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کوریا نے کولمبیا سے تجارتی تعلق کو کم کرتے ہوئے وینزویلا کی حکومت سے ایک معاہدہ کای جس کے تحت پہلے کولمبیا سے درآمد کی جانے والی خوراک اب وینز ویلا سے درآمد کی جائے گی۔ یہاں تک کہ نکارا گوا کے صدر ڈینیل اور ٹنکا نے کولمبیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان ”ایکواڈوریائی عوام سے یکجہتی“ کے نام پر کر دیا۔

حملہ کرنے کے بعد کولمبیا کی حکومت کی پسپائی فوری نہ ہوئی۔ ایکواڈور اور وینزویلا کی طرف سے آنے والے سخت بیانات کے بعد اور یبے نے بھی لنگوٹ کسا تھا اور کوریا اور شاویز پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اریبے نے فارک کی حمایت کرنے اور اسے فنڈ فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شاویز کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت(آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کی دھمکی دے ڈالی ۔ بہت سے لوگوں کیلئے یہ ایک حیران کن بات تھی کہ کسی ملک کے صدر کو بغیر کسی واضح ثبوتوں کے ایسی دھمکی دی جا رہی ہے۔ اوریبے کو بھی شاید جلد اپنی دھمکی کے احمقانہ ہونے کا شک ہوا اور انہوں نے اسے دہرایا نہیں ۔ اوریبے کے اس دھمکی آمیز بیان کے بعد کولمبیا کے ریڈیو کا راکول نے اپنی رپورٹ میںکہا کہ لائے گئے الزامات پر اوریبے”ازسیر نوغور“ کر رہے ہیں۔ ایکواڈور کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے بعد کولمبیا کی حکومت رد عمل کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بمباری ان کے اپنے ملک کے اندر کی گئی پھر یہ کہتے ہوئے کہانی بدل دی گئی کہ ”کولمبیا نے کسی کی خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں کی، ہم نے صرف قانون کی حد میں رہتے ہوئے دماغ کے اصولوں کے تحت کارروائی کی“ اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ایکواڈور کی سرحد سے ان پرفائرنگ ہوئی جس کا جواب دیا گیا۔ بعد ازاں یہ واضح ہو گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور کولمبیا کی فضائیہ نے ایکواڈور کی سرحد میں گھس کر سوئے ہوئے فارک کے ارکان پر کلسٹر بم پھینکے اور پھر زمینی حدود سے داخل ہو کر لاشوں اور سامان اور لے آئے۔

شاویز اور کوریا پر الزامات کا سلسلہ رکا نہیں ۔ کولمیبا کے نائب صدر فرانسسکو سانتوس کالڈیرون نے دعویٰ کیا کہ حملے کے دوران ہلاک ہونے والوں سے انہیں لیپ ٹاپ ملے ہیں جن میں موجود مواد سے ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ وینز ویلا نے فارک کو 300 ملین ڈالر دیئے ہیں اور یہ کہ شاویز اور کوریا کے اس باغی گروپ کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ اس کے ساتھ نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ فارک نے خام بم (ڈرٹی بم) بنانے کے لیے 50 کلوگرام یورینیم بھی حاصل کی ۔ ان سنگیں الزامات کے ثبوت فراہم کرنے میں کولمبیا کے نائب صدر البتہ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

کولمبیا کی طرف سے شاویز اور کوریا پر دباو¿ ڈالنے اور ایکواڈور کے اندر فوجی کارروائی کو جائز قرار دینے کی کوششیں اوریبے کی مدد میں پیش پیش امریکی حکومت نے کیںاور جوابھی تک جاری ہیں۔ واشنگٹن کولمبیا کو ہرسال 600ملین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ ابتداءمیںیہ امداد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیم فارک کے خلاف لڑنے کے لیے عموماً استعمال ہو تی تھی لیکن اب یہ لاطینی امریکہ میں امریکی پالیسی کی مخالفت کرنے والے ممالک کے خلاف استعمال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر بش نے اپنے ایک حالیہ بیان میں شاویز پر الزام لگایا کہ وہ ہمسایہ ملک کولمبیا میں ”دہشت گردوں“ کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اپنے ملک میں موجود تیل کی دولت کے بل بوتے پر امریکہ مخالف مہم چلا رہا ہے۔ صدر بش نے مزید کہا کہ ”وینزویلا کے صدر نے دہشت گرد رہنما کی تعریف بطور ایک اچھے انقلابی کے کی اور اپنی افواج کو کولمبیا کی سرحد پر روانہ کر دیا“۔ یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب ایکواڈور اور وینزویلا کی افواج کولمبیا کی سرحد سے واپس آچکی تھی اور یہ دونوں ممالک کولمبیا سے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر راضی ہو چکے تھے۔ شدید الزامات اور تناو¿ بھرے ماحول میں 8 مارچ کو جمہوریہ ڈومینیکن میں ریوگروپ کی بیسیویں صدارتی کانفرنس نے مطلع کو کچھ صاف کیا ہے۔ اس کانفرنس کے دوران کولمبیا ، ایکواڈور اور وینزویلا کے صدر ایک معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس سے جنگ کا منڈلا تا ہوا خطرہ فی الحال دور ہوگیا ہے۔ ریو گروپ میں 19 ممالک شامل ہیں اور 1986ءمیں قائم ہونے والے اس گروپ نے ایکواڈور کی سرحدی خلاف ورزی کی مذمت کی اور دو روز قبل آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کی اس قرار داد کو اپنایا جس میں کولمبیائی حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس موقع پر کولمبیا کے صدر کا کہنا تھا کہ کولمبیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی میںکچھ وقت لگے گا کیونکہ اعتماد کو بحال کرنا بہت مشکل عمل ہوگا، البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ وینز ویلا سے تعاون کے ساتھ تعلقات کو جلا بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے موقع پر شاویز کے جلال میں کمی دیکھی گئی اور وہ مصالحت کرانے کی طرف آمادہ نظر آئے۔ اس موقع پر سربراہان مملکت کو یہ مشورہ دیا کہ وہ دماغ ٹھنڈا رکھیں کیونکہ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو معاملہ مزید گرم ہو جائے گا۔

ہمسایہ ملک کولمبیا میں” دہشت گردوں“ پناہی کر رہا ہے اور اپنے ملک میں موجود تیل کی دولت کے بل پوتے پر امریکہ مخالف مہم چلارہا ہے۔ صدر بش نے مزید کہا کہ ”وینزویلا کے صدر نے دہشت گرد رہنما کی تعریف بطور ایک اچھے انقلابی کے کی اور اپنی افواج کو کولمبیا کی سرحد پر ورانہ کردیا “ یہ بیان ایک ا یسے موقع پر سامنے آیا جب ایکواڈور اور وینزویلا کی افواج کولمبیا کی سرحد سے واپس آچکی تھی اور یہ دونوں ممالک کو لمبیا سے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر راضی ہوچکے تھے۔ شدید الزامات اور تناو¿ بھرے ماحول میں8مارچ کو جمہوریہ ڈومینیکن میں ریوگروپ کی بیسویں صدارتی کانفرنس نے مطلع کو کچھ صاف کیا ہے۔ اس کانفرنس کے دوران کولمبیا ایکواڈوراور وینزویلا کے صدور ایک معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس سے جنگ کا منڈلانا ہوا خطرہ فی الحال دور ہوگیا ہے۔ ریوگروپ میں19ممالک شامل ہیں اور 1986ءمیں قائم ہونے والے اس گروپ نے ایکواڈور کی سرحدی خلاف ورزی کی مذمت کی اور دوروز قبل آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کی اس قرار دار کو اپنا یا جس میں کولمبیائی حملے کی مذمت کی گی تھی۔ اس موقع پر کولمبیا کے صدر نے ایکواڈور کی حکومت اور عوام سے باقاعدہ معافی مانگی۔ علاوہ ازیں انہوںنے اس نوعیت کی کارروائی کو دوبارہ کبھی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس سب کے باوجود ایکواڈور کے صدر کا کہنا تھا کہ کولمبیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا کیونکہ اعتماد کو بحال کرنا بہت مشکل عمل ہوگا، البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ وینز ویلا سے تعاون کے ساتھ تعلقات کو جلد بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے موقع پر شاویز کے جلال میں کمی دیکھی گئی اور وہ مصالحت کرانے کی طرف آمادہ نظر آئے۔ اس موقع پر سربراہان مملکت کو یہ مشورہ دیا کہ وہ دماغ ٹھنڈا رکھیں کیونکہ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو معاملہ مزید گرم ہوجائے گا۔ ریو گروپ کے اجلاس کے بعد ونیز ویلا اور کولمبیا کے تعلقات میںعارضی بہتری تو آچکی ہے۔ وینز ویلا نے کولمبیا سے کہا ہے وہ جس وقت چاہے اپنے سفارتی عملے کو وینز ویلا واپس بھیج سکتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ بہتری دیر پاثابت ہو۔

لاطینی امریکہ میں کولمبیا امریکہ کاسب سے بڑا اتحادی ہے اور2000ءسے اب تک یہ امریکہ سے 5بلین ڈالر کی فوجی امدادلے چکا ہے۔ ظاہر ہے اس امداد کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کے مطابق مختلف اعمال کو سرانجام دینا ہے۔ بائیں بازو کے مسلح گروپ نارک کے خلاف یہ امداد تو استعمال کی ہی جارہی ہے لیکن اب اس امداد سے ان حکومتوں پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے جو امریکی پالیسی کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان میں وینز ویلا سر فہرست ہے۔2002ءکے انتخابات کے بعد جب اوریبے اقتدار میں آئے، شاویز کے بارے میں ان کاموقف سخت رہا ہے۔ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں کولمبیا کے اندر انسانی حقوق اور ریاستی تشدد کے خلاف ہونے والی جدوجہد کو روکنے کے لئے بھی استعمال ہورہی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ٹریڈ یونین رہنما کولمبیا میں قتل کئے جاتے ہیں۔ حکومتی اشیر باد سے قتل ، اغوا اور تشدد کا نشانہ بننے والوں کی تعداد کو لمبیا میں انتہائی زیادہ ہے۔ دراصل یہ ملک اس حوالے سے دنیا کے بدنام ترین ممالک میں شامل ہے۔

ان حالات میں کہ جب امریکی حکومت لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر کوروکنا چاہتی ہے اور اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے ، خط دیر پا امن کی آمادگاہ نہیں بن سکتا۔ امریکی حکومت کی شدید خواہش ہے کہ وینزویلا میں حکومت کو تبدیل کیا جائے اور اس کی خاطر جہاں وہ وینز ویلا میں موجود حزب اختلاف کی مدد کررہا ہے وہیں کولمبیا کو مدمقابل لانے کی کوشش میں ہے۔ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی قوت میں اضافے اور بعض ممالک میں امریکہ مخالف سربراہان مملکت کے آنے سے کولمبیا تنہائی کا شکار ضرور ہوا ہے لیکن اس طویل عرصے سے جاری جانے والی بیرونی امداد نے ملک کو بحرحال اس قابل کردیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک سے وقتاً فوقتاً تنازعات پید ا کرتا رہے ۔ کولمبیا کی حالیہ پسپائی ضروری کہ جارحیت دوبارہ نہ بدلے۔

یه مضمون12مارچ 2008ء کو تحریر، اور ہمشہری میں شائع کیا گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s