شور مہلک ہے

رضوان عطا

کانوں کو بہت سی آوازیں بھلی لگتی ہیں۔ دھیمی موسیقی ،سریلے نغمے اور چڑیوں کی چہچہاہٹ پسند کی جاتی ہے۔ مگر جب کوئی آواز ناگوار گزرے یا اتنی زیادہ ہو کہ انسانوں اور حیوانوں کی زندگی کو متاثر کرنے لگے تو ہم اسے شور کہیں گے۔ شور نے آج کل زور و شور سے ہماری زندگیوں میں گھر کر لیا ہے۔ Read more »

کیا پیراگوئے وینز ویلا کے راستے پر چل پڑا ہے؟


رضوان عطا

لاطینی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک پیراگوئے میں سابق کیتھولک بشپ فرنانڈولوگونے حالیہ سیاسی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی جماعت کو انتخابی شکست سے دوچار کردیا۔ گذشتہ چالیس سال میں یہ سب سے زیادہ پر جوش، بھرپور اور کانٹے دار انتخابات تھے جس کے نتائج نے کولوراڈوپارٹی کے تقریباً61سالہ دورحکمرانی،جس میں جنرل الفرڈوسٹرو ایسٹر کی35سالہ آمریت بھی شامل ہے ، کا خاتمہ کردیا۔ ساٹھ لاکھ کے ایسے ملک میں کہ جہاں آبادی کا تیسرا حصہ غربت کی زندگی گزاررہا ہے، لوگو کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے بہتری کی امید دلانے کی بنا پرپر کشش تھے۔ Read more »

عالمی حدت میں اضافہ اور انہونا “چکر”۔

رضوان عطا

گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی بہت سی تحقیقات اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عالمی حدت میں اضافہ آہستہ آہستہ اور ایک تسلسل کے ساتھ نہ ہوگا ، جیسا کہ ماضی میں سمجھا جاتا تھا، بلکہ معاملہ یوں ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہیں جہاں اس میں مزید اضافے کے لیے بہت سے خاموش عوامل متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حدت میں تھوڑا اضافہ مزید حدت کو پیدا کرتا ہے۔ اور ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ Read more »

اٹلی میں برلسکونی کی جیت

رضوان عطا

دوسال سے بھی کم عرصہ اقتدار سے باہر رہنے کے بعد سیلویو برلسکونی اپنے اتحادیوں سمیت ایک بار پھر برسراقتدار آچکے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں حکمران اعتدال پسند بائیں بازو کو شکست دینے کے بعد دائیں بازو کے برلسکونی تیسری مرتبہ اٹلی کے وزیراعظم بنیں گے۔ ان انتخابات میں سیاسی سطح پر ملک اعتدال پسندبائیں بازو اور دائیں بازو کے مابین واضح طور پر تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتوں کے دوبڑے اتحاد والٹرولٹرونی کی ڈیموکرٹیک پارٹی اور برلسکونی کی پیپل آف فریڈم تقریباً 80 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کمیونسٹ اور سوشلسٹ پہلی مرتبہ اٹلی کی پارلیمنٹ سے باہر ہوگئے ہیں ۔ Read more »

نیپال کا مستقبل: 240 سالہ بادشاہت کا خاتمہ یقینی ہے

رضوان عطا

نیپال میں9 سال کے بعد ہونے والے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی آف نیپال ، ماؤاسٹ کی جیت یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً دوسال قبل جو قوت نیپال کے جنگلوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھی آج چین اور بھارت کے درمیان موجود ایک چھوٹے سے غریب ملک پر راج کرنے والی ہے۔ انتخابی نتائج کے باقاعدہ اعلان میں تو شاید چند ہفتے لگ جائیں لیکن ہوا کے رخ کو سب نے پھانپ لیا ہے اور کھٹمنڈو سمیت نیپال میں جگہ جگہ ماواسٹ اپنے حامیوں سمیت جیت کا جشن منارہے ہیں۔ ماواسٹوں کے رہنما پر اچندا، جو گذشتہ دس سالوں میں کبھی کبھار ہی عوامی تقریبات میں نظر آئے ، اب ٹیلی ویژن پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی حیران کن ہے مگر اچانک نہیں۔ Read more »

نیٹو اعلیٰ سطحی اجلاس: روس امریکہ اختلافات ختم نہ ہو سکے

رضوان عطا

نیٹو (معاہدہ شمالی اوقیانوس تنظیم) کا بیسواں اعلیٰ سطحی اجلاس رومانیہ کے صنعتی مرکز بکارسٹ میں 2 تا4 اپریل ہوا۔ اب تک نیٹو کے سب سے بڑے ہونے والے اس اجلاس میں تنظیم میں شمولیت کی خاطر کروشیااورالبانیہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن یونان سے ملک کے نام پر چلنے والے تنازعے کی وجہ سے میسی ڈونیا کو نہیں بلایا گیا۔ Read more »

عراق میں مزاحمت

(مضمون کے دوسرے اور آخری حصے میں مصنف نے عراق کے اندر قبضے کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا جائزہ لیا ہے)

رضوان عطا

عراق پر امریکی حملے سے لے کر آج تک امریکی سربراہی میں قبضہ کرنے والی افواج اور ان کے حامیوں کو جس مزاحمت کا سامنا رہا اس کی کئی جہتیں ہیں اور اس مزاحمت نے اپنی پانچ سالہ تاریخ میں کئی موڑ دیکھے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اتحادی افواج کے خلاف عراقی مزاحمت کے جس رخ کو عموماً پیش کیا جاتا ہے وہ مسلح ہے لیکن عراق کے اندر ہتھیاروں کے بغیر سیاسی و معاشی حقوق اور قبضے کے خلاف ایک ایسی لڑائی بھی لڑی جا رہی ہے جو آنکھوں سے عام طور پر اوجھل رہتی ہے ۔ 2003 Read more »

عراق جنگ کی مخالفت

رضوان عطا

(حصہ اول)

19 مارچ2003 کی رات امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ”آپریشن عراقی فریڈم“ کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن صبح5:30 بجے عراق پر بمباری کا آغاز کر دیا گیا۔ آج پانچ سال بعد جب بش کی مدتِ صدارت کے خاتمے میں صرف10 ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، ان کی مقبولیت کا گراف انتہائی نیچے ہے۔ کم و بیش 158,000فوجیوں کی موجودگی کے باوجود امریکی افواج پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں اور ویت نام کے بعد یہ جنگ امریکہ کی دوسری سب سے طویل جنگ بن چکی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معیشت جوزف سٹگٹس کے مطابق اس جنگ پر اب تک کم از کم تین ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ Read more »

ایکواڈور میں کولمبیا کی مداخلت

رضوان عطا

یکم مارچ کو کولمبیا میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چھاپہ مار تنظیم یرولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا (فارک) کے ایک مرکزی رہنما راول رئیز کولمبیائی افواج کے ایک حملے میں اپنے تقریباً 20 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ حملہ کولمبیا کی سرزمین پر نہیں ہوا بلکہ راول اوراس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے کولمبیا کی افواج نے ایکواڈور کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں کولمیبا لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک خصوصاً ایکواڈور اور وینز ویلا کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ Read more »

کوسووا آزاد نہیں ہوا

رضوان عطا

17 فروری کو جمہوریہ سربیا سے آزادی کے اعلان کے بعد کوسووا نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں جگہ پائی۔ مسلم اکثریت والے اس ”صوبے“ نے اعلان تو سربیا سے علیحدگی کا کیا ہے لیکن 1999ء سے، جب نیٹو نے خطے پر حملہ کیا، اقوام متحدہ کے مشن کے تحت انتظامی امور کو چلایا جارہا تھا اور سربیا کا انتظامی کنٹرول سرے سے تھا ہی نہیں۔ آزادی کے یک طرفہ اعلان کے فوری بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسی عالمی طاقتوں نے اسے یوں تسلیم کیا جیسے وہ ا س اعلان کی پہلے سے منتظر تھیں۔ اعلان آزادی کے 5 دنوں بعد تقریباً دو درجن ممالک کوسووا کو ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کر چکے تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کسی عرب ملک نے باقاعدہ طور پر کوسووا کو تسلیم نہیں کیا۔ مسلم ممالک میں مقبوضہ افغانستان کی حکومت ،آزادی کے اس تازہ علمبردار کو تسلیم کرنے میں بازی لے گئی۔ Read more »