یاد آنے کے بعد
یاد آنے کے بعد
سالوں بعد تمھاری بہت یاد آنے کے بعد معلوم ہوا ہے
سالوں پہلے جمع ہونے والے تمھارے پیار کا اک حصہ
میں نے اُسے دے دیا ہے، جو اَب مرے ساتھ ہے
۔۔۔
زندگی اور جھیل کا شفاف پانی اگر ٹھہر جائے
تو گدلا اور بدبو دار ہو سکتا ہے
تم سمجھتی ہو نا اس بات کو
بہاؤ کا رستہ بنا دیا ہے
۔۔۔
سالوں بعد تمھاری بہت یاد آنے کے بعد معلوم ہوا ہے
اندر اک تقسیم ہوئی ہے، احد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے
۔۔۔
تم پیار لینے نہیں آئی تھی
میں پہنچا نہ پایا تھا
دبے اور گھرے ہوئے تھے
۔۔۔
اور اب تو تم لینا ہی نہ چاہو گی
یہ سوچ کر کہ وقت گزر چکا ہے
دائرے اطراف نے جو کھینچے تھے
اور بھی گہرے ہو چکے ہیں
۔۔۔
واقعی بہت وقت گزر چکا ہے
تم مجھے مڑ کر نہیں دیکھو گی اب
چپکے سے کبھی دیکھا ہو شاید، نہیں معلوم
سالوں پہلے تم نے دائروں سے لمحے بھر کے لیے
نکل کر،اک موڑ پہ مڑ کر، دیکھا تھا
صرف اک بار
۔۔۔
تب ان دائروں سے نکلنے کا وقت نہیں گزرا تھا، شاید
اب ہمارے اپنے اپنے دائرے ہیں، گہرے
اک دائرہ تمھارا بھی ہے، میرے اندر
سالوں بعد اس دائرے پر نظر پڑی ہے
۔۔۔
تم جس کے دائرے میں بھیجی گئی ہو
نہیں معلوم تمہیں دیکھتے ہی
اس کا دل ویسے ہی دھڑکتا ہو گا جیسے میرا
آنکھوں میں چمک آتی بھی ہوگی
انتظار کرنا جانتا بھی ہوگا
۔۔۔
انہونی ہو بھی سکتی ہے، لیکن
نہ جانے کیوں، لگتا یہی ہے
ایسی کوئی بات نہ ہوگی
اُسے سدھانے کے لیے
وہی لوگ جتے ہوں گے، جنہوں نے
نہ جانے کون سی چمک کے عوض تمہیں لکیر کے اُس پار بھیجا
۔۔۔
یا پھر تم نے اپنی تھکن کو
دور اندیشی کا نام دے کر
بچوں پر توجہ مرکوز کر لی ہوگی
اعتماد کی بناوٹ کرلی ہو گی
خوابوں کی شہادت کرلی ہوگی
اپنے دائرے کی تخلیق کر لی ہوگی
بہاؤ کا رستہ بنالیا ہوگا
۔۔۔
سالوں بعد، لگتا یہی ہے
رضوان عطا
۶ دسمبر ۲۰۱۱ء
[پہلی نثری نظم]