نیٹو بمقابلہ پاکستان
نیٹو بمقابلہ پاکستان
تحریر: طارق علی
افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو کا حملہ، جس میں بروز ہفتہ24 فوجی مارے گئے، لازماً جان بوجھ کر کیا گیا۔ نیٹو کمانڈروں کو بہت پہلے پاکستانی فوج کی طرف سے وہ نقشے مہیا کر دیے گئے تھے جن پر ان چیک پوائنٹس کی نشان دہی کی گئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ہدف فوجی چیک پوسٹ ہے۔ یہ وضاحت کہ ان پر پہلے فائرنگ کی گئی کھوکھلی ہے اور اسلام آباد نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس سے قبل اس نوع کے حملوں کو ’حادثہ‘ قرار دے دیا جاتا تھا اور معافی مانگ لی جاتی تھی، جو مل بھی جاتی تھی لیکن اس بار معاملہ زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’خود مختاری کی خلاف ورزی‘ کے دیگر واقعات کے فوری بعد یہ ہوا ہے، لیکن پاکستان کی خودمختاری اک افسانہ ہے۔ فوج کی اعلیٰ قیادت اور ملک کے سیاسی رہنما کئی دہائیاں قبل اپنی خود مختاری سے بخوشی دست بردار ہوچکے ہیں۔ اب اس کی کھلے عام اور ظالمانہ خلاف ورزی حقیقی تشویش کا سبب ہے۔ Read the rest of this entry »
یاد آنے کے بعد
یاد آنے کے بعد
سالوں بعد تمھاری بہت یاد آنے کے بعد معلوم ہوا ہے
سالوں پہلے جمع ہونے والے تمھارے پیار کا اک حصہ
میں نے اُسے دے دیا ہے، جو اَب مرے ساتھ ہے
۔۔۔
زندگی اور جھیل کا شفاف پانی اگر ٹھہر جائے
تو گدلا اور بدبو دار ہو سکتا ہے
تم سمجھتی ہو نا اس بات کو
بہاؤ کا رستہ بنا دیا ہے
۔۔۔
سالوں بعد تمھاری بہت یاد آنے کے بعد معلوم ہوا ہے
اندر اک تقسیم ہوئی ہے، احد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے
ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت کیوں ہے؟
ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت کیوں ہے؟
تحریر: ٹونی کلف
مزدور طبقے میں ناہموار شعور
ہمیں انقلابی جماعت (پارٹی)کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ وہ دو بیانات ہیں جو(کارل) مارکس نے دیے۔ اس نے کہا ”مزدور طبقے کی آزادی اس کے عمل سے ہے۔“ اسی کے ساتھ اس نے کہا کہ ”ہر سماج میں غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں۔“
ان دو بیانات کے درمیان تضاد ہے۔ لیکن یہ تضاد مارکس کے سَر میں نہیں۔ اس کا وجود حقیقت میں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بیان درست ہوتا تو انقلابی جماعت بنانے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ اگر مزدور طبقے کی آزادی اس کے عمل سے ہے، اور بس، تو سچی بات یہ ہے کہ ہمیں سوشل ازم کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس ہاتھ پر ہاتھ رکھیں اور مسکرائیں۔ مزدور خود ہی اپنے آپ کو آزاد کرا لیں گے!
دوسری طرف اگر ”ہر سماج میں غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں“اور بس، تو مزدور ہمیشہ حکمرانوں کے نظریات کو مانتے۔ پھر ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے اور آنسو بہاتے کیونکہ کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ Read the rest of this entry »
لاہور میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا احوال
لاہور میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا احوال
رضوان عطا
میں ایک بجے کے قریب جب لاہور کے ایک چوک سے گزرا تو دیکھا کہ چند نوجوان تحریکِ انصاف کا جھنڈا اٹھائے موٹر سائیکلوں پر جارہے ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ جلسہ تو دو بجے ہے اور ہمارے ہاں مقررہ وقت کے کئی گھنٹوں بعد جلسے شروع ہوتے ہیں تو یہ نوجوان اتنی جلدی کیوں جارہے ہیں! یہی سوچ ہی رہا تھا کی میں نے بس کی چھتوں پر اور ویگنوں کے اندر اچھلتے، نعرے لگاتے اور گپیں مارتے نوجوانوں کو دیکھا۔ محسوس ہونے لگا کہ جلسہ بڑا ہوگا۔
بائیں بازو کے بعض دوستوں کے برخلاف میں کم و بیش ایک سال سے نجی محفلوں میں یہ کہہ رہا تھا کہ لاہور (اور بہت سے دیگر علاقوں) میں لوگوں نے عمران خان کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ وہ کیوں؟ رکشے والوں سے پوچھتا آرہا ہوں، طالب علموں سے پوچھتا آرہا ہوں، نچلے درجے کے سیاسی کارکنوں سے، دکان داروں سے ۔۔۔۔ ان کے الفاظ جو بھی ہوں جملوں کی ترتیب جیسی ہو، اخذ یہی ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ عمران خان کی طرف ہے، مگر کس قدر؟ آج (تیس اکتوبر) ہی کو تو دیکھنا تھا۔
ایک دوست جو مینارِ پاکستان پر موجود تھا نے چار بجے کے لگ بھگ اطلاع دی کہ بیس سے پچیس ہزار لوگ پہنچ چکے ہیں، لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ دیر قبل کسی اور راستے سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا آج بہت سے لوگ موٹر سائیکلوں، رکشوں، ویگنوں وغیرہ میں بڑی تعداد میں رواں دواں ہیں۔ میں بھی پانچ بجے کے قریب اسی جانب چل پڑا۔ Read the rest of this entry »
القاعدہ، امریکا، جمہوریت اور عرب ابھار
القاعدہ، امریکہ، جمہوریت اور عرب ابھار
گلبرٹ آشکار
بیشتر غیر معروف زیرِ زمین دہشت گرد گروہوں کی طرح11 ستمبر کو القاعدہ کا حملہ وسیع پیمانے پر پھیلے سماجی اور سیاسی عدم اطمینانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش تھی۔ القاعدہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرے تاکہ اس کی تقلید کرنے والے بہت سے پیدا ہوسکیں۔ اس طرح کی مہمات صرف اس وقت ۔۔۔ مختلف سطحوں پر۔۔۔ کامیاب ہوسکتی ہیں جب بہت زیادہ عدم اطمینان پہلے سے موجود ہو۔ مثلاً جہاں بہت غربت، ناراضی، جابر حکومت، ناقابل برادشت سماجی عدم مساوات یا غیر ملکی قبضہ ہو۔ Read the rest of this entry »
مادرسری معاشروں میں عورت کامقام
مادرسری معاشروں میں عورت کامقام
رضوان عطا
مادر سری معاشرتی تنظیم کی ایک شکل ہے جس میں ماں خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور نسل و رشتہ داری اسی سے (ماں سے) شمار کی جاتی ہے مزید یہ کہ ایک معاشرہ جس میں ماں مرکزی قوت اور مقام رکھتی ہے، یا مادر سری سے مراد ایسی معاشرتی تنظیم ہے جس میں عورت کی حکمرانی ہو۔
اینگلس( خاندان، ریاست اور ذاتی ملکیت کا آغاز1884ء) نے دلائل پیش کیے کہ ابتدائی معاشرے شکاری اور خوراک جمع کرانے والے مادر سری معاشرے تھے ، اور یہ کہ پدر سری کا آغاز زراعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور دولت کے مرد کے اختیار میں جانے سے ہوا۔ اس نے اپنی بحث کی بنیاد با خونن پر رکھی جس نے دلائل پیش کیے کہ معاشرے مادری حق کی سطح سے جس میں کہ عورت طاقتور تھی، پدری حق یا پدرسری کی سطح تک آئے۔ Read the rest of this entry »
ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟
مسلمان مخالفت، نسل پرستی یا ذہنی خلل
ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟
رضوان عطا
22 جولائی کو ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں ہونے والے دھماکے اور اس کے شمال میں واقع جزیرہ یٹویا میں یوتھ کیمپ پر فائرنگ سے ہونے والی تقریباً 93 ہلاکتوں نے ملک کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ ناروے کے وزیراعظم جینز سٹولن برگ کے مطابق جنگ عظیم دوم کے بعد سے کبھی بھی ہمارے ملک میں جرم کا اتنا بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ انسانی تاریخ میں یہ شاید اب تک واحد گن مین کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اتنے بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کے قتل اور دونوں حملوں کے ملزم آندرے بیرنگ بریوک کے خیالات کے سامنے آنے کے بعد اسے اچانک رونما ہونے والا اتفاقی واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی تہہ تک پہنچے بغیریہ ممکن نہیں ہوگا کہ ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جاسکے۔ Read the rest of this entry »
یونان کا امتحان
یونان کا امتحان
حکمران جماعت اور یورپی یونین سے عوامی رائے عامہ متصادم
رضوان عطا
تیس جون کو یونان کی پارلیمنٹ کا امتحان تھا۔ ملک میں وسیع پیمانے پر کٹوتیوں کے پروگرام کے بارے میں فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس پروگرام پر عمل درآمد کا مطلب ہے ٹیکسوں میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور نج کاری۔ پارلیمنٹ نے اس غیر مقبول فیصلے کی منظوری دے دی۔ اب 72 ارب ڈالر کے ریاستی اثاثے برائے فروخت ہیں۔
300 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کے 155 ارکان نے ان اقدامات کے حق میں ووٹ دیے جن کی مخالفت سروے کے مطابق 80 فیصد یونانی کر رہے تھے۔ حکمران جماعت سے اپنی بات منوانے کی خاطر ہزاروں ایتھنز کی گلیوں میں احتجاج کر رہے تھے اور کئی پولیس سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ Read the rest of this entry »
یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور
یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور
طلبا پر تشدد، اساتذہ سے بدسلوکی
رضوان عطا
یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور میں اگر کسی طالب علم کو منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو یہ اندازہ کرنے میں زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ایسا کس نے کیا ہو گا۔
پنجاب یونیورسٹی میں محض ایک ہی تو طلبا تنظیم ہے جو وقتاً فوقتاً ایسا کرتی ہے۔ آمر پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد جماعت اسلامی نے جمہوریت کے قیام کے نعرے کو تو اپنی سیاست میں مرکزی حیثیت دی مگر طلبا تنظیم کو اسی روش پر چلنے دیا جو آمروں کی ہے۔ کیا پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے علاوہ کوئی دوسری تنظیم کام کر سکتی ہے؟ جی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا وہ جزیرہ ہے جہاں جماعت اسلامی کے شاگردوں کی خفیہ حکومت قائم ہے۔ اپنی اس جاگیر میں انہیں شعبہ فلسفہ سے شکایت رہی ہے کہ وہ ان کی بیعت نہیں کرتا۔ لہٰذا اسے سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ Read the rest of this entry »
عسکری قیادت پر دباو کے اسباب
عسکری قیادت پر دباو کے اسباب
رضوان عطا
پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول کے قریب ہی اسامہ بن لادن کی کئی سال موجودگی کے بعد وہاں امریکی فوجیوں کی کارروائی ابتدائی طور پر پاک امریکا تعلقات کے سوال کو سامنے لائی۔ فوری طور پر ملکی خودمختاری اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی نوعیت زیرِبحث آئی۔ مگر بعدازاں پاکستان کے داخلی تضادات نے زیادہ اہمیت اختیار کرلی۔ عسکری قیادت سے لے کر سیاست دانوں تک اور عوام سے لے کر دانش وروں تک سب کو بعض ایسے سوالات کا سامنا ہوا جن کے جوابات دینا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی دشوار ضرور تھا۔ Read the rest of this entry »