کینیا میں عدم استحکام

<!– @page { size: 8.5in 11in; margin: 0.79in } P { margin-bottom: 0.08in } –>

رضوان عطا

جب دسمبر 2007ءکو موائی کیبا کی نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں جیت کا اعلان کیا توساتھ ہی ان کے مقابل امیدوار رائلا اوڈ نگانے انتخابات میں بد عنوانی کا الزام لگایا اور کیباکی کی طرف سے اپنے عہدے کا دوسری مرتبہ حلف اٹھاتے ہی ملک پر تشدد ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا۔ ایک اندازے کے مطابق تشدد میں اب تک تقریباً ایک ہزارافرادھلاک اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان گذشتہ کئی دنوں سے کینیا میں ہیں تاکہ متحارب اطراف کے مابین مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور صلح کی طرف بڑھا جائے۔ ابھی تک اس میں کوئی بڑی کامیابی تو نہیں مل پائی البتہ دونوں اطراف ایسی کوششوں میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ کیباکی کی نئی حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ملک میں کوئی بحران ہے،اس کے باوجود وہ مذاکرات میں تعاون کے لیے کوفی عنان اور بعض دیگر عالمی رہنماؤں کی کوششوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

اوڈنگا کی جماعت اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ(او ڈی ایم) نے انتخابات میں دھاندلی کے جو الزامات لگائے ہیں، بہت سے بین الاقوامی مبصرین اس کی نفی نہیں کرتے۔ انتخابات سے قبل ہونے والی رائے شماری میں یہ تو کہا ہی جا رہا تھا کہ مقابلہ سخت ہے لیکن ایسی 50 رائے شماریوں میں سے صرف ایک نے یہ دعویٰ کیا کہ کیبا کی جیتنے کی پوزیشن میں ہیں، جبکہ باقی سب کے مطابق اوڈنگا تھوڑی سی برتری کے ساتھ جیت جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مرحلے کے دوران اوڈنگاکی برتری صاف دکھائی دے رہی تھی لیکن جب نتائج کا حتمی اعلان ہوا تو حیران کن طور پر کیباکی فاتح قرار دیئے گئے۔ سرکاری نتائج کے مطابق انہوں نے 4,58,47,21 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مد مقابل نے 4,352,993 ووٹ حاصل کئے۔

تقریباً دو لاکھ تیس ہزار ووٹوں کے فرق سے ہونے والی اس جیت کے اعلان نے تشدد کی ایک ایسی لہر کو پیدا کیا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔ تشدد کی اس لہر نے بعد ازاں قبائلی اور قومیتی رنگ اختیار کر لیا لیکن اس قتل و غارت کو محض قبائلیت یا نسل پرستی کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب تک کینیا کے تاریخی پس منظر کا مطالعہ نہ کیا جائے معاملہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا۔ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح کینیا غیر ہموار ترقی اور سرمائے کی غیر مساویانہ تقسیم کی ایک مثال ہے۔ جب کینیا نو آبادی تھا تو ملک کا وسطی حصہ قابضین کی معاشی سرگرمیوں کا گڑھ بنا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں کیکو یا قبیلے کی اکثریت ہے جبکہ دیگر قبائل خصوصاً لوو(Luo)کے علاقے مزدور فراہم کرنے والی صنعت کی حیثیت اختیار کر گئے۔ جہاں ایک طرف کیکویا کے بہت سے لوگ آباد کاروں کی معاشی سرگرمیوں سے مستفید ہوئے وہیں ملک کو آزادی دلانے کی جدو جہد کا بوجھ بھی انہیں لوگوں نے اٹھایا ۔ نتیجتاً بعد ازاں ملکی سیاست پر ان کا غلبہ بھی زیادہ رہا۔ ایک بڑے قبیلے اور مرکزی صوبے کے ہاتھوں طاقت کے ارتکاز نے دوسرے علاقوں اور قبائل کے مابین بے چینی کو پیدا کیا۔ سال 2005ءتک مختلف علاقوں اور صوبوںکے مابین وسائل اور اختیارات کی تقسیم کا سوال سب سے زیادہ سیاسی مباحث میں پیش ہونے والا معاملہ بن چکا تھا اور یہی وہ عرصہ تھا جب او ڈی ایم وجود میں آئی اور ایک بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

لازم نہیں کہ معاشی ترقی جمہوریت کی نشوونما کا باعث بنے۔ بعض اوقات اس ترقی کے نام پر جمہوریت کے اصولوں کو قربان کیا جاتا ہے۔ کیباکی کے پانچ سال معاشی ترقی کے اعدادوشمار کے حوالے سے تو اچھے رہے، 2002ءکی انتخابی مہم کے دوران معاشی ترقی کی شرح 0.6 فیصد تھی جو سال 2006ءمیں 6.1 فیصد ہوگئی۔ کیباکی حکومت ان اعدادوشمار کو مشرف حکومت کی طرح فخر کے ساتھ پیش کرتی رہی اور اس نے ویژن 2030 بھی پیش کیا جس میں کینیا کو صنعت یافتہ اور درمیانے درجے کی آمدنی رکھنے والے ملک کے طور پر ترقی دینا، اور جہاں اچھا معیار زندگی ہو، نصب العین قرار دیا گیا۔ جس طرح ”چمکتے بھارت“ کا نعرہ بی جے پی کی اقتدار سے علیحدگی اور غیر مقبولیت کے عمل کو نہ روک سکا اسی طرح کیباکی حکومت کی ایسی شرح نمو جس کا فائدہ مڈل کلاس اور کاروباری طبقے تک محدود رہا، بڑھتی بے چینی کو روکنے میں ناکام رہی۔ 2002ءکے انتخابات کے بعد نیروبی کے ” جمہوری پاک“ میں تقریباً دس لاکھ لوگ کیباکی کے استقبال کے لیے موجود تھے، آج لاکھوںانسان تشدد کی لپیٹ میں تو ہیں لیکن ہوچکے استقبال کو دہرانے کے بارے اب سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔

1980ءکی دہائی سے کینیا میں عالمی مالیاتی اداروں کے تیار کردہ سٹریکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام جاری ہے۔ نتیجتاً سرکاری شعبہ سکڑ رہا ہے۔ نجی شعبے کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جہاں بنیادی سہولیات غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں وہیں ملازمت عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اسی لیے یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں کہ حالیہ تشدد میں سب سے آگے بے روزگار نوجوان نظر آرہے تھے۔ کینیا کی معاشی ترقی تقسیم اور پھیلاؤ کے حوالے سے عدم مساوات پر مبنی رہی۔ حالیہ تشدد کی ایک وجہ یہ ہے لیکن یہ واحد وجہ نہیں۔

کینیا میں قبائل یا قومیتوں کے اب ہوئے نازک تانے بانے کی جڑیں آزادی سے قبل کے برطانوی راج میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول کے تحت لوو اور کیکویا کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ قابضین کو معلوم تھا کہ اگر یہ دو مل جائیں تو ان کا اقتدار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ 1963ءمیں آزادی حاصل کرنے کے تین سال بعد ہی لوو اور کیکویا کے درمیان مخاصمت واضح طور پر نظر آنے لگی۔ آزادی کے بعد جب کنیاٹا اور کیکویا قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایلیٹ اقتدار میں آگئی۔تو اسی کے ساتھ رائل اوڈنگا کے والد اور لوو کے سردار نے یک جماعتی نظام حکومت کے کوششیں شروع کیں۔ بعدازاںکیکویا کے لیے مشکل اس وقت آن پڑی جب اقلیتی قبیلے کلنجن کے ڈینئل اراپ موئی نے 1978ءمیں آمریت قائم کر دی اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہے۔ اور اس کا زیادہ تر فائدہ مغربی کینیا کو ہوا۔ 2002ءمیں کیباکی کی شکل میں کیکویا ایلیٹ کے لیے ایک مرتبہ پھر معاشی فوائد کے دروازے کھلے۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کینیا کی سیاست میں قبائلی رنگ کس قدر حاوی ہے۔

جہاں ایک طرف سیاسی میراث عوامی شعور اور رد عمل کا تعین کرتی ہے وہیں تاریخی عمل کے نتیجے میں بن چکی لیڈر شپ کا کردار کشمکش اور بحران کے درمیان بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ قبائلی گروہ بندی کو سیاسی رہنما بڑھاو ابھی دے سکتے ہیں اور اس کے خاتمے میں مدد بھی دے سکتے ہیں۔ ایک ایسا براعظم جو 50 سال قبل تقریباً سارا کا سارا نو آبادی تھا، جہاں 20 سال قبل تقریباً ہر ملک میں آمریت قائم تھی وہاں کسی ملک میں انتخابات کے انعقاد کے بعد اس قدر پر تشدد ہنگاموں کا پھوٹ پڑنا یقیناً ارتقاءپذیر انتخابی سیاست کے لئے نیک شگون نہیں ۔ بد قسمتی سے قبائلیت کو بہت سے سیاست دانوں نے افریقہ میں بطور کارڈ استعمال کیا ہے۔ وہ قبائلیت جو ایک طرف نو آبادیاتی طرزِ حکومت کی میراث ہے تو دوسری طرف اس کی جڑیں افریقہ کی پسماندگی میں ہیں۔ اس پسماندہ براعظم میں جہاں بھوک اور بد حالی وسیع پیمانے پر پھیلی ہے لوگ اپنے رشتہ داروں ، تعلق داروں اور قریب رہنے والوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ خصوصاً دیہاتوں میں غریب ممالک کی حکومتیں بنیادی ضروریات فراہم نہیں کر پاتیں۔ اس طرح یہ انحصار وفاداریوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس بات کو کینیائی سیاست دان اچھی طرح جانتے ہیں اور اپنے مفادات کے لے بری طرح استعمال کرتے ہیں۔ انتخابی مہم میں ووٹ کے لیے ایک بڑی دلیل یہ ہوتی ہے۔ ”مجھے ووٹ دو کیونکہ میں آپ کے قبیلے سے ہوں “

اس طرز عمل کے سنگین نتائج تو روانڈا میں پہلے ہی دیکھے جا چکے ہیں ہوتو قبیلے کوان کے اپنے قبیلے کے انتہا پسند وں نے یہ باورکرایا کہ ہم آپ کے مفادات کے نگہبان ہیں اور تتسی آپ کے دشمن ہیں ۔ اس طرح روانڈا میں 1994ءمیں جو قتل عام ہوا دنیا میں اس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

اقتدار کے لیے سیاسی جدوجہد کو بھلا کیسے برا کہا جا سکتا ہے۔ اگر اپنے پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے حکمت عملی کے نام پر سیاسی قلابازیوں کو ”پاک صاف“ ہونے کے زمرے میں شامل کر بھی لیا جائے تو بھی یہ حد کیباکی اور اوڈنگا دونوں پر لاگو نہیں ہوتی ۔ کیباکی جب 1992ءمیں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے تھے تو ان کی اعلیٰ سطحی قیادت زیادہ تر ان کے قریبی دوستوں پر مشتمل تھی۔ یہی لوگ آج بھی تنازعے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیںاور سخت گیر مؤقف کی پاسداری کر رہے ہیں۔ ان میں کینیا کے وزیر دفاع ، نیروبی یونیورسٹی کے چانسلر ، نٹ کنگیتھی ، جوزف کنیاگو اور نک ونجوہی جیسے بڑے کاروباری شامل ہیں۔ ان کروڑ پتیوں کے کمرشل زراعت، ریئل اسٹیٹ ، سیاحت اور ٹرانسپورٹ کی صنعت میںکاروباری مفادات ہیں۔ یہ زیادہ تر تو پردے کے پیچھے رہے البتہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار ، جن کا تعلق کیباکی کی پارٹی آف یونٹی سے ہوتا ہے، کو پارلیمنٹ تک پہنچانے میں کافی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ کیبا کی کی سابق کابینہ میں شامل بہت سے ایسے وزیر ،جواب کی بار امیدوار تھے، ہار گئے کیباکی کے گذشتہ پانچ سالہ دور اقتدار میں ان افراد کے بزنس میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ کرپشن کے خاتمے کے نام پر 2002ءمیں قائم ہوئی حکومت میں کرپش زوروں پر رہی ۔ گذشتہ دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے تقریباً 100 دنقبل ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق کینیا کی سطح کرپشن کے لیے بدنام ملک نائجیریا سے بھی نیچے جا چکی تھی۔

تشد کے خا تمے کی ذمہ داری اب صرف ان ملکی سیاسی رہنماؤں خصوصاً کینیا اور اوڈنگا کی ہی نہیں بلکہ ان تمام رہنماؤں کی ہے جو امن قائم کرنے کی کاوشوں میں شریک ہیں۔ تشددا بھی تھما نہیں ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے ہلاکتوں یا ہنگاموں کی اطلاع ہی ہے۔ کوفی عنان اور افریقی یونین کا کردار اس وقت اہم ہے۔ اگروہ اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے صلح کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ یقیناً ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ دوسری صورت میں کینیا میں وہ ہو سکتا ہے جو 1994ءمیں روانڈامیں ہوا یعنی بڑے پیمانے پر قتل عام۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کینیا کے متحارب سیاست دان دنوں سے مزاکرات کے عمل میں مصروف ہےں۔ ان مزاکرات کا اہتمام کو فی عنان نے کیا ہے۔ علاوہ ازیں افریقی رہنما ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں جمع ہورہے ہیں جہاں انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا بحران ہی سب سے زیادہ بحث کا موضوع ہوگا۔ 53ملکوں پر مشتمل افریقی یونین کے اس اجلاس میں موائی کیباکی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

کینیا جیسے ملک میں جہاں مختلف ثقافتوں کے لوگ آباد ہیں ضروری ہے کہ ان تمام کے مفادات کے مابین ایک توازن قائم کیا جائے اور قتدار کو نچلی سطح تک لایاجائے اور قومیتیوں کو مزید اختیارات دئیے جائیں۔ اگرچہ حالیہ صورتحال سے کینیا کے جمہوریت کی طرف سفر کو بڑا دھچکا لگا ہے لیکن جمہوری عمل کا جاری رہناہی مسئلے کا حل ہے۔ علاوہ ازیں مسئلے کو حل کرنے کی طرف ایک بڑی پیش رفت یہ ہوگی کہ سیاسی رہنما ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر راضی ہوجائیں اور یہ عمل ملکی وبین الااقومی مبصرین کی نگرانی میں اور آزادانہ ہونا چاہئے۔

مختصر مختصر

٭برطانیہ سے 1963میں آزادی کے بعد سیاست پر ”جوموکنیاٹا“ کا غلبہ رہا۔ اس کے بعد 1978ءمیں ڈینٹل اراپ موئی نے اقتدار سنبھالا اور 24سال حکومت کی۔

٭1980 ءکی دہائی کے زیادہ عرصہ میں حکمران افریقن نیشنل یونین ملک کی واحد قانونی جماعت تھی

٭دسمبر2007ءکے متنازعہ انتخابات کے بعد صدر کیبا کی نے جیت کااعلان کیا اور دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ جیت کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے

٭1990ءکی دہائی میں پر تشدد ہنگاموں اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں کثیرا لجماعتی سیاست کو بحال کیا گیا۔

٭کیبا کی طرف سے کرپشن کو ختم کرنے کے وعدے کے باوجود چند ڈونرز کا اندازہ ہے کہ ایک بلین امریکی ڈالر 2002ءاور 2005ءکے درمیان بطور رشوت لے گئے۔

٭کینیا کو بڑے پیمانے پر بیروزگاری، جرائم اور غربت کا سامنا ہے۔ زیادہ تر کینیائی شہریوں کی آمدنی ایک ڈالر فی دن سے بھی کم کماتے ہے۔

کینیا کے قبائل

٭کیکویا: 22%

٭لویا: 14%

٭لوو: 13%

٭کلنجن: 12%

٭کامبا: 11%

٭کِسی: 6%

٭دیگرافریقی: 15%

موائی کیباکی اور رائلا اوڈنگا

موائی کیباکی:

15نومبر 1931کو پیدا ہوئے۔ 1978ءسے 1988کے دوران نائب صدر رہے۔ اس کے علاوہ وہ دیگر کئی عہدوں پر فائز رہے جن میں وزیرمالیات(1978-81) وزیر داخلہ(1982-88ئ) ، اوروزیرصحت (1988-1991ئ) شامل ہیں۔ 30دسمبر 2002کو کینیا کے صدر بنے ۔ حالیہ انتخابات میں ان کی طرف سے جیت کے دعوے بعد ملک ہنگاموں کی لپٹ میں آگیا۔

رائلا اوڈنگا:

7جنوری1945ءکو پیدا ہوئے1992ءسے پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ 2001ءسے2002ءتک وزیر توانائی، اور 2003ءسے2005تک وزیر سڑک ، پبلک ورکس اور ہاوسنگ رہے۔ انتخابات میں حزب اختلاف کے یہ سب سے بڑے امیدوار تھے۔

نوٹ: مضمون سب سے ہفت روزہ ہمشہری مورخہ 1 فروری 2008 میں شائع ہوا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s