رضوان عطا کا بلاگ

افغان انتخابات کے بعد: جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

Posted in افغانستان by رضوان عطا on February 8, 2010

افغان انتخابات کے بعد

جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

رضون عطا

20 اگست کو ہونے والے انتخابات میں ایک صدر اور420 کونسلر منتخب کرنے کے لیے لاکھوں افغانیوں نے ووٹ دیے۔ غیر حتمی ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیںاور حتمی نتائج17ستمبر تک متوقع ہیں۔ تاہم انتخابات سے قبل حامد کرزئی کے خلاف دھاندلی اور ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے الزامات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ۔حامد کرزئی بھی الزامات لگانے والوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ بڑے صدارتی امیدواروں خصوصاً عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کی شدت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کو کہنا پڑا کہ ”صبر“ کا مظاہرہ کیا جائے۔ افغانستان کے صدارتی امیدواروں کے مابین کشیدگی میںاضافہ اوباما انتظامیہ کے لیے پریشانی کا سبب ہے جس کا اندازہ اسے کم کرنے کی کوششوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں ایک طرف اوباما انتظامیہ، جس نے عراق کی بجائے افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا ہے، ایک قابل قبول اور معاون افغانی حکومت کی تشکیل کی خواہاں ہے وہیں طالبان انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے کٹر مخالف ہیں۔ انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی انہوں نے اپنے حملوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ طالبان کی طرف سے ووٹرز کو دی جانے والی دھمکیوں کے سبب کم لوگ ووٹ ڈالنے آئے تاہم 40 سے50 فیصد تک کہے جانے والے کم ٹرن آوٹ کی یہ بڑی مگر واحد وجہ نہیں۔ سیاسی عمل میں مختلف رجحانات کے درمیان تناو غیر معمولی بات نہیں لیکن افغانستان کے حوالے سے جہاں طالبان اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک منظم اور متحرک قوت بن چکے ہیں اور جہاں نسلی تفریق میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس نوعیت کے تناو کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔ (more…)

ہنڈوراس میں کودیتا

Posted in لاطینی امریکہ by رضوان عطا on February 8, 2010

ہنڈوراس میں کودیتا

مینویل زیلایا ہنڈوراس کی نئی حکومت کو تنہا کرنے میں خاصی حد تک کام یاب ہوئے ہیں۔

رضوان عطا

6 جولائی کو ہنڈوراس کی نئی عبوری حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا۔ دارالحکومت میں اس روز طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کرفیو نافذ تھا اور شہر کی سڑکیں پولیس اور فوج کی گرفت میں تھیں۔ مظاہرین ایک کودیتا کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کیے گئے صدر مینویل زیلایا کو خوش آمدید کہنا چاہتے تھے اور نئی حکومت طیارے کے ذریعے ان کی ملک آمد کو روکنا چاہتی تھی۔ پائلٹ نے ائیرپورٹ پر طیارہ اتارنے کا خطرہ مول نہیں لیا اور ایلسلو اڈور کا رخ کیا۔ زیلایا ابھی تک ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی قیادت کوسٹاریکا کے صدر اور 1987ء میں نوبل امن انعام حاصل کرنے والے اوسکر اریاس کر رہے ہیں۔ تاہم زیلایا، جن کی قائم حکومت کو پوری دنیا کے ممالک تسلیم کرتے ہیں، مذاکرات کی سست رفتار سے نالاں ہے۔ (more…)

سنکیانگ میں نسلی فسادات

Posted in خودمختیاری, چین by رضوان عطا on February 8, 2010

سنکیانگ میں نسلی فسادات

رضوان عطا

چین کے شمال مغرب میں واقع ’سنکیانگ اوغر خود مختار علاقہ‘ نسلی فسادات کی زد میں ہے۔ ترک نسل سے تعلق رکھنے والے چین کے اوغر باشندوں اور ہن نسل کے چینیوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے نتیجے میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 156 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 800 سے زیادہ زخمی ہیں۔آخری اطلاعات تک علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سڑکوں اور گلیوں کا گشت کر رہی ہے۔ایک چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے کی خاطر بیس ہزار پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کے تصادم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 1,434 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس خود مختارعلاقے کا دارالحکومت ارومچی ان فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ تعداد یہاں جمع ہے۔”ریڈیو فری ایشیا“ کے مطابق شہر کے مضافات میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ (more…)

تامل ٹائیگرز کی شکست

Posted in سری لنکا by رضوان عطا on February 8, 2010

تامل ٹائیگرز کی شکست

رضوان عطا

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پکسے تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کرچکے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کی سڑکوں پر سنہالی اکثریت سے تعلق رکھنے والے جشن منارہے ہیں۔ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کے قائد ویلو پلئی پربھاکرن کی لاش کی ویڈیو سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے حامیوں کے اس دعوے کے بعد جاری کی جس میں پربھاکرن کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔17مئی کو تامل ٹائیگر کی حامی ویب سائٹ تامل ڈاٹ نیٹ پر ایل ٹی ٹی ای کے بین الاقوامی تعلقات خارجہ کے سربراہ ایس پتھاناتھن نے ایک بیان میں کہا” یہ جنگ اپنے تلخ انجام کو پہنچ چکی ہے“ اسی کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا” ہم نے اپنی بندوقیں خاموش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے“ ان کا یہ کہنا دنیاکی سب سے طاقتور اور منظم علیحدگی پسند تنظیموں میں سے ایک سمجھی جانے والی تنظیم کی عسکری شکست کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ تقریباًتین دہائیوں تک بھرپور انداز سے لڑنے والے تامل ٹائیگرز ہارگئے مگر کیوں؟ (more…)

ناراض بلوچستان

Posted in بلوچستان by رضوان عطا on February 8, 2010

ناراض بلوچستان

بڑھتی ہوئی خلیج کو کیسے کم کیا جائے؟

رضوان عطا

تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر بلوچ کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی خبر نے پورے بلوچستان میں شدید ردعمل کو پیدا کیا۔ غلام محمد بلوچ نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کی کاوشوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صوبے میں بلوچ آبادی کا کوئی بھی شہر ایسا نہیں جہاں احتجاج اور توڑ پھوڑ نہ ہوئی ہو۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری املاک اور غیر بلوچ آبادی پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ کم از کم تین روز تک بلوچستان میں زندگی مفلوج رہی۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ ردعمل نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی نسبت بڑا تھا۔ بلوچستان میں ہونے والے ردعمل کی شدت اور وسعت اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ اِس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور فوری طور پر ایسے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں جو بلوچ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کریں۔ (more…)

وینز ویلا میں ریفرنڈم

Posted in لاطینی امریکہ by رضوان عطا on February 7, 2010

وینز ویلا میں ریفرنڈم

رضوان عطا

وینزویلا کے باسیوں نے ریفرنڈم کے ذریعے ملکی آئین میں ایک اہم تبدیلی کر دی ہے۔ اب منتخب قیادت تاحیات دوبارہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں ہوگوشاویز اور ان کے حامیوں نے55 فیصدکے قریب ووٹ حاصل کئے ۔ اس جیت کے بعد ہوگو شاویز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حالیہ مدت صدارت کے بعد بھی اس عہدے پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ وینزویلا کے سوشلسٹ انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ریفرنڈم میں ایک کروڑ دس لاکھ رائے دہندگان نے حصہ لیا۔ وینزویلا میں کل ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔  (more…)

پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

Posted in فلسطین by رضوان عطا on February 7, 2010

پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

غزہ انسانی آلام، جنگی رقہر اور سیاسی نارساہی کی داستان

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ ، بحریہ اور زمینی افواج کے حملے تادم تحریر جاری ہیں۔ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے نوسوسے زائد ہوچکی ہے اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً چالیس فیصد بچے اور عورتیں ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں ان کی تعداد نصف ہے۔ بنیادی انسانی ضروریات یعنی خوراک اور پانی کی کمی ہے۔ ادویات اور دیگر سامان کی کمی کی وجہ سے غزہ کے ہسپتال ہر لمحہ داخل ہونے والے زخمیوں کا پوری طرح علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کی تلاش ہے جو مل نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں نے جو قائم کیں ان میں جگہ نہیں۔ بے گھر ہونے والے بیشترافراد نسبتاً کم خطرناک علاقوں میں اپنے جاننے والوں یا رشتہ داروں کے ہاں جگہ ڈھونڈرہے ہیں۔ غزہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، سمندر میں جنگی بحری جہاز، فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹر، جاسوس طیارے اور ایف16، اردگرد ٹینک اور مسلح فوجی۔ تاحال جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات، اپیلیں اور قراردادیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔ کھلے آسمان تلے ایک وسیع جیل خانے کی صورت غزہ کے شہری اس جنگ کے زخم اٹھارہے ہیں۔ حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کی طرف سے اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو روکنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی غزہ کے قریب تقریباً40کلو میٹر تک واقع قصبوں اور شہروں پر مقامی سطح پر بنے، کم مہلک مگر خوف پیدا کرنے والے راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ (more…)

تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

Posted in جنوبی ایشیا, خودمختیاری, سری لنکا by رضوان عطا on February 7, 2010

تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

رضوان عطا

علحیدگی پسند تامل ٹائیگر(لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام) کا دارالحکومت کہلانے والا شہر کلینوچی اس کے بعد سری لنکا کی افواج کے قبضے میں ہے اور اب وہ ملک کے شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ بلاشبہ کلینوچی پر قبضہ تامل ٹائیگر کے لیے بڑا دھچکہ اور حکومت کے لیے اہم کامیابی ہے۔ افواجِ سری لنکا اب ساحلی شہر مولائتیوو اور ارد گرد کے علاقوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بمباری کی جا رہی ہے۔ ابھی تک دونوں طرف ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی تامل ٹائیگرز نے کلینوچی پر سرکاری افواج کے قبضے کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ وہ اب یہاں نہیں رہے۔ صدر مہندا راجاپکسے کی طرف سے اس کامیابی کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے۔ (more…)

غزہ جل رہا ہے

Posted in فلسطین by رضوان عطا on February 7, 2010

غزہ جل رہا ہے

اسرائیلی حملہ اور اس کے اثرات

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ غزہ پر مسلسل بمباری کر رہی ہے اور حملے کے چوتھے روز اطلاعات کے مطابق بحریہ بھی شریک ہو چکی ہے۔ غزہ اسرائیل سرحد پر زمینی افواج آرٹیلری سمیت جمع ہیں اورحکام بالا سے احکامات کی منتظر ہیں۔ ہزاروں ریزروز کو بلا لیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس الزام کے ساتھ غزہ پر بمباری کا آغاز کیا کہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ اور مارٹر داغے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق ان کے حملے کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ کرنا اور حماس کی عسکری طاقت کو ختم کرنا ہے۔ البتہ 15 لاکھ آبادی پر مشتمل گنجان آباد غزہ پر بمباری سے عام شہری، جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں، کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو رہی ہے۔ بمباری کے چوتھے روزتک کم از کم 380 افراد ہلاک اور 1600 زخمی ہو چکے تھے۔ حملوں کے جواب میں حماس کی طرف سے غزہ کی سرحد پر واقع اسرائیلی قصبوں اور شہروں پر راکٹ داغنے کا سلسلہ بہت بڑھ چکا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور اس کے نتیجے میں 4 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ (more…)

اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

Posted in افغانستان by رضوان عطا on February 7, 2010

اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

رضوان عطا

گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو ہونے والی دہشت گردی کے بعد پہلا حملہ افغانستان پر ہوا لیکن جلد ہی عراق جنگ نے توجہ حاصل کر لی۔ باراک اوباما کی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ خارجی معاملات میں ان کی رغبت عراق سے کہیں زیادہ افغانستان کی جانب ہے۔ اس سال جولائی میں جب باراک اوباما عراق، اسرائیلاور مغربی یورپ کے دورے پر نکلے تو کویت میں مختصر قیام کے بعد ان کا دوسرا اور نسبتاً طویل پڑاؤ افغانستان تھا۔ اکیس جولائی کو سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پروگرام ”فیس دی نیشن“ میں بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی توجہ افغانستان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس پروگرام میں انہوں نے کہا ”افغان حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں صورتحال خطرناک اور جلد اقدامات اٹھانے کی متقاضی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی ہماری توجہ کا مرکز ہونا چاہیے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”تقریباً ایک سال سے میں مزید دو یا شاید تین بریگیڈ بھیجنے کا کہہ رہا ہوں“۔  (more…)