ترکی میں حجاب کا معاملہ

(یہ محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں )

رضوان عطا

9 فروری کو ترکی کی پارلیمنٹ نے یونیورسٹی کیمپسز میں حجاب پر ایک دہائی سے لگی سخت پابندی کو اٹھا دیا۔ 550 ممبران پر مشتمل پارلیمنٹ میں 441 قانون سازوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی طرف سے قانون میں کی جانے والی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ جس وقت پارلیمنٹ پابندی کو اٹھانے کے فیصلے کے عمل سے گزر رہی تھی وسطی انقرہ میں، پارلیمنٹ سے محض چند کلومیٹر دور، ہزاروں افراد سیکولرازم اور حجاب پر پابندی کے حق میں کمال اتاترک کی تصاویر اٹھائے مظاہرہ کر رہے تھے۔  اس مظاہرے کو منظم کرنے والی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق”۔۔۔ وہ (حکومت ) سیکولر اور جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں“۔ قانون میں اس ترمیم کے لیے 367 ووٹوں کی ضرورت تھی اور اگرچہ حزب اختلاف کی جماعت نیشنل ایکشن پارٹی(ایم ایچ پی) سے ایک معاہدے کے تحت حمایتی ووٹ حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی حد تک اے کے پی کو کوئی مسئلہ نہ ہوا لیکن پھر بھی ملک میں حجاب کے معاملے پر سالوں سے جاری بحث یا تضاد جاری رہے گا اور حکومت کسی حدتک الجھتی رہے گی۔

یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی 1980ء کی دہائی سے لگی ہے لیکن 1997ءکے بعد سے اس پر اس وقت سختی سے عمل درآمد کرنا شروع کیا گیا جب فوجی جنرلوں نے حکومت کو زیادہ مذہب پسند ہونے اور سیکولرازم کے اصولوں سے روگردانی کے الزامات کے ساتھ چلتا کیا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد کمال اتاترک نے جس سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی اس میں سلطنت عثمانیہ سے جڑی سماجی روایات و عادات کو ریاست کی قوت کی مدد سے کاری ضرب لگانے کی بھر پور سعی کی گئی۔ اسی لیے 1920ءکی دہائی میں جدید ترکی کی بنیاد رکھنے والے اس انقلاب نے 30 اور 40 کی دہائیوں میں ترک شہروں سے عورتوں کے ڈھکے ہوئے سروں کا تقریباً خاتمہ کر دیا ۔ لیکن 60 کی دہائی میں ترک شہروںمیں حجاب سروں پر دوبارہ نمودار ہوا۔طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی کٹر سیکولر ری پبلیکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے کمال اتا ترک کی اصلاحات کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے لباس سے متعلق اصلاحات کیں اور مردوں پر پگڑی اور عورتوں کے برقعہ پہننے پر پابندی لگی ۔ اگرچہ گھروں اور بازاروں وغیرہ میں عورتوں کے حجاب پہننے پر پابندی نہ تھی لیکن ریاستی کنٹرول کے اداروں مثلاً سکول، یونیورسٹیاں ، ہسپتال، عدالتیں اور سرکاری دفاتر میں اس پابندی پر عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔

1946ء کے بعد ترکی میں کثیر جماعتی جمہوریت کا آغاز ہوتے ہی مذہب پر پابندیوں کو کچھ نرم کیا گیا لیکن مذہب کا سوال سب سے نمایاں طور پر پہلی مرتبہ رفاہ پارٹی اور پھر 2002ء میں اے کے پی کی انتخابی جیت کے بعد ملکی سیاست میں اہمیت اختیار کر گیا۔ جب اے کے پی جولائی 2007ءمیں دوبارہ منتخب ہو کر آئی تو اس کے پاس 46 فیصد سے زیادہ ووٹ تھے۔ اور وہ ایک مضبوط قوت بن چکی تھی۔

ترک سیاست میں اس جماعت کا کمال ازم کی روایت سے تعلق نہیں اور نہ ہی یہ روایتی پارٹیوں کی طرح قوم پرستی کی بڑی دعویدار ہے بلکہ یہ مذہب کے نام پر سیاست کی روایت پر قائم ہے۔ اگرچہ ماضی کی نسبت آج یہ مذہب کے نام کو بہت کم استعمال کرتی ہے لیکن اس جماعت کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے پر کوئی شبہ نہیں کیا جاتا ۔

ترکی کی روایتی ریاستی مشینری اور جماعتوں کی سماجی بنیاد زیادہ تر شہری مڈل کلاس پر ہے جبکہ اے کے پی کی سماجی بنیاد زیادہ تر دیہات اور شہروں کے نچلے طبقوں پر مشتمل ہے۔ شہروں کے اندر اس جماعت کے زیادہ تر حمایتیوں کا تعلق ترکی کی صنعت کاری کے عمل کے دوران دیہات سے شہروں کی طرف بڑی تعداد میں ہجرت کرنے والوںسے ہے جو پرانی روایات کے ساتھ جڑا رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی کی 60 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے ۔ اسی لیے مذہب کی طرف اس جماعت کا رویہ کمال ازم کی حامی جماعتوں سے کافی مختلف ہے لیکن ترک اسٹیبلشمنٹ خصوصاً فوج اور عدلیہ کے دباو کی وجہ سے اس جماعت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کھل کر اپنے ایجنڈے کو ترکی پر نافذ کر سکے۔

ترکی میں اسلام پسندوں کی بنیادیں 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں پڑیں جب رفاہ پارٹی معرض وجود میں آئی۔ اس پارٹی کے فروغ کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ترک عوام دائیں اور بائیں بازوکی روایتی پارٹیوں سے ان کی کرپشن اور خود غرضیوں کی بنا پر اکتا چکے تھے۔ آہستہ آہستہ حاصل ہوئی مقبولیت نے پارٹی کے رہنما اربکان کو بالآخر 1996ءمیں ملک کا پہلا اسلام پسند وزیراعظم بنا دیا۔ کمال ازم کا علم اٹھانے والوں کے لیے یہ کسی زلزلے سے کم نہ تھا۔ فوجی جنرلوں کے عمل دخل کے نتیجے میں انہیں عہدے سے دھکیل دیا گیا۔ اس کے بعد یہ اے کے پی کی شکل میں زیادہ میانہ رو پارٹی کی شکل میں سامنے آئی۔ سال 2003ء میں عراق جنگ کے دوران امریکہ کے ترک سرزمین استعمال کرنے کے سوال نے انہیں اس وقت ایک بڑے دھچکے سے دوچار کیا تھا جب پارٹی دو واضح حصوں میں تقسیم ہوئی اس کے بعد آج حجاب کا سوال اسے مشکل سے دوچار کئے ہوئے ہے البتہ سابقہ بحران سے کافی کم ۔

یونیورسٹیوں میں حجاب کی اجازت دینے کے معاملے پر اس پارٹی کے اندر اختلاف موجود نہیں لیکن دیگر بہت سی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے مزاحمت کچھ کم نہیں۔

حجاب کا سوال ترک سیاست کے علاوہ عورتوں اور جمہوری حقوق کے حوالے سے کافی پیچیدہ ہے۔ ترکی میں اس وقت حجاب کی جو شکل زیادہ متنازعہ ہے اسے ترک زبان میں ”ٹربن“ کہتے ہیں ۔ یہ روایتی طور پر اس ملک میں سر پر مخصوص انداز میں لیے گئے کپڑے یا دوپٹے سے مختلف ہے۔ اسی لیے اس کے مخالف اسے ایک ” سیاسی و مذہبی علامت“ کے طور پر لیتے ہیں۔

ترکی فرانس یا نیدرلینڈ نہیں۔ ترکی وہ واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود کامیاب سیکولر اصلاحات ہوئیں۔ عرب نیشنلزم کے فروغ کے ساتھ شام، تیونس، اور عراق وغیرہ میں سیکولرازم نے فروغ پایا لیکن عرب قوم پرستوں نے مذہب کو بہت زیادہ نہیں چھیڑا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد کمال اتا ترک کی رہنمائی میں ہونے والی سیکولر اصلاحات بہت حد تک کامیاب رہیں لیکن آج بھی ترکی میں مذہبی رواداری اور ان اصلاحات کے اثر کے حوالے سے علاقائی تقسیم موجود ہے۔

اس حوالے سے ملک کو تین حصوں مغربی، مرکزی اور جنوب مشرقی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مغربی ترکی جس میں استنبول ، انقرہ اور ساحلی علاقے شامل ہیں۔ مذہبی رواداری او رسیکولر روایات خاصی مضبوط ہیں لیکن ملک کے مرکزی حصے میں صورتحال مختلف ہے۔ جنوب مشرق میں مذہبی اثر اور بھی زیادہ ہے۔ اس طرح اگر ملک میں حجاب پہننے پر پابندی نہیں تو والدین ، بھائی ، رشتہ دار یا شوہر عورت کو مجبور کر سکتا ہے کہ اپنی مرضی کی بجائے ان کی ہدایت پر عمل درآمد کرے خصوصاً ان علاقوں میں جو زیادہ رجعتی ہیں ۔ ترک ریاست اس عمل کی ہر گز اجازت دینے کو تیار نہیں۔ ترکی میں تقریباً 11 فیصد عورتیں یہ حجاب استعمال کرتی ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 10 فیصد ایسی ہیں جو خاندانی یا خاوند کے دباو کی وجہ سے ایسا کرتی ہیں۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی عورتیں حجاب کو عموماً عورت کے استحصال کی علامت کے طور پر بھی لیتی ہیں۔ ان کے نزدیک جسم کو ضرورت سے زیادہ ڈھانپنے کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں مرد کو ایک جارح کی حیثیت دیں جس کی نظروں سے بچا جانا ضروری ہے ۔ بعض اس پابندی کو یونیورسٹیوں کی حد تک اٹھانے کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن اس سے قبل کی تعلیم کے دوران ہر گز نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بالغ تو خود فیصلہ کر سکتا ہے لیکن ایک کم عمر یا نا بالغ نہیں اور کم عمر لڑکی پر حجاب نہ پہننے کی پابندی درست ہے۔ بائیں بازو کے بہت سے کارکن برقعے یا حجاب کو عورت کی مردوں ، باپ ، بھائی ، شوہر وغیرہ کی ملکیت کی نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ترکی میں حجاب مخالفین کے نزدیک حجاب پر پابندی کا خاتمہ اے کے پی کو سعودی عرب یا ایران کے راستے پر ڈال سکتا ہے، اگرچہ وہ اس کے امکانات کو مستقبل قریب میں بہت کم دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تشویش کی بات ایسے کچھ واقعات بھی ہیں جن میں جینزیا سکرٹس پہننے والی لڑکیوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ ترکی میں ایسے واقعات عام نہیں لیکن ملکی سیاست میں معاملے کی حساسیت اسے بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بنا دیتی ہے۔

لیکن اگر حجاب یا برقعے کو استحصال یا جبر کی علامت مان بھی لیا جائے تو بھی انفرادی چناوکی آزادی کا سوال حجاب پہننے کی اجازت دینے کی وکالت کرتا ہے۔ حجاب پر پابندی کے نتیجے میں ایسے بہت سے واقعات سامنے آئے جس میں طالبات کو تعلیم سے محروم ہونا پڑا یا انہیں اپنے کام کے دوران مشکلات پیش آئیں۔ حجاب پہننے والی عورتوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ گھرسے باہر کام کرتے ہوئے ان کے پاس کام کے دوران ترقی کے مواقع نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اپریل 1999ءمیں ایک خاتون پارلیمنٹیرین کو حجاب پہننے کی وجہ سے پارلیمنٹ سے جانا پڑا۔2000ء میں دو ایسے ججوں کو برخاست کیا گیا جن کی بیویوں کا طرزِ عمل اور گھر یلو زندگی جدید اور سیکولرروایت کے خلاف تھی۔ فوج کے اندر بھی فوجیوں کی گھریلو زندگی پر نگاہ رکھی جاتی ہے اور سرکاری اداروں میں ایسی باتوں کو دیکھا جاتا ہے۔

ترک پارلیمنٹ میں بھی حجاب پر اچھی خاصی بحث ہو چکی ہے۔ اے کے پی اس معاملے کو ” آزادی“ کے حوالے سے دیکھتی ہے۔ اے کے پی، کرد نواز ڈیموکریٹک سوسائٹی پارٹی اور گرینڈ یونٹی پارٹی کے نزدیک حجاب پہننے کی آزادی تمام سرکاری اداروں اور ان اداروں سے مستفید ہونے والوں(مثلاً تعلیمی ادارے) کے ہاں ہونی چاہیئے۔ کٹرسیکولر ری پبلیکن پیپلزپارٹی کے نزدیک سرکاری اداروں اور ان سے مستفید ہونے والوں میں تفریق نہیں کی جاسکتی اور اگر تعلیمی اداروں میں آزادی دی جائے توپھر اس کا مطلب ہے کہ آزادی ہر جگہ ہو لیکن اس سے ”لائیسزم“ (سیکولرریاست کا تصور) کے اصول پر زد پڑتی ہے اس لئے پابندی ہر جگہ ہو۔ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور فریڈم اینڈ سالیڈ یرٹی پارٹی (ترک پارلیمنٹ میں واحد سوشلسٹ جماعت) کے نزدیک سرکاری ملازمین اور سرکاری اداروں سے مستفید ہونے والوں میں تفریق کی جانی چاہیئے جو حجاب پہنے اسے سرکاری ملازمت کے قابل نہیں ہونا چاہیئے اور حجاب پہننے کی آزادی محض یونیورسٹیوں تک محدود ہونی چاہیئے۔

پارلیمنٹ میں عددی برتری کی وجہ سے حکومت کو کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں لیکن غیر سرکاری تنظیموں کے ہاں اور میڈیا میں انہیں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ترک وزیراعظم نے میڈیا پر اس حوالے سے کھلے عام تنقید بھی کی ہے۔ اے کے پی کو معلوم ہے کہ رائے عامہ میں اکثریت ان کے حالیہ فیصلے کے حق میں ہے اور ترکی کی اندرونی سیاست میں یہ فیصلہ انہیں فائدہ پہنچائے گا۔

اے کے پی ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی بھی حامی ہے اور اس نے ملک کے اندر بہت سی ایسی اصلاحات کی ہیں جن کا مقصد یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کو ممکن بنانا ہے۔ اے کے پی نیولبرل پالیسیوں کی بھی حامی ہے جوکہ یورپی حکومت کی ترجیحات میں بہت اہم ہے، اگرچہ یورپ کے اندران پالیسیوں کی بڑی عوامی مخالفت موجود ہے۔ حجاب پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ یورپی یونین میں شمولیت کی راہ میں کس حدتک رکاوٹ بنے گا؟ حال ہی میں ترکی کے اندر تاجروں اور کاروباریوں کے سب سے بڑے یورپی یونین نواز گروپ نے حجاب پر پابندی اٹھانے پر تنقید کی ہے۔ فرانس ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کا مخالف ہے لیکن وہ تجارتی سطح پر ترکی سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔ 19فروری کو فرانس کی خارجی تجارت کے وزیر نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے سوال سے تجارتی تعلقات متاثر نہیں ہونے دیئے جائیں گے۔ ان کے مطابق ” یہ سچ ہے کہ سیاسی تنازعے معاشی فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن (کاروباری) فیصلے معاشی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ اگر ترکی یہ قائل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ معاشی حوالے سے وہ یورپی یونین کے سربراہوں کی امیدوں پر پورا ترے گا تو اس کی شمولیت کے امکانات زیادہ ہوتے جائیں گے۔ حجاب کا معاملہ اسلامی انتہا پسندی کی وجہ سے یورپ میں زیر بحث ہے لیکن یورپ میں یہ اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں سمجھا جائے گا کہ حکمران اس کی بنیاد پر ترکی سے تعلقات کا فیصلہ کریں۔

اشاعت: ہفت روزہ ہمشہری 22 فروری 2008ء

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s