نیٹو میں اختلاف

نیٹو میں اختلاف:

افغانستان میں امریکی منصوبوں کو بڑا دھچکا

رضوان عطا

امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزارائس اور ان کے برطانوی ہم منصب ڈیوڈملی بینڈ نے حال ہی میں افغانستان کاایک غیراعلانیہ دورہ کیا۔ یہ دونوں رہنما دورے سے قبل لندن میں ملے اور اس ملاقات کا مقصد جنوبی افغانستان میں جنگ کا بوجھ بانٹنے کے معاملے پر نیٹورکن ممالک کوراضی کرنے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔” سرد جنگ“ کے خاتمے کے باوجود اب تک قائم رہنے والا یہ اتحاد مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔  اس بات کا اندازہ امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کے اس حالیہ بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پر اختلافات کی وجہ سے نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ گیٹس نے اس موقع پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا”میںنیٹو اتحاد کے بارے میں بہت فکر مند ہوں کہ کہیں یہ دوصفوں والا اتحاد نہ بن جائے جس میں ایک طرف کے اتحادی لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑنے اور جان دینے پر راضی ہوں جبکہ دوسری طرف کے اتحادی ایسا نہ کریں“ ۔

افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان بہت سرگرم ہےں اور اسی لیے نیٹو کے رکن ممالک میں بہت سے ایسے ہیں جو ان شورش زدہ علاقوںمیں اپنی افواج تعینات نہیں کرنا چاہتے یا کم ازکم وہاں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان ممالک میں جرمنی، فرانس ، سپین، ترکی اور اٹلی شامل ہیں۔ حال ہی میں جرمنی نے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا امریکی مطالبہ رد کیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے اعلٰی حکام کے مابین سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ جرمن وزیر دفاع فرانس جوز ف جنگ نے امریکی مطالبے کو رد کر تے ہوئے افغانستان کے زیادہ محفوظ علاقوں میں جرمن فوج کی تعیناتی کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کی بات کچھ اس طرح کی” ہم نے اپنے کام کی ذمہ داری تقسیم کرلی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں شمالی علاقے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

اس وقت افغانستان میں جرمنی کے تین ہزار دوسو فوجی ہیں جو زیادہ تر ملک کے نسبتاً محفوظ اور پرامن شمالی حصوں میں تعینات ہیں جبکہ کچھ کابل میں ہیں۔ افغانستان میں موجود انٹرنیشنل اسسٹنس فورسز (اساف) کو جرمنی نے چھے ٹارنیڈ جیٹس بھی فراہم کر رکھے ہیں۔رابرٹ گیٹس نے افغانستان میں نیٹو کی ساکھ کھودینے کے خدشے کے ساتھ یہ کہا ہے کہ جرمنی نیا مینڈیٹ جاری کرنے کے بارے میں غور کرے۔ تازہ پارلیمانی مینڈیٹ کے مطابق جرمنی افغانستان میں اپنی فوجوں کی تعداد میں بڑا اضافہ نہیں کر سکتا۔ گزشتہ سال 15نومبر کو جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے بھاری اکثریت کے ساتھ افغانستان میں جاری امریکی آپریشن میں شمولیت کی ازسر نومنظوری دی تھی۔ 413ووٹ (مخالف145)حاصل کرنے کے باوجود جرمن حکومت کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ جرمن رائے عامہ افغانستان میں فوجیں بھیجنے کے خلاف تھی۔ اس وقت اس حمایت کو حاصل کرنے میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل، کنزرویٹو وزیردفاع فرانس جوزف جنگ اور سوشل ڈیموکریٹ وزیرخارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر نے آپریشن انڈوزنگ فریڈم میں شمولیت کے حق میں ووٹ حاصل کرانے میں اہم کردارادا کیا۔ لیکن آج کل جرمن چانسلر اینجیلامرکل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جومینڈیٹ لیا جاچکا ہے اس میں اب کسی بحث کی گنجائش نہیں۔

جو ممالک جنوبی افغانستان میں مزید افواج بھیجنے سے انکار کررہے ہیں، ان میں جرمنی کے علاوہ فرانس، اٹلی اور ترکی شامل ہیں۔ خطرناک علاقوں میں طالبان کے زخم کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور نیدرلینڈ کی افواج اٹھارہی ہیں۔ شمولیت کے حجم کے لحاظ سے نیٹو میں تیسرے نمبر پر آنے والا ملک فرانس بھی افغانستان کے جنوبی علاقے میں اپنی افواج کی تعیناتی اور مزید افواج بھیجنے سے ہچکچارہا ہے۔ فرانس کو راضی کرنے کے لیے کینیڈا نے اپنے اعلٰی اہلکار وں پر مشتمل وفد کو پیرس روانہ کیا ہے تاکہ جنوبی افغانستان میں موجود کینیڈا کی تقریباً 2500 فوجیوں کو مدد فراہم کرنے کی خاطر پیش رفت ہوسکے ۔ فرانس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تسلی دیتے ہوئے یہ تو ضرور کہا ہے کہ پیرس کینیڈا کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ افواج یا جنگی سازوسامان کی فراہمی کے حوالے سے ہم نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لیتھو ینیا کے دارا لخلافہ میں نیٹو کے وزرائے دفاع کے مذاکرات کے دوران کینیڈا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”(فرانسیسی) وزیرنے حتمی وعدے نہیں کیے“ ایک فرانسیسی اخبار لیمونڈ ڈپلوماٹیک کے مطابق فرانس جنوبی افغانستان میں ایک بٹالین پیراٹروپرز ’جو تقریباً 700فوجی بنتے ہیں، کینیڈا کی افواج کی مدد کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کینیڈا کا اعلٰی سطحی وفد اسی حوالے سے پیرس کے دورے پر ہے۔ فرانس کے رویئے کا اندازہ جنوری کے آخر میں فرانس اور امریکہ کے وزرائے دفاع کے مابین پینٹا گون میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہی ہو گیا تھا۔ اس ملاقات کے فوری بعد جب فرانس کے وزیر دفاع سے خاص طور پر یہ پوچھا گیا کہ وہ جنوبی افغانستان میں اپنی فوجیں بھیجنے پر غور کررہے ہیں؟ تو انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے صاف انکارکردیا۔ اگرچہ فرانس جنوب میں فوجیں تعینات کرنے کی حامی بھر سکتا ہے لیکن اس سے امریکہ اور کینیڈا کی توقعات ہرگز پوری نہ ہوں گی۔

کینیڈا کی حکومت نے مارچ کے آخر میں افغانستان میں فوجی مشن کو جاری رکھنے کے لیے اعتماد کاووٹ لینا ہے۔ محض 36فیصد ووٹوں سے حکومت بنانے والی کنزرویٹو پارٹی کی پوزیشن زیادہ مضبوط نہیں۔ اس لیے ظاہر ہے انہیں عوامی رائے کے مطابق کسی حد تک اپنی پالیسی کو مرتب کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں پیوریسرچ سنٹر کے ایک سروے کے مطابق امریکہ اور نیٹو کے افغانستان میں آپریشن کے خلاف نیٹو رکن ممالک میں رائے عامہ زور پکڑ چکی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ہے کہ ”47میں سے 32ممالک میں اکثریت فوجوں کی جلد ازجلد واپسی کی حامی ہے۔ کینیڈا میں اس سروے کے مطابق 43 فیصد فوجوںکی موجودگی کے حق میں ہیں جبکہ 49فیصد کے مطابق انہیں واپس آنا چاہیے کینیڈا کی افواج کی زیادہ تر ذمہ داریاں جنوبی افغانستان خصوصاً قندھار میں ہیں جہاں انہیں طالبان اور مزاحمت کرنے والے دیگر گروپوں کے حملوں کا زیادہ سامنا رہتا ہے۔ اس لیے کینیڈا نے دھمکی دی ہے کہ اگر جنوب میں اس کی افواج کی مدد کے لیے دیگر ممالک نے افواج فراہم نہ کیں تو وہ اپنی فوجیں واپس بلالے گا کینیڈا کی حکومت کے پاس سال2009ءکے شروع تک فوجیں افغانستان میں رکھنے کا مینڈیٹ ہے اور کینیڈا نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ، اگر اسے نیٹو کی طرف سے مزید ایک ہزار فوجی اور مطلوبہ جنگی سازوسامان مہیا نہ کیا گیا تو وہ مینڈیٹ کے خاتمے کے ساتھ ہی واپس چلے جائیں گے۔ نیٹو کے ترجمان کے مطابق تنظیم کے وزراءکی کانفرنس کے دوران کینیڈا کے وزیردفاع پیٹرگارڈن میکے نے نیٹو ممالک کونہ صرف افغانستان میں موجود حالات کے بارے بتایا بلکہ انہیں ان کے اپنے ملک کے اندر موجود کٹھن صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔

2002ءمیں اپنا مشن شروع کرنے کے بعد سے اب تک کینیڈا کے 78فوجی مارے جا چکے ہیں۔ کینیڈا کے فوجیوں کی ہلاکت کی زیادہ شرح کا دفاع کینیڈا کی کنزرویٹو حکومت کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب لبرل لیڈر سٹیفن ڈیون افغانستان میں مشن کو ختم کرنے کے موقف پر بدستور قائم ہیں۔

اٹلی پر نیٹو کے بعض ممالک کی طرف سے شدید دباو¿ ہے کہ وہ افغانستان میں تنظیم کی مدد کے لیے زیادہ سرگرم ہو۔ اٹلی کے 2,290 فوجی افغانستان میں ہیں جو کہ زیادہ تر صوبہ ہرات میںتعینات ہیں۔ اٹلی کے موجودہ حکمران اتحاد کونہ صرف اپنے بعض اتحادیوں کی مخالفت کا سامنا ہے بلکہ عوامی رائے بھی حکمرانوں کی ان پالیسی کے خلاف ہے۔ اٹلی کے ایک میگزین پینوراما کے ایک سروے کے مطابق 56فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ افواج کی واپسی چاہتے ہیں۔ اٹلی میں انتخابات قریب ہیں اور ان انتخابات کی وجہ سے کوئی بھی پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کھلے عام افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافے کا وعدہ کرے۔

ترکی اساف مشن کے لیے ترکی نے 2002ءمیں اپنی افواج فراہم کیں اور 2005ءمیں ان میں مزید اضافہ کیا۔ اس وقت اس کے 1,150 فوجی مصیبت زدہ ملک میں موجود ہیں لیکن یہ فوجی زیادہ ترتعمیر نو اور مقامی پولیس کو تربیت دینے کا کام کرتے ہیں اور لڑائیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ اسی لیے آج سے چھے سال قبل افغانستان اترنے والے فوجیوں کی ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ترکی اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کرے۔ گزشتہ برس ترکی کے ایک جنرل نے ایسے کسی اضافے کے امکان کو رد کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں ترکی کی افواج اپنے ملک کے اندر ہی بہت مصروف ہیں۔ کرد علیحد گی پسندوں کے ساتھ ان کی لڑائی نے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں حال ہی میں شدت اختیار کرلی ہے اور وہ شمالی عراق میں پی کے کے کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کر رہے ہیں۔ اس عسکری مصروفیت کے علاوہ ترکی میں ایک افغانستان جیسے ”مسلم ملک“ میں مزید افواج بھیجنے کا سوال اس سیاسی بحث کو عوامی سطح پر چھیڑ سکتا ہے جو کرد مسئلے کی وجہ سے دبی پڑی ہے۔

جہاں ایک طرف نیٹو میں اختلافات کی وجہ بعض ممالک کی اندرونی سیاست ہے وہیں طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور حملے قابضین کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی افواج کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جار ہی ہے۔ قبضے کے بعد سے8 فروری2008ءتک اتحادیوں کی764ہلاکتیں ہوچکی تھیں۔ ان ہلاکتوں میں سرفہرست امریکی افواج ہیں جن کے ہاں 483ہلاکتیں ہوئیں اس کے بعد برطانیہ (87 ) اورکینیڈا (7 ) کا نمبر ہے۔ ان ہلاکتوں کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے مثلاً سال 2005ءمیں اتحادیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 130تھی جو2006ءمیں بڑھ کر 191ہوئی اور گزشتہ سال یہ تعداد 232 تک جا پہنچی۔

برسلز میں قائم ایک تنظیم سینلس کونسل کی گزشتہ سال نومبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افغانستان کے بڑے حصے پر عملاً اب طالبان کی عملداری ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اتحادیوں نے اپنی افواج کو دگنا نہ کیا تو افغانستان کے دوسرے حصے جلد کٹر بنیاد پرست طالبان کے ہاتھ آجائیں گے۔ اتحادیوںکی تقریباً 50,000 افواج افغانستان میں موجود ہیں جبکہ تقریباً ایک لاکھ افواج کے ساتھ نوسال تک برسرپیکار رہنے والے سوویت یونین کو یہاں سے جانا پڑا تھا۔

آج افغانستان میں لڑنے والوں کی اکثریت انہی”مجاہدین“ سے نسبت رکھتی ہے جنہوں نے سوویت یونین کو جاتے ہوئے 14,453اموات اور 53,753 زخمیوں(سرکاری سوویت اعدادوشمار) کا ”تحفہ“ دیا۔

طالبان جیسے تشدد پسند بنیاد پرستوں کی طاقت میں آخر کیوں اتنا اضافہ ہورہا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت سے زاویوں سے صورتحال کا تجزیہ طلب کرتا ہے لیکن اس میں نیٹو کی غلط اور سفاکانہ حکمت عملی کا پہلوا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

زمینی افواج کی کم تعداد اور ہلاکتوں کے خطرے کو کم کرنے کی خاطر نیٹو افواج فضائی بمباری پر زیادہ زوردیتی ہےں۔ افغانستان میں فضائی بمباری کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سال 2007ءمیں افغان حکومت اور اتحادیوں کے مابین افغان شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔ افغانستان پر حملے کی ابتدا¿ ہی ”کارپٹ بمباری“ سے ہوئی۔ یونیورسٹی آف نیو ہمپشائر کے پروفیسر کی سال 2002ءمیں منظر عام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے 7دسمبر (سال2001ئ) تک 3,800 افغان ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ ”جو اعداوشمار میں پیش کررہا ہوں وہ دراصل کم ازکم اندازہ ہیں۔ میرے نزدیک زیادہ حقیقت پسندانہ تعداد 5,000کے قریب ہوگی“ ۔گزشتہ سال امریکہ اور نیٹو افواج کی بمباری سے ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد سال 2006کی نسبت دگنی رہی۔

7فروری کو کونڈالیزارائس کا ایک بیان اخبارات میں سامنے آیا جس میں انہوں نے اتحادیوں کی افغانستان میں ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن انہوں نے یہ ضرورمانا کہ ہماری حکمت عملی نامکمل ہے اور اس میں نئی جہت لانے کی ضرورت ہے ان کے اس بیان کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ امریکی سربراہی میںافغانستان میں موجود غیر ملکی افواج اب ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہےں۔ جہاں ایک طرف کر زئی کی حکومت ابھی تک کابل سے باہر بے اثر ہے وہیں دوسری طرف نیٹو اختلافات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں افغانستان جنگی سرداروں ، طالبان اور نیٹو میں بٹاہوا ہے اور افغان عوام بے روز گاری، عدم تحفظ غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ کونڈالیزارائس سمیت امریکی انتظامیہ کے دیگر اعلٰی عہد یدار جنگی حکمت عملی پر تو بات کرتے ہیں لیکن افغانستان کی تعمیر نو کے سوال کوکم وبیش بھلا دیتے ہیں۔ افغانستان میں خوشحالی اور ترقی کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور نمائند عوامی حکومت کے بغیر استحکام ممکن نہیں اور محض جنگی طریقہ کار سے اس ملک پر قابض رہنا مزید مشکلات کے سوا افغان عوام کو کچھ نہیں دے گا۔ اگر قابضیں افغان عوام کو راحت دینے سے قاصر ہیں تو پھر وہ اس ملک میں ہیں ہی کیوں؟

نوٹ: مضمون سب سے ہفت روزہ ہمشہری مورخہ 8 فروری 2008 میں شائع ہوا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s